Al-Risala · January 1993

انسانیت انتظار میں ہے

Al-Risala, January 1993, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور ہندو عالم سوامی ویویکانند نے لکھا ہے کہ زندگی کے وحدانی تصور (ادویتاواد) پر دوسری نسلوں سے پہلے پہچنے کا کریڈٹ ہندوؤں کو مل سکتا ہے، مگر عملی وحدانیت جو کہ تمام انسانیت کو ایک سمجھے اور سب سے ایک طرح کا سلوک کرے، کبھی ہندوؤں میں پیدا نہ ہوسکی۔ دوسری طرف میرا تجربہ ہے کہ اگر کوئی مذہب کبھی اس مساوات تک قابلِ لحاظ طور پر پہنچ ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے۔ اس بنا پر میں یقین کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ عملی اسلام کی مدد کے بغیر، ویدانت کے نظریات، خواہ وہ کتنے ہی عمدہ اور حیرت انگیز ہوں، وسیع انسانیت کے لیے مکمل طور پر بے فائدہ ہیں۔

ہماری مادر وطن کے لیے جو کہ دو بڑے مذہبی نظاموں ہندو ازم اور اسلام کا سنگم ہے، ویدانت دماغ اور اسلام جسم واحد امید ہے۔ میں اپنے ذہن کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندوستان بحران اور انتشار سے نکل کر شاندار اور ناقابلِ تسخیر بن رہا ہے اور یہ واقعہ ویدانت دماغ اور اسلام جسم کے ذریعہ ہو رہا ہے۔

مسٹر شیلندر ناتھ گھوش نے لکھا ہے کہ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جو اپنی جوانی کے ابتدائی دور میں اسلام کے سماجی مساوات اور عالمی اشتراک کے پیغام سے متاثر ہوا، اور تقسیم سے پہلے بنگال میں مسلم عوام کے درمیان کسانی تنظیم کے تحت رہا اور ان کے عقائد و نظریات سے قریبی واقفیت حاصل کی ، اور ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جس نے ۱۹۷۴ء - ۱۹۷۲ء میں تقسیم کے بارہ میں ان کے سابقہ دیوانہ پن پر انھیں شرمندہ ہوتے ہوئے دیکھا، میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے نام یہ اپیل جاری کر رہا ہوں ۔

مسلمانوں کے سچے مفادات اس طرح زیادہ بہتر طور پر حاصل کیے جا سکتے ہیں کہ ان کی منزل متحدہ تعمیری اصطلاحات میں مقرر کی جائے نہ کہ منفی انداز اور تفریق کی روح کے ساتھ اس کا تعین کیا جائے ۔ اچھا مسلمان اور زیادہ خوش حال بننا بلا شبہ ان کا اعلیٰ مقصد قرار دیا جا سکتا میرے مسلمان بھائیوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ میں جو کہ ایک ہندو ہوں ۔

اسباب سے مسلمانوں کے معاملات میں دل چسپی رکھتا ہوں۔ میں نے امید کی تھی کہ ہندستان کے مسلمان ۱۹۴۷ کے سبق آموز تجربہ کے بعد، ایک اور راستہ کی طرف مڑ سکیں گے، وہ اپنا علیحدہ تشخص اس میں پائیں گے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ تخلیقی ثابت کریں اور اس طرح وہ ہندستان کی نشأہ ثانیہ کے نقیب بنیں ۔ تاریخ میں ایسا بہت بار ہوا ہے کہ ایک تخلیقی اقلیت ایک پوری قوم کو نئی زندگی کی طرف لے جانے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ہندستان کے ہندوؤں میں، میرے اندازہ کے مطابق، پچاس فیصد سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں کے بارہ میں وہ مثبت اور خیر خواہانہ تصور رکھتے ہیں جس کا دو نمونہ اوپر کے اقتباس میں نقل کیا گیا ہے۔ یہ لوگ اسلام کی اعلیٰ تعلیمات، خاص طور پر توحید اور مساوات ، سے متاثر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام کی ان قدروں کو ملک میں فروغ دیا جائے۔ کیوں کہ ان کے بغیر ملک کی حقیقی ترقی نہیں ہو سکتی ۔ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ مسلمان اٹھیں اور اپنے اس تخلیقی کردار کو ادا کریں ۔ مسلمان امکانی طور پر پوری طرح اس کی استعداد رکھتے ہیں۔ بلکہ وہی واحد گروہ ہیں جو اس قسم کا مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیوں کہ وہی وہ لوگ ہیں جن کے پاس خدا کی آفاقی تعلیمات کا غیر محرف ایڈیشن موجود ہے۔

مسلمان بلاشبہ اس تاریخی کردار کو ادا کر کے موجودہ ماحول میں اپنے لیے باعزت جگہ حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر اس کردار کو ادا کرنے کی ایک لازمی شرط ہے۔ وہ شرط یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو وقتی حالات سے اوپر اٹھائیں ۔ وہ یک طرفہ طور پر ہر قسم کی شکایتوں اور نا انصافیوں کو نظر انداز کر دیں۔ وہ کھونے پر غم کرنا چھوڑ دیں اور محرومی کی تلخیوں کو بھلا دیں۔ وہ ایسا کریں گے اسی دن وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ اس ملک میں وہ ایجابی رول ادا کر سکیں جس کا تاریخ کو صدیوں سے انتظار ہے۔

یہی وہ قربانی ہے جس کو قرآن میں صبر کہا گیا ہے ، اور صبر کرنے والوں ہی کے لیے مقدر ہے کہ وہ قانون قدرت کے مطابق قوموں اور ملکوں کے قائد بنیں (وجعلنا منھم ائمة يهددون بامرنا لما صبروا)،

Printed page