دنیا اور آخرت
Al-Risala, August 1993, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں ہر آدمی کی زندگی دو مرحلوں میں بٹی ہوئی ہے ـــــ تیاری ، اور نتیجہ آدمی اپنی زندگی کے پہلے مرحلہ میں تیاری کرتا ہے ، اور اپنی زندگی کے دوسرے مرحلہ میں اس کا پھل پاتا ہے۔ یہی حال ہر آدمی کا ہے ، خواہ وہ کسان ہو یا تاجر ، خواہ وہ ڈاکٹر ہو یا انجینیر ، خواہ وہ لیڈر ہو یا عہدے دار ۔ ہر آدمی کا معاملہ یہی ہے۔ اس میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا ہے۔ تاکہ ہر آدمی اپنے ذاتی تجربہ سے اس خدائی منصوبہ کو سمجھ سکے جس کے تحت تمام انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے۔ یہ دنیا کے محدود تجربہ کے ذریعہ اس وسیع تر تجربہ کو بتانا ہے جو دنیا اور آخرت کی صورت میں ہر آدمی کو پیش آنے والا ہے۔ یہ دنیا جس کے اندر ہم پیدا ہوئے ہیں ، یہ ہماری بنائی ہوئی نہیں ہے ، اور نہ ہم اس کے اس دنیا کو بنانے والا خدا ہے۔ اور وہی بلاشریک اس کا مالک ہے۔ میں انتہائی ضروری ہے کہ ہر شخص جو اس دنیا میں ہے وہ سب سے پہلے یہ جانے کہ اس دنیا کے بارہ میں اس کے خالق اور مالک کا منصوبہ کیا ہے۔ اس منصوبہ سے مطابقت کر کے ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس منصوبہ سے مطابقت نہ کرنا اپنے آپ کو جان بوجھ کر تباہی کی طرف لے جانا ہے۔
خدا کے منصوبہ کے مطابق ، یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں آدمی کو رکھ کر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون شخص کیسا ثابت ہوتا ہے۔ تاکہ اس کے مطابق اس کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے۔ جو شخص بھی اس دنیا میں آتا ہے ، اس کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ وہ خدا کی خدائی کا اعتراف کرے ؛ وہ خدا کا شکر کرنے والا اور اس کی تابعداری کرنے والا بن جائے ۔ اعتبار سے صرف ایک خدا کو اپنا بڑا اقرار رے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے آگے جھک جائے ۔ آدمی کا دوسرا فریضہ یہ ہے کہ وہ دوسروں سے تعلق کے دوران ان حدود کا پابند رہے جو خدا نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں انصاف اور خیر خواہی کے اصول پر کار بند رہے۔