Al-Risala · January 1993

برداشت کی ضرورت

Al-Risala, January 1993, pp. 41–43

By Maulana Wahiduddin Khan

سماج میں مختلف سطحوں پر فرق اور اختلاف کا ہونا بالکل لازمی ہے۔ آپ سماج کے اوپر یکسانیت کا بلڈوزر نہیں چلا سکتے۔ روسی ڈکٹیٹر اسٹالن نے اپنے ملک میں بے طبقاتی سماج (Classless society) قائم کرنے کے لیے ۲۵ ملین انسانوں کو نہیں ڈالا۔ پھر بھی وہ بے طبقاتی سماج بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ پھر آپ اس ناممکن کام کو کس طرح ممکن بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کا قابلِ عمل حل صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر تحمل کا مزاج اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ انھیں اختلاف میں اتحاد (Unity in diversity) کا سبق دیا جائے، قومی اتحاد ہم کو اختلاف کے باوجود قائم کرنا ہے کہ اختلاف کے بغیر۔ کیونکہ وہ ممکن ہی نہیں۔ قوم کے افراد کے اندر تحمل کا مطلوبہ مزاج پیدا کرنے کے لیے ہمیں وہی عمل کرنا ہے جس کو فبین

سوسائٹی نے نفوذ کرنے (Permeation) سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی شعور کو بدلنے کی ہم جاری کر کے لوگوں کے ذہنوں میں گھسنا اور ان کو اندر سے اس طرح بدل دینا کہ ان کے سوچنے کا ڈھنگ وہ ہو جائے جو کہ دراصل ہونا چاہیے۔

قومی اتحاد اور قومی یک جہتی کا لفظ تو اس ملک میں پچھلی نصف صدی سے بولا جا رہا ہے، مگر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوئی حقیقی کام مطلق نہیں کیا گیا۔ یہ یقینی ہے کہ کانفرنس کرنا، یا پلے کارڈ لے کر سڑکوں پر مارچ کرنا وہ کام نہیں جس سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہو۔ اس کام کے لیے شعور کی تربیت کی ایک طویل اور مسلسل مہم درکار ہے، مگر قومی اتحاد کا نعرہ لگانے والوں میں سے کوئی بھی اب تک اپنے آپ کو اس کام کے لیے فارغ نہ کر سکا۔

مثال کے طور پر صحافت اس ذہنی انقلاب کو لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ آج ہمارے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں اخبار اور رسالے نکل رہے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی ایک بھی اخبار یا رسالہ نہیں جو اس مقصد کے لیے وقف ہو۔ ہمارے تمام اخبار حقیقتاً سیاسی اخبار ہیں۔ اس کے بعد جو ہفت روزہ، پندرہ روزہ یا ماہنامہ ہیں وہ سنسنی خیز مضامین چھاپ کر سستی تجارت کرنے کے سوا کچھ اور شعور سازی کے اداروں کا جب یہ حال ہو تو وقتی اپیل جاری کرنے سے کیا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

راقم الحروف پچھلے ۳۰ سال سے اپنے آپ کو تعمیری صحافت کو وجود میں لانے کے لیے وقف کیے ہوئے ہے۔ ماہنامہ الرسالہ (اُردو اور انگریزی میں) ملک کا واحد ماہنامہ ہے جو تعمیرِ شعور کا کام کر رہا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ کام اس سے زیادہ بڑا ہے کہ ایک یا دو ماہنامہ اس کو انجام دے سکے۔ رہنماؤں کی ذمہ داری حقیقت یہ ہے کہ عوام کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے عوام کے رہنماؤں کو بدلنا ہے۔ قوم کے جو لکھنے اور بولنے والے ہیں، جن کو سن کر اور پڑھ کر لوگ اپنی رائیں بناتے ہیں، ان کی ایک فی صد تعداد بھی اگر اس قربانی پر آمادہ ہو جائے جو پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے درمیان انگلینڈ کے فبیین لوگوں نے دی تھی تو یقینی طور پر ہمارے ملک کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ یہ لوگ یہ طے کر لیں کہ دستی شہرت اور سستی تجارت کے راستہ کو چھوڑ کر خاموش تعمیری کام میں

اپنے آپ کو وقف کریں گے ۔ وہ قوم کے اندر مثبت ذہین اور تعمیری مزاج بنانے میں اپنے زبان و قلم کی ساری طاقت خرچ کر دیں گے ۔ اور اس کام کو مسلسل جاری رکھیں گے ، یہاں تک کہ اسی پر ان کی موت آ جائے ۔ اگر ہماری قوم کے ذہن طبقہ کا ایک فی صد حصہ بھی یہ عزم کر لے تو مجھے یقین ہے کہ اس کا عزم ہمارے ملک کی تاریخ کو بدل سکتا ہے ۔

پنڈت موتی لال نو سے کسی نے ایک بار پوچھا کہ جس آزادی کے لیے آپ کوشش کر رہے ہیں ، وہ آزادی کب آئے گی ۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں آزادی کا وقت تو نہیں جانتا ، مگر میں یہ جانتا ہوں کہ اگر میں نے اس راہ میں اپنی جان دے دی تو میری لاش پر آزادی کا محل تعمیر ہو کر رہے گا ۔ میں کہوں گا کہ ہمارے ملک کا دانشور طبقہ اگر تربیتِ شعور (Consciousness raising) کی مہم میں اپنے کو فن کرنے کا عزم کر لے تو ہو سکتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے کچھ نہ پا سکے ، مگر یہ یقینی ہے کہ اس کی قربانی قوم کو نئی زندگی دینے کا سبب بن جائے گی ۔

Printed page