Al-Risala · September 1993

اخد بلادهم

Al-Risala, September 1993, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مسلمان اگر مٹی پا کر غصہ ہوتے تو ان کے حصہ میں نفرت اور شکایت کے سوا کچھ نہ آتا۔ وہ غصہ نہیں ہوئے تو مٹی دینے کا واقعہ ان کے لئے ملک دینے کے ہم معنی بن گیا۔ ناخوشگوار واقعہ سے بھی انھوں نے اپنے لئے یقین اور حوصلہ کی غذا حاصل کرلی۔ یہی موجودہ دنیا میں ترقی اور کامیابی کا راز ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر شخص اور ہر گروہ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس آزادی نے موجودہ دنیا کو مقابلہ (Competition) کی دنیا بنا دیا ہے۔ یہاں ہر آدمی دوسرے آدمی کی کاٹ میں ہے۔ ہر گروہ دوسرے گروہ کو دھکیل کر آگے بڑھ جانا

ایسی حالت میں ایک صورت یہ ہے کہ آدمی غصہ اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو۔ نفسیات میں جلتا رہے۔ ایسے آدمی کا ذہن ہمیشہ منتشر رہے گا۔ وہ کبھی گہری منصو بندی نہ کر سکے گا۔ ایسے آدمی کے لئے موجودہ دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچائے۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہو۔ ایسے آدمی کا ذہن ہمیشہ اعتدال کی حالت میں رہے گا۔ وہ اپنے منفی اور مثبت پہلوؤں کو کسی کمی بیشی کے بغیر جان لے گا۔ اس کے لئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ تمام حقیقتوں کو نگاہ میں رکھے اور حالات کے عین مطابق منصوبہ بہ بندی کرے۔ ایسے شخص کے لئے کامیابی اتنی ہی یقینی ہے جتنی رات کے بعد سورج کا نکلنا۔

جو شخص اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچائے اس کی سوچ نہایت اعلیٰ سوچ بن جاتی ہے۔ اس کی نظر ہمیشہ امکانات پر ہوتی ہے۔ وہ مٹی کی ٹوکری میں پورے ملک کی تصویر دیکھ لیتا ہے۔ حوصلہ شکنی کے واقعات اس کے ذہنی خانہ میں داخل ہو کر حوصلہ مندی کے واقعات بن جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو شکست کو فتح میں تبدیل کرتے ہیں۔ وہ ناکامی میں کامیابی کا راز دریافت کر لیتے ہیں۔

Printed page