دعوت ، اصلاح
Al-Risala, August 1993, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ہے کہ یہ کتاب اس لیے اتاری گئی ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈرایا جائے اور وہ ایمان والوں کے لیے یاد دہانی ہو ( لتنذر به وذکری للمومنین) اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے ذریعہ حاملین قرآن کو جو کام کرنا ہے ، وہ دو ہے۔ ایک ، عمومی انذار۔ دوسرا ، اہل ایمان کی تذکیر۔
عمومی انذار سے وہی چیز مراد ہے جس کو دوسرے مقام پر دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ غیر مسلم اقوام یا عام بندگان خدا کو خدا کے دین کا پیغام پہنچانا۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ یہاں جو شخص بھی پیدا کیا جاتا ہے ، وہ آزمائش کے لیے پیدا کیا جاتا ہے۔ موت اس آزمائش کی مدت کا خاتمہ ہے۔ کے بعد آخرت میں آدمی کی ابدی زندگی شروع ہوتی ہے جہاں ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق سزا یا انعام دیا جائے گا۔
تمام انسانوں کو اس صورت حال کی آگاہی دینا اور انہیں جنتی اعمال اور جہنمی اعمال سے باخبر کرنا ، اسی کا نام دعوت ہے۔ اس دعوت کا تعلق عام انسانوں سے ہے۔ وہ تمام لوگ جو ابھی خدا کے دین میں داخل نہیں ہوئے ، ان سب پر یہ دعوتی عمل انجام دینا ضروری ہے۔ قرآن کے ذریعہ جو دوسرا کام کرنا ہے ، اس کو اصلاح المسلمین کا کام بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس سے مراد اولاً یہ ہے کہ مسلمانوں میں روح ایمان بیدار کی جائے ۔ ان کے ایمان کو زندہ ایمان بنایا جائے ۔ ان کے اندر وہ گہرا دینی شعور پیدا کیا جائے جو دینی زندگی کے لیے محرک کا کام دیتا اسی کے ساتھ مسلمانوں کو وہ عملی تقاضے بتانا اور ان پر انہیں قائم کرنا جو مومن و مسلم ہونے کی حیثیت سے ان پر عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کی اصلاح کا یہ کام "لسان عصر " میں کیا جانا ضروری ہے۔ روایتی انداز کا کام خوش عقیدہ لوگوں کی بھیڑ جمع کر سکتا ہے۔ مگر افراد میں حقیقی ایمانی انقلاب لانا "لسان عصر" کے بغیر ہرگز ممکن نہیں۔