چھوٹا کام
Al-Risala, January 1993, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیر قوم کا کام تعمیر ذہن سے شروع ہوتا ہے ، یہ ایک نہایت واضح بات ہے ۔ یہ اتنی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہیں ہو سکتا ۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ آج کوئی شخص نہیں جو اس اہم ترین کام میں اپنے آپ کو مصروف کیے ہوئے ہو ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے کام جن میں لوگ مصروف ہیں ، وہ کہنے اور سننے میں بڑے کام معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ فوراً اخبار میں چھپتے ہیں ۔ ان کے ذریعہ صبح و شام میں آدمی کو شہرت و مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے ۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر تمام حوصلہ مند افراد جوق در جوق ان کاموں کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں ۔ اور تعمیر شعور کا میدان بالکل خالی پڑا ہوا ہے ۔
تعمیر شعور کا کام بظاہر ہر ایک چھوٹا کام معلوم ہوتا ہے ۔ وہ اخباروں میں نمایاں نہیں ہوتا ۔ اس کے نام پر بھیڑ جمع نہیں ہوتی ۔ اس کی اپیل پر بڑے بڑے چندے نہیں ملتے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کام کی اہمیت و جانتے ہوئے بھی اس کی طرف راغب نہیں ہوتے ۔
اگر قوم کے اندر چند ایسے افراد پیدا ہو جائیں جو اعلیٰ صلاحیت رکھتے ہوں ، اور اسی کے ساتھ وہ اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ چھوٹے کام کو بڑا کام سمجھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو اس کے فوراً بعد
ملک و قوم کے مستقبل کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا، اور جب ایک صحیح کام شروع ہو جائے تو وہ لازماً اپنی منزل پہنچ کر رہتا ہے۔ راستہ کی کوئی بھی چیز اس کو روکنے والی نہیں۔ احتساب غیر، احتساب خویش آج ہمارے تمام اخبارات اور تمام جلسے، خواہ وہ ہندوؤں کے ہوں یا مسلمانوں کے، سیاسی باتوں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے لوگوں کو سیاسی موضوعات کے سوا کسی اور موضوع کچھ کہنا آتا ہی نہیں۔
یہ صورتِ حال دراصل خود لکھنے اور بولنے والوں کی اپنی کمزوری پر مبنی ہے۔ سیاست کے موضوع پر پر کلام کرنا گویا دوسروں کے خلاف کلام کرنا ہے، اور تعمیر کے موضوع پر کلام کرنا خود اپنے خلاف کلام کرنا۔ سیاسی موضوعات میں خارجی پارٹیاں، خارجی شخصیتیں، خارجی واقعات زیرِ بحث آتے ہیں۔ برعکس تعمیری موضوعات میں داخلی مسائل اور اندرونی کمزوریاں زیرِ بحث لائی جاتی ہیں۔ سیاسی موضوع پر پر بولنا دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے، تعمیری موضوع پر بولنا اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرانا۔ ایک لفظ میں، سیاست دوسروں کا احتساب ہے اور تعمیر خود اپنا احتساب۔ اور یہ معلوم بات ہے کہ دوسروں کا احتساب آدمی کے لیے سب سے زیادہ محبوب چیز ہے اور اپنا احتساب آدمی کے لیے سب سے زیادہ
لیکن اگر ملک کو ترقی کی طرف لے جانا ہے تو ہمارے لکھنے اور بولنے والوں کو لازماً یہی مبغوض کام کرنا پڑے گا۔ اس کے سوا مستقبل کی تعمیر کی کوئی اور صورت ممکن نہیں۔