Al-Risala · June 1993

دو طرفہ معاملہ

Al-Risala, June 1993, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

۶ دسمبر ۱۹۹۳ء کو اکثریتی فرقہ کے جن لوگوں نے اجودھیا کی بابری مسجد کے ڈھانچہ کو ڈھایا تھا، وہ بطور خود سمجھ رہے تھے کہ یہ معاملہ ان کے لیے یک طرفہ معاملہ ہے۔ مگر اس کے بعد ۱۲ مارچ ۱۹۹۲ کو اقلیتی فرقہ کے کچھ ناراض افراد نے جب بمبئی میں تیرہ طاقتور بموں (High-tech bombs) کا بھیانک دھماکہ کر کے ملک کی اقتصادی راجدھانی کو ہلا دیا تو معلوم ہوا کہ یہ معاملہ دو طرفہ ہے۔ پہلا فرقہ اگر دوسرے فرقہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو دوسرا فرقہ بھی نقصان پہنچانے کے معاملہ میں پہلے فرقہ سے چنانچہ بمبئی کے بم دھماکوں (Bomb blasts) کے بعد آر ایس ایس کے انگریزی ہفت روز ہ آرگنائزر (۲۸ مارچ ۱۹۹۳) نے اپنے پہلے صفحہ پر اس کی جو رپورٹ چھاپی ہے ، اس کی سرخی با معنی طور پر یہ قائم کی گئی ہے ۔ ہم کتنے محفوظ ہیں :

Printed page