Al-Risala · July 1993

عسرمیں یسر

Al-Risala, July 1993, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

علماء کے ذہن پر سیاست و حکومت کے غیر ضروری تسلط کا سب سے زیادہ مہلک نقصان یہ ہوا کہ جدید انقلاب میں انہیں ہر طرف بس ظلم اور سازش اور مصائب نظر آئے۔ کے اندر چھپے ہوئے امکانات و مواقع کو دیکھنے سے وہ کلی طور پر محروم رہے۔ اور جو لوگ مواقع کو دیکھنے سے محروم رہیں وہ یقینی طور پر ان کو استعمال کرنے سے بھی محروم رہتے ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے یہاں ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ضرور موجود رہے۔ یہاں ہر مسئلہ کے ساتھ ہی مواقع بھی ضرور پائے جائیں (فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا)

قدیم تفسیروں میں اس آیت میں مع کی تفسیر مع (ساتھ) کے ذریعہ کی گئی ہے۔ مثلاً مفسر ابن کثیر نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ عسر کے ساتھ یسر پایا جاتا ہے (اخبر تعالیٰ ان مع العسر یوجد الیسر)

مگر موجودہ زمانہ کے علماء پر زمانی مسائل کا اتنا غلبہ تھا کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ نے اپنے غیر واقعی ذہنی تاثر کے تحت آیت میں یہ تصرف کیا کہ مع کو بعد کے معنی میں لے لیا۔ اس کے مطابق اس کی تشریح کر ڈالی۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی تفہیم القرآن میں سورہ الانشراح کی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :

” اس بات کو دو مرتبہ دہرایا گیا ہے تاکہ حضور کو پوری طرح تسلی دے دی جائے کہ جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے بعد قریب ہی اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتی ہے کہ تنگی تنگی(عسر) کے ساتھ فراخی کیوں کہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کے بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کیے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آ رہا ہے “ اس تفسیر میں مع کی ساری اہمیت ختم ہوگئی۔ حالانکہ مع کا لفظ یہاں بہت با معنی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اسی کے ساتھ حل کی

صورتیں بھی موجود رہتی ہیں۔ یہاں ہر ڈس ایڈوانٹیج اپنے ساتھ ایڈوانٹیج کو بھی ضرور لے آتا ہے۔ مغربی تہذیب اور مغربی استعمار کا معاملہ بھی یہی تھا۔ وہ مسلم دنیا کے اوپر ایک بلا کے طور پر مگر اسی کے ساتھ اس میں زبردست قسم کے موافق امکانات بھی ہمارے لیے موجود تھے۔ اور سب سے بڑا موافق امکان یہ تھا کہ اس نے اسلام کی دعوت کے ایسے نئے اور طاقتور امکانات کھول دیے جو پچھلی تاریخ میں کبھی حاصل نہ تھے۔ علماء اگر اس راز کو سمجھتے اور اس کو استعمال کرتے تو وہ تاریخ جدید کے المیہ کو امت کے حق میں طربیہ بنا دیتے۔ مگر مذکورہ ذہن کی وجہ سے وہ اس کو سمجھ نہ سکے۔ نئے دعوتی امکانات موجودہ زمانہ میں جو نئے دعوتی امکانات پیدا ہوئے ہیں اس پر راقم الحروف نے کثیر تعداد میں کتابیں اور مضامین شائع کیے ہیں۔ یہاں مختصر طور پر اس کے کچھ پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ دور جدید کی بنیاد آزادی فکر پر تھی۔ اس فکری انقلاب نے جس طرح اور بہت سی چیزیں پیدا کیں، اس نے ایک نہایت اہم چیز وہ پیدا کی جس کو مذہبی آزادی کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے تمام پچھلے زمانوں میں مذہبی تعذیب (religious persecution) کا عام رواج رہا ہے۔ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مذہبی آزادی اور مذہبی تبلیغ کو ایک جائز انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا اور اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشور کے تحت تمام دنیا کی قوموں نے اس پر اپنے دستخط ثبت اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار ہمارے لیے یہ مواقع کھول دیے کہ ہم بے روک ٹوک دین حق کی تبلیغ و اشاعت کر سکیں۔

موجودہ زمانہ آزادانہ تحقیق (free inquiry) کا زمانہ تھا۔ اس کے نتیجہ میں جس طرح دوسری چیزوں کی آزادانہ جانچ کی گئی، اسی طرح مذہب اور مذہبی کتابوں کو بھی آزادانہ طور پر جانچا گیا۔ کے طور پر تنقید بائبل (biblical criticism) کے تحت بائبل کا جو تنقیدی مطالعہ کیا گیا اس سے خالص علمی سطح پر یہ ثابت ہو گیا کہ بائبل کا موجودہ متن تاریخی طور پر معتبر متن نہیں ہے۔ طرف قرآن پر اسی قسم کے مطالعہ نے یہ ثابت کیا کہ قرآن کا موجودہ متن تاریخی معیار سے آخری حد تک ایک معتبر متن ہے۔ جدید دور نے ایک طرف انسانی علم کے معیار پر دوسری کتب مقدسہ کا محرف ہونا ثابت کر دیا اور اس طرح خود انسانی علم کے معیار پر یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن مکمل طور پر ایک غیر محرف کتاب

تقابلی مذہب کے اس مطالعہ نے دورِ جدید میں اسلامی دعوت کا ایک نیا دروازہ کھول دیا جو ابھی تک بند پڑا ہوا تھا۔

موجودہ زمانہ میں جو مختلف نئے علوم پیدا ہوئے ۔ ان میں سے ایک وہ ہے جس کو علم انسان (anthropology) کہا جاتا ہے۔ اس میں انسانی معاشروں کا مطالعہ خالص موضوعی انداز میں کیا گیا ۔ اس مطالعہ سے یہ ثابت ہوا کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ ہر انسانی معاشرہ میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔ تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ ایک فطری عقیدہ ہے۔ وہ انسان کی خود اپنی طلب کا جواب ہے۔ اس دریافت نے اسلامی دعوت کو یہ حیثیت دے دی کہ وہ اسی طرح انسانی ضرورت کی فراہمی کا ایک کام ہے جس طرح خوراک کی فراہمی (food supply) کا نظام۔

موجودہ زمانہ میں جو سائنسی حقائق دریافت ہوئے ، وہ حیرت انگیز طور پر قرآن کے بیانات کی تائید کر رہے تھے۔ وہ قرآن کی اس پیشین گوئی کی تصدیق تھے کہ : عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی ۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ حق ہے (فصلت (۵۳) اس اعتبار سے جدید سائنس ایک مسلم داعی کے لیے طاقتور علمی ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ نئی ایجادات میں ایک چیز وہ ہے جس کو جدید مواصلات (modern communication) کہا جاتا ہے ۔ اس نے تاریخ میں پہلی بار تمام فاصلے آخری حد تک گھٹا دیے ہیں اور اس طرح اس کو ممکن بنایا ہے کہ ایک داعی نہایت آسانی کے ساتھ ساری دنیا کو اپنی تبلیغ کا میدان بنا سکے۔ اعتبار سے یہ حدیث رسول کی اس پیشین گوئی کا ظہور ہے جس میں خبر دی گئی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اسلام کی آواز تمام دنیا کے ہر گھر میں پہنچ جائے گی۔

میں نے اپنی کتاب ” عقليات اسلام“ کے ابتدائیہ میں جون ۱۹۷۸ء میں کہا تھا کہ آزاد دنیا“ میں دعوت کے غیر معمولی نئے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاہم اشتراکی دنیا کا اس میں استثناء ہے۔ کیوں کہ وہاں کامل جبر کا نظام قائم ہے۔ اس لیے وہاں اس وقت دعوت اسلامی کے کھلے مواقع موجود نہیں ہیں۔ مگر اس تحریر کے صرف ۱۳ سال بعد حالات بدل گئے۔ ۱۹۹۱ کے خاتمہ کے ساتھ اشتراکی ایمپائر کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اب اشتراکی دنیا میں بھی تبلیغ دین کے وہی مواقع کھل گئے ہیں جو اس سے پہلے صرف غیر اشتراکی دنیا میں پائے جاتے تھے۔

Printed page