شاکلہ، انسانی کا مسئلہ
Al-Risala, July 1993, pp. 33–35
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے شاکلہ (فکری مزاج) کے تحت عمل کرتا ہے۔ شاکلہ اگر شاکلہ ضلالت ہو تو اس سے غلط عمل صادر ہوگا۔ اور اگر اس کا شاکلہ شاکلہ ہدایت ہو تو اس سے صحیح عمل کا صدور ہوگا (قل کل يعمل على شاكلته فربكم اعلم بمن ھو أھدی سبیلا) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے دنیا کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ لوگوں کے اوپر شاکلہ ضلالت کا غلبہ تھا۔ یہ شاکلہ مشرکانہ عقائد کے تحت بناتھا۔ اسی شاکلہ ضلالت کو قرآن میں فتنہ (الانفال ۲۹) کہا گیا رسول اور اصحاب رسول نے اپنی غیر معمولی جدوجہد سے اس شاکلہ ضلالت کو توڑ دیا۔ اس کے بعد دنیا میں شاکلہ ہدایت کا دور شروع ہوا جو توحید کے تصور پر مبنی تھا۔ یہ شاکلہ ہدایت کم و بیش ایک ہزار سال تک دنیا پر غالب رہا۔
اٹھارویں صدی میں یہ عہد ختم ہو کر نیا عہد شروع ہوا۔ اب تاریخ انسانی میں ایک نیا دور آیا۔ دور دوبارہ شاکلہ ضلالت پر مبنی تھا جو ملحدانہ افکار کے اوپر قائم ہوا تھا۔ اسلامی دور میں "خدا" انسانی تفکیر کا مرکز تھا۔ یہی تصور انسانی اعمال کی تشکیل کرتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں "نیچر" نے خدا کی جگہ اب نیچر پر مبنی افکار انسانی اعمال کی تشکیل کرنے لگے۔ شاکلہ انسانی کی اس تبدیلی نے انسانی زندگی کے تمام عملی نقشوں کو یکسر بدل دیا۔ حتیٰ کہ جو لوگ بظاہر اب بھی خدا کو مانتے تھے وہ بھی اس
عام فکری طوفان سے متاثر ہوئے بغیر نہ سکے ۔
جدید ذہن کو پیدا کرنے میں لمبی مدت اور سیکڑوں اشخاص کا عمل شامل ہے۔ تاہم علامتی طور پر سر آئزک نیوٹن (۱۶۴۲۔ ۱۷۲۷) کو اس دور کا بانی کہا جاسکتا ہے۔ نیوٹن نے شمسی نظام کا مطالعہ کیا۔ اس نے اس بات کی تحقیق کی کہ سورج ، چاند اور سیارے کس طرح حرکت کرتے ہیں۔ مظاہر کی تشریح اس نے میتھمیٹکس کے قواعد کے ذریعہ کی۔ اس نے بتایا کہ یہاں ایک قانون تجاذب (Law of gravitation) ہے جس کی پابندی میں یہ اجرام کھلائے بسیط میں حرکت کر رہے ہیں۔ قدیم زمانہ میں سادہ طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ سورج ، چاند کی گردش اور دوسرے تمام واقعات مقدراتِ خداوندی کے تحت پیش آتے ہیں۔ قدیم انسان اس سے نا آشنا تھا کہ اپنے گردو پیش ظہور میں آنے والے ان واقعات کو قانون فطرت (Law of nature) کی مادی اصطلاحوں میں بیان
نیوٹن کی تحقیقات کی اشاعت نے پورے انسانی عقیدہ کو متزلزل کر دیا۔ مزید تحقیق کے بعد جب معلوم ہوا کہ زمین و آسمان کے تمام واقعات فطرت کے ایسے قوانین کے تحت ظاہر ہو رہے ہیں جن کو علم الحساب کی زبان میں بیان کیا جاسکتا ہے تو قدیم اعتقادیات کی بنیاد بالکل منہدم ہو گئی۔ نے اعلان کر دیا کہ واقعات اگر فطرت کے اسباب کے تحت پیش آتے ہیں تو وہ فوق الفطرت اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے :
If events are due to natural causes they are not due to supernatural causes. نیوٹن کے بعد مفکرین کا ایک اور گروہ اٹھا جس نے انسانی ذہن کی نئی تشکیل میں موثر کردار ادا اس گروہ میں نمائندہ شخصیت چارلس ڈارون (۱۸۸۲۔ ۱۸۰۲) کی ہے۔ نیوٹن نے طبعی دنیا (physical world) کو قانون فطرت کے تحت حرکت کرتا ہوا دکھایا تھا۔ ڈارون نے بتایا کہ حیاتیاتی دنیا (biological world) بھی اسی طرح قانون فطرت کے تحت سفر کر رہی ہے۔ حیات سے لے کر انسان تک جتنے بھی حیاتیاتی مظاہر اس دنیا میں دکھائی دیتے ہیں وہ سب کے سب معلوم فطری قانون کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔
ڈارون کے اس نظریہ پر اس کے بعد بے شمار مزید تحقیقات ہوئیں۔ اگرچہ اس کے ابتدائی نظریہ میں بعض تعدیلات کی گئیں۔ مگر بنیادی طور پر حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ تمام جدید علماء کے نزدیک سائنسی مسئلہ قرار پایا۔ اس کے نتیجہ میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ساری دنیا میں یہ ذہن بن گیا کہ انسان کی تخلیق کا خالق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اس قانونِ فطرت کا مظہر ہے جس کو عام طور پر ارتقاء (Evolution) کہا جاتا ہے۔
جدید مفکرین کاتیسراگروہ وہ ہے جس کی نمائندگی کا مقام کارل مارکس (۱۸۸۳- ۱۸۱۸) کو حاصل مارکس نے انسانی تاریخ کے سفر کا ایک مادی فلسفہ پیش کیا جس کو اس نے تاریخ کی علمی تعبیر (Scientific interpretation) کا نام دیا۔ اس نے کہا کہ تاریخ میں خود اس کے اپنے اندرونی قانون کے تحت طبقاتی جدوجہد (Class struggle) جاری رہتی ہے۔ اور یہی طبقاتی جدوجہد تاریخ کے حال اور مستقبل کی صورت گری کرتی ہے۔
قدیم زمانہ کا انسان تاریخ کو تقدیر کا کرشمہ سمجھتا تھا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ ایک برتر خدا ہے جو تاریخی واقعات کو کسی ایک یا دوسری صورت میں تشکیل دیتا ہے۔ مگر مارکس کے مذکورہ فلسفہ اور اس فلسفہ کی بنیاد پر پیدا ہونے والے بے شمار لٹریچر نے ساری دنیا کے انسانوں کو شعوری یا غیر شعوری طور پر متاثر کیا۔ لوگ تاریخ کو ایک غیر خدائی واقعہ کی نظر سے دیکھنے لگے جب کہ اس سے پہلے وہ اس کو خدائی واقعہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔