Al-Risala · June 1993

انسان کی تبدیلی

Al-Risala, June 1993, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا کے وہ تمام لوگ جن کی طرف بڑی بڑی فتوحات کو منسوب کیا جاتا ہے ، ان کی فتوحات صرف سیاسی انھوں نے حکومتوں کو بدلا ، مگر وہ انسان کو بدلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ تاریخ کی تمام کامیاب مثالیں تبدیلی حکومت کی مثالیں ہیں نہ کہ تبدیلی انسان کی مثالیں ۔ ہندوستان میں بظاہر ایک ”مہاتما“ کے ذریعہ نظام کی تبدیلی عمل میں آئی ۔ مگر ہندوستان کی مثال بھی اس معاملہ میں کچھ مختلف نہیں ۔ یہاں ۱۹۴۷ میں حکومت بدیسی حکمرانوں کے بجائے دیسی حکمراں اقتدار پر قابض ہوگئے ۔ مگر جہاں تک انسان کا تعلق ہے۔ کوئی حقیقی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔

یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر حکومتوں کی تبدیلی حالات کی تبدیلی کے ہم معنی نہیں بنتی ۔ بلکہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد جو نیا نظام بنتا ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ برا ہوتا ہے ۔ چنانچہ کہا جاتا ہے انقلاب اس کامیاب کوشش کا نام ہے جس کے ذریعہ ایک خراب حکومت سے نجات پا کر ایک خراب تر حکومت اپنے اوپر مسلط کرلی جائے :

A revolution is a successful effort to get rid of a bad government and set up a worse. پوری تاریخ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال واحد مثال ہے جب کہ صرف حکومت نہیں بدلی ، بلکہ اسی کے ساتھ انسان بھی مکمل طور پر تبدیل ہوگئے ۔

اس کا بنیادی سبب پیغمبر اور سیاسی لیڈر کے طریق کار کا فرق ہے ۔ لیڈر ہمیشہ سیاسی اور معاشی مسائل کو لے کر اٹھتا ہے ۔ وہ عوام کو وقت کے حکمراں کے خلاف بھڑکا کر اپنا مقصد حاصل کرتا ہے ۔ برعکس پیغمبر آخرت کے مسائل کو لے کر اٹھتا ہے ۔ وہ انسان کو خود اپنی ذات کے خلاف سوچنے کا پیغام دیتا ہے۔ لیڈر احتساب غیر کی بنیاد پر تحریک چلاتا ہے اور پیغمبر احتساب خویش کی بنیاد پر ۔ انھیں دونوں لفظوں میں دونوں کے انجام کا فرق چھپا ہوا ہے ۔

پیغمبر کا اسوہ اور تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ حکومتوں کو توڑنا کوئی کام نہیں ۔ انسان کو بدلو، اس کے بعد حکومت کا نظام اپنے آپ بدل جائے گا ۔

Printed page