حجۃ اللہ البالغہ
Al-Risala, July 1993, pp. 48–58
By Maulana Wahiduddin Khan
شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ بہت مشہور کتاب ہے۔ اس کو اسلام کی مدلل ترجمانی
قدیم خیال یہ تھا کہ شریعت کے احکام مصالح پر مبنی نہیں ہوتے۔ یہ گویا آقا کی طرف سے اپنے بندے کے لیے حکم ہے اور اس کی اطاعت یا عصیان پر جزاوسزا کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مصنف نے قرآن وحدیث کی بہت سی مثالیں دے کر بتایا ہے کہ یہ خیال صحیح نہیں۔ کیوں کہ خود شارع نے اپنے متعدد احکام میں یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ مصالح پر مبنی ہیں۔ مثلاً ولكم في القصاص حياة يا اولى الالباب (البقرہ (۱۷۹) یا صدقہ کے بارہ میں یہ حدیث کہ تؤخذ من اغنيائهم فترد اسی طرح انھوں نے صحابہ و تابعین کے کچھ اقوال جمع کیے ہیں جن میں مصالح احکام کا تذکرہ ہے بعد کے زمانہ میں علماء کے یہاں بھی جزئی طور پر اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ الخطابی، ابن عبد السلام وغيره (۳-۶)
تاہم حجۃ اللہ البالغہ کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ کیوں کہ یہ کتاب مکمل طور پر اسرار شریعت ہی کے موضوع پر ہے۔ مصنف کے بیان کے مطابق ، ان کو بطریق کشف اس کا اشارہ ملا۔ پھر اللہ نے ان پر الہام کیا (ثم ألھمنی ربی) کہ وہ اس قسم کی ایک کتاب لکھیں۔ حتی کہ خواب میں حضرات حسنین نے ان کو ایک قلم دیا اور کہا کہ : ھذاقلم جدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ۔ اس قسم کی چیزیں بتاتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں :
إن الشريعة المصطفوية اشرفت شریعت محمدی کے لیے اس زمانہ میں وہ وقت في هذا الزمان على ان تُبرز في قُنسِ آگیا کہ وہ دلیل و برہان کے مکمل پیرایہ کے ساتھ سابغة من البرهان (صفحہ ۳) جلوہ افروز ہو۔
علماء ، خاص طور پر ہندوستانی علماء ، اس کتاب کو ایک معرکہ الآراء کتاب سمجھتے ہیں۔ نزدیک اس میں موجودہ دور عقلیت کے لیے تشفی کا وافر سامان موجود ہے۔ حتی کہ ان کا خیال ہے کہ کسی مذہب کی عقلی تائید اور اس کی حکیمانہ توجیہہ کے موضوع پر آج تک اس پایہ کی کتاب نہیں لکھی گئی (۲۱۶) نواب صدیق حسن خاں (۱۸۹۰-۱۸۲۲) نے لکھا ہے کہ اسرار احکام کے موضوع پر بارہ سو سال کے درمیان عرب و عجم کے کسی عالم کی ایسی کوئی کتاب موجود نہ تھی (مثل آں دریں دوازده صد سال ہجری بیچ یکے از علماء عرب و عجم تصنیفے موجود نیامده)
میرے پاس حجۃ اللہ البالغہ کا وہ نسخہ ہے جو قاہرہ (دار التراث) سے ۱۲۵۵ھ میں چھپا ہے۔
اس کا جزءء اول ۱۹۸ صفحہ پر مشتمل ہے اور جز ثانی ۲۱۵ صفحہ پر۔ زیر نظر مقالہ کی ترتیب کے دوران میں نے اس کتاب کو تقریبا مکمل دیکھا۔ بعض حصے کئی کئی بار پڑھے۔ مگر میں بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ساری کتاب میں کوئی ایک بھی ایسا بیان نہیں لاجس کو جدید سائنٹفک معیار کے مطابق ، عقلی دلیل کا درجہ دیا جا سکتا ہو۔
کتاب کانام(حجۃ اللہ البالغہ) جو قرآن کی ایک آیت سے ماخوذ ہے ، وہ بلاشبہ نہایت مگر اصل کتاب حجت بالغہ کے انداز میں نہیں ، بلکہ صرف تقلیدی انداز میں شریعت اسلامی کی تشریح کرتی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب بنیادی طور پر کتب فقہ کی ترتیب پر قائم کی گئی یہ ترتیب بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ شاہ ولی اللہ قدیم تقلیدی ڈھانچے سے باہر نہ نکل سکے۔ کیوں کہ ابواب فقہ دراصل ابواب احکام ہیں نہ کہ ابواب اسرار ۔ کتاب کے مباحث عام طور پر 'اعلم' کے لفظ سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ بھی تقلیدی مزاج کا ثبوت ہے۔ یہ اس دور کا انداز کلام ہے جب کہ آدمی مقام عالم سے بولتا تھا۔ جدید انداز کلام مقام علم سے بولنے کا ہے۔ مگر شاہ ولی اللہ اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ اسی طرح کتاب میں جگہ جگہ ثبیت لکھا گیا ہے۔ یہ بھی ایک غیر علمی اسلوب ہے جو صرف اعتقادی کتابوں کے لیے موزوں ہے۔ علمی اعتبار سے اصل موضوع بحث یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ہمارے نبی تھے۔ اصل موضوع بحث یہ ہے کہ کیا وہ خدا کے اس کتاب میں مثرہ سے لے کر سیاست مدن تک ، ہر چیز پر کلام کیا گیا ہے ، مگر سب کا سب تقلیدی اور اعتقادی اسلوب میں ہے نہ کہ حقیقۃً علمی اسلوب میں۔
مثال کے طور پر نیت اور عبادت کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں : اعلم ان النیۃ روح والعبادة جسد ولا حياة للجسد بدون الروح (الجزء الثاني ۸۳) یعنی جان لو کہ نیت روح ہے اور عبادت جسم ہے۔ اور روح کے بغیر جسم کی کوئی زندگی نہیں۔
اسرار الصلاۃ کے تحت لکھتے ہیں : أحسن الصلاة ما كان جامعا بين الاوضاع الثلاث مترقيا من الادنى إلى الاعلالي يحصل الترقي في استشعار الخضوع والتذلل (الجزء الاول، ۱۴ یعنی بہترین نماز وہ ہے جس میں تینوں وضع جمع ہو جائے۔ جس میں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہو (قیام پھر رکوع پھر سجدہ) تاکہ خضوع اور تذلل کو محسوس کرنے کی طرف ترقی حاصل ہو سکے۔
اسرار الحج کے تحت لکھتے ہیں : ربما يشتاق الانسان الى ربه اشد شوق فیحتاج الى شيئ يقتضى به شوقه فلا یجدہ الا الحج (الجزء الاول ، ۷۵ - ۷۶) یعنی کبھی انسان کے اندر اپنے رب کے لیے شدید شوق پیدا ہوتا ہے۔ پس وہ ایک ایسی چیز کا محتاج ہوتا ہے جس سے وہ اپنے شوق کو پورا کرے۔ اس وقت وہ حج کے سوا کوئی اور چیز نہیں پاتا جس سے وہ اپنے شوق کو پورا کرے۔ اسی قسم کی تشریحات پوری کتاب میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مگر اس قسم کی باتیں شریعت کی واعظانہ وہ کسی بھی درجہ میں شریعت کی علمی اور عقلی وضاحت نہیں۔ جو لوگ اس کو عقلی وضاحت سمجھیں ان کے بارہ میں صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ”عقلی وضاحت “کا مطلب نہیں جانتے۔ حجۃ اللہ البالغہ کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اس کتاب کے بارہ میں میری رائے اور دوسرے علماء کی رائے اتنی زیادہ مختلف کیوں ہے۔ آخر کار میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے علماء اس کتاب کو قدیم کے معیار پر دیکھتے ہیں اور میں اس کو جدید کے معیار پر دیکھ رہا علماء کے پاس ایک ہی معلوم معیار ہے اور وہ اسلامی کتب خانہ کی قدیم کتابوں کا ہے۔ معیار پر دیکھنے میں حجۃ اللہ البالغہ انھیں ایک منفرد کتاب معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اعلان کر دیتے ہیں کہ وہ ایک معرکہ الآراء قسم کی عقلی کتاب ہے۔ مگر میں اس کو جدید معیار تعقل پر جانچتا ہوں تو مجھ کو نظر آتا ہے کہ وہ سرے سے کوئی عقلی کتاب ہی نہیں۔
اس کتاب کے مداح اگر یہ کہیں کہ قدیم ذخیرہ کتب کے مقابلہ میں وہ ایک ممتاز کتاب ہے تو مجھے ان سے کوئی اختلاف نہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ اس کتاب کو عقلی معیار استدلال کا اعلیٰ نمونہ بتائیں تو میری تنقید باقی رہے گی۔ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کتاب کا عقلی معیار استدلال سے کوئی تعلق نہیں۔ غیر علمی انداز مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ما ذا خسر العالم بانحطاط المسلمین پر مصری عالم سید قطب کا مقدمہ شامل کیا گیا ہے۔ سید قطب نے اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کتاب میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان کے سلسلہ میں مصنف نے محض وجدانی قسم کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ یہ کتاب موضوعی حقائق کو اپنا ذریعہ استدلال بناتی ہے (بل يتخذ الحقائق الموضوعية أداته ، صفحه (۱۸)
اب اس کی روشنی میں اصل کتاب کو دیکھیے ۔ مولانا موصوف کی اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مسلمان قیادة الامم (صفحہ ۳۷) کے منصب پر سرفراز کیے گئے ہیں۔ کتاب کے صدر نگار ڈاکٹر محمد یوسف موسی نے اس کے لیے قیادت الانسانیة (۱۳) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سید قطب کے نزدیک ، اس کتاب کا مقصد مسلمانوں کو قیادت عالم کی بازیابی (رد القيادة العالمية ، ۲۲) پر ابھارنا ہے۔
اگر یہ کتاب موضوعی اصول پر لکھی گئی ہے تو مصنف کا سب سے پہلا کام یہ تھا کہ وہ قرآن وحدیث کی واضح نص سے اپنے اس دعوے کو ثابت کریں کہ مسلمان کا منصب یہ ہے کہ وہ دنیا کا قائد اور اقوام عالم کا امام بنے ۔ مگر ۲۲۶ صفحات کی اس کتاب میں کہیں بھی قرآن وحدیث کے دلائل سے یہ ثابت نہیں کیا گیا ہے کہ مسلمان کا منصب سارے عالم کی قیادت وامامت ہے۔ ساری کتاب میں اس نوعیت کی صرف ایک دلیل دی گئی ہے ۔ اور وہ اقبال کا شعر ہے جو انھوں نے ابلیس کی مفروضہ مجلس شوری کی بنیاد پر کہا ہے۔ مصنف نے کتاب کے صفحہ ۲۸۵ سے ۲۸۷ تک اقبال کی اس تخیلاتی نظم کا ترجمہ دیا اس نظم میں اقبال نے ابلیس کی زبان سے یہ شعر نظم کیا تھا :
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات مگر اصل موضوع کی نسبت سے اقبال کا یہ حوالہ سراسر غیر علمی ہے۔ اصل بات ثابت کرنے کے لیے مصنف کو یا تو ایسی کوئی آیت یا حدیث پیش کرنی چاہیے جس میں عبارت النص کی سطح پر ان کا مذکورہ نقطہ نظر ثابت ہوتا ہو۔ یا پھر وہ یہ ثابت کریں کہ شریعت کی منشا کو جاننے کا ماخذ صرف اللہ اور رسول کا کلام نہیں۔ بلکہ اس کا ایک تیسرا ماخذ بھی ہے ، اور وہ ابلیس کا کلام ہے۔ اس طرح کی کتابوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ علمی اور موضوعی کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں ، یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے علماء نہ صرف یہ کہ وہ حقائق موضوعی کی بنیاد پر مطلوبہ لٹریچر تیار نہ کر سکے۔ بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ حقائق موضوعی کی بنیاد پر لٹریچر تیار کرنے کا مطلب کیا ہے۔ استدلال کا معیار اصول استدلال کے سلسلہ میں مشہور غرناطی عالم الشاطبی نے ایک بہت بنیادی بات کہی ہے۔ اپنی کتاب الموافقات فی اصول الاحکام میں علم الجدل کے قواعد بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی دعویٰ
کے حق میں جب کوئی دلیل دی جائے تو ضروری ہے کہ مخاطب اس کا دلیل ہونا تسلیم کرتا ہو۔ یوں فریق ثانی کے نزدیک نزاعی ہو تو وہ اس کے نزدیک دلیل نہیں ہوگی۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا بے کار ہوگا، اس سے نہ کوئی فائدہ ملے گا اور نہ کوئی مقصد حاصل ہوگا (اذا كان الدليل عند الخصم ناز عا فیہ فليس عندہ بدليل فصار الاتيان به عبثا لا يفيد فائدة ولا يحصل مقصودا) الجزء الرابع، صفحہ ۱۹۸ اس کا مطلب یہ ہے کہ دلیل وہ ہے جو مخاطب کے مسلمہ معیار کے مطابق ہو۔ جو دلیل کسی ہی بنیاد پر قائم کی جائے جو مخاطب کے نزدیک مسلم نہ ہو وہ اس کے لیے دلیل بھی نہیں بن سکتی۔ ۱- ابن تیمیہ (۱۲۲۸-۱۳۶۲) اپنی بہت سی خصوصیات کے ساتھ متکلم بھی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی اکثر دلیلیں انشا طلبی کے مذکورہ معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ کم از کم موجودہ زمانہ میں ان کی قیمت بہت کم ہو گئی ہے۔
ابن تیمیہ نے اپنی ایک ایک ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے جسمانی معراج ہونے پر نقلی دلیل دی ہے۔ ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ نصاری کہتے ہیں کہ مسیح نے اپنے جسم اور روح کے ساتھ آسمان کی طرف صعود کیا (ان المسيح صعد إلى السماء ببد نہ وروحہ اسی طرح اہل کتاب کا عقیدہ ہے کہ الیاس نے اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف صعود کیا (ان الیاس صعد إلى لسماء ببدنه) الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح ۴ / ۷۰ - ۱۶۹ جسمانی معراج کی یہ دلیل کسی مخصوص مخاطب کے لیے جدلی یا الزامی طور پر دلیل بن سکتی ہے جو حضرت مسیح اور حضرت الیاس کے جسمانی صعود کا عقیدہ رکھتا ہو۔ مگر اصل مسئلہ جدلی یا الزامی دلیل کا نہیں ہے بلکہ علمی اور عقلی دلیل کا ہے۔ علمی اور عقلی دلیل وہ ہے جس کی بنیاد ایسے معلوم حقائق پر رکھی گئی ہو جو اہل علم کے یہاں عمومی طور پر تسلیم شدہ ہوں۔ چونکہ یہ کوئی علمی مسئلہ نہیں ہے کہ مسیح اور الیاس نے اپنے دنیوی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف صعود کیا اس لیے مذکورہ دلیل عقلی دلیل بھی نہیں۔ ۲- جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت حتی کہ آپ مہر کے بغیر بھی کسی عورت کو اپنے نکاح میں لے سکتے تھے۔ اس کثرت ازواج پر مخالفین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی (۱۹۴۹-۱۸۸۸) اپنی تفسیر قرآن میں لکھتے ہیں :
یہ اس اکمل البشر کی سیرت کا ذکر ہے جس نے خود اپنی نسبت فرمایا کہ مجھ کو جو جسمانی قوت عطاہوئی ہے وہ اہل جنت میں سے چالیس مردوں کے برابر ہے جن میں سے ایک مرد کی قوت سو کے برابر گویا اس حساب سے دنیا کے چار ہزار مردوں کے برابر قوت حضور کو عطا فرمائی گئی تھی۔ حساب سے اگر فرض کیجئے چار ہزار بیویاں آپ کے نکاح میں ہوتیں تو آپ کی قوت کے اعتبار سے اس درجہ میں شمار کیا جاسکتا تھا جیسے ایک مرد ایک عورت سے نکاح کرلے۔ لیکن اللہ اکبر، اس شدید ریاضت اور ضبط نفس کا کیا ٹھکانا ہے کہ ترپن سال کی عمر زہد کی حالت میں گزار دی۔ خدیجہ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ سے عقد کیا۔ ان کے سوا آٹھ بیوائیں آپ کے نکاح میں آئیں۔ وفات کے بعد نوموجود تھیں۔ دنیا کا سب سے بڑا انسان جو اپنے فطری قوی کے لحاظ سے کم از کم چار ہزار بیویوں کا مستحق ہو، کیا نو کا عدد دیکھ کر کوئی انصاف پسند اس پر کثرت ازدواج کا الزام لگا سکتا ہے (صفحہ ۵۵۰)
مذکورہ اعتراض کا یہ جواب مخالفین کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ اس جواب کی بنیاد اس عقیدہ پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے چار ہزار مردوں کے برابر طاقت حاصل تھی۔ اور اس کے مخاطب کے درمیان یہ امر متفق علیہ نہیں۔ اس لیے مخاطب کی نسبت سے وہ عقلی دلیل بھی نہیں بن سکتا۔
شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ" میں " مبحث فی الجہاد" کے عنوان سے ۹ صفحات کا مفصل باب ہے۔ اس باب کا آغاز اس جملہ سے ہوتا ہے ــــــــ جان لو کہ سب سے زیادہ کامل شرع اور سب سے زیادہ کامل قانون وہ شریعت ہے جس میں جہاد کا حکم دیا جائے (اعلم أن اتم الشرائع واكمل النواميس هو الشرع الذي يؤمر فيه بالجهاد) الجزء الثانی ، صفحہ ۱۷۰ جہاد (بمعنی قتال) کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کی وجہ صاحب کتاب یہ بتاتے ہیں کہ ایسا قتال انسانیت کے حق میں رحمت ہے۔ اہل فساد جب دلیل و حجت سے نہ مانیں تو ان کے خلاف تشدد کرنا پڑتا ہے تاکہ ان کے ظلم و شر سے انسانوں کو نجات دے دی جائے۔ ظالموں کو بزور دین صحیح اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے جو ان کے لیے خیر ہے مگر وہ اپنی نادانی کی بنا پر اس کو نہیں سمجھتے۔ یہ قتال ایسا ہی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر جسم کے سڑے ہوئے عضو
وہ صاحب جسم کے علی الرغم کاٹ کر پھینک دے :
المشار الثقلین اذا كان مفضيا الى الخير الكثير اور تھوڑا شرجب زیادہ خیر کی طرف لے جانے واجب فعله (الجزء الثانی ، صفحه ۱۷۰) والا ہو تو اس پر عمل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ قتال کے حق میں شاہ ولی اللہ کی یہ دلیل جدید انسان کے مسلمات کے مطابق نہیں۔ اس کو سن کر جدید انسان کہے گا کہ آپ کا جذبہ صالح قابل قدر ہے۔ مگر آپ کی ایکیم سراسر نادانی کی اسکیم ہے۔ آپ کی یہ توجیہہ تلواروں کی لڑائی کے زمانہ میں باوزن محسوس ہو سکتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کی لڑائی میں وہ بالکل بے معنی ہے۔ کیوں کہ نئے ہتھیار بن جانے کے بعد اب لڑائی خود تمام برائیوں سے زیادہ بڑی برائی بن چکی ہے ۔
آج کی لڑائی ایٹم بم کی لڑائی ہے۔ اور اگر ایٹم بم کی لڑائی چھیڑی جائے تو قدیم شمشیری جنگ کی طرح اس کا نقصان صرف مقاتل افراد تک یا جنگ کے میدان تک محدود نہیں رہے گا۔ کرہ ارض پر اس کے اثرات پھیل جائیں گے۔ حتیٰ کہ اس کے بعد زمین ہی ناقابل رہائش ہو جائے گی۔ پھر جب خود انسانی دنیا ہی باقی نہ رہے گی تو وہ کون سا مقام ہوگا جہاں آپ جنگ جیت کر اپنا نظام خیر قائم کریں گے۔
مولانا ابوالا علی مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن چھ جلدوں میں ہے۔ اس کی پانچویں جلد میں سورہ الصف (آیت ۶) کی تشریح کے تحت انجیل برناباس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس انجیل کے تعارف اور اس کے اقتباسات پر تفہیم القرآن میں دس صفحے شامل کیے گئے ہیں۔ اس انجیل کے بیانات مسلمانوں کے عقائد سے بہت زیادہ ملتے جلتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس میں "محمد" کا نام بھی موجود ہے مثلاً : سردار کاہن نے مسیح سے پوچھا کہ وہ آنے والا کس نام سے پکارا جائے گا۔ مسیح نے کہا کہ "سو اس کا مبارک نام محمد ہے"۔ اس انجیل میں درج ہے :
"اے محمد، انتظار کر ۔ کیوں کہ تیری ہی خاطر میں جنت ، دنیا اور بہت سی مخلوق پیدا اور اس کو تجھے تحفہ کے طور پر دوں گا۔ یہاں تک کہ جو تیری تبریک کرے گا اسے برکت دی جائے گی اور جو تجھ پر لعنت کرے گا اس پر لعنت کی جائے گی"
مولانا ابوالا علی مودودی کے علاوہ مولانا عبد الماجد دریا بادی وغیرہ نے بھی انجیل برناباس
کیاے ذریعہ مسلموجودہ مسیحیت کی تردید کی اور اس کے بیانات کی بنیاد پر مسلم موقف کو صحیح ثابت ک مگر علمی اعتبار سے یہ استدلاللہلہ درست نہیں۔ کیوں کہ استدلال کی بنیاد صرف وہ چیز بن سکتی ہے ہے جو متکلم اور مخاطب دونوں کے درمیانان مسلم ہو۔ انجیل برنباس کی صحت عیسائیوں کے یہاں م ایسی حالت میں عیسائیوں کے مقابلہ میں وہ دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔
مسیح کے بعد ابتدائی زمانہ میں انجیل کے بہت سے نسخے الگ الگ پائے جاتے تھے۔ صدی عیسوی میں مسیحی چرچ نے چار انجیلوں کو معتبر اور مسلم انجیل (Canonical gospels) قرار اور بقیہ تمام اناجیل کو غیر قانونی اور مشکوک الصحت (Apocryphal) بتا کر رد کر دیا۔ برنباس انہیں رد کی ہوئی انجیلوں میں سے ایک ہے۔ اس بنا پر ہمارے اور مسیحی حضرات کے درمی انجیل برنبا سباس کی حیثیت ایک مسلم بنیاد کی نہیں رہی، ایسی حالت میں کسی مسلم عالم کے لیے انجیل برنا کی بنیاد پر مسیحیت کے مقابلہ میں کوئی دلیل قائم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسیحی عالم موضوع روایات کی بنیاد پر اسلام کے بارہ میں کوئی بات ثابت کرے۔
اسلام اور اسلامی تاریخ کے بارہ میں موضوع روایتیں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں مسلم علماء ان روایتوں کی صحت کو نہیں مانتے، اس لیے وہ اسلام کے معاملہ میں کسی بات کو ثابت کرنے کی معقول بنیاد نہیں بن سکتیں۔ یہی معاملہ برنباس کا بھی ہے۔
مولانا شبیر احمد عثمانی (۱۹۴۹۔ ۱۸۸۸) ۱۸۸۸) کا شمار ممتاز علماء دیوبند میں ہوتا ہے۔ تفسیر قرآن بہت مشہور ہے، جو انھوں نے ۱۳۵۰ھ میں لکھ کر مکمل کی تھی۔ انھوں نے پیغمبر اسلام صلی ال علیہ وسلم کی امتیازی خصوصیت کو ثابت کرتے ہوئے سورہ النجم کی آیت ۲ کے تحت لکھا ہے : ”جس طرح آسمان کے ستارے طلوع سے لے کر غروب تک ایک مقرر رفتار سے متعین راستہ پر چلے جاتے ہیں ، کبھی ادھر اُدھر ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔ (اسی طرح) آفتاب نبوت بھی ال کے مقرر کیے ہوئے راستہ پر برابر چلا جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ایک قدم ادھر یا ادھر پڑ جائے ۔ علیہم السلام آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی اور رفتار سے دنیا کی رہنمائی ہوتی ہے اور جس طرح تمام ستاروں کے غائب ہونے کے بعد آفتاب درخشاں طلوع ہوتا ہے، ایسے ہی تما انبیاء کی تشریف آوری کے بعد آفتاب محمدی مطلع عرب سے طلوع ہوا ۔
دیگر انبیاء کے اوپر پیغمبر اسلام کے امتیاز کو ثابت کرنے کے لیے اس عبارت میں ایک مثال کو استعمال کیا گیا ہے۔ قدیم زمانہ میں مثال کو بطور دلیل استعمال کیا جاسکتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کا انسان مثال کو دلیل کا قائم مقام نہیں سمجھتا۔ اس لیے عقلی استدلال کے طالب کے لیے مذکورہ مثال دلیل نہیں بن سکتی۔
اس سے قطع نظر، خود یہ مثال متکلم اور مخاطب کے درمیان کوئی متفق علیہ واقعہ نہیں ۔ کا ایک انسان ستاروں کو سورج سے چھوٹا نہیں مانتا۔ اور نہ وہ ستاروں کے غائب ہونے یا ڈوبنے کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ دونوں مظاہر موجودہ زمانہ میں اضافی ہیں نہ کہ واقعی۔ پھر جب پیش کردہ مثال کی واقعیت پر طرفین کا اتفاق نہ ہو تو وہ مخاطب کی نظر میں دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ مولانا ابو الاعلی مودودی (۱۹۷۹ء - ۱۹۰۳ء) کی مشہور کتاب تفہیمات حصہ اول میں ایک مضمون ہے جس کا عنوان ”عقل کا فیصلہ“ ہے۔ اس مضمون کا مقصد رسول کی رسالت کو عقلی دلیل کے ذریعہ ثابت کرنا ہے۔ مگر جو دلیل دی گئی ہے، وہ مذکورہ معیار کے مطابق اعتقادی دلیل ہے نہ کہ عقلی دلیل۔
اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ پچھلے ہزاروں سال کے اندر کثرت سے انبیاء آئے۔ یہ ہزاروں انبیاء تھے جن کے درمیان باہمی طور پر کوئی اتصال نہ تھا۔ اس کے با وجود ان سب نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی۔ ان سب نے ہمیشہ ایک ہی بات کی طرف دعوت دی۔ انھوں نے کبھی ایک دوسرے سے مختلف پیغام دنیا کو نہیں دیا۔ اس کے برعکس ان کا انکار کرنے والوں کا حال یہ تھا کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے مختلف باتیں کرتے رہے۔ مدعیان رسالت متحد الخیال تھے اور مکذبین رسالت مختلف الخیال۔
اب دونوں فریق کا معاملہ عقل کی عدالت میں پیش ہوتا ہے۔ عقل کی عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ متحد الخیال لوگ صحیح ہیں اور ایک سر چشمہ ہدایت سے بول رہے ہیں۔ اگر ان سب کا ایک سر چشمہ نہ ہوتا تو ان کے درمیان یہ کامل اتفاق ممکن نہ تھا، ان کے مقابلہ میں مختلف الخیال لوگ غلط ان کا کوئی واحد ذریعہ علم نہیں۔ اسی لیے ہر ایک الگ الگ باتیں کر رہا ہے۔ دور جدید کے صاحب عقل کے لیے یہ دلیل قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اس میں جس
چیز کو استدلال کی بنیاد بنایا گیا ہے وہ صرف متکلم کا عقیدہ ہے، وہ متکلم اور مخاطب دونوں کا مشترک جدید انسان اس طرح کے معاملات میں صرف تاریخ کو معیار مانتا ہے۔ اور تاریخ ان میں سے کسی بات کا بھی ذکر نہیں کرتی۔ مدون انسانی تاریخ میں نہ انبیاء کاکوئی ذکر ہے ۔ اور نہ ان کے متحدالخیال ہونے کا۔ اسی طرح تاریخ میں نہ کذب بین انبیاء کا ذکر ہے اور نہ ان کے مختلف الخیال ہونے کا مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا مضمون (عقل کا فیصلہ) بتاتا ہے کہ وہ اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ موجودہ زمانہ میں عقلی استدلال کا معیار کیا ہے۔ انھوں نے نقلی دلیل پر مبنی کرتے ہوئے ایک مضمون لکھا اور اس کے اوپر عقلی استدلال کا عنوان قائم کر دیا۔