علماء کا رول اسلام میں
Al-Risala, July 1993, pp. 5–9
By Maulana Wahiduddin Khan
راقم الحروف کے نزدیک ، علماء کے رول کے سلسلہ میں قرآن کی رہنمائی یہ ہے : وما كان المومنون لينفروا كافة فلولا اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب نکل کھڑے ہوں، نفر من كل فرقة منهم طائفة تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم حصہ نکل کر آتا تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور اذا رجعوا اليهم لعلهم يحذرون واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو ڈراتا تاکہ وہ بھی ( التوبه (۱۲۲) پرہیز کرنے والے بنتے۔
اس آیت میںتفقہ کا لفظ وضاحت طلب ہے۔ پہلے ہم فقہ یا تفقہ کی لغوی تحقیق کریں گے۔ کے بعد یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس آیت کے مطابق علماء کا کردار کیا ہے یا کیا ہونا چاہیے۔ فقہ کا لفظ بعد کے زمانہ میں علم الفروع کے لیے بولا جانے لگا ہے۔ یعنی شریعت کے جزئی مسائل مگر یہ اس لفظ کا ایک استعمالی مفہوم ہے جو نزول قرآن کے بہت بعد رائج ہوا۔ قرآن میں فقہ موجودہ معروف معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس کے اصل لغوی معنی میں ہے۔ راغب الاصفهانی (م ۵۰۲ ھ) نے لکھا ہے کہ فقہ یہ ہے کہ موجود علم کے ذریعہ غائب علم تک پہنچا جائے ۔ پس فقہ کا لفظ علم کے لفظ سے زیادہ خاص ہے (الفقه ھوالتوصل الى علم غائب بعلم شاهد فهو اخص من العلم) المفردات في غرائب القرآن ، ۳۸۳ لسان العرب (ابن منظور) میں اس کی مفصل تشریح ہے۔ اس میں بتایا ہے کہ فقہ اصلاً فہم کے معنی میں ہے۔ (الفقه في الاصل الفهم) ليتفقهوا في الدين کی تشریح اس نے ليكونوا علماء به
کے لفظ سے کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس کی بابت دعائیہ طور پر فرمایا تھا : اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الدِّيْنَ وَفَقِّهْهُ فِي التَّاوِيْلِ۔ اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے : اٰی فَهَّمْهُ لسان العرب میں الاذھری کا یہ قول نقل کیا گیا ہے : قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ كِلَابٍ وَهُوَ قبیلہ کلاب کا ایک شخص مجھ کو ایک بات بتا رہا تھا۔ يُصِيْبُ لِي شَيْئاً۔ فلما فرغ غسلن جب وہ اپنی بات کہہ کر فارغ ہوا تو اس نے کہا كَلَامَهُ فَقَالَ أَفَقِهْتَ۔ اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ کیا تم نے
اس طرح لسان العرب میں اس سلسلہ کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : فِي حَدِيْثِ سَلْمَانَ ۔ انہ نزل علی حدیث سلمان میں ہے۔ وہ عراق میں ایک نبطی هل عورت کے یہاں ٹھہرے۔ انھوں نے عورت سے هُنَا مَكَانُ نَظِيْفُ أُصَلِّيْ فِيْہ۔ کیا یہاں کوئی صاف جگہ ہے جہاں میں نماز پڑھوں۔ فقالت طھّرْ قَلْبَكَ وَصَلِّ حَيْثُ عورت نے کہا کہ اپنے دل کو پاک رکھو اور پھر جہاں فقال سلمان : فَقِهْتُ۔ چاہو نماز پڑھو۔ یہ واقعہ بتاکرسلمان نے کہا کہ اٰی فَهِمْتُ وَفَطِنْتُ لِلْحَقِّ۔ یعنی وہ عورت سمجھ گئی ، اس نے حق کا (لسان العرب ۱۳/ ۵۲۲)
اور اک کر لیا۔
اہل لغت کی اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہ کا مطلب فہم اور بصیرت اور ادراک ہے۔ اس سے مراد وہ جاننا ہے جو معرفت کے درجہ تک پہنچ جائے۔ جو آدمی کوشناسائے حقیقت بنادے۔ صرف عالم ہونا فقیہ ہونا نہیں ہے۔ فقیہ وہ ہے جو عالم ہونے کے ساتھ عارف بھی ہو۔ دائرہ عمل کی تقسیم اب مذکورہ آیت کو لیجئے۔ تفسیروں کے مطالعہ سے اس آیت کا جو پس منظر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ غزوہ تبوک (۹ھ) میں مدینہ کے کچھ مسلمان نہیں جاسکے تھے۔ ان متخلفین کے بارہ میں قرآن میں سخت اس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوا کہ بعض سرايا پیش آئے تو اس میں مدینہ کے تمام اہل ایمان چلے گئے۔ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم دین سیکھنے کے لیے کوئی آدمی شہر میں باقی
اس وقف لوگوں کو عمومی خروج سے روکنے کے لیے یہ آیت اتری۔
اس آیت میں امت کو مستقل نوعیت کا ایک رہنما اصول دے دیا گیا ۔ وہ یہ کہ جہاد بالسيف اور علم کے میدان کو عملی طور پر ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ امت کے ایک طبقہ کی ذمہ داری یہ قرار پائی کہ وہ سیاسی جہاد کے شعبوں میں مشغول ہو۔ امت کے دوسرے طبقہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ علم کے شعبوں کو سنبھالے اور اپنے آپ کو پوری طرح اس میں وقف کرے۔ کیوں کہ وقت کیے بغیر کما حقہ اس کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔
مفسرین نے مزید وضاحت کی ہے کہ علم کے شعبوں میں محنت کے لیے ٹھہرنا کوئی تخلف کی بات نہیں یہ علم کی طاقت سے جہاد کرنا ہے جو معروف ہتھیاروں کے ذریعہ جہاد کرنے سے زیادہ اہم ہے : فأمروا ان ينفر من كل فرقة منهم طائفة پس لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت إلى الجهاد ويبق سائرهُم يتفقهون حتى جہاد کے لیے نکلے اور بقیہ لوگ مدینہ میں رہ کر دین لا يَنقطعوا عن التفقه الذي هو الجهاد سیکھیں تاکہ وہ علم دین سے کٹ نہ جائیں جو کہ زیادہ۔ إذ الجهاد بالحجاج اعظم اثراً من بڑا جہاد ہے۔ کیوں کہ دلائل کے ذریعہ جہاد کی تاثیر الجهاد بالخصال (تفسیر النسفی ، مدارک التنزیل) ہتھیاروں کے ذریعہ جہاد سے بہت زیادہ ہے۔ اس اصول کا مطلب مذہب اور سیاست کی تفریق نہیں ہے۔ بلکہ خود اہل مذہب کے دو طبقوں کے دائرہ عمل کی تقسیم ہے۔ یہ تقسیم شریعت کے مزاج کے عین مطابق ہے۔
اسلام میں عورت اور مرد دونوں کا دین ایک ہے۔ دونوں یکساں طور پر دین کے مخاطب مگر عملی اعتبار سے دونوں کے دائرہ کار کو ایک دوسرے سے الگ رکھا گیا ہے۔ عورت کے ذمہ نسل انسانی کی تربیت ہے ، اور مرد کے ذمہ عمل انسانی کا انتظام۔ اسی طرح خود مردوں میں بھی مختلف اس میں سے ایک تقسیم یہ ہے کہ اسلام میں اہل علم اور اہل سیاست کے دائرہ کار کو، بنیادی طور پر ، الگ کر دیا گیا ہے۔ اہل علم کا کام یہ ہے کہ وہ شعور انسانی کے نگراں بنیں۔ وہ ہر دور میں شعور انسانی کی تشکیل کے لیے معلم کا کردار ادا کریں۔ تاکہ عقلیت بشری یا شاکلہ انسانی فطرت کی راہ سے بھٹکنے نہ پائے۔ جہاں تک عملی سیاست کا تعلق ہے۔ اس کے لیے مخصوص صلاحیتیں درکار ہیں۔ ہر آدمی عملی سیاست کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکتا۔ انسانی صلاحیتوں کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ اصرار امت کو یہ اشارہ دیا کہ آپ کے بعد وہ ابو بکر صدیق رض کو امیر مقرر کرے۔ دوسری طرف آپ نے ابو ذر غفاریؓ، ابو ہریرہؓ اور حسان بن ثابتؓ کو یہ مشورہ دیا کہ تم کبھی کوئی حکومتی عہدہ قبول نہ کرنا۔ پیدائشی صلاحیتوں کے اس فرق کی بنا پر کچھ لوگ حکومتی شعبوں کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ اسلام کا منشا یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو سیاسی صلاحیت رکھنے والوں کے حوالے کر کے بقیہ لوگوں کو اپنی اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ملت کے مختلف شعبوں میں مصروف کر دیا جائے۔ اس کے مطابق ، اہل سیاست کا کام اگر تنظیم انسانی ہے تو اہل علم کا کام تعلیم انسانی۔ اہل علم اور اہل سیاست کے درمیان تقسیم کار کے معاملہ کو حدیث میں اور زیادہ واضح کر دیا حدیث کی کتابوں میں ، خاص طور سے کتاب الفتن کے تحت کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں حکومتی بگاڑ کے ذیل میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر تم لوگ دیکھو کہ حکمران بگڑ گئے ہیں تب بھی تم حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم اپنی تلواروں کو توڑ دینا مگر ایسا نہ کرنا کہ حکمرانوں کو ظالم قرار دے کر ان سے لڑنے لگو۔
یہ در اصل مذکورہ تقسیم عمل کو آخری اور انتہائی صورت میں بھی باقی رکھنے کی تاکید ہے۔ یعنی علماء امت کو نہ صرف عام حالات میں معلم انسانی کا کردار ادا کرنا ہے۔ بلکہ اس وقت بھی انہیں اسی تعمیری کام میں لگے رہنا ہے جب کہ وہ دیکھیں کہ حکمرانوں کے اندر بگاڑ آ گیا ہے۔ حکومتی نظام خواہ بظاہر کتنا ہی بگڑا ہوا نظر آئے مگر علماء کو کسی بھی حال میں اپنے مفوضہ کام سے نہیں ہٹنا ہے۔ محمد بن عبد اللہ الخطیب التبریزی کی ”مشکاۃ المصابیح“ میںکتاب الا مارۃ والقضاء کے تحت ایک حدیث آئی ہے۔ اس کا مطالعہ اس ذیل میں بہت اہمیت رکھتا ہے :
عن یحیی بن ھاشم عن یونس بن ابی اسحاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عن ابیہ قال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: جیسے تم لوگ ہوگے ویسے ہی تمہارے اوپر کہا تکونُونَ كذلك يُؤَمَّرُ عليكم - حاکم بنائے جائیں گے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہے کونیت بشری ، اور دوسری چیز ہے امارت بشری۔ کونیت بشری سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ اور ان کی پسند و ناپسند کیا ہے۔ اور امارت بشری
سے مراد ہے کسی انسانی مجموعہ کے اوپر سیاسی حاکم ہونا۔ کونیت بشری کے اعتبار سے کوئی سماج جس حالت میں ہوگا اسی کے مطابق اس سماج کے درمیان سیاسی ڈھانچہ بنے گا۔
علماء ابدی طور پر کونیت بشری کے نگراں ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ ہر دور میں تکوین شعوریا شکلا مانی کی تصحیح کرتے رہیں۔ اور امارت انسانی یا سیاسی ڈھانچہ کی تولیت کا کام اہل سیاست کے حوالے کر دیں۔ زندگی کا نظام جب تک تقسیم عمل کے اس اصول پر چلے گا، وہ درست رہے گا۔ جب یہ تقسیم عمل باقی نہ رہے تو زندگی کا نظام بھی بگڑ جائے گا۔ صحیح انسانی شاکلہ سے صحیح نظام حکومت برآمد ہوتا ہے اور غلط انسانی شاکلہ سے غلط نظام حکومت۔
زندگی میں کونیت بشری کا معاملہ امارت بشری سے زیادہ اہم ہے۔ کونیت بشری کی حیثیت بنیاد کی ہے اور امارت بشری کی حیثیت اوپری ڈھانچہ کی۔ ظاہر میں لوگوں کو اگرچہ بنیاد کے مقابلہ میں اوپری ڈھانچہ زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ مگر حقیقت میں شخص ہمیشہ بنیاد کو انتہائی زیادہ اہمیت دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حکام کے مقابلہ میں علماء کادرجہ زیادہ ہے اور ان کا ثواب بھی زیادہ۔ آغازِ اسلام کی اس ہدایت نے امت کے لیے آئندہ سرگرمیوں کا رخ متعین کر دیا۔ میں اصحابِ رسول کی ایک جماعت جہاد کے عمل میں مشغول ہوئی۔ اسی کے ساتھ ان کی دوسری جماعت، مثال کے طور پر عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمر وغیر ہ، علمی اور دعوتی شعبوں میں اپنے آپ کو وقف کیے رہے۔
صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین میں بھی یہی تقسیم قائم تھی۔ لوگ مختلف علمی میدان، تفسیر، حدیث، فقہ اور ان سے تعلق رکھنے والے دوسرے علمی شعبوں میں مشغول رہے۔ تقریباً ایک ہزار سال تک یہ صورتِ حال قائم رہی۔ یہ لوگ قراء، محدثین، فقہاء علماء، دعاۃ، صوفیاء اور معلمین وغیرہ کی صورت میں یکسوئی کے ساتھ اپنے مخصوص میدان میں سرگرم عمل رہے۔
اسی تقسیم کار کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ عظیم علمی اور دعوتی تاریخ بنی جو آج ملتِ اسلامی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر تمام کے تمام لوگ جہاد و قتال کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے تو یقینی طور پر اسلام کی تاریخ میں ایک خلا پیدا ہو جاتا جو قیامت تک کبھی دوبارہ پر نہ ہوتا۔