بدخوا نہیں
Al-Risala, August 1993, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی بھی شخص اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ اپنا برا کئے بغیر دوسرے کا برا کر سکے ۔ سب سے پہلے اپنے لئے برائی ہے۔ اس کے بعد ہی وہ کسی دوسرے کے لئے برائی بن سکتی ہے۔ آپ کسی کی ترقی کو روکنا چاہیں تو سب سے پہلے اپنے اندر حسد پیدا کرنا ہوگا۔ اپنے اندر حسد کی آگ بھڑکانے کے بعد ہی آپ دوسرے کی ترقی کے خلاف کوئی سازش کر سکتے ہیں۔ آپ کسی کو مارنا چاہیں تو سب سے پہلے اپنے سینہ کو تخریب کاری کا اڈہ بننانا پڑے گا۔ اس کے بعد ہی آپ کسی کو اپنے تخریبی منصوبہ کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس دنیا میں سب سے بڑی برائی دوسرے کا برا چاہنا ہے۔ کیوں کہ آپ خواہ دوسرے کا برا نہ کر سکیں، مگر اپنا برا یقینا آپ کر لیتے ہیں۔ دوسرے کو تباہ کرنا کسی آدمی کے اختیار میں نہیں۔ مگر جب کوئی شخص کسی دوسرے کی تباہی کا نقشہ بناتا ہے تو وہ اپنے آپ کو یقینا تباہ کر لیتا ہے۔ اگر آپ کسی دوسرے کو نقصان پہنچا نا چاہیں تو یہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ آپ دوسرے کے اس کے خلاف نقصان کی تدبیریں کریں۔ اپنی کوششوں کو منفی رخ پر چلانا شروع یہ تمام چیزیں اپنی تباہی کا سامان ہیں۔ یہ دوسرے کی بد خواہی کی خاطر خود اپنی ذات کا بد خواہ بنا ہے۔
اگر آپ دوسرے کے خلاف اپنے اقدام میں کامیاب ہو جائیں تب بھی دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے آپ خود اپنے جان و مال کا بہت سا نقصان کرتے ہیں۔ دوسرے کو زخم پہنچانے کی کوشش میں خود اپنے آپ کو بھی زخمی کر چکے ہوتے ہیں۔ پھر ایسی کارروائی سے کیا
دوسرے کی بد خواہی ہی صرف دوسرے کی بد خواہی نہیں، اسی کے ساتھ وہ خود اپنی بدخواہی بھی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اگر وہ دوسرے کا خیر خواہ نہیں بن سکتا تو اپنی ذات کا خیر خواہ بنے۔ وہ دوسرے کو دینا نہیں چاہتا تو کم از کم اپنے آپ کو محروم نہ کرے ۔ کے لئے جینا نہیں چاہتا تو اپنے آپ کے لئے جئے۔