Al-Risala · June 1993

آخری چارہ کار

Al-Risala, June 1993, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

اس ہندو مسلم ڈائیلاگ کو اس عزم کے ساتھ منعقد ہونا چاہیے کہ اس کو بہر حال نتیجہ خیز اس کو کسی بھی حال میں ”نشستند و گفتند و برخاستند“ کا مصداق نہیں ہونے دینا ہے، اور اگر عزم صحیح ہو تو ایسا ہونا کچھ بھی مشکل نہیں۔

اس ڈائیلاگ کا پہلا مطلوب نشانہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے دونوں فرقے ایک مشترکہ اتفاق نامہ تک پہنچ جائیں۔ اگر ایسا ہو تو بلا شبہ یہ پوری ہندوستانی قوم کے لیے نہایت خوش قسمتی کی ہوگی، اور ہم سب کو اس کے حق میں خدا سے اسی کی دعا کرنا چاہیے۔ لیکن بالفرض اگر اس سے اس قسم کا مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو، اور ڈائیلاگ کی کارروائی بتا کہ دو طرفہ بنیاد پر اس مسئلہ کا حل نکلنے والا نہیں ہے۔ تو ایسی صورت میں آخری چارہ کار کے طور پر میں اپنے مسلم بھائیوں سے کہوں گا کہ وہ اپنے پیغمبر کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے اس بات کے لیے تیار ہو جائیں کہ وہ یک طرفہ بنیاد پر اس مسئلہ کو ختم کر دیں گے تاکہ ملک میں امن وامان قائم ہو، اور اس خطہ ارض میں بسنے والے تمام لوگ معتدل حالات میں زندگی گزارنے کا

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سالہ دعوتی عمل کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس ہجرت کے بعد بھی ایسا نہ ہو سکا کہ دونوں فریق کے درمیان جھگڑا ختم ہو جائے اور اہل عرب

و پرامن زندگی کے مواقع حاصل ہو جائیں۔ حتی کہ معاملات اس نوبت کو پہنچ گئے کہ بالکل ظاہر ہو گیا کہ یہ نزاع دوطرفہ بنیاد پر ختم ہونے والی نہیں ہے۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حریف طبقہ کی تمام شرطوں کو مانتے ہوئے ایک طرفہ بنیاد پر اس نزاع کا خاتمہ کر دیا۔ نزاع کا یہی وہ عمل ہے جس کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے وقت اعلان کیا تھا کہ قریش (فریق مخالف) ج مجھ سے جس چیز کے لیے بھی کہیں گے جس میں کہ قرابت خواری پائی جاتی ہو تو وہ چیز ضرور میں انھیں دوں گا (لا تدعونى قريش اليوم الى خطة يسألونني فيها صلة الرحم الا اعطیتهم اياها) سيرة ابن هشام ۳۵۸/۳ میرا مشورہ ہوگا کہ ایسی صورت میں مسلمان اس اسوہ رسول کی اسپرٹ پر عمل کرتے ہوئے برادران وطن سے یہ کہہ دیں کہ ملک میں شانتی لانے کی خاطر ہم ہر اس شرط کو ماننے کے لیے تیار ہیں جس سے انڈیا کا وقار اور اس کی اعلیٰ روایتیں باقی رہتی ہوں، جو دیش کی مجموعی ترقی کا راستہ کھولنے والا ہو۔

مسلمان بھائیوں کے اطمینان کے لیے مزید میں کہوں گا کہ اس طرح کا تصفیہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے، وہ کبھی بھی مستقل یا ابدی نہیں ہوتا۔ مسلمان اگر اس معاملہ میں یک طرفہ ایڈ جسٹمنٹ پر راضی ہو جائیں تو وقتی طور پر بظاہر یہ ان کے لیے کھونے کا واقعہ دکھائی دے گا۔ مگر عین ممکن ہے کہ مستقبل کے لحاظ سے وہ ان کے لیے نئی ، زیادہ بڑی کامیابی کا دروازہ کھولنے کے ہم معنی

Printed page