اور ہندو بھی
Al-Risala, August 1993, pp. 23–25
By Maulana Wahiduddin Khan
گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو ہندو بھی عملاً مسٹر جناح کے راستہ پر چل پڑے ۔ بعد وہ بھی مسٹر جناح کے فکری پیرو بن گئے ۔ انھوں نے بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر مسٹر جناح کے زیر تاثر یہ سمجھ لیا کہ انڈیا میں دو قومیں بستی ہیں ۔ ایک ہندو، اور دوسرے مسلمان ۔ یہی وہ چیز ہے جو ہندو مسلم تعلقات کے بگاڑ کا اصل سبب ہے۔
انڈیا میں مسلمان ایک ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے آباد ہیں۔ ان کی تعداد پہلے تھوڑی تھی۔ اب بڑھتے بڑھتے تقریبًا پندرہ کروڑ ہو چکی ہے۔ یہ مسلمان کون لوگ ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو پہلے ہندو تھے ۔ بعد کو انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ گویا کہ یہ مسلمان بھی نسلی اعتبار سے اسی طرح انڈین ہیں جس طرح دوسرے ہندو انڈین ہیں۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے بجاطور پر لکھا ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران ہندوؤں میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ صرف ہندو لوگ انڈین ہیں، مسلمان انڈین نہیں ہیں۔ ہند وعقیدہ یہ ہے کہ
سچائی ہر مذہب میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے جب کئی ہندو اسلام قبول کر لیتا تو وہ اپنے عقیدہ کے مطابق، یہ سمجھتے تھے کہ وہ سچائی کے ایک حلقہ سے نکل کر سچائی کے دوسرے حلقہ میں چلا گیا ہے۔ چونکہ نسلی اعتبار سے وہ ان کی اپنی نسل ہی سے تعلق رکھتا تھا اس لیے وہ ان کے انڈین ہونے پر بھی کوئی شک نہیں کرتے تھے ( ڈسکوری آف انڈیا ۸۱ - ۲۸۰)
مغل دور میں بیشتر راجاؤں نے مغلوں کا ساتھ دیا۔ شیواجی نے اور نگ زیب کے خلاف بغاوت کی ۔ مگر اس کا تعلق کچھ بھی اس بات سے نہیں تھا کہ اور نگ زیب مسلمان ہے۔ اور نگ زیب کی صرف بعض پالیسیوں سے اختلاف تھا۔ چنانچہ جے پور کے راجہ کے نام ایک خط میں شیواجی نے لکھا تھا کہ دہلی کے تخت پر اگر اور نگ زیب کے بجائے دار اشکوہ ہوتا تو وہ ہر گز اس کے خلاف لڑائی نہ لڑتے ۔ وہ اس کی ماتحتی قبول کر لیتے ۔
۱۹۴۷ سے انڈیا کی تاریخ میں ایک نیا دور آتا ہے جب کہ مسٹر محمد علی جناح نے دو قومی نظریہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ قومیت کا تعلق وطن سے نہیں ہے بلکہ مذ ہب سے ہے۔ اور چونکہ مسلمانوں کا اور ہندوؤں کا مذہب الگ الگ ہے اس لیے دونوں الگ الگ قوم ہیں۔ انھوں نے اپنے اسی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر برصغیر ہند میں دو الگ الگ وطن کا مطالبہ کیا۔
مسٹر محمد علی جناح کے اس فکر کے رد عمل میں پہلی بار ہندوؤں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مسلمان الگ قوم ہیں اور ہندو الگ قوم ہیں ۔ انتہا پسند ہندو اب مسلمانوں کی وطنی وفاداری پر شک کرنے انھوں نے کہا کہ مسلمان غیر ملکی ہیں ۔ یہ خیال پختہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ پاکستان جیسے مسلم ملک کے مقابلہ میں بریگیڈیر عثمان اور حوالدار عبد الحمید کی غیر معمولی قربانیاں بھی اس فکر کا خاتمہ نہ کر سکیں ۔ کے رد عمل میں پیدا ہونے والا فکر کسی جوابی فکر سے ٹوٹ سکتا تھا۔ چونکہ ، ۱۹۴۷ کے بعد کوئی ایسی طاقتور فکری تحریک بر پا نہیں ہوئی اس لیے یہ فکر بھی لوگوں کے ذہنوں سے محو نہ ہو سکا۔ انڈیا کے لوگ ہمیشہ سے یہ مانتے آ رہے تھے کہ قوم وطن سے بنتی ہے۔ جو لوگ ایک وطن میں ہوں وہ سب ایک قوم ہیں۔ مگر مسٹر جناح کے دو قومی نظریہ سے متاثر ہو کر یہاں کے ہندو یہ سمجھنے لگے کہ چونکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہب الگ الگ ہے ، اس لیے دونوں الگ الگ قوم ہیں۔ انڈیا کا ہندو و مسلم مسئلہ پچاس فی صد اس لیے ہے کہ ، ۱۹۴۷ کے انقلاب کے بعد بھی یہاں کے
مسلمان مسٹر جناح کے ملحدگی پسندی کے نظریے سے متاثر رہے۔ اور بقیہ پچاس فی صد اس لیے ہے کہ یہاں کے ہندو بھی کم از کم علی طور پر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ قوم وطن سے نہیں بنتی بلکہ مذہب سے بنتی ہے۔ اس لیے ہندو الگ قوم ہیں اور مسلمان الگ قوم۔ وہ جناح کو رد کرتے ہیں، مگر وہ جناح کے نظریے کو پوری طرح قبول کیے ہوئے ہیں۔