Al-Risala · July 1993

دوسری عالمی جنگ کے بعد

Al-Risala, July 1993, pp. 25–28

By Maulana Wahiduddin Khan

علماء کی غیر ضروری سیاسی اور حربی سرگرمیاں تو مغربی قوموں کو زیر نہ کر سکیں۔ تاہم خود مغربی قوموں کی باہمی جنگ جو دوسری عالمی جنگ (۴۵-۱۹۳۹) کہی جاتی ہے۔ اس نے ان قوموں کو فوجی اعتبار سے اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے بیرونی ملکوں پر اپنے سیاسی قبضہ کو باقی رکھنا سخت دشوار ہو گیا۔ انہوں نے بیسویں صدی کے وسط میں ان ملکوں سے اپنا سیاسی قبضہ ہٹالیا۔ اگرچہ ان کا تہذیبی اور اقتصادی غلبہ پھر بھی ان ملکوں پر باقی رہا۔

اس کے نتیجہ میں ایشیا اور افریقہ میں تقریباً پچاس مسلم ملک وجود میں آگئے جو سیاسی اعتبار سے آزاد حیثیت رکھتے تھے۔ یہاں علماء کو وہی کردار ادا کرنا تھا جو اسلام میں ان کے لیے مقرر کر دیا گیا یعنی سیاست کو اہل سیاست کے حوالے کر کے وہ اپنے آپ کو اشاعت علوم، دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تعمیر کے کام میں لگائیں۔ مگر دوبارہ انہوں نے یہ کیا کہ غیر ضروری طور پر وہ سیاست کے میدان میں کود پڑے۔

پہلے ان کی سیاست کا عنوان آزادی تھا ۔ اب انہوں نے اپنی سیاست کا عنوان قانون اسلامی کے نفاذ کو بنایا۔ مصر، پاکستان، سوڈان ، شام، الجزائر، انڈونیشیا ، وغیرہ مختلف ملکوں میں علماء

نے ایسی جماعتیں بنائیں جن کا مقصد اسلامی قانون کی حکومت قائم کرنا تھا۔ اس سیاست نے دوبارہ مسلم ملکوں کو میدان کار زار بنا دیا، اس فرق کے ساتھ کہ پہلے اگر مسلم علماءءء کا ٹکراؤ غیر مسلم قوموں سے تھا تو اب ان کا ٹکراؤ خود مسلمانوں کے ایک طبقہ کے ساتھ پیش آگیا۔ مسلم جماعتیں ہر ملک میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے لگیں۔

علما کی ان کوششوں سے ایسا تو نہیں ہوا کہ کسی مسلم ملک میں خالص شرعی انداز کی حکومت قائم البتہ اس کا یہ نتیجہ ضرور ہوا کہ مسلمان دو گرہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگے۔ پہلے اگر غیر مسلم طاقت مسلمان کو مارتی تھی تو اب خود مسلمان ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ ہر جگہ مسلم معاشرہ تخریبی سرگرمیوں کا اکھاڑ ابن گیا۔

مسلم ملکوں کے علما اگر یہ کرتے کہ وہ عملی سیاست سے الگ رہ کر مسلمانوں کی اصلاح کرتے۔ ان کے اندر اسلام کی روح بیدار کرتے۔ جدید معیار پر اسلامی لٹریچر تیار کر کے مسلم نسلوں کے اندر اسلام کی طلب پیدا کرتے۔ اگر وہ اس قسم کے کام کرتے تو وہ زیادہ بہتر طور پر اسلامی حکومت کے قیام میں مددگار ہو سکتے تھے۔ وہ جب مسلم معاشرہ کو اسلامی معاشرہ بنا دیتے تو اس کے بعد اس کے اندر سے جو نظام حکومت ابھرتا وہ یقیناً اسلامی نظام حکومت ہوتا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: کما تکونون كذلك يُؤَمَّرُ عليكم (مشکاۃ المصابیح ۲ / ۱۰۹۷)

مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کے نفاذ میں ناکامی کا اصل سبب سیکولر حکمرانوں کا ظلم یا دشمنان اسلام کی سازشیں نہیں ہیں، جیسا کہ اسلام پسند حضرات ہمیشہ کہا کرتے ہیں۔ اس کا اصل سبب خود علم برداران اسلام کی یہ غلطی ہے کہ وہ معاشرہ کوضروری حد تک تیار کیے بغیر اسلامی قانون کے نفاذ کی مہم لے کر کھڑے ہو گئے۔ پاکستان کا تجربہ واضح طور پر اس کی تصدیق کرتا ہے۔ پاکستان میں ایک سے زیادہ بار اسلام پسندوں کو حکومت پر جزئی یا کلی قبضہ کا موقع ملا۔ مگر وہ کسی بھی درجہ میں وہاں شریعت کو نافذ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مثلاً مفتی محمد محمود کے زمانہ (۱۹۷۱ - ۱۹۷۰) میں صوبہ سرحد کی حکومت، جنرل محمد ضیاء الحق کے زمانہ (۱۹۸۸ - ۱۹۷۷) میں پورے ملک کی حکومت۔ حضرت عائشہ کی ایک روایت اس معاملہ کے اوپر نہایت صحیح تبصرہ ہے۔ صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن (باب تالیف القرآن) میں ایک طویل روایت آتی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے :

انما نزل اول ما نزل منه سورة من المفصل - فيها ذكر الجنة والنار- حتى اذا ثاب الناس الى الاسلام نزل الحلال والحرام - ولو نزل اول شي لا تشربوا الخمر لقالوا لاندع الخمرة ابداً - ولو نزل لا تزنوا لقالوا لاندع قرآن میں پہلے مفصل کی سورتیں اتریں ۔ جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف رجوع ہو گئے تو حلال و حرام کے اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب چھوڑ دو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے۔

مسلم ملکوں کے بارہ میں علماء نے یہ فرض کر لیا کہ چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لیے وہ اسلامی قانون چاہتے یہ مکمل طور پر ایک غلط اندازہ تھا۔ موجودہ مسلم نسلوں کی حیثیت ایک قومی مجموعہ کی ہے نہ کہ حقیقۃً ایک دینی گروہ کی۔ حتیٰ کہ ان میں جو لوگ نماز ، روزہ جیسے اعمال کرتے ہیں یا حج اور عمرہ ادا کرتے ہیں، ان کے بارہ میں بھی یہ اندازہ سراسر غلط ہوگا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حکومت کا اقتدار علماء کے ہاتھ میں ہو اور وہ ان کے اوپر شریعت کے قوانین کا نفاذ کریں۔ مسلم ملکوں میں علماء کی خیر حقیقت پسندانہ سیاست نے جو صورت حال پیدا کی ہے۔ اس کا خلاصہ، حضرت عائشہ کی زبان میں یہ ہے کہ علماء لوگوں کے اندر رجوع اور آمادگی پیدا کیے بغیر شراب اور زنا کے احکام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اور وہاں کے عوام ان کو جواب دے رہے ہیں کہ ہم تو تمہارے اس قانون کو کبھی اپنے اوپر نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے پہلے ۱۱ جنوری ۱۸۲۷ء کو سید احمد بریلوی اور ان کے رفقاء نے پشاور کے علاقہ میں اسلامی حکومت قائم کی تھی۔ سید صاحب کو اس میں امیر المومنین منتخب کیا گیا تھا۔ مگر بہت جلد آپس میں حتیٰ کہ مقامی مسلمانوں نے سید صاحب کے مقرر کردہ عاملوں کو قتل کر دیا۔ اس طرح یہ اسلامی حکومت بننے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ معاشرہ کی تیاری کے بغیر اسلامی حکومت قائم کرنے کا یہ ناکام تجربہ بعد والوں کے لیے چشم کشانہ بن سکا۔ وہ آج بھی اسی تجربہ کو دہرانے میں مصروف ہیں جو ڈیڑھ سو سال پہلے اپنا ناممکن العمل ہونا ثابت کر چکا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً پوری مسلم دنیا میں ”اسلامی انقلاب“ کی تحریکیں چلائی

ان تحریکوں کے قائد علماء اول اسلام پسند مفکرین تھے۔ ایران، پاکستان، مصر، سوڈان، ہشا الجیریا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور دوسرے بہت سے مسلم علاقوں میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے دور تحریک اور دور اقتدار دونوں میں صرف اسلام کو بدنام کرنے کو سبب بنے۔ صحیح ہوگا کہ حکومت الہیہ، اسلامی نظام اور نفاذ شریعت کے نام پر اس دور میں جو تحریکیں اٹھیں وہ سرو الٹا نتیجہ پیدا کرنے والی (counter-productive) ثابت ہوئی ہیں۔

یہ ایک عبرت ناک حقیقت ہے کہ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اور میں بہت سے بڑے بڑے دماغوں نے یہ اعلان کیا کہ اسلام موجودہ زمانہ کے انسانی مسائل کا حل ہے۔ سوامی ویویکانند( (۱۹۰۲-۱۸۶۳) جارج برنارڈ شا (۱۹۵۰-۱۸۵۶) آرنلڈ ٹوائن بی (۱۹۷۵-۱۸۸۹ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں کسی بھی قابل ذکر عالمی شخصیت کی زبان سے اس قسم کا اعتراف سنائی نہیں دیتا۔

اس کی وجہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی رہنماؤں کی غلط نمائندگی ہے۔ اس سے پہلے عالمی مفکرین کے سامنے اسلام کے دور اول کی تاریخ تھی۔ اس سے متاثر ہو کر وہ اسلام کا شاندار تصور قائم کہ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اور رہنماؤں نے اسلام کے نام پر جو بے معنی تحریکیں اٹھائیں وہ د انسانیت کے مصائب میں اضافہ کا سبب بنیں۔ زمانہ حاضر کے ان نام نہاد نمائندگانِ اسلام کے نمونوں کا دیکھ کر لوگ اسلام سے بیزار ہو گئےے۔ ان کا یہ تاثر ختم ہو گیا کہ اسلام موجودہ زمانہ میں انسانی فلاح ک ذریعہ بن سکتا ہے۔

Printed page