Al-Risala · June 1993

Need for restraint

Al-Risala, June 1993, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلہ میں جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ پوری طرح ڈائیلاگ کے موڈ میں نظر آتے ہیں۔ انھوں نے جزئی طور پر اس اسپرٹ کا مظاہرہ بھی کیا ہے جو ڈائیلاگ کو کامیابی تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، بمبئی میں ہندو صاحبان کی یہ مانگ تھی کہ ہند و محلوں میں واقع مساجد میں رات کے وقت لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہ دی جائے۔ کے دن سڑک کے اوپر نماز ادا نہ کی جائے۔ یہ بات سالہا سال سے چل رہی تھی مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پاتا تھا۔ ۱۹۹۳ کے آغاز میں دونوں فرقوں کے لوگوں نے اس مسئلہ پر گفتگو کی اور باہمی رضامندی سے ایک متفقہ فیصلہ کر لیا گیا۔

اس معاملہ میں جہاں تک ہندو صاحبان کا تعلق ہے، اپنے مذہب کے زیر اثر ان کا

مزاج عام طور پر روادار رہا ہے۔ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے عروج کے بعد ہندوؤں کے ایک طبقہ میں کسی قدر جارحانہ مزاج پیدا ہو گیا تھا جو کیمیاب ڈائیلاگ کے راستہ میں رکاوٹ مگر دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد سامنے آنے والے حالات نے انھیں اپنے رویہ پر نظر ثانی کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ اب ان کے اندر بھی وہ حقیقت پسندی آگئی ہے جو ڈائیلاگ کی کامیابی کے لیے ہمیشہ ضروری ہوتی ہے۔ اپریل ۱۹۹۳ کے دوسرے ہفتہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ (کلکتہ) بھی اس معاملہ میں ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔ کیوں کہ اس میٹنگ میں پارٹی کے اعلیٰ ذمہ داروں نے طے کیا ہے کہ وہ ٹکراؤ اور جارحیت کے طریقہ کو چھوڑ کر امن اور مفاہمت کے اصول پر اپنی تحریک چلائیں گے۔

Printed page