Al-Risala · August 1993

نیا دور

Al-Risala, August 1993, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائمس آف انڈیا (۲ جنوری ۱۹۹۲) میں صفحہ ۱۰ پر نقطہ نظر (Viewpoint) کے کالم کے تحت مسٹر چندرابی کھنڈوری کی یاد داشت چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے : (The Muslim Role) مسٹر کھنڈوری لکھتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں انڈیا کی آزادی کے وقت مولانا ابوالکلام آزاد کو دیکھا تھا، انھیں یاد ہوگا کہ اس وقت وہ بٹوارہ کے المیہ پر بری طرح رو رہے تھے : Those who watched Maulana Azad on the eve of independence remember him weeping bitterly at the tragedy of partition. (Chandra B. Khanduri) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کو ملک کے بٹوارہ کا کتنا زیادہ غم تھا۔ یقین کرنے میں حق بجانب تھے کہ بٹوارہ ملک کے لیے زہر ہے۔ اس کے نتیجہ میں آزادی ایک نئے قسم کی بربادی کے ہم معنی بن جائے گی۔

اس معاملہ میں واقعہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ ۱۹۱۹۱۹۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں مولانا ابوالکلام آزاد کی بات نہیں چلی۔ مسلمانوں کے درمیان مسٹر محمد علی جناح نے سب سے بڑے نے قائد کی حیثیت حاصل کرلی۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مولانا آزاد کے نقشہ کے خلاف انڈیا دو حصوں میں بٹ گیا۔ مگر اس واقعہ کا ایک اور پہلو بھی تھا۔ وہ یہ کہ ۴۷ کے بعد ملک میں جو حالات پیدا ہوئے اس نے اچانک مولانا ابوالکلام آزاد کو مسلمانوں کے درمیان رہنما نمبر ایک کی حیثیت دے دی۔ ملک کے تمام مسلمان اب ان کی طرف دیکھنے لگے کہ نئے ہندوستان میں وہ انھیں کوئی راہ دکھائیں۔ مگر ۴۷ سے پہلے کے دور میں فعال قائد بننے والے مولانا آزاد، ۴۷ کے بعد کے دور میں ایک غیر فعال قائد بن کر رہ گئے۔ انھوں نے مسلمانانِ ہند کو نئے حالات کے اعتبار سے کوئی واضح رہنمائی حالانکہ ملک کی تقسیم کے بعد مولانا آزاد گیارہ سال تک زندہ رہے۔ اس طرح انھیں کام کرنے کا طویل وقفہ حاصل ہوا۔

اسی سے ملتا جلتا معاملہ مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کا ہے۔ آزادی کے بعد دس سال تک زندہ رہے۔ مولانا سیوہاروی کو آزادی کے بعد پندرہ سال تک جینے

کا موقع ملا۔ مسلمانوں ہند کے تحفظ کے سلسلہ میں ان لوگوں کی خدمات بلاشبہ قابل قدر بیس، مگر ان حضرات نے بھی نئے حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کو کوئی واضح اور مثبت رہنمائی نہ دی ۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔

مثال کے طور پر، ۱۹۱۹۱۹۱۹۱۹۴۷ء سے پہلے مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، سب کے سب یہ کہتے تھے کہ قوم وطن سے بنتی ہے۔ اس لیے اس ملک کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک قوم ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ، ۴۷ کے بعد اس معاملہ میں یہ سب حضرات بالکل خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی یہ مہم نہیں چلائی کہ مسلمانوں میں علیحدگی پسندی کا ذہن ختم کریں اور ان کے اندر ہندوستانی قومیت کا ذہن بنائیں ۔ جب کہ حالات کے اعتبار سے سب سے زیادہ ضروری کام یہی تھا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ہندوستانی مسلمانوں کو سوچ کا ایک رخ مل جاتا، اور ان کے لیے ممکن ہو جاتا کہ وہ حالات سے موافقت کرکے اس ملک میں اپنی زندگی کی تعمیر کر سکیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کے ہم خیال دوسرے رہنماؤں کی اس غیر فعالیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۴۷ کے بعد کے انڈیا میں بھی مسلمانوں کے اندر وہی سوچ جاری رہی جو۱۹۴۷سے پہلے کے انڈیا میں انھیں مسٹر جناح نے دی تھی۔ ۴۷ کے بعد اٹھنے والے لیڈروں میں بھی کوئی اس صلاحیت کا نہ تھا کہ وہ مسٹر جناح اور ان کے ہم نوا ڈاکٹر اقبال کے فکری غلبہ کو توڑ سکے۔ چنانچہ بعد کا دور عملی طور پر پچھلی قیادت کی توسیع بن گیا جو آج تک جاری ہے۔

مسٹر جناح اور ان کے ساتھیوں نے مسلمانوں کو دو قومی نظریہ سکھایا تھا۔ مسلمانوں کا پورا ذہن اس فکر کے تحت بنا تھا کہ ہندو الگ قوم ہیں اور مسلمان الگ قوم۔ اس فکر نے مسلمانوں کو جو طریقہ دیا وہ دوری اور ٹکراؤ کا طریقہ تھا۔ وہ احتجاج اور مطالبات پر مبنی تھا۔ وہ حقوق طلبی کی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتا تھا۔ وہ یہ تھا کہ مسائل کو نمایاں کیا جائے اور مواقع کو غیر مذ کور چھوڑ دیا جائے۔ چنانچہ ۴۷ کے بعد کا پورا دور اسی سابقہ فکری راستہ پر چل پڑا۔ مسٹر جناح نے چودہ پوائنٹ پر مشتمل اپنے مطالبات پیش کیے تھے۔ نئی لیڈر شپ نے ہیں پوائنٹ پر مشتمل اپنے مطالبات پیش مسٹر جناح نے علیحدہ قومیت کی بات کی تھی، نئی قیادت نے علیحدہ تشخص کی بات شروع کردی، مسٹر جناح نے مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار ہندو کو بتایا تھا۔ نئے لیڈروں نے اکثریتی فرقہ

کی حکومت کو مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار بتانے پر اپنی ساری طاقت خرچ کردی۔ مسٹر جناح نے مسلمانوں میں زرد صحافت کو رواج دیا تھا۔ وہ مزید شدت کے ساتھ بعد کے دور میں بھی جاری رہی۔ مسٹر جناح کی غلط رہ نمائی کے نتیجہ میں مسلمانوں نے انتہائی غلط طور پر ہندوؤں کو غیر قوم سمجھ لیا تھا، ۱۹۴۷ء کے بعد رہ نمائی کے خلا کی بنا پر مسلمان دوبارہ ہندوؤں کو غیر قوم ہی سمجھتے رہے۔ مسٹر جناح کی غلط رہ نمائی نے مسلمانوں کا یہ ذہن بنایا تھا کہ مشترک ہندوستان ان کا وطن نہیں بن سکتا، یہی ذہن بعد کو بھی مسلمانوں میں کم وبیش باقی رہا۔ وہ اب بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر یہی سمجھتے رہے کہ ہندوستان ان کا اصلی وطن نہیں ہے۔ اس طرح مسلمان ذہنی طور پر خود اپنے وطن میں بے وطن بن کر رہ گئے ۔

میرے نزدیک، موجودہ مسلم قیادت، بے ریش اور باریش دونوں، تقریبًا بلا استثناء مسٹر جناح کے قیا دتی انداز کی توسیع ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ہر ایک بنیادی طور پر وہی بات کہہ رہا ہے جو مسٹر جناح نے اور ان کے فکری ہم نوا ڈاکٹر اقبال نے کہی تھی۔ درمیان الفاظ کا فرق ہو سکتا ہے، مگر ان میں حقیقت کا کوئی فرق نہیں۔

Printed page