Al-Risala · August 1993

سفرنامہ ۲

Al-Risala, August 1993, pp. 2–43

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ اس وقت ہم مکى دور میں ہیں اور ہم مکی دو رمیں اترنے والے احکام کے مخاطب ہیں۔ آپ کس بنیاد پر ایسا کہتے ہیں جب کہ اب مکمل قرآن اتر چکا ہے اور وہ آج مکمل صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔

میں نے کہا کہ یہ بات قرآن کے اصول تکلیف (لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا) سے نکلتی ہے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان یا کسی جماعت کے اوپر قرآن کے احکام کا انطباق باعتبار وسع ہے نہ کہ باعتبار حج اور زکوۃ کے احکام اتر چکے ہیں۔ مگر ان احکام کی فرضیت صرف ان افراد کے اوپر ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔ یہی معاملہ تمام احکام کا ہے۔ آدمی جس حکم کی تعمیل کی استطاعت رکھتا ہو اس کا وہ مکلف بن جائے گا۔ اور جس حکم کی وہ استطاعت نہ رکھتا ہو اس کا وہ مکلف نہیں بنے گا۔ ۷ نومبر کو مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد پونہ کی مکہ مسجد میں عمومی خطاب ہوا۔ موضوع رکھا گیا تھا: حالات حاضرہ اور مسلمان۔ میں نے کہا کہ اس عنوان کا میرے نزدیک دو پہلو ہے۔ ایک، مشکلات حاضرہ اور دوسرا، امکانات حاضرہ اور مسلمان۔ اس کے بعد تفصیل سے میں نے بتایا کہ بلاشبہ ہمارے لیے کچھ مشکلات ہیں۔ مگر اس قسم کی مشکلات ہر سماج میں اور ہر ملک میں ہمیشہ رہتی ہیں۔ مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ امکانات کی مقدار مشکلات کی مقدار سے ہمیشہ بہت زیادہ ہوتی ہے اور آج بھی بہت ایسی حالت میں ہم کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔

ایک مسجد میں نماز پڑھی۔ امام صاحب نے نماز پڑھانے پر اصرار کیا۔ مگر میں نے نماز نہیں بلکہ امام صاحب کو پکڑ کر انھیں آگے کر دیا۔ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ میرے ساتھ ایسا بار بار پیش آتا ہے۔ جب بھی میں کہیں جاتا ہوں تو جس مسجد میں نماز کے لیے داخل ہوتا ہوں اس کے امام صاحب نماز پڑھانے کے لئے اصرار کرتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ درست نہیں۔ طریقہ یہ ہے کہ مقامى امام ہی نماز پڑھائے۔ حدیث کی مشہور کتاب سنن ابی داؤد میں کتاب الصلاۃ کے تحت

انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی قوم میں جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ خود ان میں کا کوئی شخص ان کی امامت کرے (من زار قوماً فلا يؤمّهم ولیؤمّهم رجل منهم) حدیث نمبر ۵۹۶ انڈیا میں پارسیوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔ ان میں سے زیادہ بڑی تعداد بمبئی میں ہے۔ کے بعد ان کی زیادہ تعداد پونہ میں ہے۔ پارسیوں کا اصول ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے اپنے بچوں کے اندر خود اعتمادی کا مزاج پیدا کرتے ہیں۔

ایک پارسی نے اپنے چھوٹے بچہ کو گھر کے چبوترے پر کھڑا کیا۔ خود چبوترہ کے نیچے کسی قدر فاصلہ پر کھڑا ہوگیا۔ اس کے بعد ہاتھ بڑھا کر بچہ سے کہابیٹے میری گود میں آجاؤ۔ بچہ بڑھتا مگر نیچے گرنے کے ڈر سے چبوترہ پر ٹھہر جاتا۔ اس طرح کئی بار کرنے کے بعد باپ اور قریب آگیا اور بچہ کو گود میں لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ بچہ اپنے باپ کو قریب دیکھ کر تیزی سے اس کی طرف لپکا۔ مگر جیسے ہی بچہ آگے بڑھا، باپ پیچھے ہٹ گیا۔ بچہ چبوترہ کے نیچے منہ کے بل گر گیا، اب باپ نے جلدی سے اس کو اٹھایا اور کہا، بیٹے دیکھو باپ پر بھی بھروسہ نہ کرنا۔

پونہ میں بمبئی کے ہفتہ وار السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا (۲ ۔ ۸ نومبر ۱۹۹۱) کا شمارہ دیکھا۔ آخری صفحہ پر آشا کرشنا کمار کا مضمون نمایاں طور پر شائع کیا گیا تھا۔ اس مضمون میں فرقہ پرست ہندوں کی ایک بات کا جواب تھا۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کی آبادی ہندوستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں ان کی تعداد ہندوؤں سے زیادہ ہو جائے گی۔ مضمون میں اس فرضی پروپیگنڈنے کا نہایت طاقت ور جواب دیا گیا تھا۔ ایڈیٹر نے مضمون کے آغاز میں اس کے بارہ میں یہ الفاظ لکھے تھے: That the minority Muslim community is reproducing at a faster rate as compared to the Hindus and would thus outnumber them, was one of the mainstays of the BJP's communal politics. This simplistic statement is one more example of the Party's brand of Hindutva, based on deliberate distor- tion and vicious misinterpretation of facts, argues Asha Krishnakumar in an یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوؤں کا پڑھا لکھا طبقہ اپنے سائنٹفک مزاج کی بنا پر مسلمانوں کا زبردست حامی ہے۔ مگر مسلمانوں کے نااہل لیڈروں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔

و جلسہ جلوس کی سیاست کے ذریعہ ہند و عوام کو بھڑکاتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کا معاملہ ہند وہ تعلیم یافتہ طبقہ کے ہاتھ سے نکل کر ہندوؤں کے جاہل طبقہ کے پاس چلا جاتا ہے اور جاہل طبقہ خواہ وہ ہندوؤں کا ہو یا غیر ہندوؤں کا وہ عقلی بنیاد پر سوچ کر اپنا طرز عمل متعین نہیں کرتا بلکہ اندھے جذبات کے تحت اپنا طرز عمل متعین کرتا ہے۔ یہی وہ غلط سیاست ہے جس کا برا انجام اس وقت مسلمانوں کے حصہ میں آیا ہے۔

مولانا سید نور ابراہیم (۲۸ سال)، پونہ کی ایک مسجد میں امام ہیں۔ ۱۹۸۷ء میں یہ واقعہ ہوا کہ انھوں نے ایک مطبوعہ اردو اعلان مسجد میں پڑھ کر سنایا۔ اس اعلان میں آرگنائزیشن کا لفظ تھا وہ اس کا صحیح تلفظ نہ کر سکے۔

اس کے بعد انھیں احساس ہوا کہ میں نے مدرسہ سے عالم کی فراغت حاصل کر لی مگر انگریزی سے میں اتنا زیادہ بے بہرہ ہوں کہ انگریزی کا ایک لفظ جو اردو خط میں چھپا ہوا ہے اس کو میں پڑھ نہیں سکتا۔ یہ سوچ کر ان کے اندر غیرت آئی۔ بازار سے انھوں نے انگریزی کتابیں حاصل کیں اور بطور خود انگریزی پڑھنا شروع کیا۔ اب ذاتی کوشش سے انھوں نے اتنی انگریزی سیکھ لی ہے کہ وہ الرسالہ انگریزی پورا کا پورا سمجھ کر پڑھ لیتے ہیں۔ وہ ہر مہینہ باقاعدہ طور پر انگریزی الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ناپسندیدہ واقعہ سے اگر منفی اثر لیا جائے تو وہ تباہی کا سبب بنتا ہے۔ اور اگر ناپسندیدہ واقعہ سے مثبت اثر لیا جائے تو وہ آدمی کے لئے ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔

پچھلے ماہ میں تقریباً دو ہفتہ کے لئے لاہور میں تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ تقریباً ہر مسلمان کی سوچ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام مسٹر محمد علی جناح کا کارنامہ ہے۔ پاکستانی دانشوروں کے نزدیک ہند و لیڈر شپ کسی طرح پاکستان بننے دینا نہیں چاہتی تھی۔ یہ مسٹر جناح کی عظیم قیادت تھی کہ انھوں نے ہندو لیڈروں کو پاکستان کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔

مگر ہندوستان کے مسلم دانشوروں کا خیال اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان مسلمانوں نے نہیں بنوایا بلکہ ہندوؤں نے بنوایا۔ بمبئی کے زمانہ قیام میں یہاں کے ایک اخبار انقلاب (۹ نومبر 1991) نے اپنے اداریہ میں لکھا تھا۔ مشہور ماہر قانون انکا ایم نیروائی نیز دیگر محققین نے اپنی متعدد تصانیف میں یہ بات ثابت کر دی ہے کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں کی وجہ سے

نہیں، بلکہ در حقیقت جن سنگھی ذہنیت اور انگریزوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے: بمبئی کے اردو اخبار کے مذکورہ ادار یہ کا عنوان تھا: "مسلمان کیا کریں" اس کو دکھاتے ہوئے ایک صاحب سے میں نے کہا کہ جو مسلم دانشور پچاس برس میں یہ بھی طے نہ کر سکے کہ پاکستان کس نے بنوایا وہ "مسلمان کیا کریں" کے بارے میں قوم کو کیسے کوئی درست رہنمائی دے سکتے ہیں۔ بمبئی کے ٹائِمْس آف انڈیا (۳ نومبر ۱۹۹۱) میں ایک جرنلسٹ راج دیپ سردیسائی کے قلم سے ایک دلچسپ مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا۔ طاقتور تلوار، اس سے بھی زیادہ طاقتور قلم: Mighty sword, mightier pen. اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ شیو سینا نے ایک عرصہ تک تلوار (تشدد) کے وسیلہ پر اعتماد کیا۔ ذریعہ اس کے لئے زیادہ مفید نہ ہوسکا۔ چنانچہ اب خود شیو سینا کے اپنے اخبار مارننگ نے لکھا ہے کہ ہمیں پریس کی طاقت کو استعمال کرنا چاہئے۔ شیو سینا کے آرگن نے اردو شاعر کے شعر کو کسی قدر فرق کے ساتھ نقل کیا ہے کہ کیمپو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو، گر توپ مقابل ہے تو اخبار نکالو: Do not remove a sword, When even a cannon becomes useless, bring out a newspaper. (p.13)

۱۰ نومبر کو ۱۰ بجے بمبئی میں ایک خطاب کا پروگرام تھا۔ اس کا انتظام پائیکر ہال میں کیا گیا اور اس کا عنوان تھا" محمد ﷺ۔ اس موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ تقریر ہوئی۔ اس کے بعد آدھ گھنٹہ تک سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ حاضرین میں مسلم اور غیر مسلم دونوں موجود تھے۔ آج کا دن کسی سنجیدہ اجتماع کے لئے بہت غیر موزوں تھا۔ کیوں کہ آج اتوار تھا اور آج ہی کھیل کا میچ تھا اور جب اس قسم کا میچ ہو تو تمام لوگ ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ جناب ہارون رشید (چیف ایڈیٹر بلٹنر) نے کہا کہ یہ منظر دیکھ کر مجھے تعجب انگیز خوشی ہو رہی ہے۔ اس پروگرام کی پروفیشنل انداز میں معیاری ویڈیو ریکا رڈنگ کرائی گئی۔ ویڈیو اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (بمبئی) کے پاس موجود ہے۔

۱۰ نومبر کی سہ پہر کو پالی کی مسجد میں نماز مغرب کے بعد ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تقریبآ آدھ گھنٹہ کی ایک تقریر ہوئی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے جو حالات ہیں وہ بہت امید

اس میں ہمارے لیے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ اس میں میں نے قرآن و حدیث سے اور تاریخ کی مثالوں سے واضح کیا۔

۷ نومبر کی صبح کو میں بمبئی میں تھا۔ یہاں ڈاکٹر عبدالکریم نامی صاحب کے مکان پر قیام رہا۔ مکان کے قریب جیسین اپارٹ منٹس کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی۔ یہاں فجر کی نماز کے بعد مختصر طور پر نماز سے متعلق ایک حدیث کی تشریح بیان کی ۔ مولانا ممتاز احمد قاسمی اس مسجد کے امام ہیں۔ ۸ نومبر کو صبح ۱۱ بجے آل انڈیا ریڈیو بمبئی نے میری ایک ٹاک کو ریکارڈ کیا۔ یہ ٹاک چند دن کے بعد براڈکاسٹ کی جائے گی۔ اس کا عنوان تھا۔ قومی یک جہتی کا مسئلہ۔ یہ تقریر انشاء اللہ آئندہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

آج جمعہ کا دن تھا۔ بمبئی میں باندرہ کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ پہلے سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد مسجد میں عبادت کے موضوع پر میری تقریر ہوگی۔ میرا خیال تھا کہ نماز جمعہ کے بعد یہاں بہت کم لوگ ٹھہریں گے۔ مگر اتنے زیادہ آدمی ٹھہرے کہ وسیع مسجد بالکل بھری ہوئی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک نماز کی روشنی میں اسلامی عبادت کی تشریح کی۔

انگریزی روز نامہ فری پریس جرنل نے ٹیلی فون کیا تھا کہ وہ مجھ سے انٹرویو لینا چاہتے ہیں ۔ مقررہ وقت کے مطابق ان کی خاتون نمائندہ مسٹر سپیر ونے میری رہائش گاہ پر مفصل انٹرویو لیا۔ تعلق زیادہ تر ہندوستان کے مسلمانوں سے متعلق تھا۔ کچھ سوالات اسلام کے بارہ میں بھی تھے۔ ۸ نومبر کو نماز عصر کے بعد ریکارڈ کیا گیا۔

۸ نومبر کو نماز مغرب کے بعد قارئین الرسالہ کا اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ایک ہال میں تھا۔ قارئین الرسالہ کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ اس کے بعد میں نے الرسالہ مشن کی وضاحت پر ایک مفصل

۹ نومبر کی رات کو ہندی اخبار جن ستا کے نمائندہ احمد اظہار اور ہندوستان ڈیلی کے نمائندہ عبد الرحمن صدیقی نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو میں دوقسم کے سوالات کئے گئے۔ الرسالہ مشن اور مسلمانوں کے موجودہ مسائل۔ الرسالہ مشن کے سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس کا مشن لوگوں کو باشعور بنانا ہے۔ کے سلسلہ میں میں نے کہا کہ میرے نزدیک ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے کہا کہ

مسئلہ اس صورتِ حال کا نام ہے جس کا حل بروقت موجود نہ ہو۔ مسلمانوں کے مسائل کا حل چوں کہ موجود ہے، اس لئے میں ان کو مسئلہ نہیں سمجھتا۔ مثلاً فساد کے مسئلہ کا یقینی حل اعراض ہے۔ سروس کے مسئلہ کا یقینی حل محنت ہے۔ معاشی پسماندگی دور کرنے کا یقینی حل صنعت و تجارت میں آگے بڑھنا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں سلمان جگہ جگہ ظالم حکمرانوں کے خلاف چیلنج کے نام پر بے معنی سیاسی لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں اور اس کو حسینی نمونہ کی پیروی کہتے یہ تاریخ نہیں ہے بلکہ تاریخ سازی ہے۔ کیوں کہ تاریخی شواہد کے مطابق حضرت حسین کے اقدام کی یہ نوعیت ثابت ہی نہیں ہوتی۔

حضرت حسین مکہ سے اس لئے نکلے ہی نہیں تھے کہ وہ یزید کو چیلنج کریں اور یزید کی فوجوں سے اگر ایسا ہوتا تو وہ مکہ سے دمشق جاتے۔ وہ اپنے خاندان کو لے کر، نہ کہ فوج کو لے کر، اس خبر کی بنیاد پر نکلے تھے کہ کوفہ کے لوگوں نے عمومی طور پر آپ کے حق میں بیعت کر لی ہے۔ جب وہ کوفہ کے قریب پہنچے اور معلوم ہوا کہ خبر صحیح نہ تھی۔ نیز یہ کہ کوفہ کے جن لوگوں نے بالواسطہ طور پر آپ کے لئے بیعت کی تھی، وہ سب کے سب اپنی بیعت سے پھر گئے ہیں تو آپ نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ کسی بھی تاریخی ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ یزید کے لشکر سے لڑنا چاہتے تھے۔ مگر یزید کو اس کی خبر نہ ہوسکی اور کوفہ کے مقامی حاکم نے حضرت حسین اور ان کے ساتھیوں کو گھیر کر انہیں لڑنے پر مجبور کر دیا، اس لئے کہ بلا کی لڑائی پیش گویا کہ بلا کی جنگ مجبورانہ دفاع کے لئے تھی نہ کہ ظالموں کے خلاف جنگی اقدام کے لئے۔ موجودہ زمانہ میں جو نظر یہ جہاد حضرت حسین کے واقعہ سے نکالا جارہا ہے وہ یقینی طور پر ایک خود ساختہ نظریہ ہے، اس کا حضرت حسین کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔

۹ نومبر کو فجر کی نماز کے بعد مسجد میں درسِ حدیث کا پروگرام تھا۔ تین حدیثوں کی روشنی میں دین کی حقیقت کو واضح کیا۔ میں نے بتایا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ انسان ربانی انسان بن جائے۔ انسان وہ ہے جس کو عظمت خداوندی کے احساس نے عجز و فروتنی کے درجہ پر پہنچا دیا ہو۔ جس کا ایمان اس سے سرکشی کا احساس چھین لے۔ جس کا حال یہ ہو کہ معاملہ کی وضاحت کے بعد کوئی چیز اس کے لئے اعترافِ حق میں رکاوٹ نہ بنے۔

۱۰ نومبر کو ، اے جے جامعۃ البنات میں خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب کا پروگرام تھا۔

تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اسلام میں کس طرح عورت کو عزت کا مقام دیا گیا ہے۔ البتہ عملی تقاضے کی بنا پر اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان تقسیم کار کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔

اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن میں کچھ وقت گزارا۔ کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے یہ ادارہ قائم کیا ہے۔ اور اس کو اعلیٰ معیار پر چلا رہے ہیں۔ انگریزی ماہنامہ آئی لینڈ (Island) کے شمارہ اگست 1991 میں ایک مضمون چھپا تھا۔ اس میں اس ادارہ کا تعارف کراتے ہوئے جو سرخی قائم کی گئی تھی وہ اس کا بہترین تعارف ہے۔ اس کا عنوان تھا ۔ پرانے خیالات، نئے طریقے :

Printed page