Al-Risala · June 1993

ایک سفر

Al-Risala, June 1993, pp. 29–2

By Maulana Wahiduddin Khan

پونہ میں مسیحی چرچ کے تحت ایک بہت بڑا ادارہ De Nobili College ہے۔ کے تحت ایک مذہبی مطالعہ کا ادارہ Institute for the Study of Religion قائم اس ادارہ نے ایک امریکی ادارہ کے تعاون سے پونہ میں ۲-۶ - ۶ نومبر ۱۹۹۱ء کو ایک کل مذاہب کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس کی تھیم تھی: ’’ ریلیجن اینڈ سوسائٹی‘‘ اس کانفرنس کی دعوت پر پونہ کا سفر ہوا اور اس کے بعد بمبئی وغیرہ کا سفر۔ ذیل میں اس کی روداد درج کی جاتی ہے۔ ۲ نومبر کو گھر سے نکل کر ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوا تو انسانی تاریخ کا نقشہ میرے ذہن میں گھومنے موجودہ زمانہ میں سفر کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے۔ وہ سواری پر بیٹھ کر پختہ سڑکوں سے گزرتا ہوا اسٹیشن یا ایئر پورٹ پہنچتا ہے۔ وہاں اس کے لئے ایک اور سواری موجود ہوتی ہے جو اس کو لیکر تیزی سے آگے روانہ ہوتی ہے اور اس کو اس کی منزل تک پہنچادیتی ہے۔ منزل پر دوبارہ یہی سارے انتظامات ہوتے ہیں جن کو استعمال کر کے وہ اپنے آخری مطلوب مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ چند ہزار سال پہلے انسانی زندگی اس سے بالکل مختلف تھی۔ انسان نیم حیوانات کی طرح جنگلوں میں اس کے بعد دھیرے دھیرے ترقی شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ شہری زندگی کا دور آگیا جس کو مدنیت (Urbanization) کہا جاتا ہے۔ مسلم عہد سے پہلے یہ رفتار بہت سست تھی۔ عہد میں انسانی تہذیب نہایت تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھی۔ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں نے بغداد کی جس طرح تعمیر کی وہ ماضی کے شہروں سے اتنا مختلف ہے کہ شہری تاریخ میں وہ ایک چھلانگ معلوم ہوتا ہے۔

اربن پلاننگ کے پروفیسرایگلی (Ernst Arnold Egli) نے اس کی توجیہہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن میں جنت کی زندگی اور جنت کے مکانات کا جس طرح بار بار ذکر کیا گیا ہے، اس نے مسلمانوں کے اندر عمدہ مکانات اور اعلی تمدن کے بارہ میں ایک خیالی تصویر (dream image) بنائی۔ انھوں نے اس خیالی تصویر کو واقعہ بنانے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجہ میں مسلم دنیا کے جدید شہر وجود

مسلم تاریخ کے ان واقعات کو مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے عام طور پر قومی فخر کے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ اس کو مسلمانوں کے پر فخر کارنامہ کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کو آلاء اللہ کے طور پر بیان کیا جانا چاہئے۔

اس دنیا کی ہر ترقی اصلا امکانات قدرت کو ظہور میں لانے کا نام ہے۔ انسان ان امکانات کو ایجاد کرنے والا نہیں، وہ صرف ان کو استعمال کرنے والا ہے۔ جب ایسا ہے تو ہم کو چاہئے کہ ان ترقیوں کو دیکھ کر ہم خدا کے گیت گائیں نہ کہ ان کو خود اپنے خانہ میں ڈال کر فخر اور ناز کرنے لگیں۔ گھر سے دہلی ایئر پورٹ جاتے ہوئے راستہ میں ایک معاملہ پیش آیا۔ اس میں ایک بہت بڑا میں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے ساتھی سے کہا: لوگوں کے درمیان کامیاب زندگی گزارنے کا واحد آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ ان کی انا سے نہ ٹکرائیں۔ اگر آپ اس راز کو جان لیں تو آپ اپنے دشمنوں کے درمیان بھی دوست کی طرح رہ سکتے ہیں۔

دہلی ایئر پورٹ پر ڈاکٹر اقتدار حسین صدیقی سے ملاقات ہوئی۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ ان کی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ان کی ایک کتاب کا نام ہے : Islam and Muslims in South Asia: Historical Perspective ان سے دیر تک مختلف علمی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ آجکل میں مسلمانوں کی فکری تاریخ پر ایک کتاب کی تیاری کر رہا ہوں۔ اس سلسلہ میں میں نے ان سے پوچھا کہ اقبال کی کتاب Reconstruction of Religious Thought in Islam کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اس کو پڑھا ہے۔ وہ ایک اچھی کتاب ہے۔ مگر میں اقبال کے بعض نظریات سے متفق نہیں۔ میں نے مثال پوچھی تو انھوں نے کہا کہ مثلاً اقبال کے مرد کامل (Perfect man) کے نظریہ سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔ وہ تاریخ کو ایک ارتقائی عمل کے طور پر اس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ پرفیکٹ انسان مستقبل میں پیدا ہوگا۔ یہ تصور اسلام کے عقیدہ رسالت سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ عقیدہ رسالت کے مطابق ، کامل اور پرفیکٹ انسان پیغمبر کی صورت میں پیدا ہو چکا۔ اب مسئلہ پرفیکٹ مین کی پیروی کرنے کا ہے نہ کہ پرفیکٹ مین کا انتظار کرنے کا۔ ایئر پورٹ کی کھڑکی پر اپنا بورڈنگ کارڈ لیتے ہوئے ایک واقعہ گزرا۔ اس کے بعد مجھے اسی قسم

ایک قصہ یاد آ گیا جو میں سے کسی اخبار میں پڑھا تھا۔ ایک انگلش میں ایک بار کسی ایئر لائن کے ریزرویشن کاؤنٹر پر کھڑا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک موٹی عورت تیزی سے چلتی ہوئی کھڑکی کی طرف بڑھی ۔ اس کا ٹکٹ فرسٹ کلاس کے لئے تھا۔ مگر کلرک نے غلطی سے اس کو عام درجہ کا بورڈنگ پاس دے دیا تھا۔ عورت دوبارہ ہجوم کر کے کھڑکی پر پہنچی اور اپنا بورڈنگ پاس درست کروا کے فاتحانہ واپس ہوئی۔ عورت سے دھکا لگنے کی بنا پر لائن میں کھڑے ہوئے انگریز کا ٹکٹ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا تھا۔ اس نے جھک کر اپنا ٹکٹ زمین سے اٹھایا اور سنجیدگی کے ساتھ خاتون سے کہا کہ میڈم، فرسٹ کلاس بورڈنگ پاس کا نام نہیں۔ فرسٹ کلاس ایک طلوق زندگی ہے:

Madam, first class is not a boarding pass. It is a way of life. دہلی سے پونہ کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۴۴ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کے اندر پڑھنے کے لئے انگریزی اور ہندی میں مختلف چیزیں موجود تھیں۔ ان میں سے ایک صنعتی میگزین (Industrial Products Finder) تھا۔ یہ اس کا شمارہ اکتوبر ۱۹۹۱ تھا۔ ۲۳۲ صفحہ کے اس میگزین کے چار حصے تھے :

1. Industrial News Briefs 2. Commercial Info Exchange 3. Technical Articles 4. Product Index یہ میگزین بزنس پریس (Business Press) کی طرف سے شائع ہوتا ہے جس کا ہیڈ آفس بمبئی میں ہے۔ پورا میگزین صنعتی خبروں یا صنعتی سامانوں کے اشتہار سے بھرا ہوا تھا۔ نمبر ۲ کے تحت بہت نے لوگوں کی طرف سے یہ اعلان تھا کہ ہم فلاں صنعتی شعبہ سے دلچسپی رکھتے ہیں اور ایسے لوگوں سے رابطہ (contact) قائم کرنا چاہتے ہیں جو اس شعبہ میں ہم سے تعاون کریں یا فنی جانکاری (Technical know-how) دے سکیں۔

میں نے سوچا کہ مادی شعبوں میں لوگ دوسروں کا تعاون تلاش کر رہے ہیں۔ اور دینی شعبوں میں یہ حال ہے کہ دوسروں سے کٹ کر ہر آدمی اپنی الگ دنیا بنانا چاہتا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔

اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ صنعت کار کا بنیادی مقصد کاروبار کو بڑھانا ہوتا ہے اور فنکارانہ ہناؤں کا بنیادی مقصد شخصیت کو بڑھانا۔

چڑیوں کو بالائی فضا میں اڑتے ہوئے دیکھ کر قدیم زمانہ سے انسان یہ خواہش کرتا رہا ہے کہ وہ فضا میں اڑے۔ قدیم اسپین میں ایک مسلمان عباس بن فرناس دم ۸۸۸) تھا ۔ اس کے اندر نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کا شوق تھا۔ اس نے خاص طرز کی ایک بڑی سی چادر بنائی اور پھر چھتری کی مانند اس میں اپنے آپ کو باندھا اور بلندی پر چڑھ کر فضا میں چھلانگ لگائی۔ تھوڑی دور جا کر وہ زمین پر گر پڑا اس کے دونوں بازو ٹوٹ گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں نے اس کا معاملہ قاضی سلیمان بن اسود الغافقی کی عدالت میں پیش کیا۔ قاضی نے اس کو غیر معتدل قرار دے کر حکم دیا کہ آئندہ وہ اس قسم کے تجربات

احمد شریف الرفاعی کا مضمون (المدينة (19 اکتوبر (۱۹۸۹) نہ سے گزرا۔ موصوف نے لکھا تھا کہ اگر عباس بن فرناس پر روک نہ لگائی جاتی تو یقیناً ہم ہوا بازی کے طریقہ کو ہزار سال پہلے جان لیتے ۔ (لقد اعدموة علمياً ... ولو تركوة لشأنه لعرفنا الطيران قبل اكثر الف سنة)

عرب مضمون نگار نے اپنا یہ مضمون من شرفات التراث کے عنوان کے تحت شائع کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو نظر جان سکے کہ ہوائی جہاز کا بننا طویل علمی تحقیق اور بے شمار تجربات کے بعد ممکن ہوا ہے۔ اس میں پوری انسانیت کا سفر شامل ہے۔ وقت کی حکومت اگر عباس بن فرناس کے لئے ساری سہولتوں کا ڈھیر لگا دیتی تب بھی یہ نا ممکن تھا کہ جو ہوائی مشین بیسویں صدی میں بنی، وہ اچانک نویں صدی میں بن کر تیار ہو جاتی۔

میرے ساتھ بار بار ایسا پیش آیا ہے کہ میں ٹکٹ کے باوجود سفر نہ کر سکا۔ مثلاً ایک بار میرے پاس لمبے سفر کا ٹکٹ تھا۔ کسی وجہ سے مجھے اپنے سفر کو مختصر کرنا پڑا۔ میں نے ٹکٹ کی بچی ہوئی رقم کا دوا چرخ بنوایا جو اس کے بعد کئی سفروں میں کام آیا۔

آخر میں میرے پاس دہلی ۔ بمبئی کا ریٹرن ٹکٹ تھا۔ اس ٹکٹ کو دوبارہ رقم کی صورت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ صرف سفر ہی میں اس کو استعمال کرنا ممکن تھا۔ مگر بار بار ایسے حالات پیش آئے کہ میں بمبئی کا سفر نہ کر سکا، یہاں تک کہ ٹکٹ کی مدت آخری طور پر ختم ہوگئی، اور وہ استعمال کے قابل

تھوڑی دیر کے لئے احساس ہوا کہ ایک ٹکٹ بلا وجہ ضائع ہو گیا ۔ ممگر جلد ہی میرے اندر ایک نیا احساس جاگ اٹھا ۔ میری زبان سے نکلا " خدایا ، میں اس ٹکٹ کو دنیا کے سفر کے لئے استعمال نہ کر سکا۔ تو اپنی رحمت سے اس کو میرے لئے آخرت کا ٹکٹ بنا دے : اس کے بعد نقصان کا احساس جاتا رہا اور دل میں ایک قسم کا سکون پیدا ہو گیا۔

جہاز دہلی سے روانہ ہو کر منزل کی طرف پرواز کرنے لگا۔ وہ رکے بغیر مسلسل اڑ رہا تھا۔ گھڑی کی سوئی بھی برابر آگے بڑھ رہی تھی ۔ یہاں تک کہ روانگی کے ٹھیک ایک گھنٹہ اور ۵۰ منٹ پر اناؤنسر نے اعلان کیا کہ اب ہم پونہ کے ہوائی اڈہ پر اترنے والے ہیں۔

میں نے یہ الفاظ سنے تو مجھے محسوس ہوا جیسے اناؤنسر یہ کہہ رہا ہو کہ جہاز کے پرواز کی آخری حد آگئی ۔ پھر میں نے سوچا کہ مختلف جہازوں کی مختلف حد ہوتی ہے۔ کوئی جہاز آدھ گھنٹہ اڑ کر اتر جاتا ہے کوئی ایک گھنٹہ اور کوئی دو گھنٹہ اور کوئی دس گھنٹے اڑنے کے بعد نیچے اترتا ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ ایک شخص پیدا ہوتے ہی مر جاتا ہے۔ گویا اس کے جینے کی حد چند منٹ یا چند گھنٹے تھی۔ اسی طرح کوئی شخص چند سال گزار کر مرتا ہے۔ کوئی جوانی میں مر جاتا ہے۔ اور کوئی بوڑھا ہو کر مرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عمر موت کی عمر ہے۔ آدمی کا ہر لمحہ اس کا آخری لمحہ ہر وقت آدمی اپنی آخری حد پر کھڑا ہوا ہے۔ زندگی کا یہ معاملہ اتنا عجیب ہے کہ آدمی اگر اس کو سوچے تو پر عیش محل میں بھی اس کی زندگی بے عیش ہو کر رہ جائے۔

تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہمارا جہاز پونہ ایر پورٹ پر اترا۔ کانفرنس کے نمائندے جو میری رہنمائی کے لئے آئے تھے وہ تو حسب قاعدہ ایر پورٹ کے باہر کھڑے ہوئے تھے۔ گر حلقہ ارسال کے لوگ ایر پورٹ کے اندر مجھ سے ملنے کے لئے موجود تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ اندر کیسے آگئے کیونکہ اندر آنا تو منع ہے۔ جناب عبد الصمد صاحب نے بتایا کہ گیٹ پر کھڑے ہوئے ایر پورٹ کے آدمی نے ان کو روکا۔ پھر انھوں نے کہا کہ ہمارے " "دھرم گرو" آ رہے ہیں۔ یہ سن کر آدمی نے ان لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔ مذہب میں آج بھی وہ طاقت ہے جو کسی دوسری چیز میں نہیں۔ مذہب کو ماننے والے اپنے آپ کو اشتعال انگیز کارروائی سے دور رکھیں۔

کانفرنس والوں نے بلیو ڈائمنڈ ہوٹل (پونہ) میں قیام کا انتظام کیا تھا۔ چنانچہ سب لوگوں کے ساتھ پہلے ہوٹل پہنچا۔ یہ ہوٹل شہر کے باہر ہے۔ چنانچہ ہوٹل پہنچنے کے بعد ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کیے بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میرا قیام شہر میں ان لوگوں کے ساتھ ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ ملاقات کی صورت نکل سکے۔ میں نے کہا کہ کانفرنس کے منتظمین اگر اجازت دیدیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ منتظمین نے اجازت دے دی۔ چنانچہ ہم سب لوگ ہوٹل سے شہر واپس آگئے۔

اس کے بعد میرا قیام پہلے مسٹر پی اے انعام دار کے مکان پر رہا۔ کانفرنس کے پروگرام کے مطابق، میٹنگوں میں شرکت کے لئے روزانہ ڈائمنڈ ہوٹل جاتا اور پھر دوبارہ انعام دار صاحب کے یہاں واپس آ جاتا۔ آخر میں میرا قیام جناب عبد الصمد صاحب کے مکان پر تھا۔ پونہ اور بمبئی کے درمیان ایک تیز رفتار ٹرین چلتی ہے۔ اس کا نام "دکن کوئین" ہے۔ کا نام پونہ کے نام پر ہے۔ مرہٹوارہ کا سب سے زیادہ خوبصورت شہر ہونے کی بنا پر پونہ کو دکن کوئین کہا جاتا تھا۔ اسی کے نام پر اس ٹرین کا مذکورہ نام رکھا گیا۔

سترھویں صدی میں مرہٹہ حکومت نے پونہ کو اپنی راجدھانی بنایا۔ کچھ عرصہ کے لئے اس پر مغلوں کا قبضہ ہو گیا۔ مگر ۱۷۷۳ء اسے دوبارہ مرہٹوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ ۱۸۱۸ میں برٹش حکومت نے اس پر قبضہ کیا جو ۱۹۴۷ تک قائم رہا۔

برٹش دور میں پونہ میں تعلیم کا رواج کافی بڑھا۔ یہاں سب سے زیادہ اسکول اور کالج قائم کئے گئے ۔ چنانچہ جواہر لال نہرو نے ایک بار پونہ کو "انڈیا کا آکسفرڈ اور کیمبرج" کا نام دیا تھا۔ ۱۹۶۱ میں یہاں ایک ہیبت ناک واقعہ ہو انتھا۔ پنشیت ڈیم کسی وجہ سے منہدم ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قدیم پونہ کا ایک حصہ اس کی زد میں آکر بہہ گیا۔

دہلی سے پونہ ۱۶۰۰ کلومیٹر دور ہے۔ قدیم زمانہ میں دہلی سے پونہ پہنچنے کے لئے ۱۶ دن سے بھی زیادہ وقت درکار تھا۔ مگر آج یہ سفر صرف دو گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔ ۲ نومبر کو میں نے عصر کی نماز دہلی (نظام الدین) کی کالی مسجد میں ادا کی۔ مغرب کی نماز دوبارہ دہلی ایئر پورٹ پر پڑھی۔ اور عشاء کی نماز کے وقت میں پونہ پہنچ چکا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو پیروں کے ساتھ پیدا کیا تاکہ وہ چل سکے۔ پھر اس کو گھوڑا دیا

جو گویا سواری کی زندہ مشین ہے۔ اس کے بعد انسان پر اسٹیم اور پٹرول کی طاقت منکشف کی جس کے نتیجہ میں ٹرین اور کار بنے۔ اور آخر میں ہواائی جہاز جیسی تیز رفتار سواری انسان کو عطا کی۔ اس تدریجی طریق کار کے نتیجہ میں ایسا ہو کہ پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کے لئے کار اور ہوائی جہاز پر بیٹھنا ممکن نہ ہو سکا۔ پیغمبر تمام انسانوں میں سب سے زیادہ مقدس لوگ تھے۔ مگر ان کے تمام تر قدس کے باوجود خدا نے ان کے لئے اپنے قانون تدریج کو نہیں توڑا۔ اس سے خدا کی سنت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تدریج اس دنیا کے لئے خدا کا اٹل قانون ہے۔ وہ کسی بھی وجہ سے اور کسی کے لئے بدلا نہیں جاتا۔ یہاں لوگوں نے بتایا کہ ۲۲ ستمبر 1991 کو پونہ میں گنیش چترتھی کا جلوس نکلنے والا تھا۔ اسی دن ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ بھی تھی۔ اگر دونوں جلوس ایک دن نکلتے تو یقینی تھا کہ پونہ میں فرقہ وارانہ فساد ہو جائے اور جشن کا دن غم کے دن میں تبدیل ہو جائے۔ پونہ کی سیرت کمیٹی نے مشورہ کرکے یہ فیصلہ کیا کہ ہم لوگ اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ چنانچہ انھوں نے میلاد النبی کا جلوس چند دن موخر کرکے ۲۷ ستمبر کو نکالا۔ دونوں جلوس پرامن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ پر پولیس کے لوگ اور ہند و حضرات بہت خوش ہوئے۔ اور مسلمانوں کی دانشمندی کی تعریف کی۔ اس طرح دونوں جلوس پرامن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ سیرت کمیٹی پونہ نے اپنے فیصلہ کی اطلاع مراٹھی اخباروں میں شائع کرا دی تھی۔ اس سے پورے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو اس کی خبر ہو گئی۔ چنانچہ کئی مقامات پر مسلمانوں نے یہی کیا کہ اپنے جلوس کی تاریخ بدل دی۔ اس طرح پورا مہاراشٹر فساد کے خطرہ سے بچ گیا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اب نیا فیصلہ کیا ہے۔ اب وہ ردعمل کی پالیسی ترک کر رہے ہیں اور اس کے بجائے اعراض کے طریقہ کو اپنی پالیسی کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ پونہ میں ایک صاحب نے کہا کہ مجھے ”شتم رسول“ کے مسئلہ پر آپ سے سوال کرنا ہے۔ نے کہا کہ فرمائیے ۔ اس کے بعد جب وہ بولے تو انھوں نے ایک پوری تقریر کر ڈالی۔ انھوں نے اپنے مفروضہ مخالفین کے اوپر الزام تراشی بھی کی۔ ان کی پرجوش تقریر ختم ہوئی تو میں نے نرمی کے ساتھ کہا : یہ اسلام نہیں ہے کہ آدمی تحقیر رسول کے مسئلہ کو جانے مگر وہ تحقیر مسلم کے مسئلہ سے بے خبر ہو۔ تقسیم ملک (۱۹۴۷) سے پہلے ایک بار کسی سفر کے دوران میں پونہ ریلوے اسٹیشن سے گزرا

اس وقت میں نے چلتی ہوئی ٹرین سے پونہ شہر کی ایک جھلک دیکھی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ریلوے لائن کے کنارے مجھے کچھ بنگلے دکھائی دئے جن کے اوپر پھول دار بیلیں چڑھی ہوئی تھیں۔ اس مشاہدہ میں پونہ مجھے ایک افسانوی شہر نظر آیا تھا۔ میرے ذہن میں یہ تاثر قائم ہوا تھا کہ پونہ خوب صورت مکانات کا ایک شہر ہے جو چاروں طرف پھول اور سبزہ سے ڈھکا ہوا ہے۔

مگر اے 19 میں جب پہلی بار میں نے پونہ کا سفر کیا اور شہر کے اندرونی حصوں کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ پونہ بھی ویسا ہی ایک شہر ہے جیسا کہ ہندوستان کے دوسرے شہر ۔ دوسرے تمام شہروں کی طرح یہاں بھی اگر خوبصورت مکانات ہیں تو اس کے ساتھ تنگ اور بے کش مکانات کی قطاریں بھی۔ یہی بات انسان کے بارہ میں بھی ہے۔ کسی انسان سے ابتدائی ملاقات میں وقتی طور پر جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ اکثر حالات میں نہایت ناقص بلکہ خلاف واقعہ ہوتا ہے۔ سنجیدگی اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ وقتی تجربہ کی بنا پر کبھی کلی رائے قائم نہ کی جائے۔ اسی قسم کی رائے کو شریعت میں ظن کہا گیا ہے۔ کسی شہر کے بارہ میں ظن کے تحت رائے قائم کر لی جائے تو اس میں کوئی اخلاقی برائی نہیں۔ مگر انسان کے بارہ میں ظن کے تحت رائے قائم کرنا بے حد سنگین ہے۔ کیوں کہ اس میں اخلاقی پہلو شامل ہے اور وہ آدمی گناہ کے درجہ تک پہنچا سکتا ہے ( الحجرات (۱۲)

۲ نومبر کی شام کو انعام دار صاحب کے مکان پر دیر تک نشست ہوئی۔ جناب انیس چشتی صاحب اور دوسرے صاحبان آگئے تھے۔ میں زیادہ تر لوگوں کی باتیں سنتا رہا۔ انیس چشتی صاحب تحریک پیام انسانیت سے وابستہ ہیں اور انھوں نے ملک کے مختلف گوشوں کا سفر کیا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ملک میں کوئی شخص یا ادارہ ایسا ہے جو مخصوص طور پر غیر مسلموں میں دین پہنچانے کا کام کر رہا ہو۔ انھوں نے کہا نہیں۔ ایسا تو کوئی بھی نہیں۔

یہ بلاشبہ انتہائی سنگین صورت حال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان دوسری سرگرمیاں تو جاری ہیں مگر وہی اصل کام انجام نہیں دیا جا رہا ہے جو ہماری امت محمدی ہونے کی حیثیت کو متفق

انعام دار صاحب (پیدائش ۱۹۴۵) نہایت ذہین آدمی ہیں۔ انھوں نے کئی قیمتی باتیں کہیں۔ انھوں نے کہا کہ چودہ سو سال پہلے قرآن میں اقرا کا حکم آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خدائی کلام ہے۔

چودہ سو سال پہلے ایک انسانی مصلح اگر عرب میں اٹھتا تو وہ صرف حال کے دائرہ میں سوچتا، جب کہ اقرأ ابدی دائرہ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ حال کے اعتبار سے عرب میں یہ مسائل تھے کہ وہاں وہاں محفوظ راستے نہیں۔ ایک شخص جس کو صرف انسانی نظر حاصل ہو وہ اسی قسم کے قریبی مسائل میں الجھ جائے گا۔ مگر رسول نے علم کا پیغام دیا جو ابدی اہمیت کا حامل تھا۔ جو حال سے لے کر مستقبل تک انسان کے کام آنے والا تھا۔ اور جو اپنے وسیع انطباق کے اعتبار سے دوسرے تمام شعبوں کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔

پونہ کی مذاہب کانفرنس کی مختلف نشستوں میں اسلامی نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع ملا۔ کے علاوہ شہر میں بھی کئی پروگرام ہوئے۔ ان سب کا تذکرہ یکجائی طور پر آئندہ کیا جائے گا۔ فیروز پور ناوال سے ملاقات ہوئی۔ وہ بے سودی تجارت کے پرجوش مبلغ ہیں۔ انھوں نے پونہ میں بینک سے پندرہ لاکھ روپیہ سودی قرض لے کر ایک انڈسٹری لگائی۔ وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کے بعد انھوں نے سامان وغیرہ بیچ کر بینک کا قرض ادا کیا اور سود کے بغیر انڈسٹری چلانے کا فیصلہ کیا۔ آج وہ کامیابی کے ساتھ اپنی انڈسٹری چلا رہے ہیں۔

وہ بوہرہ فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ بوہرہ فرقہ کے لوگ تجارت میں بہت کامیاب اس کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا۔ سادہ زندگی اور کم خرچ۔ ہم نومبر کو مجھے انھوں نے اپنا کارخانہ دکھایا اور اپنے گھر بھی لے گئے۔ ان کی زندگی کو میں نے اس اصول کا معیاری نمونہ پایا۔ فلیٹ ہم لاکھ روپیہ کا ہے۔ اور ان کی انڈسٹری ایک کروڑ روپیہ سے زیادہ کی ہے۔ مگر ان کی زندگی انتہائی حد تک سادہ ہے۔

پونہ کے قریب پیر قمر علی درویش (م ۶۳۲ھ) کی درگاہ ہے۔ یہ درگاہ ۱۹۵۱ء سے باقاعدہ رجسٹرڈ طور پر قائم ہے۔ ساتھیوں کے کہنے پر اس کو دیکھنے کے لیے گیا۔

یہاں ”سوچنا بورڈ“ پر کچھ ہدایات لکھی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک ہدایت یہ ہے: نیا زاود دوسرے پروگرام مسلم طریقے سے کرائیں یہاں صحن میں کالے رنگ کا ایک گول پتھر رکھا ہوا ہے۔ وزن تقریباً ساٹھ کلو ہے۔ طاقت ور آدمی اس کو اکیلا اٹھا سکتا ہے۔

اس پتھر کے لئے یہاں روایت ہے کہ قمر علی درویش کا نام لے کر اٹھانے سے وہ اپنے آپ

اٹھ جاتا ہے۔ طریقہ کے مطابق، گیارہ آدمی پتھر کے چاروں طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ ہر ایک اپنی ایک انگلی پتھر سے لگاتا ہے۔ اور پھر ہر ایک لمبا سانس کھینچ کر کہتا ہے " قمر علی درویش ... " اس کے بعد پتھر اٹھ جاتا ہے۔ اور اس وقت تک اٹھارہتا ہے جب تک سانس نہ ٹوٹے۔

میرے سامنے کئی بار لوگوں نے اس تدبیر پر عمل کر کے پتھر کو اٹھایا۔ تاہم میرا خیال ہے کہ یہ ایک سادہ فطری واقعہ ہے نہ کہ کوئی پراسرار واقعہ۔

پونہ کی مذاہب کانفرنس کے اجلاس بلیو ڈائمنڈ ہوٹل میں ہوئے۔ ۳۰ نومبر کو کانفرنس کے شرکاء تین مختلف گروپ میں بانٹ دئے گئے۔ میرے گروپ میں ایک درجن افراد تھے جو اسلام ، ہندو ازم اور مسیحیت سے تعلق رکھتے تھے۔ ہر ایک نے مذہب کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کئے ۔ یہاں صرف انگریزی تھا۔

میں نے محسوس کیا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ عام طور پر اپنے آبائی مذہب کے بارہ میں بے یقینی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مثلاً ہند و صاحبان نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے مذہب میں انسانیت کو چار ذاتوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ بات میرے ذہن کو اپیل نہیں کرتی۔ نے اپنے بارہ میں بتایا کہ مسیح کی ابنیت خدا کا عقیدہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ میری باری آئی تو میں نے کہا کہ میں نے اصلا اسلامی مدرسہ میں تعلیم پائی ہے۔ انگریزی میں نے بعد کو پرائیویٹ طور پر پڑھی۔ مگر جو اسلام مجھے خاندانی وراثت یا مدرسے کے ماحول میں ملا تھا۔ سے میرے اندر بغاوت پیدا ہوئی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد میں نے بطور خود اسلام کا اور دوسرے مذاہب کا باقاعدہ طور پر مطالعہ کیا۔ اس کے بعد اسلام کی صداقت از سر نو میرے اوپر منکشف ہوئی اور میں نے دوبارہ شعوری طور پر اسلام کو قبول کیا۔ اس طرح اسلام میرے لئے ایک ذاتی دریافت ہے نہ کہ محض قومی عقیدہ۔

میں نے کہا کہ اسلام کی فطری تعلیمات کے علاوہ اسلام کی جس چیز نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا وہ اسلام کا تاریخی پہلو تھا۔ دوسرے مذاہب کی کوئی معلوم اور مستند تاریخ نہیں۔ جب کہ اسلام مکمل طور پر اور مستند طور پر ایک تاریخی مذہب ہے۔ اسلام کو خصوصی اور امتیازی طور پر تاریخی اعتبار یت (historical credibility) حاصل ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب کو

۳ نومبر کی شام کی میٹنگ میں بعض لوگوں نے کہا کہ اسلام جہاد (قتال) کا مذہب ہے میں نے اس سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام میں جنگ صرف بطور دفاع ایک صاحب نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے پھر کیوں لڑائی لڑی۔ میں نے کہا کہ اس کا تعلق ایج فیکٹر سے ہے نہ کہ خود اسلام کی تعلیمات سے۔ قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ چنانچہ اس زمانہ میں ہر مذہب کو تشدد کے مرحلہ سے گزرنا پڑا۔ اب آزادی کا زمانہ ہے۔ لئے اب عام حالات میں اس قسم کی صورت پیش آنے کا موقع بھی نہیں۔

کانفرنس تین دن کے لئے تھی۔ ہر روز پہلا پروگرام عبادت سے متعلق ہوتا تھا۔ پہلے دن ہندو عبادت، دوسرے دن اسلامی عبادت، تیسرے دن کرسچن عبادت۔ ۳ نومبر کی صبح کو عبادتی رقص (prayer dance) کا مظاہرہ تھا۔ چھ آدمیوں کی پارٹی اسٹیج پر آئی۔ اس کے پانچ ممبر ساز اور نغمہ میں مصروف ہوگئے۔ ایک ممبر نے اسٹیج پر رقص کی صورت میں اس کو مجسم کرنا شروع کیا۔ میں نے اپنے قریب کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب سے کہا کہ میں طبعی طور پر ان چیزوں سے انجوائے نہیں کرسکتا۔ مگر آج میں خاص طور پر واقفیت حاصل کرنے کے لئے اس عبادتی پروگرام کو دیکھ رہا ہوں۔ میرا تاثر یہ تھا کہ یہ طریقہ عبادت کو اسٹیج کا شو‘ بنا دیتا ہے۔ ایک یا چند آدمی عبادت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بقیہ لوگ تماشائی کے طور پر اس کو دیکھتے ہیں۔ میری سمجھ میں آیا کہ اسلام کے سوا ہر مذہب میں عبادت زیادہ تر غیر‘ کا ایک فعل ہے۔ وہ میرا اپنا فعل نہیں۔ ان طریقوں میں ہر آدمی اپنے آپ کو عملِ عبادت میں شامل نہیں کر پاتا۔ وہ گویا اپنے لئے دوسرے سے عبادت کرواتا مزید یہ کہ جو شخص عبادت کو اسٹیج کر تا ہے اس کے لئے بھی عبادت زیادہ تر ایک آرٹ ہوتا ہے نہ کہ عبادت میں ذاتی شمولیت۔

اسلام میں چوں کہ عبادت اپنی اصل فطری حالت میں محفوظ ہے، اس لئے اسلام کا طریق عبادت ہی وہ واحد طریقہ ہے جس میں ہر آدمی ذاتی طور پر شامل ہو جاتا ہے۔ اسلام میں ہر آدمی اپنی عبادت خود کرتا ہے۔

پونہ کی اس کانفرنس کو امریکہ کے ایک مسیحی ادارہ نے اسپانسر کیا تھا۔ وہ گاڈ کانفرنس ۲۹ الصالح جون ۱۹۹۳

(God Conference) کے نام سے دنیا کے مختلف ملکوں میں کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ یہ ان کی پہلی کانفرنس تھی۔ موجودہ زمانہ میں ہر مذہب ہی گروہ میں اس کی روایات کا احیاء ہو رہا ہے۔ دوسرے مذاہب میں بھی اور اسلام میں بھی۔ البتہ یہاں ایک فرق ہے۔ لوگوں سے گفتگو کے دوران میں نے پایا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ عمومی احیاء مذہب کی اس لہر کو زمانہ سے منسوب کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اس کو اپنے اپنے اکابر کے کارنامہ کے خانہ میں ڈالے ہوئے

اسلامی عبادت کا پروگرام ۴ نومبر کی صبح کو جناب فیروز پورہ والے نے کیا۔ اس میں انہوں نے صرف تلاوت قرآن کو لیا۔ پہلے قرآن کا ایک حصہ خوش الحانی کے ساتھ پڑھا۔ اس کے بعد اس کا انگریزی مزید انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی اور اس کا انگریزی ترجمہ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامی عبادت کی تشریح کی۔ اور عبادت کی مختلف صورتوں کی تفصیل تمام حاضرین نہایت غور کے ساتھ اس کو سنتے اور دیکھتے رہے۔ بعد کو کانفرنس کے کئی شرکاء نے قرآن کے مطالعہ سے دلچسپی ظاہر کی اور قرآن کا انگریزی ترجمہ طلب کیا۔

۵ نومبر کی صبح کو مسیحی عبادت (Christian prayer) کا دن تھا۔ سب سے پہلے ایک بڑے شمع دان پر کئی موم بتیاں جلائی گئیں۔ اس کے بعد اسٹیج پر ایک مسیحی مرد اور دو مسیحی خاتون آئیں۔ انہوں نے باری باری انجیل (انگریزی) کے کچھ حصے پڑھے۔ اس کے بعد ملے ہوئے کمرہ سے ایک مرد اور ایک خاتون برآمد ہوئے۔ ان کے ساتھ ہارمونیم اور طبلہ تھا۔ انہوں نے ہندی اور بنگالی میں بھجن گائے اور ہارمونیم اور طبلہ بجایا۔

آج بھی مجھے دوبارہ وہی احساس ہوا جو ہند و عبادت کے دن ہوا تھا۔ مسیحی عبادت مجھے عبادت سے زیادہ ایک سماجی تقریب نظر آئی۔ ایک فرد کی فطرت اپنے آپ کو خدا کی پرستش میں شامل کرنا چاہتی ہے، مگر یہ مقصد ان عبادتی تقریبات کے ذریعہ حاصل نہیں ہوتا۔

آج صبح کی میٹنگ میں مذہبی تعدد رول کا مسئلہ زیر بحث تھا۔ میں نے کہا کہ اسلام میں اصل اہمیت "اسپرٹ" کی ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں انہیں باتوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے جن کا تعلق روح یا اسپرٹ سے ہے۔ ظاہری نوعیت کی احکامی آیتیں قرآن میں نسبتاً کم

اس میں وہ آیتیں زیادہ ہیں جن کا تعلق اسپرٹ سے تعلق رکھنے والی باتوں سے ہے۔ ۴ نومبر کی صبح کی میٹنگ میں مختلف لوگوں نے اپنے اپنے مذہب کی آفاقی تعلیمات کو بیان کیا۔ آئی تو میں نے کہا کہ میں نے اسلام کا وسیع مطالعہ کیا ہے۔ میں نے پایا کہ اسلام کی بنیاد دو بنیادی پرنسپل پر ہے۔ ایک خدا پر ایمان۔ دوسرے انسان کے لئے مفید بننا۔ پہلے پرنسپل کے لئے میں نے قل هو الله احد کی تشریح کی۔ اور دوسرے پرنسپل کے لئے میں نے واما ما ينفع الناس فيمكث في الارض کی تشریح بیان کی۔

ایک اور مجلس میں میں نے کہا کہ اسلام کے تمام اصول کامن سنس پر مبنی ہیں۔ کامن سنس خدا کی اسی طرح قرآن بھی خدا کی طرف سے اتارا ہوا کلام ہے۔ چنانچہ دونوں میں کامل مطابقت کوئی شخص اگر اپنے کامن سنس کو اس کی فطری حالت پر قائم رکھے تو وہ اسلام کو عین اپنے کامن سنس کے مطابق پائے گا۔

کانفرنس کے ساتھ ایک بک اسٹال لگا ہوا تھا۔ یہاں مختلف مذاہب سے متعلق انگریزی کتابیں رکھی گئی تھیں۔ ایک کتاب حسب ذیل تھی:

God, The Self and Nothingness by Robert E. Carter اس کتاب کے مختلف حصے دیکھے۔ دوسرے مذاہب پر کافی تفصیلی گفتگو تھی۔ مگر اسلام کے بارہ میں صرف چند مختصر حوالے تھے۔ مصنف نے ایک جگہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کے حوالے سے حسب ذیل تاثر نقل کیا تھا:

For many years I have studied thoroughly the normative texts of Islam and Christianity. There appears to be no evidence in the texts for ... esoteric ecumenism (p.14). برسوں تک میں بہت غور سے اسلام اور مسیحیت کی بنیادی کتابیں پڑھتا رہا ہوں۔ بظاہر ان کتابوں میں سری عالمگیریت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

اس اسٹال پر انگریزی الرسالہ کا شمارہ بھی نظر آیا۔ ہم نے یہ الرسالہ انہیں فراہم نہیں کیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے الرسالہ کہاں سے حاصل کیا۔

Printed page