Al-Risala · June 1993

ڈائیلاگ کی ضرورت

Al-Risala, June 1993, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

ان حالات میں میری تجویز ہے کہ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے نمائندہ افراد کے درمیان ایک مؤثر قسم کا ڈائیلاگ منعقد کیا جائے۔ اس کا مقصد یہ ہو کہ ہندو۔ مسلم جھگڑے کو اس

اب سے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اس ڈائیلاگ میں دونوں فرقوں کے نمائندہ افراد ح ہوں اور پوری سنجیدگی کے ساتھ باہم تبادلہ خیال کریں۔ وہ ہمدردی کے جذبہ کے تحت ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں۔ اس ڈائیلاگ میں وہ اپنے فرقہ کے محدود ممفاد سے زیادہ ئیش کے عمومی مفاد کو اپنے سامنے رکھیں ۔ وہ کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے سے بھائی بھائی کی

ڈائیلاگ کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ دونوں فریق حقیقت پسندی اور ملک کے وسیع تر فاد کو سامنے رکھتے ہوئے گفتگو کا ایک ایجنڈا تیار کریں۔ اس میں مشترک نوعیت کی بالکل ضروری تیں درج ہوں۔ یہ ایجنڈا منصفانہ بھی ہو اور فائنل بھی۔ اس ایجنڈے کی بنیاد پر دونوں کے درمیان سنجیدہ گفتگو ہو۔ اور پھر دو اور لو (Give and take) کے اصول پر تمام باہمی نزاعات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔

تقریباً یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اس ڈائیلاگ کے لیے حالات پوری طرح سازگار ہو چکے ہیں۔ حالات کی اسی سازگاری سے حوصلہ افزا تاثر لیتے ہوئے ہندوستان ٹائمس (۹ اپریل ۱۹۹۳) نے اپنے ایڈیٹوریل میں اس کی مؤثر وکالت کی ہے۔ اس ایڈیٹوریل کا عنوان تحمل کی ضرورت :

Printed page