Al-Risala · January 1993

مذہبی ہم آہنگی اور اسلام

Al-Risala, January 1993, pp. 25–34

By Maulana Wahiduddin Khan

پر امن دنیا کی تعمیر بلاشبہ آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اور اس مسئلہ کا بہت گہرا تعلق اس چیز سے ہے جس کو مذہبی ہم آہنگی (religious harmony) کہا جاتا ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کا کوئی قابل عمل فارمولا دریافت کیا جائے ۔ مذہبی امن ہی پر، بڑی حد تک، عالمی امن کا انحصار ہے۔ اسلام سماجی امن کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر یک طرف صبر کے ذریعہ امن قائم ہو سکتا ہو تو ایک طرف صبر و برداشت کی قیمت دے کر امن کا ماحول قائم کیا اس کی ایک واضح مثال اسلامی تاریخ کے دور اول کا وہ واقعہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ حقیقتاً دس سال کا امن معاہدہ تھا۔ اور پیغمبر اسلام نے امن کا یہ معاہدہ جنگ جو دشمن کی تمام مانگوں کو ایک طرفہ طور پر منظور کر کے حاصل کیا تھا۔ مذہبی ہم آہنگی کا ماحول قائم کرنا اسلام کا عین مطلوب ہے۔ تاہم اصل مقصد سے پورا اتفاق رکھتے ہوئے اس معاملہ میں اسلام کی تدبیر مجوزہ تدبیروں سے کسی قدر مختلف ہے۔ میں اسلام کی تدبیر کا خلاصہ، ایک لفظ میں یہ ہے کہ مذاہب کے درمیان ہم آہنگی نہیں، بلکہ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی۔ اگلی سطروں میں اس کی کسی قدر وضاحت کی جائے گی۔ مذہبی ہم آہنگی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جتنے نظریے پیش کیے گئے ہیں یا پیش کیے جا سکتے ہیں، وہ بنیادی طور پر غالباً تین قسم کے ہیں۔ ان میں سے دو وہ ہیں جو مذہب کی نئی تشریح پر مبنی ہیں۔ بعض اسکالر قسم کے ذہنوں نے بطور خود مذہب کی کچھ تشریحات کی وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی یہ تشریحات عمومی طور پر قبول کر لی جائیں تو اس کے بعد اپنے آپ سماج میں مذہبی ہم آہنگی کی حالت پیدا ہو جائے گی۔ تیسری تدبیر وہ ہے جو مذہب کی کسی مخصوص تشریح پر مبنی نہیں۔ اس کی حیثیت صرف ایک عملی تدبیر کی ہے۔ بڑی تقسیم کے مطابق ، مذہبی ہم آہنگی کے یہی تین نظریات ہیں۔ ان کو الگ الگ سمجھنے کے لیے انھیں حسب ذیل تین نام دیے جا سکتے ہیں _ _ _ _ _ _ سیکولر حل،

وحدت ادیان، مذہبی رواداری۔

اسلام کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ دین فطرت ہے۔ چنانچہ اسلام ہر مسئلہ کے فطری حل کو پسند کرتا ہے۔ مذکورہ تینوں تدبیروں میں ابتدائی دو تدبیریں حقیقۃً مصنوعی تدبیریں ہیں۔ کہ تیسری تدبیر فطری تدبیر ہے۔ یہی تیسری تدبیر اسلام کے مزاج کے مطابق ہے اور اسلام اس کی حمایت کرتا ہے۔

مذہبی ہم آہنگی لانے کی مذکورہ تجویزوں میں پہلی تجویز مذہب کی سیکولر تعبیر پر قائم اس کے مطابق، مذہب لوگوں کا نجی یا شخصی عقیدہ ہے۔ اجتماعی زندگی سے اس کا کوئی اس نظریہ کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس اصول کو ماننے کے بعد مذہبی جھگڑے باقی نہیں رہ سکتے۔ اس کے بعد مذہب اگر باقی رہے گا تو محدود طور پر صرف افراد کی پرائیویٹ زندگی میں باقی رہے گا۔ اس کے باہر اس کا کوئی وجود نہ ہوگا۔ اور جب باہر کی زندگی میں مذہب کا وجود نہ ہوگا تو وہ اجتماعی زندگی کے لیے کوئی مسئلہ بھی نہ بن سکے گا۔ یہ حل یقینی طور پر ناقابل عمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مذہب کی ایک نئی تشریح کے اوپر قائم ہے۔ اس تشریح کو نہ اب تک اہل مذاہب نے مانا ہے اور نہ آئندہ اس کا کوئی امکان ہے کہ وہ اس کو مان لیں۔ پھر جس تشریح کو اہل مذاہب ماننے کے لیے تیار نہ ہوں، اس کو عملی طور پر کس طرح قائم کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، وہ اس کو ماننے کے لیے کبھی تیار نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اسلام کے نزدیک دین کا تعلق انسان کے سارے معاملات سے ہے نہ کہ محض ذاتی عقائد سے۔

مزید یہ کہ یہ طرزِ فکر سراسر غیر فطری ہے۔ یہ انسان کی فطرت کے خلاف ہے کہ وہ ایک نقطہ کو سچا سمجھے، اس کے باوجود وہ نقطۂ نظر صرف اس کے پرائیویٹ دائرہ میں محدود رہے۔ طرح رنگ پانی کے گلاس میں ڈالنے کے بعد ضرور پھیلتا ہے، اسی طرح کچھ لوگ جب ایک تصور کو بطور صداقت مان لیں تو یہ اعتراف کسی مخفی دائرہ میں محدود ہو کر نہیں رہ سکتا۔ وہ ضرور پھیلتا وہ نجی زندگی سے نکل کر اجتماعی زندگی تک پہنچنا چاہے گا۔

مذکورہ اسباب کی بنا پر یہ ممکن نہیں کہ مذہب کی سیکولر تشریح کے تحت وہ سماج

ماحول قائم کیا جا سکے جس کو مذہبی ہم آہنگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

مذہبی ہم آہنگی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دوسرا نظریہ جو پیش کیا جاتا ہے وہ وحدت ادیان کا نظریہ ہے۔ اس نقطہ نظر کے حاملین یہ کہتے ہیں کہ تمام مذاہب ، ظاہری فرق کے باوجود ، حقیقتۂ ایک ہیں۔ تمام مذاہب ایک ہی مشترک منزل کی طرف جانے کے متعدد راستے اس لیے باہمی ہم آہنگی کے مقصد کو حاصل کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کو اس مذہبی یکسانیت کا یقین دلا دیا جائے۔ جب یہ حقیقت لوگوں کے ذہن نشین ہو جائے گی تو اس کے بعد تمام اختلافات اپنے آپ مٹ جائیں گے۔

مگر یہ نقطۂ نظر محض ایک دعویٰ ہے جس کے پیچھے کوئی دلیل نہیں۔ عملی اور تاریخی مطالعہ بتاتا ہے کہ مذاہب کا باہمی فرق محض ظاہری نہیں ہے بلکہ حقیقی ہے۔ مثال کے طور پر خدا کا عقیدہ، جو ایک بنیادی مذہبی عقیدہ ہے ، اس کے سلسلہ میں بعض مذاہب توحید الہٰ (monotheism) کے قائل ہیں اور بعض دوسرے مذاہب وحدت وجود (monism) کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اس نقطۂ نظر سے موافقت نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ، تجربہ کے مطابق ، یہ حل علمی طور پر قابلِ نفاذ بھی نہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ "تمام مذاہب ایک ہیں" کی بنیاد پر ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش بار بار کی گئی ہے اور بار بار ناکام ثابت ہوئی ہے۔ شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵-۱۵۴۲) نے "دین الہی" کے نام پر اس کو طاقت کے ذریعہ نافذ کرنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے اسی کام کو علمی طور پر کیا۔ اور اپنی عمر کا بہترین حصہ صرف کر کے ایک ہزار صفحہ پر مشتمل ایک کتاب مہاتما گاندھی (۱۸۶۹-۱۹۴۸) نے (Essential Unity of All Religions) رام رحیم ایک ہے" کے نعرہ پر اس کو ملک گیر تحریک کے ذریعہ پھیلانا چاہا۔ مگر ہر ایک اپنے قصد میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

پھر جس تجویز کے ساتھ نہ فطری صداقت ہو اور نہ وہ قابلِ عمل ہو تو ایسی تجویز کو مذکورہ مسئلہ کا حل کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کی تجویز ایک اچھا تخیل ہو سکتا ہے مگر وہ ہر بحث مسئلہ کا ایک اچھا حل نہیں۔

اب مذہبی ہم آہنگی کے مقصد کو حاصل کرنے کی تیسری تجویز باقی رہتی ہے۔ یہی قابل عمل ہے اور اسلام اسی کی حمایت کرتا ہے۔

یہ تیسرا حل دراصل حقیقت پسندی کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں پریکٹیکل اپروچ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ مذاہب میں فکری فرق کو مانتے ہوئے عملی برتاؤ میں باہمی احترام کیا جائے۔ اعتقادی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے۔ یہ تقریباً وہی اصول ہے جس کو انگریزی مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ آؤ ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے : Let's agree to disagree اس اصول کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ۔ مذاہب کے درمیان ہم آہنگی نہیں، بلکہ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی۔ مختلف مذہبوں میں نظریاتی وحدت نہیں، بلکہ مختلف مذہبی گروہوں میں عملی وحدت :

This principle is best described not as religious harmony, but as harmony among religious people. یہ کوئی تخیلاتی بات نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کی افادیت تاریخ کے تجربہ سے ثابت اور وہ پوری طرح قابل عمل ہے۔ ماضی میں یا حال میں جب کبھی بھی لوگوں کے درمیان وہ چیز بالفعل قائم ہوئی ہے جس کو " مذہبی ہم آہنگی" کہا جاتا ہے، وہ ہمیشہ اختلاف کے باوجود اتحاد کی بنا پر قائم ہوئی ہے نہ کہ اختلاف کے بغیر اتحاد کی بنا پر۔

اس کی ایک مثال ہمیں کناڈا میں ملتی ہے۔ کناڈا میں تقریباً ہر مذہب کے لوگ آباد ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں وحدت کلچر (یونی کلچر لزم) کی تحریک چلائی گئی۔ مگر وہ پوری طرح ناکام ہو گئی۔ اس تجربہ کے بعد کناڈا کے ذمہ داروں نے وحدت کلچر کے نظریہ کو چھوڑ دیا۔ وہاں تعدد کلچر (ملٹی کلچرلزم) کو رواج دیا جا رہا ہے اور وہ پوری طرح کامیاب ہے۔ حتیٰ کہ کناڈا پوری مغربی دنیا میں مذہب اور کلچر کی ہم آہنگی کا ایک قابلِ حوالہ نمونہ بن گیا ہے۔ یہی معاملہ امریکہ کا بھی ہے۔ امریکہ میں مختلف مذہب اور کلچر کے لوگ آباد ہیں۔

عالمی جنگ کے بعد امریکہ میں یہ نظریہ اختیار کیا گیا کہ تمام لوگوں کو ایک ہی ’’امریکن کلچر‘‘ پر ڈھال دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کے تحت ایک زبردست مہم چلائی گئی جس کو امریکی بنانا (Americanisation) کہا گیا۔ مگر یہ کوشش مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔

اب امریکہ نے امریکنائزیشن کا تصور چھوڑ دیا ہے۔ اس کے بجائے وہ ہر کلچر کو آزادی دینے کا حامی ہے۔ پہلے اگر وہاں یونی کلچرلم کا نظریہ تھا تو اب وہاں ملٹی کلچرلم کا نظریہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ امریکہ کے ۴۲ ویں صدر بل کلنٹن (Bill Clinton) جو نومبر ۱۹۹۲ء میں امریکہ کے نئے صدر منتخب ہوئے ہیں، انھوں نے کامیابی کے بعد اپنی پہلی ہی تقریر میں، جو باتیں کہیں ان میں سے ایک وہ تھی جس کو ٹائمس آف انڈیا (۵ نومبر ۱۹۹۲ء) کے کرسپانڈنٹ مقیم واشنگٹن نے ان الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ منتخب امریکی صدر نے نئی حب الوطنی کی اپیل کی جو امریکی عوام کو باہم جوڑ دے تاکہ ہمارا فرق و اختلاف ہمارے لیے طاقت کا ذریعہ بن جائے :

The president-elect invoked a new patriotism to bring the American people together so that our diversity can be a source of strength. یہاں پہنچ کر ہمیں اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد‘‘ کے اصول کو مستقل طور پر کس طرح برقرار رکھا جائے ۔ اس کی سادہ فطری تدبیر یہ ہے کہ مشترک مفاد کی خاطر ہر گروہ اس اصول کو مان لے کہ : پرامن دائرہ میں ہر ایک کو آزادی، مگر جارحیت کے دائرہ میں کسی کو آزادی نہیں۔ ہر ایک اپنے عقیدہ کے مطابق ، قول و عمل کے لیے آزاد ہو۔ مگر ہر ایک کی آزادی وہاں ختم ہو جائے جہاں اس کی آزادی دوسرے کو عملی نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہو۔ اس معاملہ میں اسلام کا نقطہ نظر یہی ہے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے جو کھونٹے کے ساتھ رسی میں بندھا ہوا ہو۔ وہ گھومتا ہے اور پھر اپنے کھونٹے کی طرف واپس آجاتا ہے (مثل المؤمن ومثل الايمان كمثل الفرس في آخيته يجول ثم يرجع إلى آخيته ) مشكاة المصابيح ۱۲۲۶/۲ وسیع تر انطباق کے اعتبار سے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر شخص کو دائرہ امن

کی رسی سے بندھا رہتا ہے۔ جب بھی کسی کی سرگرمی جارحیت فیر تک پہنچ جائے تو گویا اس کی رسی کی اس کے بعد آدمی پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ دوبارہ امن کے دائرہ کی طرف واپس آجائے۔ یہ فطرت کا قانون ہے جس پر پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ وسیع خلا میں بے شمار متحرک ستارے ہیں مگر وہ دوسرے ستاروں سے ٹکراؤ کے بغیر اپنے اپنے مدار پر گردش کرتے رہتے جنگل کے جانور ہر وقت سرگرم رہتے ہیں مگر حقیقی فطری ضرورت کے سوا کبھی کوئی جانور دوسرے جانور سے نہیں ٹکراتا۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان کو اپنے قول وفعل کی آزادی ہے۔ مگر اس آزادی کا استعمال صرف امن کے دائرہ میں کرنا ہے ، جارحیت کے دائرہ میں داخل ہونے سے مکمل طور پر ہر ایک کو باز رہنا ہے۔ جارحیت سے پر ہیز کے اس اصول کو ایک لفظ میں اصول اعراض (principle of avoidance) کہا جا سکتا ہے۔

اس سلسلہ میں قرآن میں ایک اصولی حکم یہ ملتا ہے کہ مذہب کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں (لا اکراہ فی الدین) دوسری جگہ اعلان کیا گیا ہے کہ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین (لكم دينكم ولى دين) اسی حکم کی بنا پر ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہاں آپ نے ایک صحیفہ (ڈیکلریشن) جاری کیا۔ اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی تحریر تھا کہ مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا دین ہوگا اور یہود کے لیے یہود کا دین (للمسلمين دينهم ولليهود دينهم) باہی ہم آہنگی کی اس فضا کو باقی رکھنے کے لیے قرآن میں اہل اسلام کو یہ حکم دیا گیا کہ :

ولا تسبوا الذين يدعون من اللہ کے سوا جن کو لوگ پکارتے ہیں ان کو گالی دون اللہ فيسبوا الله عدوا بغير علم نہ دو ورنہ وہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی كذلك زينا لكل امة عملهم ثم الى بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے ۔ ربهم مرجعهم فينبئهم بما كانوا يعملون (الانعام (۱۰۹)

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس کارروائی سے بچو جو ایک مذہبی گروہ اور دوسرے مذہبی گروہ کے درمیان تلخی پیدا کرنے والی ہو۔ اختلاف کے باوجود اتحاد کی فضا کو برقرار رکھنے

کا پورا اہتمام کرو۔ خواہ کتنا ہی زیادہ فکری اختلاف ہو، مگر باہمی تعلقات کو ہر حال میں احترام کی بنیاد پر قائم کرو۔ فکری اور اعتقادی اختلاف کو علیٰ حدّہ اوٹ تک ہرگز نہ جانے دو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس اصول کی ایک انتہائی انقلابی مثال ملتی ہے۔ قدیم مدینہ کا وہ تاریخی واقعہ ہے جو گویا تین مذاہب کا اجتماع تھا۔ تین مذاہب کا یہ اجتماع خود مسجد نبوی میں ہوا۔

محمد بن اسحاق کے واسطہ سے ابن ہشام نے نقل کیا ہے کہ غزوہ بدر سے کچھ پہلے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد تحقیق حال کے لیے مدینہ آیا۔ اس میں ساٹھ افراد شامل تھے۔ یہ لوگ مدینہ کی مسجد ان کی آمد کے بعد مدینہ کے علماء یہود بھی وہاں آ گئے۔ اس طرح تین مذہبوں (اسلام، عیسائیت، یہودیت) کے ماننے والے مسجد کے اندر جمع ہو گئے۔ ان کے درمیان کئی دن تک مذہبی امور پر بحث جاری رہی۔ اس کی تفصیل سیرۃ ابن ہشام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ روایت میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس دوران عیسائیوں کی عبادت کا وقت آگیا۔ وہ مسجد نبوی میں کھڑے ہوگئے اور اپنے طریقہ کے مطابق اپنی عبادت کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں انھیں کرنے دو۔ چنانچہ انھوں نے مشرق کی سمت میں اپنی عبادت ادا کی (وقد حانت صلاتهم فقآموا فى مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم يُصَلُّونَ - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : دعوهم ـ فصلّوا الى المشرق (سیرۃ ابن ہشام ۲۰۶/۲) محمد حسین ہیکل نے اپنی کتاب حیات محمد میں بجاطور پر اس کو مؤتمر الادیان الثلاثۃ کا نام دیا ہے۔ یہاں ہم ان کی کتاب کے انگریزی ترجمہ (The Life of Muhammad) سے دو پیر گراف نقل کرتے ہیں :

The three scriptural religions thus confronted one another in Madinah. The delegation entered with the Prophet into public debate and these were soon joined by the Jews, thus resulting in a tripartite dialogue between Judaism, Christianity and Islam. This was a truly great congress which the city of Yathrib had witnessed. In it, the three religions which today dominate the world and determine its destiny had mét, and they did so for the greatest idea and the noblest purpose. (pp. 195-96)

اسلام اگر چہ اس کا قائل ہے مکہ سچائی صرف ایک ہے، سچائی کئی نہیں۔ مگر اس کے ساتھ وہ عملی رواداری کا بھی اسی شدہدت کے ساتھ حکم دیتا ہے۔ اس کی آخری حد، مذکورہ سنت کے مطابق، یہ ہے کہ اسلام میں اس کی بھی اجازت ہے کہ غیر مسلم حضرات اسلامی عبادت خانہ (مسجد) میں آئیں۔ مختلف مذاہب کے درمیان مذاکرہ منعقد کیا جائے۔ حتی کہ اس دوران میں اگر ان کی عبادت کا وقت آ جائے تو وہ مسجد کے اندر اپنے طریقہ کے مطابق عبادت کرنے کے لیے بھی آزاد ہیں۔ یہ اصول خود پیغمبر کی سنت سے ثابت ہے۔ تاہم اب اس میں کہ اور مدینہ کی مسجدیں شامل نہیں ہوں گی۔ کیوں کہ پیغمبر نے بعد کو خدا کے حکم سے مکہ اور مدینہ کو حرم قرار دے دیا۔ حضرات دوسری تمام مسجدوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ البتہ حرمین (مکہ، مدینہ) میں ان کو داخل ہونے کی رخصت نہ ہوگی۔ یہ گویا کلیہ میں استثناء کا معاملہ ہے۔ اور کلیہ میں استثناء ہونا ایک معلوم و معروف اصول ہے۔

عملی رواداری کا یہ اصول اسلام کی پوری تاریخ میں مسلسل طور پر رائج اور قائم رہا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں اسلام نے اپنے دور اول میں حیرت ناک کامیابی حاصل کی اور اسپین سے لے کر انڈیا تک دنیا کا بڑا حصہ (astonishing success) اسلام کے تحت آگیا :

Within a century after the Prophet's death in AD 632, (the early generations of Muslims) had brought a large part of the globe - from Spain across Central Asia to India - under a new Arab Muslim empire. (9/912)

تاہم ان عظیم فتوحات کے باوجود، برٹانیکا کے مطابق، مسلم دنیا میں دوسرے مذہب کے لوگوں کو پوری طرح مذہبی آزادی (religious autonomy) حاصل تھی۔ اسلام نے توحیدِ حقیقت کو اعلان کرتے ہوئے دوسرے تمام مذاہب کا پورا احترام ملحوظ رکھا اور ان کے ساتھ کامل رواداری کا معاملہ کیا (۹۱۲/۹)

عملی نقطہ نظر سے ایک بے حد اہم بات یہ ہے کہ آج ہم جن مذاہب کے درمیان ہم آہنگ لانا چاہتے ہیں، وہ مذاہب نئے نہیں ہیں، بلکہ ہر مذہب قدیم مذہب ہے اور ہر مذہب قائم ش

مذہب (established religion) کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ کوئی مذہب جب قدامت کے اس مرحلہ میں پہنچ جائے تو وہ اپنے ماننے والوں کے درمیان ہمیشہ مقدس حیثیت حاصل کر لیتا ہے، اس کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی لانا یکسر نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد کسی مذہب میں تبدیلی کی کوشش ایک نیا مذہب پیدا کر کے اصل مسئلہ میں اضافہ تو کر سکتی ہے، مگر اس طرح کی کوئی کوشش خود اس مذہب کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی متعدد مثالیں ماضی بعید اور ماضی قریب میں موجود ہیں۔ اس تاریخی حقیقت کو سامنے رکھے تو معلوم ہوگا کہ مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی مذکورہ تیسری تجویز ہی واحد تجویز ہے جو قابلِ عمل ہے۔ اس کے سوا کوئی اور تجویز، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی اچھی معلوم ہو، اس کو بالفعل وقوع میں لانا ممکن نہیں۔ ایک مذہبی اسکالر سے اس موضوع پر میری گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ پچھلے سو سال سے ہم مذاہب کے درمیان ہم آہنگی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ۱۸۹۳ء میں اسی مقصد کے لیے شکاگو میں مذاہب کی عالمی پارلیمنٹ (World Parliament of Religions) منعقد کی گئی۔ اس کے بعد سے اب تک اس نوعیت کی بے شمار کوششیں کی گئی ہیں۔ مگر اس معاملہ میں ہماری تمام کوششیں سراسر بے نتیجہ ہو گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس راہ میں کچھ ناقابلِ عبور رکاوٹیں (insurmountable obstacles) حائل ہیں۔

میں نے کہا کہ یہ بلا شبہ قابل حصول ہے۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ممکن مقصد کو ناممکن تدبیر کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مذہبی ہم آہنگی یقیناً ایک مطلوب چیز ہے۔ مگر اس کو اس طرح حاصل نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں کے مروجہ عقیدہ کو بدل کر انھیں ایک اور عقیدہ پر لانے کی کوشش کی جائے جس کو ایک یا زیادہ اسکالر نے ریسرچ کر کے وضع کیا ہو۔ اس کی واحد قابلِ عمل تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کے مروجہ عقیدہ کو چھیڑے بغیر انھیں اس پر راضی کیا جائے کہ وہ مشترک انسانی ضرورت کے تحت دوسرے مذہب کے لوگوں کا احترام کریں۔ وہ دوسرے مذہب والوں کے ساتھ رواداری (tolerance) کا سلوک کریں۔ وہ فکری اختلاف کے باوجود عملی ہم آہنگی کے طریقہ پر قائم رہیں۔

زندگی کے اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جس کو عملیت (pragmatism) کہا یعنی جہاں نظریاتی تدبیر کام نہ کر رہی ہو وہاں پریکٹیکل تدبیر کا طریقہ اختیار کرنا۔ ایک دوسرے سے اعتقادی اتفاق نہ کر سکتے ہوں، وہاں زندگی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کا اس پر راضی ہو جانا کہ ہر ایک اپنے عقیدہ پر باقی رہتے ہوئے یہ کوشش کرے کہ ایک دوسرے کے درمیان عملی ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔

پریکٹیکل تدبیر ـــــــــ ایک عام اور معروف اصول ہے۔ ہر شخص کو اپنی ذاتی زندگی میں اسے لازماً اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ہر شخص کی زندگی میں کہیں نہ کہیں ایسا موقع آجاتا ہے جبکہ وہ نظریاتی معقولیت (theoretical reason) کو نظر انداز کر کے عملی معقولیت (practical reason) کی بنیاد پر لوگوں سے تعلق قائم کرتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ تدبیر کوئی نئی تدبیر نہیں۔ ماننا لوگوں کے لیے خود اپنے اختیار کردہ طریقہ کی ایک توسیع ہے، نہ کہ الگ سے کوئی نیا طریقہ اختیار کرنا۔

نوٹ : یہ مقالہ انٹر ریلیجس فیڈریشن فار ورلڈ پیس ، نیو یارک کے زیر انتظام نئی دہلی میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس بتاریخ ۱ ۔ ، فروری ۱۹۹۳ میں (انگریزی میں) پیش کرنے کے لیے لکھا گیا ۔ کانفرنس کا موضوع یہ تھا :

Seeking Global Harmony Through Inter-Religious Action

Printed page