Al-Risala · August 1993

دورِ انقلاب

Al-Risala, August 1993, pp. 25–30

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی فکری انقلاب کے لیے حالات کی موافقت ضروری ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد وہ حالات مکمل طور پر پیدا ہو گئے ہیں جب کہ مسٹر جناح کے اس فکری تسلسل کو آخری طور پر توڑ دیا جائے ۔ بابری مسجد کے نام پر مسلمانوں کے درمیان جو تحریک اٹھی، وہ مکمل طور پر جناحی پیٹرن پر اٹھنے والی تحریک تھی ۔ بابری مسجد کا ڈھایا جانا بلا شبہ ایک ٹریجڈی تھی۔ لیکن اگر بابری مسجد کا انہدام مسٹر جناح کے فکری تسلسل کا انہدام بن جائے تو میں سمجھوں گا کہ اس ٹریجڈی میں بھی ایک تابناک پہلو موجود ہے۔ یہ ناموافق حادثہ اپنے اندر ایک موافق پہلو لیے ہوئے ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (۲ جنوری ۱۹۹۳) میں مسٹر چندرابی کھنڈوری کا جو مضمون شائع ہوا ہے اس میں انھوں نے ایک مسلم خاتون ناہید اشرف کے ایک مطبوعہ مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم نے اس مضمون کو پڑھا۔ اس نے مجھ کو، میرے گھر والوں کو اور میرے دوستوں کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا۔ جو چیز ہمارے دلوں میں گھس گئی، وہ مسلم خاتون کے یہ الفاظ تھے کہ اب لیڈروں کو ایک بات اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ کوئی بھی ہندوستانی مسلمان اس ملک کو چھوڑنے والا نہیں بس ایک بار کافی تھا، مسلمان مہاتما گاندھی کی طرح مر جائیں گے مگر وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔ خواہ ہمارا کھنڈر ہی یہاں ہماری یاد کے لیے باقی رہ جائے :

Reading ‘Once Was Enough’ by Naheed Ashraf moved me, my children and my friends. What penetrated our hearts were the words: ‘Now let the leaders keep one thing in mind that no Indian Muslim is going to leave this country. Once was enough...they will rather die like Gandhi...let the ruins keep reminding us...’ Naheed shows the greatness of our Muslim community.(p.10) جاپان میں دوسری عالمی جنگ کے بعد عملِ معکوس (reverse course) کے نام سے ایک

اس کا مقصد جاپانیوں کے قبل از جنگ ذہن کو بدل کر ان ہیں۔ ن تعمیری ذہن پیدا کرنا تھا۔ آج ہمیں بھی اسی قسم کے ایک عمل معکوس کی ضرورت ہے۔ اور خدا کا شکر ہے کہ یہ عمل معکوس اب انڈیا کے ہندوؤں اور مسلمانوں، دونوں کے اندر شروع ہو چکا ہے۔

اب ہمیں ایک طرف ہندوستانی مسلمانوں کو بتانا ہے کہ تم اور ہندو دو قوم نہیں ہو بلکہ ایک قوم ہمیں ان کے اندر نفرت کے بجائے محبت کی ہوائیں چلنا ہے۔ ہمیں مسلمانوں کو بتانا ہے کہ تم کو ٹکر اؤ کے بجائے ایڈ جسٹمنٹ کی پالیسی کو اختیار کرنا چاہئے۔ ہمیں ان کے اندر یہ شعور ابھارنا ہے کہ نئے انڈیا میں ان کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا کسی دوسرے کا۔ البتہ یہ حصہ ان کو میرٹ کی بنیاد پر ملے گا نہ کہ رزر ویشن اور مطالبہ کی بنیاد پر۔ ہمیں مسلمانوں میں نئی تعمیری صحافت کو وجود میں لانا ہے، ایسی صحافت جو منصفانہ واقعہ نگاری پر مبنی ہو، جو مسائل سے زیادہ مواقع کو نمایاں کرنے میں دلچسپی رکھتی ہو۔ اسی قسم کی تحریک ہندوؤں کے درمیان چلانا بھی ضروری ہے۔ ہندو بھائیوں سے یہ کہنا ہے کہ وہ جناحی طرز فکر کو چھوڑ دیں، اور اپنے ماضی والے فکر کو دوبارہ اختیار کر لیں۔ وہ جناح کے مذہب کے بجائے خود اپنی روایات والے اس مذہب پر آجائیں جس کا اہم ترین پہلو تعدد میں وحدت کو مسٹر چندرا بی کھنڈوری نے اپنا مذکورہ مضمون ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ ضرورت ہے کہ ہم اپنے مشترک کلچر کے مطابق اپنی روایتی عقلیت اور رواداری کی طرف لوٹ آئیں : In consonance with our composite culture, we need, therefore, to return to our traditional rationality and tolerance. یہ الفاظ کسی ایک شخص کے الفاظ نہیں ہیں۔ وہ کروڑوں ہندوؤں کے دل کی ترجمانی میں اس کا ایک اظہار وہ ہے جو ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ کے بعد بار بار پرنٹ میڈیا یا اور الیکٹرانک میڈیا میں ہمارے سامنے آتا رہا ہے۔

یہی بھارت کا ضمیر ہے۔ بھارت کا ضمیر جو ۶ دسمبر سے پہلے عارضی طور پر سو گیا تھا، اب وہ پوری طاقت کے ساتھ جاگ اٹھا ہے۔ اور ضمیر جب جاگ اٹھے تو وہ اپنی تکمیل سے پہلے دوبارہ کبھی نہیں تاریخ کا تجربہ ہے کہ ضمیر کی آواز ہر دوسری آواز پر غالب آتی ہے۔ اور انڈیا کا معاملہ بلا شبہ فطرت کے اس عالمی قانون سے مستثنی نہیں۔

مجھے یقین ہے کہ انڈیا میں اب نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے، فی الحال یہ آغاز زیادہ تر ایک تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں ہے۔ مگر دھیرے دھیرے انشاء اللہ وہ شعور کا درجہ اختیار کرلے گا۔ اور جب وہ شعور کے درجے میں پہنچے گا تو اس کا عمل بھی زیادہ تیز اور مؤثر ہو جائے گا۔ اس واقعہ کو بہر حال ظہور میں آنا ہے۔ اس کے اور ہمارے درمیان ضروری مدت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز حائل نہیں۔

انسانی زندگی میں جب بھی کوئی نیا دور آتا ہے تو وہ ہمیشہ اس طرح آتا ہے کہ اس میں پچاس فی صد حصہ تاریخی عوامل ادا کرتے ہیں، اور بقیہ پچاس فی صد حصہ خود اس انسانی گروہ کو ادا کرنا ہوتا ہے جس کے درمیان وہ انقلاب آرہا ہو ۔

آج ہم اسی امتحانی دور میں ہیں۔ اس وقت ہمارا کام یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ابھرنے والے تاریخی عوامل کو پہچانیں اور پھر حکمت اور دانش مندی کے ساتھ انھیں اپنے حق میں استعمال کریں۔ نے اپنے حصہ کا یہ ۵۰ فی صد کام درست طور پر انجام دے دیا تو اس کے بعد مطلوبہ نئے دور کا آنا اتنا ہی یقینی ہو جائے گا جتنا گردش زمین کے قانون کے تحت تاریک شام کے بعد روشن صبح کا نمودار ہونا۔

Printed page