Al-Risala · July 1993

معیارِ قوت میں تبدیلی

Al-Risala, July 1993, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر جو بات کہی گئی وہ قوانینِ فطرت کی دریافت کے فلسفیانہ پہلو سے تعلق رکھتی تھی عملی اعتبار سے اس دریافت نے مغرب کو مزید ایک بہت بڑا فائدہ پہنچایا۔ اس کے ذریعہ اہل مغرب کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ تاریخ میں پہلی بار طاقت کے معیار کو بدل دیں۔ وہ طاقت و قوت کو ایک نیا مفہوم دے دیں جس سے پچھلی قومیں آشنا نہیں ہو سکی تھیں۔

اس کے ذریعہ اہل مغرب نے قدیم روایتی دور کو نئے سائنسی دور میں داخل کر دیا۔ نے دستکاری کی صنعت کو مشینی صنعت میں تبدیل کر دیا۔ انھوں نے جہاز رانی کو بادبانی کشتی کے دور سے نکال کر دخانی کشتی کے دور میں پہنچا دیا۔ انھوں نے دستی ہتھیاروں سے آگے بڑھ کر دور مار

ہتھیار تیار کرلیے ۔ انھوں نے بری اور بحری سفر پر ہوائی سفر کا اضافہ کیا۔ انھوں نے حیوانی قوت سے چلنے والی سواری کو انجن کی قوت سے چلنے والی سواری میں تبدیل کر لیا۔ انھوں نے انسانی تاریخ کو محنت کے عمل کے دور سے نکال کر منصوبہ بند عمل کے دور میں پہنچادیا۔ تاریخ کے پچھلے ادوار میں ایک فریق اور دوسرے فریق کے درمیان زیادہ تر کمیانی (Qualitative difference) ہوا کرتا تھا۔ اب اہل مغرب نے ایسا دور تخلیق کیا جب (Quantitative difference) کہ ان کے اور دوسروں کے درمیان کیفیاتی فرق اس تبدیلی نے اہل مغرب کو دوسری قوموں کے اوپر واضح اور فیصلہ کن فوقیت دے دی۔ ان فروق نے جس طرح حالات کو بدلا، اسی طرح خود انسانوں میں زبردست تبدیلیاں پیدا اب اہل مغرب نئی دریافت کی نفسیات میں جی رہے تھے اور اہل مشرق وراثتی عقیدہ کی اہل مغرب اجتہادی اوصاف کے مالک تھے اور اہل مشرق تقلیدی اوصاف کے مالک۔ اہل مغرب کے درمیان آزادی تنقید کا ماحول تھا اور اہل مشرق کے یہاں ذہنی جمود کا ماحول۔ اہل مغرب کا قافلہ رواں دریا کی مانند تھا اور اہل مشرق کی جماعت ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند اہل مغرب ایک مقصد کے تحت متحرک ہوئے تھے اور اہل مشرق کے یہاں مقصد کا تصور فنا ہو چکا اہل مغرب کے زندہ اوصاف نے ان کو باہم متحد کر رکھا تھا اور اہل مشرق اپنے زوال یافتہ اوصاف کے نتیجہ میں ان خصوصیات سے محروم ہو چکے تھے جو افراد کو ایک دوسرے سے متحد کرتے اہل مغرب اس احساس پر ابھرے تھے کہ انھوں نے ایک نئی تہذیب پیدا کی ہے جس کو انھیں سارے عالم تک پہنچانا ہے اور اہل مشرق صرف اس احساس پر زندہ تھے کہ وہ ماضی کے قدیم اثاثہ کے اہل مغرب اقدام کے جذبات سے بھرپور تھے جب کہ اہل مشرق کی دوڑ کی آخری حد تحفظ پر جاکر ختم ہو جاتی تھی۔

اس فرق نے دونوں جماعتوں کے افراد کے درمیان زیادہ بڑے پیمانے پر وہی فرق پیدا کر دیا تھا جو ایک تھکی ہوئی فوج اور ایک تازہ دم فوج کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ اپنے گروہ کے افراد کو از سر نو تیار کیا جائے نہ یہ کہ ان غیر تیار شدہ افراد کو جوش دلاکر انھیں فریق ثانی کے خلاف صف آرا کر دیا جائے ، جیسا کہ موجودہ دور کے علماء نے کیا۔

Printed page