Al-Risala · August 1993

Old ideas, new techniques.

Al-Risala, August 1993, pp. 43–46

By Maulana Wahiduddin Khan

اس ادارہ کے پیچھے سب سے زیادہ ڈاکٹر ذاکر نا ئک اور ڈاکٹر محمد نائک کا ذہن کام کر رہا ہے۔ 9 نومبر کی سر پر کوفیمینا (Famina) کی خاتون نمائندہ مسز شالینی پردھان نے انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات زیادہ تر مسلم خواتین کے رول کے بارہ میں تھے۔

9 نومبر کو نماز مغرب کے بعد انڈین مرچنٹس چیمبر میں تقریر ہوئی۔ موضوع تھا : اسلام داعی تقریباً سوا گھنٹہ کی تقریر کے بعد سوال و جواب ہوا۔ اس اجتماع میں بمبئی کے اعلیٰ اذہان شریک ہوئے۔ ہال کی تمام کرسیاں بھری ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا وقفہ ہوا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ اعراض کی تلقین کرتے ہیں۔ اعراض کب تک۔ میں نے کہا کہ اعراض اس وقت تک جب کہ اعراض کرنے کا امکان ہی سرے سے ختم

9 نومبر کو عشاء کی نماز کے بعد سنڈے آبزرور کے نمائندہ مسٹر جاوید آنندسے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے خلاف تعصب (Prejudice) ہے۔ اس کے بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ جس چیز کو لوگ تعصب کہتے ہیں، اس کو میں چیلنج کہتا ہوں ۔ اور یہ چیلنج ہمیشہ رہے گا۔ کیوں کہ زندگی میں چیلنج کا ہونا کسی انسان کا منصوبہ نہیں۔ یہ خدا کا منصوبہ ہے۔ پھر وہ کیسے ختم ہو سکتا ہے۔ ہم چیلنج کی صورتحال کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ چیلنج کا مقابلہ کر کے اپنے لئے زندگی کی راہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ 10 نومبر کو نماز فجر کے بعد جیسین اپارٹمنٹس کی مسجد میں حدیث کا درس دیا۔ یہ مسجد اپنی ظاہری

صورت کے اعتبار سے مسجد نہیں معلوم ہوتی۔ اس میں گنبد اور مینار جیسی چیزیں موجود نہیں ہیں۔ نئے عبادت خانے کی تعمیر کی اجازت مشکل سے ملتی ہے۔ اس بنا پر لوگوں نے ایسا کیا ہے کہ وہ مدرسہ کے نام پر ایک ہال بنا لیتے ہیں اور اس کے اندر تعلیم کے ساتھ نماز بھی ادا کرتے ہیں۔

بمبئی والوں کا یہ طریقہ مجھے پسند آیا۔ آدمی جس ماحول میں ہو، وہاں کا ماحول اگر ایک چیز دینے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کو اشو بنا کر اس کے لئے فکر اناء عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ آدمی کو چاہئے کہ جو کچھ مل رہا ہے اس کو لے لے اور بقیہ کے لئے پرامن طور پر اپنی تعمیری کوشش جاری

بمبئی میں کئی پروگرام ہوئے۔ یہاں کے حلقہ الرسالہ نے تمام پروگراموں کو جس طرح آرگنائز کیا وہ یقیناً قابل تعریف تھا۔ تمام لوگوں نے ایک ٹیم کے انداز میں کام کیا۔ ڈاکٹر عبد الکریم نائک ، ڈاکٹر محمد نائک، ڈاکٹر ذاکر نائک ، مسٹر افضل لادی والا ، ہارون بھائی ہونسری والا ، مسٹر فاروق فیصل ، مسٹر نسیم علی خاں، مولانا متقانی ، مسٹر جی ایم صدیقی، مسٹر آفتاب احمد صدیقی وغیرہ اس میں شریک تھے۔ ہر جزو کو پیشگی طور پر منصوبہ بند انداز میں طے کیا اور اس کو حسن وخوبی کے ساتھ تکمیل تک بہنچایا ، آخر میں ان لوگوں نے تمام پروگرام کا پریس ریلیز انگریزی میں تیار کیا اور اس کو بمبئی کے ۳۴ میگزینین اور اخباروں کے نام روانہ کیا۔ کئی پروگراموں کے ویڈیو کیسٹ تیار کرائے ، جو لوگ ویڈیو کیسٹ پہ قیمت لینا چاہیں وہ ذیل کے پتہ پر خط و کتابت کریں:

Islamic Research Foundation, Masalawala Building, 2nd Floor, 56 Tandel Street North, Dongri, Bombay 400009, India. Tel. 864968 بمبئی کے پروگراموں میں مقامی اخباروں کے نمائندے بھی آتے رہے۔ مسٹر بال ٹھا کرے کے مراٹھی اخبار " سامنا " کا نمائندہ بھی شریک ہوا۔ اس طرح مسٹر بال ٹھا کرے کو میری باتوں کی رپورٹ پہنچتی رہی۔ چنانچہ بال ٹھا کرے نے سامنا کے شمارہ ۱۲ نومبر ۱۹۹۲ میں پورا ایڈیٹوریل اسی کے بارہ میں لکھا۔ جناب فاروق فیصل صاحب نے اس ایڈیٹوریل کا تماشہ اس کے اردو ترجمہ کے ساتھ بھیج دیا ہے۔ اس مفصل ایڈیٹوریل کا ایک حصہ یہ ہے:

" نئی دہلی ، اسلامی مرکز کے فاؤنڈر ، الرسالہ کے ایڈیٹر مولانا وحید الدین خاں، انھوں

نے کچھ دن پہلے بمبئی میں اگر یہ کہا کہ مسلمانوں کو ہندووں سے جھگڑا کرنے سے اوائڈ کرنا چاہئے، جھگڑے کو اوائڈکرنے کا مطلب اپنے حق پر پانی ڈالنا نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے ۔ آگے بڑھنے کا موقع انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان لیڈر آج تک فرقہ وارانہ معاملوں پر بحث کرتے رہے لیکن اس دیش میں مسلمانوں کے لئے آگے بڑھنے کے لئے کتنے مواقع حاصل ہیں اس بارہ میں کبھی چرچا نہیں کی جاتی۔ تعلیم اور روزگار یہ اصلی مسائل آج ۔ ۴اری قوم کے سامنے کھڑے ہیں لیکن ہمارے لیڈر کئی فالتو مسئلوں پر بڑی سرگرمی سے اپنا قیمتی وقت برباد کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمان صرف ایک پروٹسٹ کرنے والی اقلیت بن گئے ہیں۔ اس طرح کی امیج کو بدل دینا چاہئے۔ دیش کی ترقی کا کام کرنے والی جماعت، یہ امیج بنانا چاہئے۔ آج تک مسلمان مانگنے والی جماعت بنے رہے۔ سے آگے بڑھ کر دینے والی قوم کی امیج بنانا چاہئے۔ ترقی کے ہر ایک میدان میں سب سے اچھا کام کرنے والی قوم، یہ امیج بنانا چاہئے۔ ترقی کے ہر ایک میدان میں سب سے اچھا کام کرنے والی قوم، یہ امیج اس طرح کے خیالات مولانا وحید الدین خاں صاحب نے ظاہر کئے ہیں۔ مہاراشٹر کے مسلمان ان خیالات سے کتنا اثر لیتے ہیں اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔

ہارون بھائی ہوندسی والے نے ایک سبق آموز واقعہ بتایا۔ ہم نومبر کو ایک ہندو بھائی ان کے یہاں سامان خریدنے کے لئے آئے۔ اس دوران انھوں نے اپنی ایک پریشانی کا ذکر کیا۔ ان کو بمبئی سے اندھیری جانا تھا۔ مگر بجلی میں کچھ گڑبڑ ہو جانے کی وجہ سے الیکٹرک ٹرینیں رک گئی تھیں۔ ان کے پاس ایک بڑا قالین تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں قالین لے کر گھر پہنچنا ہے۔ اگر ہم ٹیکسی کریں تو وہ سو روپیہ سے زیادہ کر ایہ لے گا۔

ہارون بھائی نے کہا کہ آپ قالین ہماری دکان پر رکھ دیں اور کل اس کو یہاں سے منگوالیں۔ انھوں نے کہا کہ کل دیوالی ہے اور اس قالین کو کل تک اندھیری پہنچ جانا ہے۔ ہارون بھائی نے چاہا کہ ریلوے انکوائری میں ٹیلی فون کر کے ٹرین کی تازہ پوزیشن معلوم کریں۔ مگر بار بار ڈائل کرنے کے باوجود ٹیلی فون سے رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ آخر کار ہارون بھائی نے سائیکل کے ذریعہ اپنا آدمی ریلوے اسٹیشن وہ پتہ کر کے آیا کہ ٹرینیں چل رہی ہیں۔ وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور اپنا قالین لے کر چلے گئے۔ اس دوران میں جب کہ وہ ہارون بھائی کی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے، ہارون بھائی نے انگریزی الرسلہ

کا شمارہ ستمبر ١٩٩١ انھیں پڑھنے کے لئے دیا۔ اس میں ایک حدیث پڑھ کر انھوں نے کہا: You have followed this (Hadith). It should be in practice. It should not be only in books. فاروق فیصل صاحب (پیدائش ١٩٥٥) نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ الرسالہ بزدلی سکھاتا ہے۔ مگر میرا تجربہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ میری پیدائش سے قبل تقسیم ہند ہوئی۔ حیدر آباد پولیس ایکشن، ملک کے فسادات اور مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوتا تھا کہ ہم مسلمانوں کی تباہی و بربادی کی تاریخ کا آخری حصہ ہیں۔ چنانچہ ایک طرح کی مایوسی دل و دماغ پر طاری ہوگئی تھی لیکن الرسالہ پڑھ کر احساس ہوا کہ ہم مسلمانوں کی تاریخ کی تباہی و بربادی دیکھنے کے لئے نہیں پیدا ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی نئی تاریخ کا باب شروع کرنے کے لئے اس دور میں پیدا کئے گئے ہیں۔ کیا اب بھی لوگ یہ کہیں گے کہ الرسالہ بزدلی سکھاتا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ میں تاریخ کا آخری حصہ ہوں لیکن الرسالہ پڑھ کر احساس ہونا شروع ہوا کہ میں تاریخ کا اول حصہ بننے والا ہوں۔ تاریخ میرے عمل سے بنے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ اقدام اور حوصلہ مندی سکھاتا ہے نہ کہ بزدلی اور پسپائی۔ بمبئی سے ایک انگریزی اخبار انڈیپنڈنٹ چھپنا شروع ہوا ہے۔ یہ کافی آزاد اور غیر جانب دار اخبار ہے اور اعلیٰ حلقوں میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کا تعلق ٹائمس آف انڈیا گروپ سے ہے۔ کے بارہ میں اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے جناب نسیم علی خاں صاحب نے کہا: انڈیپنڈنٹ مسلمانوں کے مسائل سمیت تمام ضروری باتیں غیر جانب دارانہ انداز میں شائع کرتا ہے۔ اب کسی مسلمان لیڈر کو علیحدہ سے مسلمانوں کا انگریزی اخبار نکالنے کی ضرورت نہیں۔ وہ خود لکھنا چاہیں تو وہ انڈینٹ کے صفحات کو کامیابی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں۔

بمبئی میں کئی اخبار کے نمائندوں نے انٹرویو لیا۔ ان میں اردو، مراٹھی، انگریزی اخبارات

ڈاکٹر رفیق زکریا بمبئی کی ایک معروف شخصیت ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ انھوں نے سلمان رشدی کی کتاب "شیطانی آیات" کے جواب میں ایک کتاب محمد اور قرآن اس کتاب کو رشدی کی کتاب ہی کے پبلشر پنگوئن (Penguin Books) نے شائع کیا

جس کی شاخیں امریکہ، برطانیہ اور ہندوستان میں ہیں۔ یہ کتاب آج پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر فروخت ہو رہی ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا کرم ہے کہ اس کتاب کا خود پنگوئین والوں پر اتنا زبردست اثر ہوا کہ انھوں نے معاہدہ کے باوجود رشدی کی کتاب کا پیپر بیک ایڈیشن نکالنے سے انکار کر دیا۔ (نئی دنیا ۱۳ اپریل ۱۹۹۲)

اس سے مثبت اندازِ کار کی غیرمعمولی اثر انگیزی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مذکورہ مثال کے مطابق سلمان رشدی کی بیہودہ کتاب کے جواب میں اسلام پر ایک صحیح تعارفی کتاب تیار کی گئی۔ کتاب کو "شیطانی آیات" کے پبلشر ہی نے اپنے یہاں سے شائع کیا اور پھر ہر جگہ اس کو پڑھا جانے مزید یہ کہ خود پبلشر پر اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ شیطانی آیات کی مزید اشاعت سے باز آ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مثبت طریقِ کار میں معجزاتی تاثیر چھپی ہوئی ہے، بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر استعمال

"گاڈا رائزز" کا ترجمہ مراٹھی زبان میں ایک ہندو پروفیسر نے کیا ہے۔ اس سلسلہ میں فاروق فیصل صاحب نے بتایا کہ یہ ترجمہ اب بمبئی میں جی ایم صدیقی صاحب کے پاس پہنچ چکا ہے۔ توقع ہے کہ انشاء اللہ وہ جلد ہی شائع ہو سکے گا۔

سفر سے واپسی کے بعد بمبئی سے کچھ لوگوں کے خطوط موصول ہوئے۔ جناب محمد حسین ٹاڑے (6115718 .Tel) لکھتے ہیں: الحمد للہ بندہ آپ کے بمبئی کے پروگرام میں حاضر تھا۔ اور آپ کی تقریر سے بے حد متاثر ہوا۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ اور اسی طرح امت مسلمہ آپ کی کاوشوں سے بہرہ ور ہو، آمین۔

جناب محمد افضل لادی والا (کرلا) اپنے خط میں لکھتے ہیں: بمبئی میں آپ کا پروگرام الحمد للہ بے حد کامیاب رہا۔ اللہ رب العزت کے کروڑوں احسانات ہیں کہ سارے پروگرام حسب منشا خوب سے خوب تر رہے۔ لوگوں کے دماغ ہی نہیں روح تک کو آپ نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایسے بھی آئے کہ ہم کو مولانا کا پروگرام رکھنا ہے۔ مگر وقت کی کمی کے سبب یہ ممکن نہ تھا۔ ان شاء اللہ آپ کے اگلے دورہ میں اس سے بہتر پروگرام رکھیں گے۔ آئندہ آپ کو کم از کم دس روز بمبئی کے لئے دینا ہوگا۔ کے ساتھ بمبئی میں سہ روزہ پروگرام کے دوران جو وقت گزرا وہ مجموعی طور پر زندگی کا بہترین وقت ۳۸ الرسائل اگست ۱۹۹۳

پرجورو روحانی کیفیت ان اجتماعات میں حاصل ہوئی اس کا بیان قلم سے ممکن نہیں۔ یہ مبالغہ نہیں حقیقت بیانی ہے۔

حسب پروگرام ۲ نومبر کی شام کو، انجے سدیشور ایکسپریس کے ذریعہ بمبئی سے سولاپور کے لئے بمبئی میں مسلسل پروگرام کی وجہ سے دماغ بالکل تھک گیا تھا۔ رات کو بہت اچھی نیند آگئی۔ صبح اٹھا تو ابھی دو گھنٹے کا سفر باقی تھا۔ یہ سفر ایک رفیق سفر کی وجہ سے بہت آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔ یہ ایک ریلوے افسر تھے جو پونے سے رات کے وقت سوار ہوئے تھے اور وہ بھی سولاپور جا رہے تھے : P.K.A. Narayan, Divisional Personnel Officer, Central Railway, Solapur. موصوف کے ساتھ دو اور ریلوے افسر تھے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے وہ بار بار لطیفے بیان خود بھی ہنستے رہے اور دوسروں کو بھی ہنساتے رہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قسم کے لطیفے صرف لوگوں کو ہنسانے کے لئے بیان کرتے ہیں یا اپنا ٹینشن نکالنے کے لئے۔ انہوں نے کہا کہ اپنا ٹینشن نکالنے کے لئے۔

مزید گفتگو کے دوران انھوں نے کہا، مجھ کو قرآن کی ایک کاپی ہونا میں نے سولاپور کے ایک ساتھی سے کہا کہ وہ موصوف سے ملیں اور ان کو قرآن کا انگریزی یا ہندی ترجمہ پہنچادیں۔ موصوف نے ایک دلچسپ بات بتائی۔ آپ کوئی کاغذ لے کر اس کو فولڈ کریں۔ سات موڑ کے بعد اس کو مزید موڑ نا سخت مشکل ہو جائے گا۔ کاغذ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہم نے پہلے ایک چھوٹا کاغذ (لیٹر ہیڈ سے لے کر موڑنا شروع کیا۔ وہ سات موڑ پر پہنچ کر رک گیا۔ پھر انگریزی اخبار کا بڑا کاغذ وہ بھی سات موڑ پر پہنچ کر رک گیا۔ دوسرے ریلوے افسر سرنگ نے کہا کہ ہر چیز کی ایک تکمیل حد (Saturating point) ہے ۔ اس حد تک پہنچنے کے بعد انسان آگے نہیں جا سکتا۔ فولڈنگ کی ایک حد ہے۔ اسی طرح ہر چیز کی ایک حد ہے۔

سولاپور کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کئی رائیں ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ یہ سولہ پور ہے۔ ہاں سولہ گاؤں تھے۔ ان سب کو ملا کر شہر بنایا گیا۔ اس طرح اس کا نام سولاپور ہو گیا۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ یہ ابتداً اشعلہ پور تھا۔ اس کے بعد وہ شولاپور بنا، اور پھر سولاپور ہو گیا۔

سولاپور میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ عبدالواحد عبدالغفور شیخ اور زاہد علی خاں وغیرہ سے مسلسل ربط رہا۔ جناب زاہد علی خاں صاحب (پیدائش ۱۹۴۱ء) نے ایک موقع پر بہت با معنی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ حکمت بھوک میں رکھی گئی ہے اور لوگ حکمت کو شکم سیری میں ڈھونڈ

قدیم زمانہ میں شولا پورمیں دیوگری یاد وکا راج تھا۔ پھر وہ مسلم بہمنی سلطنت کا جزو بنا۔ بعد اس پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ ۱۹۴۷ سے وہ تقسیم کے بعد بننے والے ملک (بھارت) کا ایک حصہ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان ایام کو ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (آل عمران ۱۴۰)

حکومتی اقتدار اس دنیا میں کسی ایک گروہ کی میراث نہیں ہے۔ یہ خدا کی سنت ابتلاء کے تحت بدلتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کبھی ایک گروہ کو سیاسی غلبہ دیتے ہیں اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ گروہ کو سیاسی اقتدار ملے تب بھی وہ اس کے لئے امتحان ہے اور کسی گروہ سے سیاسی اقتدار چھن جائے تب بھی وہ اس کے لئے امتحان۔ آدمی کو چاہئے کہ دونوں حالتوں میں وہ اپنی ذمہ داریوں پر دھیان نہ کہ اقتدار ملنے پر احساس برتری میں مبتلا ہو اور اقتدار چھینے تو احساس کمتری کا شکار

۱۱ نومبر ۱۹۹۱ء کی صبح کو میں سولاپور پہنچا۔ یہاں میرا قیام ڈاک بنگلے میں تھا۔ مقامی ساتھیوں سے کچھ دیر ملاقات کرنے کے بعد ہوٹل کنا رہ گیا۔ وہاں پریس کانفرنس ہوئی۔ ایک درجن سے زیادہ اخبارات کے ایڈیٹر اور نامہ نگار جمع ہو گئے۔ ان میں سے ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔

ابتدائی گفت گو کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک مراٹھی اخبار کے نمائندہ نے کہا کہ سب سے ضروری کام مذہبی نفرت کو ختم کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جس چیز کو مذہبی منافرت کہا جاتا ہے وہ حقیقتاً قومی منافرت کا دوسرا نام ہے۔ اس کو ہم ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ حسن تدبیر سے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ اور وہ حسن تدبیر رواداری (tolerance) اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

شولا پور کا ایک خصوصی پروگرام روٹری کلب کے زیر انتظام ہوا۔ روٹری کلب یا روٹری انٹرنیشنل ایک سروس کلب ہے۔ اس کو ۱۹۰۵ء میں شکاگو کے ایک اٹارنی مسٹر پال ہیرس (Paul P. Harris) نے قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ بزنس اور پروفیشن میں اعلیٰ اخلاقی معیار پیدا کیا جائے۔ اور تاجروں اور پروفیشنل لوگوں کے درمیان عالمی روابط قائم اس وقت ڈیڑھ سو ملکوں میں اس کے تقریباً سات لاکھ ممبر پائے جاتے ہیں۔ اس کا ہیڈ کوارٹر امریکہ کے شہر ایونسٹن (Evanston) میں ہے۔

روٹری کے موجودہ عالمی پریزیڈنٹ راجندر سبو (Rajendra K. Saboo) ہیں۔

روٹری نظریہ کے مطابق، روٹرین (Rotarian) سے ان کا کہنا ہے کہ اپنے آپ سے آگے دیکھو روٹری نیوز کے شمارہ اگست ۱۹۹۱ء میں ان کا پیغام چھپا ہے۔ (Look beyond yourself) اس کا خلاصہ اُن کے اِن الفاظ میں ہے —— اپنے کام کا نقشہ بناؤ اور اپنے نقشہ کو عمل میں لاؤ: Plan your work, work your plan. ۱۱ نومبر کو مجھے سو لاپور کے قمر النساء ویمنس اسکول میں جانا ہوا۔ وہاں کے ایک بڑے کمرہ میں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ سامنے کی دیوار پر دنیا کا ایک بڑا نقشہ بنایا گیا تھا۔ اس میں سوویت یونین کے اوپر لکھا ہوا تھا، متحدہ سوویت سوشلسٹ جمہوریت۔ میں نے کہا کہ برسوں پہلے جب یہ الفاظ لکھے گئے تھے اس وقت وہ مطابق واقعہ تھے مگر اب وہ خلاف واقعہ بن چکے ہیں۔ کیوں کہ اب سوویت یونین سوویت ڈس یونین میں تبدیل ہو چکا ہے۔

گویا یہ دیوار ابھی تک گزرے ہوئے دور میں جی رہی ہے۔ وہ زمانہ حاضر میں داخل نہیں ہوئی۔ یہی حال مسلم دانشوروں کا ہے۔ وہ زمانہ حاضر سے بے خبر ہیں۔ وہ صرف گزرے ہوئے ماضی کو جانتے ہیں اور اسی کو سوچ سوچ کر اس سے اپنے لئے فخر کی غذا لیتے ہیں۔

۱۱ نومبر کو ۳ بجے خواتین کا اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ویمنس کالج کے احاطہ میں ہوا۔ اپنی تقریر میں میں نے کہا کہ ہمارے یہاں پچاس سال سے سماجی لیڈر اٹھ رہے ہیں۔ مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کی سوچ تمام تر مبنی بر نظام (system-based) ہے۔ وہ ایک کے بعد ایک حکومت کو توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حکومت بدل جاتی ہے مگر سماج نہیں بدلتا۔

میں نے کہا کہ صحیح سوچ وہ ہے جو مبنی بر فرد (individual based) ہو۔ یعنی فرد کو اصلاح یافتہ بنانا۔ یہ کام سب سے زیادہ عورتوں کے کرنے کا ہے۔ کسی قوم کی نسل سب سے پہلے عورت کی تحویل میں آتی ہے۔ اگر عورت یہ فیصلہ کرلے کہ ہمیں قوم کے افراد میں کیریکٹر پیدا کرنا ہے تو ہر گھر اصلاح افراد کا کارخانہ بن جائے۔ اس طرح کے افراد جب سماج کا مجموعہ بنیں گے تو ان کے ذریعہ پورا سماج بہتر سماج بن جائے گا۔

11 نومبر کو نماز مغرب کے بعد جامع مسجد میں تقریر ہوئی۔ موضوع تھا، روشن مستقبل۔ میں نے ایک گھنٹہ کی تقریر میں بتایا کہ مسلمانوں کا مستقبل اس ملک میں دینی اعتبار سے بھی روشن ہے اور معاشی اعتبار دینی اعتبار سے اس لئے کہ اسلام غیر محرف مذہب ہونے کی بنا پر اپنے اندر تسخیری طاقت رکھتا اور معاشی اعتبار سے اس لئے کہ صنعتی انقلاب کے بعد معاشی ذرائع اتنے زیادہ بڑھ چکے ہیں کہ اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی آپ کو معاشی ترقی سے روک نہیں سکتی۔

11 نومبر کو عشاء کی نماز کے بعد ہوٹل پرتھم میں تقریر ہوئی ۔ اس کا عنوان تھا : اسلام اور سائنس یہ اجتماع روٹری کلب کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کی نشست ہوٹل کے خوب صورت لان میں ہوئی ۔ وسیع لان مکمل طور سے بھرا ہوا تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ایسا اجتماع یہاں کبھی نہیں دیکھا گیا ! میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان سائنس میں پچھڑ گئے ہیں۔ مگر اس کا تعلق اسلام سے اسلام تو جدید سائنس کا خالق ہے۔ پھر وہ اس کا مخالف کس طرح ہو سکتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر میں مختلف مثالوں سے اس کو واضح کیا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کے وقفہ میں ایک صاحب نے کہا کہ سائنس میں پچھڑ جانے کے بعد کیا مسلمان ترقی کر سکیں گے۔ میں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا : زندہ تو رہیں گے، مگر ترقی نہ کر سکیں گے۔

12 نومبر کو سولاپور کی مودی مسجد میں نماز ظہر کے بعد ایک تقریر تھی۔ اس کا عنوان تھا : اسلامی دعوت کے جدید امکانات۔ میں نے سادہ انداز میں بتایا کہ موجودہ زمانہ میں کس طرح دعوت کی اشاعت کے لئے موثر امکانات پیدا ہو گئے ہیں جن کو استعمال کر کے دین کو وسیع پیمانہ پر پھیلایا جا سکتا ہے۔

12 نومبر کی سہ پہر کو ایک سمپوزیم کا پروگرام تھا۔ اس کا اہتمام قومی یکتا کمیٹی کی طرف سے کیا گیا تھا۔

اجتماع دانی ہال میں کیا گیا۔ مختلف لوگوں نے تقریریں۔ میں نے اپنی تقریر میں بتایا رکھ ۲۰ سال پہلے نیشنل انٹیگریشن کونسل قائم ہوئی مگر وہ مکمل طور پر فیل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے سامنے کوئی واضح میتھڈالوجی نہیں۔ ایکتا کارازانیکتا کو گوار اکرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی ایکتا کی بنیاد انٹیگریشن نہیں ہے بلکہ ٹالریشن ہے۔

۱۲ نومبر کو نماز مغرب کے بعد ککہ مسجد میں تقریر ہوئی۔ اس کا عنوان تھا "داعی کی ذمہ داریاں" قرآن اور سنت رسول کی روشنی میں اس کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ داعی کو مدعو کا خیر خواہ ہونا چاہئے۔ جس کو قرآن میں ناصح کہا گیا ہے۔ اور داعی کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو امین سمجھے۔ وہ مدعو پر احسان کرنے والا نہیں ہے بلکہ وہ مدعو کی امانت ادا کرنے والا ہے۔ اسی کے ساتھ مدعو کے اندر صبر کی صفت ہونا چاہئے۔ تاکہ وہ مدعو کی زیادتیوں کو نظر انداز کر کے اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔ ۱۲ نومبر کو عشاء کے بعد سوشل ہائی اسکول میں تقریر یہ ہوئی۔ اس کا عنو ان تھا: اسلام میں تعلیم کی یہ تقریر زیادہ مفصل تھی۔ دور اول کی مثالوں سے میں نے بتایا کہ اسلام میں علم اور تعلیم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر دوسری مصلحت کو نظر انداز کر کے اس کو اختیار کرنا چاہئے۔ ۱۳ نومبر کی صبح کو سولاپور سے پونہ کے لئے واپسی ہوئی۔ راستے میں عزیز الحق صاحب کا ساتھ تھا۔ وہ ٹونک میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک درزی گھرانے سے تھا۔ ان کے بڑے بھائی پونہ میں ایک مسجد میں امام تھے۔ عزیز الحق صاحب سلائی، کٹائی کا کام سیکھنے کے بعد روزگار کی تلاش میں ۱۹۶۱ میں پونہ یہاں دو مہینہ تک کام کی تلاش میں پھرتے رہے۔ مگر کام نہ ملا۔ آخر کار انھوں نے ارادہ کیا کہ اپنے وطن ٹونک واپس چلے جائیں۔ مگر بڑے بھائی نے روکا اور کہا کہ چند دن اور کوشش کر لو۔ ایک روز وہ پونہ کے بازار میں نکلے۔ ایک جگہ ایک گجراتی ہندو کی ٹیلرنگ کی بڑی دکان تھی۔ وہ دکان میں داخل ہوئے "سیٹھ" سے کہا کہ ہم کو کام چاہئے۔ اس نے پوچھا، کیا تم سوٹ کی کٹنگ کا کام انھوں نے کہا ہاں۔ مگر اس وقت عزیز الحق صاحب کی عمر صرف ۱۸ سال تھی۔ سیٹھ کو یقین نہیں آیا کہ وہ اچھی کٹنگ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ان کو لینے میں اسے تامل ہوا۔ عزیز الحق صاحب نے سیٹھ سے کہا کہ آپ مجھ کو کوئی مال عارضی طور پر کہ لیں۔ اس کے بعد آپ جس سوٹ کی کٹنگ اور سلائی کا کام مجھے دیں اس کے کپڑے کی پوری قیمت ضمانت کے طور پر میری طرف سے رکھ لیں۔ اگر میرا تیار کیا ہوا سوٹ آپ کو

اور گاہک کو پسند نہ آئے تو ضمانت کی رقم آپ کی اور سوٹ میرا۔

اگلے دن عزیز الحق صاحب پانچ سو روپیہ لے کر دوبارہ مذکورہ ٹیلرنگ ہاؤس میں پہنچے اور سیٹھ کو روپیہ پیش کیا۔ مگر سیٹھ نے روپیہ نہیں لیا۔ اس نے کہا کہ پیسے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تم کام شروع عزیز الحق صاحب کا پر اعتماد انداز ان کی ظاہری کمی کی تلافی بن گیا۔ محمد عمر (۲۳ سال)، ہمارے ڈرائیور تھے۔ وہ سولاپور کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ چار سال سے گاڑی چلا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کبھی ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پھر میں نے پوچھا کہ سڑک پر ایکسیڈنٹ نہ ہونے کی تدبیر کیا ہے۔ انھوں نے کہا: آگے کو دیکھتے رہنا اور گاڑی پر کنٹرول رکھنا۔ یہی وسیع تر معنوں میں سفر حیات کی کامیابی کا راز ہے۔ ۱۳ نومبر اس سفر کا آخری دن تھا۔ مغرب کی نماز نیو ایر اکالونی (پونہ) کی مسجد میں پڑھی۔ یہ پونہ کی ایک کھلی ہوئی صاف ستھری کالونی ہے۔ یہاں ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ مغرب سے پہلے حاجی یونس آدم صاحب کی رہائش گاہ پر کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ یہاں تذکیری انداز میں کچھ باتیں عرض کی گئیں۔ صاحب نے پوچھا کہ انڈیا میں مسلمانوں کی انتخابی سیاست کیا ہونا چاہئے ۔ میں نے کہا کہ تقريباً بيس سال سے میں یہ کہتا رہا ہوں کہ اس معاملہ میں ملکی سطح پر مسلمانوں کی کوئی واحد سیاسی پالیسی ہونا ان کے لئے مفید نہیں ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مقامی حالات کے اعتبار سے اپنی پالیسی بنائیں اور مقامی اعتبار سے جو نمائندہ انھیں اپنے لئے موزوں اور مفید نظر آئے اس کو ووٹ دیں۔

اس کے بعد میں نے دو حدیثوں کی روشنی میں ایک تذکیری درس دیا۔

لكل أمة فتنة وفتنة أمتى المال - دوسری حديث : كل محدث بدعة وكل بدعة

۱۴ نومبر کی شام کو واپسی ہوئی ۔ پونہ سے دہلی کا سفر انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۵۰ ہم کے ذریعہ طے ایئر پورٹ پر میں جہاز کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ سامنے کی دیوار پر ٹیلیفون لگا ہوا دکھائی دے رہا میرے پاس کی سیٹ سے ایک صاحب اٹھے۔ وہ چلتے ہوئے ٹیلیفون تک پہنچے۔ اس کو ڈائل کر کے اس کے اندر ایک روپیہ کا سکہ ڈالا اور پھر خاص انداز میں کھڑے ہو کر بات کرنے لگے۔ ان کی حرکت سے فاتحانہ تبختر کا انداز جھلک رہا تھا۔ ان کی ہیئت بظاہر یہ کہہ رہی تھی ۔ میری جیب میں پیسے ہے،

میں ٹیلی فون کر سکتا ہوں۔

موجودہ زمانہ میں جو چیز سب سے زیادہ اٹھ گئی ہے وہ شکر ہے۔ صنعتی انفجار کے بعد چاہئے تھا کہ انسان ہمیشہ سے زیادہ شکر کرنے والا بن جائے ، مگر اس کے بعد وہ ہمیشہ سے زیادہ ناشکری کرنے والا بن گیا۔

دوران پرواز کھانے کی سروس شروع ہوئی تو ایئر ہوسٹس نے پوچھا۔ ویجیٹیریان یا نان میری زبان سے نکلی گیا نان ویجیٹیریان۔ جب کھانا سامنے آیا اس وقت مجھے اپنی غلطی کا سالن کی پلیٹ فوراً ہٹادی اور روٹی اور کھیر کھانے پر اکتفا کیا۔ اختیار کے دائرہ میں بھی انسان کتنا زیادہ بے اختیار ہے۔

”تھوڑی دیر میں ہم دہلی کے ہوائی اڈہ پر اترنے والے ہیں۔ اناونسر کی آواز کان میں آئی۔ میں نے سوچا کہ اب میں پونہ سے دور اور دہلی سے قریب ہوں۔ پھر اس حقیقت کی طرف دھیان گیا کہ اب میری عمر ۶۷ سال ہو چکی ہے۔ خیال آیا کہ میں بھی زندگی سے دور اور موت سے قریب پہنچ چکا ہوں۔ دنیا میرے پیچھے ہے اور آخرت میرے آگے ۔ انسانوں کے درمیان کچھ دن گزار کر اب میں وہاں پہنچنے والا ہوں جہاں میرا سامنا رب العالمین سے ہوگا۔

دل سے یہ دعا نکل کہ خدا یا ، جس طرح تو نے موجودہ منزل تک حفاظت کے ساتھ پہنچایا ہے اسی طرح اگلی منزل تک بھی حفاظت کے ساتھ پہنچا دے ۔ دنیا سے آخرت تک میرے ساتھ خیریت کا

واپسی کے بعد شو لاپور سے جناب زاہد علی خاں صاحب کا خط ملا ہے۔ وہ لکھتے ہیں، شو لاپور میں آپ کے پروگرام کی رپورٹ مہشتی میں مقامی اخبارات کو دے دی ہے۔ آپ سے شو لاپور میں مختصر سی ملاقات ایک حقیقی خواب کی تعبیر دے گئی۔ واقعہ یہ ہے کہ سنجیدہ مشن ہی پیغمبرانہ مشن کی صحیح اتباع اللہ اور رسول کی مرضی حاصل کرنے کی کوشش پر چاہے کتنی ہی سخت مخالفت ہو ہر مومن کو آپ کا ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ دینا چاہئے۔ اللہ تاعلیٰ سے دعاگو ہوں کہ آپ کو الرسالہ مشن کے سفر کی عالی ترین کامیابیاں صحت کاملہ کے ساتھ نصیب کرتا رہے۔ آمین ثم آمین۔ شو لا پور کے پروگرام کو کامیاب بنانے میں جن لوگوں کا تعاون حاصل ہوا ان میں حسب ذیل حضرات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

شری بالا صاحب جادھو ، شری موہن پسنور ، شری کے سی مڈے، شری شانتی لال ہندا ، شری رمیش اگروال ، وغیرہ۔

ڈاکٹر رمیش ایشور داس اگروال (سکریٹری روٹری کلب ، سولاپور) کی طرف سے ایک خط مورخہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ موصول ہوا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے :

Printed page