امید کی طرف
Al-Risala, January 1993, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا کا نظام کچھ فطری اصولوں پر قائم ہے۔ فطرت کے یہ اصول انتہائی حد تک اٹل ہیں، ان میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ انہیں میں سے ایک ابدی اصول، قرآن کے الفاظ میں یہ ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ عُسْر کے ساتھ یُسْر موجود رہتا ہے (اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا) یہاں ہر موافق واقع میں ایک موافق پہلو پایا جاتا ہے۔ فطرت کا یہ اصول اتنا عام ہے کہ بدترین تخریب، حتیٰ کہ قتل جیسے حادثات بھی اس سے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت آدم کے بیٹوں میں سے دو بیٹوں میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ نام ہابیل اور قابیل تھا۔ دونوں بھائیوں کا اختلاف بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی آخری شدت تک پہنچ گیا ۔ اب قابیل نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دے۔ چنانچہ اندھے انتقام سے مغلوب ہو کر قابیل نے ہابیل کو مار ڈالا ۔ اب چلتا پھرتا اور ہنستا بولتا ہابیل ایک بے جان لاش کی صورت میں اس کے سامنے پڑا ہوا تھا۔ ہابیل جب زندہ تھا تو وہ قابیل کو حریف کے روپ میں دکھائی دیتا تھا۔ مگر جب اس نے اپنے بھائی کو خون آلود لاش کے روپ میں دیکھا تو اس کا ضمیر جاگ اب اس کی انسانیت بیدار ہو کر اس کو ملامت کرنے لگی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے : فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ (المائدہ (۳۱) پھر وہ پچھتانے والوں سے ہو گیا۔ اس سے ایک اہم نفسیاتی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ انتقام اپنی آخری حد پر پہونچ کر ندامت بن جاتا ہے۔ غصہ جب اپنی آخری کارروائی کر چکا ہوتا ہے تو اس کے بعد وہ اعتراف میں ڈھل جا حیوانیت اپنا آخری روپ دکھانے کے بعد انسانیت کی طرف لوٹ آتی ہے۔
فطرت کا یہ قانون ایک قسم کا چیک (روک) ہے جو زندگی کے نظام کو درست رکھتا ہے۔ انتہا پسندی کو بار بار اعتدال پسندی کی طرف لے آتا ہے ۔ وہ عدم توازن کو توازن کی طرف لوٹا تا رہتاہے۔ انسانیت کی گاڑی جب سیدھے راستہ سے ہٹ کر بھٹکاو والے راستہ کی طرف مڑنے لگتی ہے تو وہ اس کو دوبارہ سیدھے راستہ پر لاکر اس کی اصل منزل کی طرف اسے رواں دواں کر دیتا ہے۔ یہ دنیا امید پر قائم ہے ، مایوسی پر نہیں۔ اس دنیا کی اصل روشنی ہے، اس دنیا کی اصل تاریکی یہاں تاریخ زندگی کی طرف جارہی ہے، یہاں تاریخ کبھی موت کی طرف سفر کرنے والی نہیں ہے۔