Al-Risala · July 1993

نو آباد یاتی دور کے علماءءءءء

Al-Risala, July 1993, pp. 18–22

By Maulana Wahiduddin Khan

علما کے عمل کا تیسرا دور وہ ہے جو، ہماری تقسیم کے مطابق ، شاہ عبدالعزیز دہلوی (۱۷۶۱ء- ۱۸۲۳) سے شروع ہوتا ہے۔ اورنگ زیب سے لے کر سید احمد بریلوی تک مسلم رہنماؤں کے ذہن پر مر ہٹہ اور جاٹ اور سکھ کا مسئلہ چھایا رہا۔ وہ ان داخلی طاقتوں کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جہاد میں مشغول رہے۔ بظاہر انہیں اس کا کوئی شعور نہ تھا کہ اصل خطرہ با ہر کی نو آبادیاتی قوموں سے ہے جو جدید قوتوں سے مسلح ہو کر نکلی ہیں اور ہندوستان سمیت ساری مسلم دنیا عملاً جن کی زد میں آچکی ہے۔ یہ مغربی طاقتیں سواحل کے راستہ سے داخل ہو کر ہندوستان میں اپنا نفوذ بڑھاتی رہیں۔ تک کہ ۱۸۰۳ء میں دہلی کا برائے نام بادشاہ براہ راست برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی سرپرستی protection

جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اس وقت مسلم علما کو اس کی خبر ہوئی۔ اس کے بعد ۱۸۰۶ء میں شاہ عبد العزیز دہلوی نے یہ فتویٰ صادر کر دیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ فرنگی جو دولت کے مالک ہیں، انھوں نے دہلی اور کابل کے درمیان فساد برپا کر دیا ہے : وإني أرى الافرنج اصحاب ثروة لقد افسدوا مابين دھلی وکابل اس کے بعد علما کا سیاسی ٹکراؤ انگریزوں سے شروع ہوگیا۔ افریقہ میں وہاں کے علما اور معلمین کا ٹکراؤ فرانسیسیوں کے ساتھ ہوا۔ مگر اس ٹکراؤ کے لیے اول دن سے ہی یہ مقدر تھا کہ وہ ناکام ہو۔ کہ یہ علما اس مسئلہ کو محض اہل فساد کا پیدا کردہ مسئلہ سمجھ رہے تھے۔ حالا نکہ باعتبار واقعہ وہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ اہل مغرب جدید علمی اور عملی قوتوں کے مالک ہو گئے ہیں اور اسی بنا پر انھوں نے اہل مشرق کے اوپر فیصلہ کن فوقیت حاصل کرلی ہے۔ مثلاً ۱۸۵۷ میں برٹش انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں ریلوے لائن بچھانا شروع کر دیا تھا۔ مگر ۱۸۵۰ میں جہاد آزادی کے لیے اٹھنے والے علما کو اس زمانی تبدیلی کی خبر نہ ہوسکی۔

یہ ٹکراؤ عملی اور اصولی دونوں پہلوؤں سے نادرست تھا۔ عملی اعتبار سے وہ اس لیے درست نہ تھا کہ یہ لوگ ایک ایسی جنگ لڑنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے جو اہل اسلام کی یک طرفہ ہلاکت کے سواکسی

اور انجام تک پہنچنے والی نہ تھی۔ کیونکہ علماء کے پاس صرف روایتی ہتھیار تھے۔ اور دوسری طرف اہل مغرب سائنٹفک ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ گویا اب دونوں فریقوں کے درمیان ماضی کی طرح صرف کیاتی فرق نہ تھا، بلکہ ان کے درمیان کیفیاتی فرق پیدا ہو چکا تھا۔ اور جہاں اس قسم کا فرق پایا جائے وہاں جنگی ٹکراؤ چھیڑنا نہ اسلام کے مطابق ہے اور نہ عقل کے مطابق۔

اصولی اعتبار سے، علماء کا یہ کام ہی نہیں کہ وہ سیاسی امور میں عملی طور پر اپنے آپ کو الجھائیں۔ ان کا عملی سیاست میں الجھنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ دوسرے زیادہ بنیادی کام ہونے سے رہ جائیں۔ علماء کو ہمیشہ تقسیم کار کے اصول پر قائم رہنا چاہیے۔ یعنی وہ سیاسی نزاعات کو اہل سیاست کے حوالے کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہمہ تن علمی، دعوتی، اصلاحی اور تعمیری کاموں میں لگا دیں۔ کے اہل ہیں، اور ان کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔

دور اول میں خلافت راشدہ کے آخری زمانے سے لے کر بنو امیہ اور بنو عباس کے آخر زمانہ تک تقریباً چھ سو سال کی مدت ہے۔ اس پوری مدت میں مختلف صورتوں میں داخلی سیاسی لڑائیاں جاری رہیں مگر یہی وہ مدت ہے جب کہ ان تمام علوم کی تدوین عمل میں آئی جن کو اسلامی علوم کہا جاتا ہے۔ سیاسی انتشار کے با وجود یہ تعمیری کام کیوں کر ممکن ہوا: اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ علماء اور اہل علم کا طبقہ ہمیشہ عملی سیاست سے الگ رہ کر علمی کاموں میں مصروف رہا۔ اس حد بندی نے اہل علم کو یہ موقع دیا کہ سیاسی بگاڑ کے باوجود وہ اپنی قوتوں کو بچا کر یکسوئی کے ساتھ علوم کی ترتیب و تدوین کا عظیم کام انجام دے سکیں۔ اسی طرح اسپین (اندلس) کی مسلم سلطنت کی مدت تقریباً آٹھ سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ بھی اس پوری مدت میں سیاسی ٹکراؤ اور سیاسی بغاوت کے سلسلے جاری رہے۔ اس کے باوجود عین اسی دور میں مسلم علماء اور اہل علم نے جو علمی اور سائنسی خدمات انجام دیں وہ حیرت ناک حد تک عظیم ہیں۔ کی وجہ یہ تھی کہ علماء اور اہل علم نے اپنے آپ کو عملی سیاست کے ہنگاموں سے دور رکھا اور ہمہ تن علوم و فنون کی خدمت کرنے میں مشغول رہے۔

جدید نو آبادیاتی دور میں اگرچہ بیشتر علماء کا یہ حال رہا کہ وہ اپنے اصل کام (تعمیرِ شعور) کو چھوڑ کر بے فائدہ قسم کے سیاسی جہاد میں مشغول ہو گئے۔ تاہم اس دور میں چند علماء ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے اس حقیقت کو سمجھا کہ علماء کا کام لڑائی جھگڑوں میں اپنی قوت ضائع کرنا نہیں ہے۔ بلکہ سیاست سے الگ رہ کر

تعمیی شعبوں میں اپنی طاقت لگانا ہے۔ مگر ایسے علماءءءء اتنی زیادہ اقلیت میں تھے کہ وہ صورت حال کی تبدیلی میں کامیاب نہ ہو سکے۔

۱۸۵۷ء کے زمانہ میں جب علما نے انگریزوں کے خلاف جہاد بالسیف کافیصلہ کیا، اس وقت دیوبند میں ایک بڑے عالم مولانا شیخ محمد صاحب تھے۔ مولانا کی رائے دوسرے عالموں کے بالکل برعکس تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تو در کنار ، موجودہ احوال میں جائز ہی نہیں۔ چنانچہ دیوبند میں ایک مشا ورتی اجتماع ہوا۔ اس میں دوسرے علما کے ساتھ مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا محمد قاسم نانوتوی بھی شریک تھے۔ اس واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے مولانا حسین احمد مدنی ر لکھتے ہیں :

’’ اس اجتماع میں جہاد کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی ، حضرت نانوتوی نے نہایت ادب سے مولانا شیخ محمد صاحب سے پوچھا کہ حضرت کیا وجہ ہے کہ آپ ان دشمنان دین و وطن پر جہاد کو فرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اسلحہ اور آلات جہاد نہیں ہیں۔ ہم بالکل بے سرو مولانا نانوتوی نے عرض کیا کہ کیا اتنا بھی سامان نہیں ہے جتنا کہ غزوہ بدر میں تھا۔ مولانا شیخ محمد صاحب نے سکوت فرمایا۔ ‘‘ نقش حیات ، ۱۹۵۴ء، جلد دوم ، صفحه ۴۴ یہ تقابل بلاشبہ غلط تھا۔ بدر کے موقع پر دونوں فریقوں کے درمیان جو فرق تھا وہ صرف کمیاتی تھا۔ یعنی ایک طرف ۳۱۳ آدمی تھے اور دوسری طرف ایک ہزار آدمی۔ اس کے برعکس ، ۱۸۵۷ء میں دونوں فریقوں کے درمیان کیفیاتی فرق پیدا ہو چکا تھا۔ یعنی ایک طرف دستی ہتھیار تھے اور دوسری طرف دور مار ہتھیار۔ طرف جدید سائنسی طریقوں سے مسلح فوج تھی اور دوسری طرف روایتی طریقوں کی حامل جماعت۔ برتری طاقت کے ساتھ بحری طاقت کا زور شامل تھا اور دوسری طرف صرف بری طاقت محدود طور پر موجود تھی۔ ایک گروہ کی پشت پر نئے عزائم سے بھر پور ایک قوم تھی اور دوسرے گروہ کی پشت پر صرف ایک زوال یافتہ قوم کے کچھ افراد تھے۔

اس وقت کے علما ، جو اس بغاوت میں قائدانہ کردار ادا کر رہے تھے، انھیں اس فرق کا کوئی اندازہ نہ تھا، اگر وہ اس فرق سے پوری طرح واقف ہوتے تو وہ کہتے کہ موجودہ حالات میں ہمارے لیے صبر ہے نہ کہ جہاد۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم صبر پر قائم رہ کر تیاری کریں ، نہ کہ بے وقت حربی اقدام

رکے اپنی تباہی میں مزید اضافہ کا سبب بن جائیں۔

اس سلسلہ میں علماء کی بے خبری کی ایک مہلک مثال یہ ہے کہ مغربی قومیں جدید مواصلات (communication) کے دور میں داخل ہو چکی تھیں۔ مگر معلوم ریکارڈ کے مطابق، علماء اس زمانی تبدیلی سے مطلق بے خبر تھے۔ یہ واقعہ ہے کہ ۱۸۵۷ کی جنگ میں جدید مواصلاتی نظام نے فیصلہ کن کردار ادا کیا جو اس سے پہلے ۱۸۵۱ میں انڈیا میں لایا جا چکا تھا۔ مگرعلماء اور ان کے تمام ساتھی اس سے اس درجہ بے خبر تھے کہ ان کے پیدا کردہ پورے لٹریچر میں اس کا ذکر تک موجود نہیں۔ ہیر نشا ایک برٹش رائٹر ہے۔ اس نے اپنی ایک کتاب میں بہت سی واقعاتی مثالوں سے بتایا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تاریخ کچھ اور ہوتی۔ اس کی کتاب کا نام ہے تاریخ کے اگر : F.G.C. Hearenshaw, The Ifs of History. اس کتاب کے ۱۹ ویں باب کا عنوان یہ ہے _________ اگر خمسینات میں برقی ٹیلی گراف نہ ہوتا اس باب (If there had been no Electric Telegraph in the fifties)

کے تحت مصنف نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے :

(۱۸۵۶ کی بغاوقت کے وقت) انڈیا میں برطانی فوجیوں کی تعداد صرف ۴۵ ہزار تھی۔ ہندوستانی سپاہیوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ تھی۔ گنگا کی وادی میں مقیم انگریزوں میں سے کسی بھی شخص کو، خواہ وہ فوجی ہو یا غیر فوجی ، کوئی چیز بچا نہیں سکتی تھی۔ کوئی بھی چیز، کم از کم عارضی طور پر، بنگال

اور اودھ میں برطانی غلبہوا کے خاتمہ کوروک نہیں سکتی تھی، اگر ایسا ہوتا کہ ٹیلی گراف کا نظام قائم کیے جانے سے پہلے بغاو ت ہو جاتی۔ تار کے ذریعہ (جس کو باغی کاٹ نہیں سکے تھے) گورنر جنرل، لارڈ کیننگ نے انگلینڈ سے مزید فوج طلب کی۔ اس کے علاوہ لارڈ کیننگ کے لیے ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ یہ ممکن ہ کہ وہ تیزی کے ساتھ مدراس سے، بمبئی سے، لندن سے، برما سے قیمتی فوجی دستے حاصل کر سکیں مزید ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ انہیں یہ موقع ملا کہ وہ ایران سے اس طاقت ورفوج کو واپس بلا سکیں جو جنرل اوٹرام کی قیادت میں وہاں بھیجی گئی تھی۔ مگر ان سب سے زیادہ فیصلہ کن یہ بات تھی کہ ٹیلی گرام کے ذریعہ ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ایک فوری اور واجب التعمیل پیغام سنگا پور بھیج کر ساز وسامان سے لیس اس پانچ ہزار آدمیوں کی مسلح فوج کو درمیان میں مداخلت کر کے بلا سکیں جو لارڈ ایلگن کی قیادت میں چین جارہی تھی۔ مزید ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ کیپ کالونی سے توپ خانہ کی دو بیٹری، اسٹور، گھوڑے۔ اور ساٹھ ہزار پونڈ سو نے کی صورت میں منگوائے گئے۔

Printed page