ایک صحیح آواز
Al-Risala, July 1993, pp. 22–25
By Maulana Wahiduddin Khan
سید رشید رضا (۱۹۲۵-۱۸۶۵) دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی دعوت پر ۱۹۱۲ میں ہندوستان آئے تھے اس کے بعد وہ دیوبند کے دار العلوم میں گئے۔ وہاں انھوں نے اساتذہ اور طلبہ کے سامنے عربی میں ایک مفصل تقریر کی جو دار العلوم دیوبند کی روداد (۱۳۳۰ھ، ۱۹۱۲ء) میں درج ہے۔ اس تقریر میں انھوں نے علماء کو اشاعت اسلام کے کام کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا :
”اسلام کی اشاعت کا دوسرا حصہ بت پرستوں سے متعلق ہونا چاہیے۔ ہندوستان میں سیکڑوں قسم کے بت پرست ہیں۔ یہاں بتوں کو پوجنے والے، درختوں اور پتھروں کو پوجنے والے، چاند، سورج ستاروں اور دوسری لغویات کو پوجنے والے موجود ہیں۔ اگر ہمارے پاس دعاة اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہو سکتی ہے جو اس وقت ہمارے تصور میں بھی نہیں آسکتی۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک دور اندیش مسلمان کی توجہ کے لائق ہے۔ اور وہ یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں کے مقابلہ میں اتنی کم ہے کہ ان کی ہستی کو اس ملک میں ہمیشہ معرض خطر میں سمجھنا چاہیے۔ حکومت جو عقل و عدل کی حکومت ہے، اس نے غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان موازنہ قائم رکھا ہے۔
موازنہ ٹوٹ جائے تو آپ خیال کر سکتے ہیں کہ کیا نتیجہ ہوگا۔ غالباً یہاں کے مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو اندلس کے مسلمانوں کا ہوا تھا۔ اس لیے ہم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو ان شبہات کو رفع کرے جو اسلام پر کیے جاتے ہیں۔ یہ شبہات جو موجودہ زمانہ کے علوم کی بنا پر پیدا ہوئے ہیں ان کا دور کرنا بہت ضروری مگر ان شبہات کا رفع کرنا بغیر فلسفہ جدید کی واقفیت کے ناممکن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس جماعت کے اشخاص فلسفہ جدید کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں (الجمعية وکللی، دہلی، ۶ فروری، ۱۹۷۰) یہ بلاشبہ ایک صحیح رہنمائی تھی۔ مگر ہندوستانی علماء میں سے کوئی ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس رہنمائی کو لائق توجہ سمجھا ہو۔ اس طرح کی اور بھی بعض انفرادی مثالیں ہیں جب کہ کسی صاحب بصیرت شخص نے علماء کو اس طرف دلائی کہ وہ بے فائدہ سیاست کو چھوڑ کر نتیجہ خیز عمل میں اپنی قوتیں لگائیں۔ مگر ایسے اشخاص نہ راہ سے موثر نہ بن سکی اور علماء کا قافلہ مسلسل اپنی تباہ کن سیاست کی طرف چلتا رہا۔ غالباً اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ آخری صدیوں میں علماء نے تنقید کو ایک مبغوض چیز سمجھ لیا۔ حلقہ میں تنقید اتنی غیر اہم تھی کہ وہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے تھے۔ اکثریت صرف یہ جانتی تھی کہ ہمارے "اکابر" کا طریقہ یہی تھا۔ مذکورہ قسم کی انفرادی رائیں چونکہ اکابر کے اوپر تنقید کے ہم معنی تھیں، اس لیے پہلے ہی مرحلہ میں وہ قابل رد قرار پا گئیں۔ علماء کے لیے یہ ناقابل فہم تھا کہ وہ اکابر کے طریقہ پر نظرثانی کریں اور اس کو غلط بتا کر اپنے لیے کوئی اور طریقہ اختیار کریں۔ اس کی ایک مثال سید احمد بریلوی کی تاریخ میں ملتی ہے۔ ان کے ساتھیوں اور مریدوں میں ایک مولانا میر محبوب علی (۱۲۸۰- ۱۲۰۰ھ) تھے۔ ان کو سید احمد بریلوی سے اس وقت اختلاف پیدا ہوا جب انھوں نے پنجاب کے سکھ راجہ کے خلاف جہاد کا فیصلہ کیا۔ سید صاحب نے یہ فیصلہ کشف کی بنیاد پر کیا تھا۔ محبوب علی صاحب نے کہا کہ "اے میرے سید، جہاد کا مدار مشورہ پر ہے (نہ کہ کشف اور
اس کے بعد سید صاحب کے قافلہ کے لوگ محبوب علی صاحب کے سخت مخالف ہو گئے۔ بریلوی نے اس کے جواب میں ان سے کہا " تمہاری اطاعت خخاموشی کے ساتھ سننے کی ہونی چاہیے، ایسی اموشی جیسی اس پہاڑ کی ہے جو میرے سامنے کھڑا ہے۔ " محبوب علی صاحب نے اس کو نہیں مانا اور سید صاحب اساتھ چھوڑ کر اپنے وطن کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ سید صاحب نے کہا : من ذهب من عندی الی
وطنہ مراجعاً فقد ذھب ایمانہ (جو شخص میرے پاس نے اپنے وطن کی طرف لوٹ جائے گا اس کا ایمان اس سے چلا جائے گا مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان، از مولانا شاہ ابو الحسن زید فاروقی اسلام میں اجتماعی امور کی بنیاد شوریٰ پر رکھی گئی ہے (الشوریٰ (۳۸) شوریٰ صحتِ فیصلہ کی ضمانت مگر صحیح شوریٰ کے لیے تنقید اور اختلافِ رائے کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ موجودہ زمانے کے علماء کے درمیان چونکہ تنقید اور اختلافِ رائے کا ماحول نہیں، اس لیے ان کے یہاں حقیقی شوریٰ کا وجود بھی نہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ جو قوم آباد تھی، وہ شرک کو ماننے والی قوم تھی، شرعی نقطہ نظر سے یہاں علماء کی پہلی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ان مشرکین کے درمیان ایک ایسی تحریک اٹھائیں جس کی بنیاد تردید شرک اور اثبات توحید پر قائم ہو۔ اور یہ کام ہرگز مناظرانہ انداز میں نہ ہو بلکہ موعظت حسنہ کے انداز میں ہو۔ وہ نصح اور امانت کے جذبہ کے تحت اٹھائی گئی ہو۔ لیکن پچھلے تین سو سال میں کوئی تحریک تو درکنار کوئی ایک عالم بھی ایسا نظر نہیں آتا جو اس کام کا واضح شعور رکھتا ہو اور اس کام کی اہمیت کی طرف لوگوں کو متوجہ کرے۔
یہ کام اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس کو چھوڑنے کے بعد پوری کی پوری قوم اللہ کی نظر میں بے قیمت ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اس کام کو چھوڑ کر دوسرا جو کام بھی کیا جائے گا۔ وہ حبط اعمال کا شکار ہوتا رہے گا۔ کبھی مسلمانوں کی عزت اور سر فرازی کا سبب نہیں بن سکتا۔
اور نگ زیب عالم گیر کے زمانہ میں یہ اہل شرک مسلمانوں کے لیے رعیت کی حیثیت رکھتے تھے، ان کے درمیان دعوتِ توحید کا مصلحانہ کام نہایت آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا تھا۔ مگر علماء اس موقع کو استعمال نہ انھوں نے مشرک قوم کو شرک کی گمراہی سے نکالنے کے لیے کوئی حقیقی محنت انجام نہیں دی۔ انیسویں صدی کے وسط سے باقاعدہ طور پر انگریزی حکومت کا دور شروع ہوا۔ اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے مختلف فرقوں کے درمیان مواز نہ قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ کے نتیجہ میں اہل اسلام اور اہل شرک کی حیثیت برابر برابر ہو گئی۔ اس دوسرے دور میں بھی دعوتی کام کے مواقع پوری طرح موجود تھے۔ مگر علماء نے اب بھی ان مواقع کو استعمال نہیں کیا۔ اس کے برعکس انھوں
جبکہ یہ دونوں ہی تحریکیں مذکورہ دعوتِ توحید کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی تھیں۔ مذکورہ دونوں تحریکیں اپنے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئیں ۔ ایک طرف بھارت کی صورت میں ایک آزاد ملک ظہور میں آیا اور دوسری طرف پاکستان کی صورت میں مسلمانوں کا قومی ہوم لینڈ۔ ہی ملکوں میں مذکورہ دعوت کے مواقع کم سے کم تر ہو گئے ۔ بھارت میں اس لیے کہ یہاں اہل شرک نے اکثریت کی بنا پر غالب حیثیت حاصل کر لی اور مسلمان مغلوبیت کی حالت میں چلے گئے۔ پاکستان میں اس لیے کہ دو قومی نظریہ کے نتیجہ میں اہل شرک کی حیثیت ایک حریف گروہ کی ہو گئی نہ کہ مدعو گروہ کی۔ یہ بلاشبہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے جو علماء کی براہ راست رہنمائی کے تحت کیا گیا ہے۔ کی واحد تلافی یہ ہے کہ کھلے دل سے غلطی کا اعتراف کیا جائے اور حال کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اب وہ کام شروع کر دیا جائے جو ماضی کے مواقع میں انجام نہ دیا جا سکا۔