اپنی ذات
Al-Risala, August 1993, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
جو شخص اپنے آپ پر فتح حاصل کر لے ، اس کے لئے دوسروں پر فتح حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں آدمی اپنی قسمت آپ بناتا ہے۔ اپنی کمزوریوں پر غالب آنے کا نام کامیابی ہے اور اپنی کمزوریوں سے مغلوب ہو جانے کا نام ناکامی۔
ایک شخص کے اندر خود پسندی ہو تو اس کے گرد خوشامدی قسم کے لوگ جمع ہو جائیں گے۔ اور خوشامدی لوگ بلا شبہ کسی آدمی کا سب سے زیادہ بر اسرمایہ ہیں۔ ایک شخص عجلت پسند ہو تو وہ ایسے موقع پر گھبرا اٹھے گا جب کہ اسے آنے والے وقت کا انتظار کرنا چاہئے، نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ غیر ضروری طور پر آنے والی کامیابی سے محروم ہو جائے گا۔ ایک شخص صرف اپنے آپ کو جانتا ہو تو وہ لوگوں کے ساتھ درست معاملہ نہ کر سکے گا، جب کہ لوگوں کے درمیان کامیاب زندگی گزارنے کے لئے لوگوں کے ساتھ درست معاملہ کرنا ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کے اسباب آدمی کے اپنے اندر ہوتے ہیں۔ اسی طرح ناکامی کے اسباب بھی خود آدمی کے اندر ہی پائے جاتے ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ سب سے پہلے وہ اپنا ہر پسپائی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے۔ جو چیز آپ کے اندر ہو اس کو آپ باہر تلاش کر کے نہیں پا سکتے۔ جو نتیجہ اپنے آپ پر عمل کر کے ملتا ہو، اس کو آپ دوسروں پر زور آزمائی کر کے حاصل نہیں کر سکتے۔
آدمی کے اندر بیک وقت دو قسم کی صلاحیتیں ہیں۔ اس کے اندر اعتراف کا مادہ ہے اور اسی کے ساتھ بے اعترافی کی خواہش بھی۔ اس کے اندر شکر کا جذبہ بھی ہے اور ناشکری کی اس کے اندر تواضع کا مزاج بھی ہے اور گھمنڈ کا مزاج بھی۔ اس کے اندر امانت داری کا مادہ بھی ہے اور حق تلفی کا مادہ بھی۔ وہ دوسرے کی ترقی پر خوش ہو نا بھی جانتا ہے اور دوسرے کی ترقی پر حسد کرنا بھی۔
اس دنیا میں جیت اس کے لئے ہے جو اپنے اندر کی بری خواہشوں کے مقابلہ میں جیت حاصل اور ہار اس کے لئے ہے جو اپنے اندر کی بری خواہشوں کے مقابلہ میں ہار جائے ۔