زمانی تبدیلی
Al-Risala, July 1993, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ کے علماء کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے مغربی قوموں کے غلبہ کو صرف سیاسی غلبہ کے ہم معنی سمجھا۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ ایک طاقت ور تہذیب کا یلغار تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سیاسی فتح و شکست اس معاملہ میں محض اضافی ہے ۔ ان قوموں کو بالفرض سیاسی جنگ کے میدان میں شکست ہو جائے تب بھی ان کا غلبہ باقی رہے گا۔ جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پیش آیا۔ تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا پر تاتاریوں کا غلبہ محض ایک شمشیری غلبہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر دوبارہ شمشیر کے میدان میں انہیں شکست دے دی جائے تو عین اسی وقت ان کا غلبہ بھی ختم
ہو جاتا تھا۔ مگر مغربی اقوام کا غلبہ اس سے زیادہ تھا کہ اس کا فیصلہ کسی میدان جنگ میں کیا جا سکے ۔ مغربی قوموں کے غلبہ و ترقی کا اصل راز یہ تھا کہ انھوں نے شاکلہ انسانی کو تبدیل کر دیا تھا۔ کے لائے ہوئے علمی انقلاب نے ساری دنیا کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اسی طرح سوچیں جس طرح اہل مغرب وہ چیزوں کے بارہ میں اسی طرح رائے قائم کریں جس طرح اہل مغرب رائے قائم کرتے ہیں۔ اس تبدیلی نے میدان مقابلہ کو جنگ کے بجائے فکر کے میدان میں پہنچا دیا۔ سے کامیاب مقابلہ کے لیے ضروری تھا کہ انھیں فکر کے میدان میں شکست دی جائے ۔ اہل مغرب پر فتح پانے کے لیے وسیع تر معنوں میں شاکلہ انسانی کو دوبارہ بدلنے کی ضرورت تھی۔ مگر علماء سیاسی جھگڑوں میں مشغول ہونے کی وجہ سے نہ اس راز کو سمجھ سکے اور نہ اس کے لیے انھوں نے کوئی حقیقی عمل انجام دیا۔ کونیت بشری، امارت بشری جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، زندگی کی تشکیل میں کونیت بشری (عقلیت انسانی) کی حیثیت بنیاد کی ہے اور امارت بشری کی حیثیت ظاہری ڈھانچہ کی۔ کونیت بشری اگر درست ہو تو ظاہری سیاسی ڈھانچہ بھی لازما درست ہوگا۔ کسی کی سازش یا تخریب اس کو صلاح سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ کی مثال ابوبکر صدیق اور عمر فاروق کا زمانہ خلافت ہے۔ اور جب کونیت بشری میں بگاڑ آجائے تو اس کے بعد کوئی صالح حکمراں بھی محض حکومت کے زور پر معاشرہ کو صالح معاشرہ نہیں بنا سکتا۔ موجودہ زمانہ میں یہ درد ناک منظر سامنے آیا ہے کہ عملی سیاست کے میدان میں علماء کی تمام کوششیں مسلسل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ، سید احمد بریلوی نے پشاور میں اسلامی حکومت قائم کی۔ مگر بہت کم مدت میں اس کا پورا ڈھانچہ ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ مولانا مفتی محمود کو موقع ملا کہ وہ پاکستان کے صوبہ سرحد میں اپنی چیف منسٹری کے تحت اسلام پسندوں کی وزارت بنائیں، مگر میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی وہ ناکامی کے ساتھ ختم ہو گئی۔ سوڈان میں ۱۹۸۸ء میں الاخوان المسلمون کو یہ موقع ملاکہ وہ جعفر النمیری کی حکومت میں موثر شرکت کر سکیں ۔ مگر ان کی یہ شرکت سوڈان کے معاشرتی حالات میں کچھ بھی تبدیلی نہ لاسکی اور دوبارہ اپنی مدت کے اختتام سے پہلے ختم ہوگئی۔ پاکستان میں جنرل محمد ضیاء الحق کو ساڑھے گیارہ سال تک کامل حکمرانی کا موقع ملا۔ ان کو ہند و پاک دونوں ملکوں کے علماء کی تائید حاصل تھی۔ مگر وہ پاکستان کے حالات میں کوئی بھی اسلامی تبدیلی لانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
عملی سیاست کے میدان میں علماء کی مسلسل ناکامی کا سبب یہ ہے کہ وہ منصوبہ الہی کے خلاف چل رہے ہیں۔ ان کی ان تمام سرگرمیوں پر حضرت عائشہ کی وہ روایت صادق آتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا وہ کونیت بشری کو درست کیے بغیر امارت بشری کا منصب سنبھالنا چاہتے ہیں۔ ایسی کوشش حضرت عائشہ کے قول کے مطابق، پیغمبر کے زمانہ میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتی تھی، پھر وہ موجودہ زمانہ میں کس طرح کامیاب ہو سکتی ہے۔
راقم الحروف کا اندازہ ہے کہ علماء کو صحیح طور پر اس کا اندازہ ہی نہیں کہ موجودہ زمانہ میں کونیت بشری میں کیا تبدیلی آئی ہے اور آج کا وہ انسانی شاکلہ ہے جس کو سمجھنا اور جس کی تصحیح کرنا وہ پہلا ضروری کام ہے جس میں انھیں سب سے پہلے مصروف ہونا چاہیے۔ تصحیح شاکلہ کے بغیر کوئی بھی عملی سیاست ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگلی سطروں میں اس مسئلہ کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔