ذہنی بُعد
Al-Risala, August 1993, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
واذا قرأت القرآن جعلنا بينك اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور ان وبين الذين لا يؤمنون بالآخرة لوگوں کے درمیان ایک چھپا ہوا پردہ حائل کر دیتے وجعلنا على قلوبهم ہیں جو آخرت کو نہیں مانتے۔ اور ہم ان کے دلوں أكنة أن يفقهوه وفي آذانهم وقراً پر پردہ رکھ دیتے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں۔ واذا ذكرت ربك في القرآن وحده ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں۔ ولوا على أدبارهم نفوراً جب تم قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکر کرتے ہو تو (الاسراء -۴۵-۴۶) وہ نفرت کے ساتھ پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
اس آیت میں حجاب مستور سے مراد دراصل وہی چیز ہے جس کو ذہنی بُعد (intellectual gap) کہا جاتا ہے۔ یعنی متکلم اور سامع کے درمیان سوچنے کے انداز میں جب بھی دونوں کے درمیان اس قسم کا فرق پایا جائے وہاں یہی ہو گا کہ ایک کی بات دوسرے کی سمجھ میں نہیں آئے گی ۔
مذکورہ آیت میں دو ذہنی فرق کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ایک آخرت اور دوسرے توحید ۔ لوگوں کی سوچ آخرت والی سوچ نہ ہو ۔ جو دنیا کے مسائل کو اہمیت دیتے ہوں ۔ جو دنیا کے عزت و وقار کی اصطلاحوں میں سوچتے ہوں ۔ جن کا ذہن صبح و شام دنیا کے مفاد میں گھومتا ہو ۔ جو صرف دنیوی خبروں کو جانتے ہوں اور آخرت کی خبروں سے بے خبر ہوں ۔ ایسے لوگ دنیوی اہمیت کی باتوں کو فوراً سمجھ لیں گے ۔ لیکن جب ان سے وہ باتیں کہی جائیں جو آخرت کے اعتبار سے اہمیت رکھتی ہوں تو وہ اس کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے ۔
اسی طرح جو لوگ شخصیتوں میں اٹکے ہوئے ہوں ۔ جو انسانی اکابر کی عظمتوں میں گم ہوں اور جنہیں خدائے ذوالجلال کی عظمتوں سے واقفیت نہ ہو ، ان کے سامنے جب ایسی بات لائی جائے جو خدا کی عظمت کے اعتراف پر مبنی ہو ، جو خدا کی بڑائی میں جینے کی دعوت دیتی ہو ، تو اپنی مخصوص ذہنی ساخت کی بنا پر ایسی بات میں انہیں اٹ پٹاپن محسوس ہوگا۔ وہ اس کی اہمیت کا ادراک کرنے میں عاجز ثابت ہوں گے۔