سطحی رائے
Al-Risala, July 1993, pp. 44–47
By Maulana Wahiduddin Khan
انیسویں صدی کے آغاز میں شاہ عبد العزیز دہلوی نے اعلان کیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو گیا اس کے بعد ۵۰۰ علماء نے یہ فتویٰ دیا کہ مسلمانوں پر فرض ہو گیا ہے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد بالسيف کریں۔ اس واقعہ کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی جہاد بالسيف کی باتیں بدستور جاری ہیں ۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی ایک سفر کے دوران حمص گئے۔ اس کی روداد بیان کرتے ہوئے وہ اپنے خود نوشت سوانح عمری میں لکھتے ہیں :
" حمص، جو سیف اللہ خالد بن ولید کی آرام گاہ ہے، وہاں مرکز اخوان المسلمین میں ۲۹ جولائی ۱۹۵۱ کو میری ایک ولولہ انگیز تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ شام و حمص کے رہنے والو، عالم اسلام کو اب
پھر ایک سیف اللہ کی ضرورت ہے۔ کیا آپ عالم اسلام کو اس کی کھوئی ہوئی تلوار مستعار دے سکتے ہیں “ صفحہ ۳۹۰ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم رہنما کس طرح دور حاضر کی اصل حقیقت سے بے خبر ہے۔ نے موجودہ زمانہ میں پیش آنے والے مسئلہ کو سادہ طور پر صرف سیاسی یا حربی مسئلہ سمجھا۔ حالاں کہ وہ دراصل دور انسانی میں تبدیلی کا مسئلہ تھا۔ اپنی اس بے خبری کی بنا پر وہ اپنی جدوجہد میں اس کی رعایت نہ کر سکے اور نتیجہ ان کی ساری قربانیاں لاحاصل ہو کر رہ گئیں۔
اہل مغرب کے کئی سو سالہ عمل نے دنیا میں ایک نیا دور پیدا کیا تھا۔ ان سے مقابلہ کرنے کے لیے اس کو جاننا ضروری تھا۔ اس نئے دور کے دو خاص پہلو تھے۔ ایک، ،شاکلۂ انسانی میں تبدیلی۔ معیار قوت کا بدل جانا۔ آئندہ صفحات میں ان دونوں پہلوؤں کی مختصر وضاحت کی جائے گی۔ علماءء کی دور جدید سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایسا لٹریچر تیار نہ کر سکے جو جدید ذہن کو مطمئن کرنے شاہ ولی اللہ سے لے کر سید قطب تک، میرے علم کے مطابق ،مسلم علماء کو ئی ایک کتاب بھی ایسی تیار نہ کر سکے جو آج کے مطلوبہ معیار پر پوری اترتی ہو۔ ان سب پر البرٹ ہورانی کا یہ تبصرہ صادق آتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی بیشتر اسلامی تحریریں عصری فکر کی ہم سطح نہیں ہیں : Most of the writings of Islam by Muslims “is not on the level of current thought.” (Albert Hourani)
دور جدید کے علماء کاجو مطبوعہ ریکارڈ ہمارے سامنے ہے، اس کی روشنی میں یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ عقلی بیان (reasoned statement) کیا ہے۔ اس سلسلہ میں روایتی علماء کاتوذکرہی نہیں، کیوں کہ وہ اس معاملہ کی الف ب بھی نہیں جانتے۔ علما جو اپنے معتقدین کے درمیان ”مجمع البحرین“ سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اس سے ناواقف نظر
مثال کے طور پر، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۃ الحجرات کی تفسیر کے تحت ”مسلمانوں کی باہمی جنگ“ کے مسئلہ پر کئی صفحہ کا حاشیہ لکھا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں کہ ظالم مسلم حکومت کے خلاف خروج کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اس بارہ میں فقہاء اسلام کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔
اس ابتدائی بیان کے فورا بعد لکھتے ہیں: ”جمہور فقہاءء اور اہل الحدیث کی رائے یہ ہے کہ جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہو چکی ہو اور مملکت کا امن و امان اور نظم و نسق اس کے انتظام میں چل رہا ہو، وہ خواہ عادل ہو یا ظالم ، اور اس کی امارت خواہ کسی طور پر قائم ہوئی ہو، اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، الا یہ کہ وہ کفر صریح کا ارتکاب کرے۔ اس پر امام نووی اجماع کا دعویٰ “ (تفہیم القرآن ۷۹/۵-۸۰)
یہ دونوں پیراگراف ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کیوں کہ جب ایک معاملہ میں جمہور فقہاء کی ایک رائے ہو، حتیٰ کہ اس پر علماء اور فقہاء کا اجماع ہو چکا ہو تو اس کے بارہ میں یہ کہنا بالکل بے معنی ہے کہ اس مسئلہ میں فقہا کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔
”الجہاد فی الاسلام “ مولانا ابو الا علی مودودی کی معرکتہ الآرا کتاب سمجھی جاتی ہے۔ دیباچہ میں مولانا موصوف لکھتے ہیں : ”دور جدید میں یورپ نے اپنی سیاسی اغراض کے لیے اسلام پر جو بہتان تراشے ہیں ، ان میں سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے اور اپنے پیروؤں کو خوں ریزی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس بہتان کی اگر کچھ حقیقت ہوتی تو قدرتی طور پر اسے اس وقت پیش ہونا چاہیے تھا جب پیروان اسلام کی شمشیر خارشگاف نے کرۂ زمین میں ایک تہلکہ برپا کر رکھا تھا اور فی الواقع دنیا کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید ان کے یہ فاتحانہ اقدامات کسی خوں ریز تعلیم کا نتیجہ ہوں ۔ “ (الجہاد فی الاسلام ، دہلی ۱۹۸۴ء، صفحه ۱۵)
اس عبارت کا آخری حصہ اس کے پہلے حصہ کی تردید ہے۔ آخری حصہ میں مصنف خود یہ بات مان رہے ہیں کہ مسلمان اپنی شمشیر خارشگاف لے کر اقوام عالم پر ٹوٹ پڑے ۔ پھر یہی تو وہ بات ہے جس کوعلماء یورپ کہتے ہیں۔ ایسی حالت میں اس کو بہتان کس طرح قرار دیا جائے گا۔ سید قطب کی تفسیر قرآن بہت مشہور ہے جو چھ جلدوں میں قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر اس کے چار ہزار سے زیادہ صفحات ہیں۔ مگر پوری تفسیر غیر علمی انداز میں ہے۔ اس میں انشاء کا حسن تو یقیناً ہے مگر حقیقی علمی استدلال سے وہ تقریباً خالی ہے۔
مثال کے طور پر وہ سورہ فصلت کی آیت کی تشریح اس طرح کرتے ہیں :
(وانه لكتاب عزيز لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه ، تنزيل من
حکیم حمید) وانی للباطل ان يدخل على هذا الكتاب، وهو صاد رمن الله الحق۔ يَصْدَعُ بالحَقِ ويَتصَلُ بالحقِ الذى تقوم عليه السماوات والأرض ۔ الباطل وهو عن بين محفوظ با مر الله ۔ (فی ظلال القرآن (۳۱۲۶/۵)
یہ تفسیر محض ایک ادبی تفسیر ہے۔ اس کا علمی یا عقلی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں۔ سورہ الاعراف میں اللہ تعالی نے موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ نقل فرمایا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ کی دعوت کے جواب میں فرعون اپنے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے تقریر کرتا ہے اور ان کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے جو بظاہر موسیٰ کے خطاب سے متاثر ہورہے اس تقریر میں فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کہ موسیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ملک مصر سے نکال دیں دیں(یریدأن یخر جکم من ارضکم) اس کی تشریح سید قطب نے ان الفاظ میں کی ہے :
إنهم يُمزحون بالنتيجة الهائلة التى وہ اس خوف ناک نتیجہ کو واضح کرتے ہیں جو اس تتفرق من إعلان تلك الحقيقة ۔ إنها حقیقت کے اعلان سے ناگزیر ہو جاتی ہے۔ الخروج من الارض ۔ انماذ ماب یہ سرزمین مصر سے نکلنا ہے۔ یہ اقتدار کا خاتمہ السلطان - إنها إبطال شرعية الحكم۔ یہ ہماری حکمرانی کو ناجائز ٹھہراتا ہے۔ یا یہ ، أو محاولة قلب نظام الحكم، بالتعبير دور جدید کی تعبیر کے مطابق ، نظام حکومت کو العصری) الحدیث (۱۳۳۸/۲) بدلنے کی کوشش ہے۔
آیت کی یہ تشریح سراسر غیر علمی اور غیر عقلی ہے۔ کیوں کہ قرآن میں جب موسی اور فرعون دونوں کا کلام موجود ہے تو موسیٰ کی دعوت کو موسیٰ کے کلام سے معلوم کیا جائے گانہ کہ فرعون کے کلام سے۔ فرعون کی تقریر سے موسیٰ کا مقصد اخذ کرنا ایسا ہی ہے جیسے سید قطب کی تحریک کے مقصد کو جمال عبد الناصر کے بیان سے اخذ کیا جائے۔