شاہ ولی اللہ دہلوی
Al-Risala, July 1993, pp. 13–18
By Maulana Wahiduddin Khan
علماء کے کردار کا دوسرا دور وہ ہے جس کی علامت شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۷۶۲ - دہلوی(۱۷۶۲۔ قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے بلاشبہ کچھ مفید کام کیے۔ مثلاً قرآن کا فارسی زبان میں ترجمہ،
مدرسہ رحیمیہ قائم کرنا ، حدیث کے علم کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا ، حجۃ اللہ البالغہ اور اسی قسم کی دوسرا قیمتی کتابوں کی تصنیف ، وغیرہ۔
مگر اس قسم کے مختلف کام جو شاہ ولی اللہ نے انجام دیے ، وہ سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے تحفظاتی کام ہیں نہ کہ قائدانہ کام۔ تحفظاتی خدمت بھی بلاشبہ ایک قابل قدر خدمت ہے ہے۔ مگر تحفظاتی کردار اور قائدانہ کردار میں ایک بنیادی فرق ہے۔ تحفظ کا تعلق ماضی کی حفاظت سے ہے اور قیادت کا تعلق مستقبل کی تعمیر سے۔ ان کی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ قائدانہ نوعیت کی ایک خدمت قرار دی جاسکتی تھی بشرطیکہ وہ اسم بامسمی ہوتی۔ مگر ، جیسا کہ آئندہ وضاحت کی جائے گی ، شاہ صاحب کی یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار سے دین الہی کی صرف تقلیدی تبئین ہے ، وہ دین الہی کی عقلی تبئین نہیں۔ تحفظاتی کردار ادا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ آدمی کو ماضی کے اثاثے سے واقفیت ہو۔ جس چیز کو قائدانہ کردار کہا جاتا ہے اس کی ادائیگی کے لیے مستقبل کو دیکھنے والی نگاہ درکار ہے۔ قائدانہ کردار ایک شخص حال میں ادا کرتا ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ مستقبل میں برآمد ہوتا ہے۔ تحفظاتی کردار ادا کرنے کے لیے مقلدانہ فکر کافی ہو جاتا ہے۔ مگر قائدانہ کردار ادا کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ آدمی زمانہ شناسی کے ساتھ اعلیٰ مجتہدانہ صلاحیت کا مالک ہو۔ شاہ ولی اللہ نے اپنے بارہ میں لکھا ہے کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں قائم الزمان ہوں۔ یعنی یہ کہ اللہ جب نظام خیر میں سے کسی چیز کو چاہتا ہے تو وہ مجھ کو اپنی منشا کو پورا کرنے کے لیے آلہ کے طور پر استعمال کرتا ہے (رأيتني في المنام قائم الزمان - أعني بذلك أنّ الله إذا أراد شيئاً من نظام الخير جعلني کا لحارحة لإتمام مراده ، فیوض الحرمین ، صفحه ۸۹)
میں سمجھتا ہوں کہ شاہ ولی اللہ کا یہ خواب صحیح تھا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ بالفعل قائم الزمان ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں قائم الزمان بننا چاہیے ۔ شاہ ولی اللہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ دور جدید کے سرے پر پیدا ہوئے۔ وہ اس تاریخی مقام پر تھے جہاں ان کے لیے مقدر تھا کہ وہ وقت کے دھارے کوسمجھیں اور عمل اسلامی کی ایسی روایت قائم کریں جو ان کے بعد صدیوں تک جاری رہ کر دور جدید کو از سر نو اسلام کا دور بنا سکے۔
پنا یہ تاریخی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ۔ وہ قائم الزمان بننے کے مقام پر تھے مگر وہ عملاً قائم الزمان نہ بن سکے ۔
شاہ ولی اللہ کازمانہ اٹھارویں صدی کا زمانہ ہے۔ اس سے پہلے سترھویں صدی میں یورپ میں اس نئے دور کا بیج پڑ چکا تھا جو بالاخر پوری نوع انسانی کو اپنی لپیٹ میں لینے والا تھا۔ دور تقلید کو دور سائنس میں تبدیل کر دینے والا تھا۔ پچھلے زمانہ میں (بشمول دور شرک) کائناتی واقعات کی تشریح اعتقادی اصطلاح میں کی جاتی تھی۔ اب تاریخ بشری میں پہلی بار ایک ایسا دور آ رہا تھا جب کہ کائناتی واقعات کی تشریح خالص اسباب مادی کی اصطلاحوں میں کی جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ شاکلہ انسانی تبدیل ہو جائے ۔ مگر شاہ ولی اللہ اپنے قہروی واقعات میں الجھ کر رہ گئے ۔ وہ دور رس بنیاد پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے جو کہ دراصل قائم الزمان ہونے کا تقاضا تھا۔ قدیم زمانہ میں واقعات عالم کی تشریح اعتقادی اصطلاحوں میں کی جاتی تھی۔ یعنی جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کرنے والا خدا ہے۔ اسلام سے پہلے غلبہ شرک کے زمانہ میں اس اعتقادی تشریح کے لیے کئی خداؤں کے حوالے دیے جاتے تھے۔ اسلام کے بعد غلبہ توحید کا زمانہ آیا تو صرف ایک خدا کی بنیاد پر تمام واقعات عالم کی تشریح کی جانے لگی۔ موجودہ دور پوری معلوم تاریخ میں پہلا دور ہے جب کہ واقعات عالم کو اسباب مادی کی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی۔
سولھویں صدی عیسوی میں مظاہر فطرت کی باقاعدہ علمی تحقیق کی جانے لگی۔ نے چاند اور سیاروں اور دوسرے مظاہر فطرت کا مطالعہ کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ فطرت ایسے محکم قوانین کے تحت عمل کرتی ہے جن کو ریاضیاتی صحت کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ فطرت کی کتاب سب کی سب ریاضی کی صورت میں لکھی گئی ہے :
The book of nature is written in mathematical form (15/530)
چرچ کی مخالفت کے باوجود یہ طرز فکر بڑھتا رہا۔ سترھویں صدی میں کثیر تعداد میں یورپ میں ایسے اہل علم پیدا ہوئے جو کائناتی واقعات کی مشینی تشریح کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ پوپ ، ٹائیکو براہمی، کیپلر وغیرہ۔ یہ پروگرام جس کو عام طور پر مشینی فلسفہ کہا جاتا ہے، وہ سترھویں صدی کا غالب موضوع فکر تھا :
اٹھارویں صدی میں سر آئزک نیوٹن نے اس فکری عمل کو تکمیل تک پہنچا دیا۔ نیوٹن کی کتاب، جس کا مختصر نام پرنسپیا ہے، شاہ ولی اللہ کی وفات سے ۵۵ سال پہلے ۱۶۸۷ میں لاطینی زبان میں چھپی، اور ۱۷۲۹ میں انگریزی میں شائع ہوئی۔ اسپیس، ٹائم، گریویٹی اور فورس کے موضوعات پر مختلف سائنسی ذہن پہلے سے کام کر رہے تھے۔ مگر اس معاملہ میں کامیابی کا سہرا نیوٹن کے حصہ میں آیا۔ نے اپنی کتاب (پرنسپیا) میں یونیورسل گریویٹیشن کے قانون کو ریاضیاتی معقولیت (mathematical reasoning) کے ذریعہ آخری طور پر ثابت کر دیا۔
شاہ ولی اللہ کے زمانہ میں ایک نئے انقلاب کے تمام آثار ظاہر ہو چکے تھے۔ اس انقلاب کا فکری پہلو اسلام کے لیے بے حد اہمیت رکھتا تھا۔ وہ حقائق کی تقلیدی تشریح کو رد کر رہا تھا۔ کے نزدیک صرف وہ تشریح معقول اور مسلم حیثیت رکھتی تھی جو جدید سائنٹفک معیاروں پر کھری ہو۔ مگر شاہ ولی اللہ ان عالمی تبدیلیوں سے یکسر بے خبر رہے۔
شاہ ولی اللہ واقعات کو دہلی کے محدود دائرہ میں دیکھ رہے تھے اور ان کی اصلاح کی سطحی تدبیر میں کمر رہے تھے۔ اگر وہ سفر کرتے اور واقعات کا مطالعہ عالمی حالات کے پس منظر میں کرتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اصل مسئلہ ایک عالمی طوفان کا ہے نہ کہ اس نام نہاد سلطنت کو بچانے کی لاحاصل کوشش کرنے کا جو اپنی عمر طبعی کو پہنچ کر حکومت شاہ عالم ازدہلی تاپالم کامصداق بن چکی ہے۔ شاہ ولی اللہ جس مغل سلطنت کو زندہ کرنا چاہتے تھے وہ اتنی دیمک زدہ ہو چکی تھی کہ اس نے زندگی کی طاقت کھودی تھی۔ اس کے باوجود وہ اس سے بڑی بڑی امیدیں قائم کیے ہوئے تھے التفہیمات الالهية میں وہ شاہان وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں بادشاہوں سے کہتا ہوں کہ اے بادشاہو، اس زمانہ میں ملأ اعلیٰ کی مرضی یہ ہے کہ تم لوگ تلواروں کو کھینچ لو، پھر ان کو نیام میں داخل نہ کرو جب تک اللہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان فرق نہ پیدا کر دے اور کافروں اور فاسقوں کے سرکش افراد اپنے کمزوروں سے نہ مل جائیں۔ وہ اپنے لیے کچھ کرنے کے قابل نہ رہیں۔ اور سبی اللہ کاحکم ہے کہ تم ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنه باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے
واقول للملوك ! ايها الملوك ، المرضى عند الملأ الاعلى فى هذا الزمان ان تسلوا السيوف ثم لا تقعدوها حتى يجعل الله فرقانا بين المسلمين والمشركين۔ وحق يلحق مردة الكفار والفساق بضعفائهم لا يستطيعون لا نُفسهم شيئا ۔ وہو قولہ تعالی : وقاتلوهم حتی لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله للہ(التفہیمات الا لہیہ ، الجزء الاول ، ۱۹۳۶، صفحہ ۱۶ - ۲۱۵) یہ نام نہاد ملوک اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ صرف پالکی میں بیٹھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے تھے۔ دہلی کے وزیر امداد الملک غازی الدین نے ۱۷۵۴ میں شاہ ولی اللہ کے ہم عصرجہاں دار شاہ کے لڑکے کو تخت پر بٹھایا اور اس کا لقب عالمگیر ثانی رکھا۔ ۱۷۵۷ میں افغان سردار احمد شاہ ابدالی دہلی آیا اور اس کو شہنشاہ ہند کا خطاب عطا کیا۔ مگر جلد ہی بعد ۱۷۵۹ میں اسی وزیر نے عالم گیر ثانی کو قتل کر دیا جس نے چند سال پہلے اس کو تخت پر بٹھایا تھا۔ ایسی سلطنت کے سامنے جہاد بالسيف کی تقریر کرنا ایسا ہی ہے جیسے مُردہ لاشوں کے سامنے رجز پڑھنا۔
شاہ ولی اللہ کا یہ کارنامہ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے گرتی ہوئی مغل سلطنت کو سنبھالنے کی کوشش انھوں نے نواب نجیب الدولہ کے ذریعہ کابل کے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان بلوایا۔ ۱۷۶۱ میں پانی پت کے مقام پر مرہٹوں کو شکست دے کر مغل سلطنت کے دشمن کو کچل دیا۔ مگر آخری نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ واقعہ شاہ ولی اللہ کے کارنامہ کے خانہ میں درج کرنے کے بجائے اس قابل نظر آئے گا کہ اس کو ان کی بے بصیرتی کے خانہ میں لکھا جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں شاہ ولی اللہ کا زیادہ بڑا کارنامہ یہ ہوتا کہ وہ ابن خلدون (۱۳۰۶ - ۱۳۸۲) کے مقدمہ کے وہ صفحات پڑھتے جس میں ابن خلدون نے بجاطور پر لکھا ہے کہ کسی سلطنت کی بھی اسی طرح عمر ہوتی ہے جس طرح افراد کی عمر ہوتی ہے (ان الدولة لها اعمار طبيعية كما للأشخاص، ۱۰۰) اور یہ کہ جب کوئی سلطنت بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کا اٹھنا ممکن نہیں ہوتا (ان الهرم اذا نزل بالدولة لا يرتفع ، ۲۹۳)
شاہ ولی اللہ اگر اس راز کو جانتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ ان کے کرنے کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ وہ اس دیمک زدہ ستون کو بے فائدہ طور پر سنبھالنے کی کوشش کریں جس کے لیے گرنا خود قدرت کے قانون کے تحت مقدر ہو چکا ہے۔ بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ وہ نئے حالات کو سمجھیں اور پھر سے امت کی
نئی تاریخ بنانے کی کوشش کریں جس کے عین سرے پر وہ کھڑے ہوئے ہیں۔