How safe are we?
Al-Risala, June 1993, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حقیقت کا اعتراف دوسرے بہت سے مبصرین نے بھی کیا ہے۔ مثال کے طور پر بزرگ صحافی مسٹر کلدیپ نائر (ریڈنس نمبر ۔ ۱۰ اپریل ۱۹۹۳) نے بمبئی کے حادثہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ واقعہ ایک چیتاونی ہے کہ اگر آبادی میں ۱۲ فی صد کی تعداد رکھنے والا گروہ تباہ کیا جا سکتا ہے تو ۸۲ فی صد کی تعداد رکھنے والے ہندو بھی نقصان سے محفوظ نہیں رہ سکتے : It is a warning that if they, the 12 per cent of the population, are sought to be destroyed, the 82 per cent of the Hindus will not stay unhurt.
اس دنیا میں جمہوری طاقت اور تشدد کی طاقت کے درمیان لازمی طور پر کوئی برابری اکثریت اور اقلیت کے درمیان عددی تناسب کے اعتبار سے یقیناً فرق ہوتا ہے۔ مگر تخریب کاری کی صلاحیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔ اایک گروہ جتنی تخریب کاری کر سکتا ہے، دوسرا گروہ بھی یقینی طور پر اتنی ہی یا اس سے زیادہ تخریب کاری کر سکتا ہے۔ اس لیے اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس معاملہ پر از سر نو غور کیا جائے اور اس کا کوئی قابل عمل حل تلاش کیا جائے، اس سے پہلے کہ بربادی کی وہ حد آجائے جس کے بعد تلافی کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔
اولاً، دسمبر اور اس کے بعد ۱۲ مارچ کے واقعہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس ملک میں ہندو اور مسلمان کا مسئلہ دو گونہ نوعیت کا ایک مسئلہ ہے۔ نتیجہ کے اعتبار سے، وہ دونوں میں سے کسی کے لیے بھی یک طرفہ برتری کا مسئلہ نہیں۔
اس مسئلہ کی سنگینی یہ ہے کہ ہندو اپنی اکثریتی طاقت کی بنا پر مسلمان کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے، مسلمان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ہندو سے اس کی یہ حیثیت چھین سکے۔ مسلمان اپنی تمام تر عددی کمی کے باوجود، یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ ہندو کے لیے از عاج (nuisance) پیدا کر سکے۔ اور ہندو بھی کسی حال میں مسلمان سے اس کی یہ حیثیت چھیننے پر قادر
اس طرح ہندو اور مسلمان دونوں یکساں طور پر ایک دوسرے کے لیے سامان تشویش (concern) بن گئے ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ دونوں ہی ٹھنڈے دل کے ساتھ اس معاملہ پر غور کریں اور دو طرفہ مفاد (mutual interest) کی خاطر اس کا کوئی مستقل حل ورنہ اگر یہی حالات باقی رہے تو دونوں اپنے آپ کو تباہ کرلیں گے۔ اس کے بعد دونوں میں سے کوئی بھی ترقی کی منزل تک پہنچنے والا نہیں۔