Al-Risala · September 1993

ایک باپ

Al-Risala, September 1993, pp. 4–11

By Maulana Wahiduddin Khan

اموی خلیفہ مروان ابن الحکم نے اپنے بعد علی الترتیب عبد الملک اور اس کے بعد اپنے بھائی عبدالعزیز کو خلافت کے لئے نامزد کیا تھا۔ مروان کے بعد عبد الملک حکمراں ہوا تو اس کی نیت بگڑ گئی جلد ہی بعد عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا ۔ اب عبد الملک کو موقع مل گیا۔ اس نے ولید اور سلیمان کی ولی عہدی پر بیعت لینے کے لئے صوبوں کے حاکموں کے نام فرمان جاری کر دئے۔ اسماعیل مدینہ کا حاکم تھا۔ سعید بن المسیب (۹۳-۹ھ) جو سید التابعین کہے جاتے ہیں ، اس وقت مدینہ میں ہشام نے چاہا کہ سب سے پہلے حضرت سعید بن المسیب سے بیعت لے۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر انھوں نے بیعت کر لی تو اس کے بعد تمام اہل مدینہ بیعت کر لیں گے۔

سعید بن المسیب نے بیعت سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک خلیفہ کی زندگی میں دوسرے خلیفہ کے لئے بیعت نہیں کر سکتا۔ ہشام کے حکم سے سعید بن المسیب کو کوڑے مارے گئے اور سخت سزائیں چند دن کے بعد ہشام نے ابو بکر بن عبد الرحمن کو ان سے بات کرنے کے لئے بھیجا۔ بعد ہشام نے پوچھا : کیا سعید مار کے بعد کچھ نرم پڑے۔ ابو بکر بن عبد الرحمن نے جواب دیا : تمہارے اس سلوک کے بعد خدا کی قسم وہ پہلے سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں۔ بہتر ہے کہ تم اپنا ہاتھ روک لو۔ خلیفہ عبد الملک کو معلوم ہوا تو اب اس نے دوسری تدبیر سوچی۔ سعید بن المسیب کی ایک لڑکی تھی جو صورت اور سیرت دونوں میں ممتاز تھی۔ اسی کے ساتھ اس نے وقت کے مطابق ، اعلیٰ تعلیم حاصل عبد الملک نے سوچا کہ ولی عہد سے اس لڑکی کا نکاح کر دیا جائے۔ اس کے بعد لڑکی کے باپ سعید بن المسیب اپنے آپ نرم پڑ جائیں گے۔ خلیفہ نے امیر مدینہ ہشام بن اسماعیل المخزومی کے ذریعہ کام سپرد کیا کہ وہ سعید بن المسیب کو اس رشتہ کے لئے راضی کرے۔

ہشام نے خلیفہ کے حکم کی تعمیل میں سعید بن المسیب سے ملاقات کی ۔ پہلے ادھر اُدھر کی باتیں کیں ، اس کے بعد کہا : جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ، عبد الملک بن مروان نے اپنے بیٹے ولید کی آئندہ خلافت کے لئے لوگوں سے بیعت لینے کا ارادہ کیا ہے ، بیعت لینے سے پہلے ، امیر المومنین یہ چاہتے ہیں کہ آپ ولید کو اپنی دامادی میں لے لیں۔ یہ سنتے ہی سعید بن المسیب کے چہرہ پر غصہ کے آثار ظاہر ہو گئے۔

نے کہا: مجھے ان دونوں میں سے کوئی چیز بھی منظور نہیں۔

اس انکار کے بعد سعید بن المسیب کو دوبارہ مختلف قسم کی سختیاں جھیلنی پڑیں۔ ان پر طرح طرح سے دباؤ ڈالے گئے۔ مگر وہ برابر اپنے انکار پر قائم رہے۔ اس کے ساتھ وہ خاموشی سے یہ سوچتے رہے کہ کوئی مناسب رشتہ سامنے آئے تو لڑکی کا عقد کر دیا جائے۔ آخر کار انھوں نے قریش کے ایک غیر معروف طالب علم ابووداعہ کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا۔ مورخ ابن خلکان (۶۸۱ - ۷۰۸ء) نے ابووداعہ کے الفاظ میں یہ واقعہ مکمل طور پر نقل کیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:۔ ابووداعہ کہتے ہیں : میں سعید بن المسیب کے حلقہ درس میں نہایت پابندی سے بیٹھا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ کچھ مدت تک حاضر نہ ہو سکا۔ اس کے بعد جب گیا تو انھوں نے پوچھا، اتنے دنوں تم کہاں تھے۔ میں نے جواب دیا کہ میری بیوی کا انتقال ہو گیا تھا اس وجہ سے حاضر نہ ہو سکا۔ انھوں نے کہا ، پھر ہمیں تم نے کیوں نہ خبر کی ، ہم بھی اس کی تجہیز و تکفین میں شریک ہوتے۔

اس کے بعد جب میں اٹھنے لگا تو انھوں نے کہا ، تم نے دوسری بیوی کا کوئی انتظام کیا۔ میں نے کہا خدا آپ پر رحم فرمائے۔ کون میرے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرے گا جب کہ میں چند درہم سے زیادہ کی حیثیت کا آدمی نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا، اگر میں کروں تو تم کرنے کے لئے تیار ہو۔ میں نے کہا بہت اس سے بہتر کیا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور اسی وقت دو یا تین در ہم پر میرے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح پڑھا دیا۔ ابو وداعہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں وہاں سے اٹھا اور میری خوشی کا یہ عالم تھا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں۔ میں اپنے مکان پر پہنچا اور اس فکر میں پڑ گیا کہ اب رخصتی وغیرہ کے لئے قرض کہاں سے حاصل کروں۔ میں نے مغرب کی نماز پڑھی اور اس دن میں روزہ سے تھا۔ نماز کے بعد میں نے چاہا کہ کھانا کھاؤں جو کہ روٹی تھا اور زیتون کا تیل۔ اتنے میں دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ نے پوچھا کون ہے ؟ آواز آئی "سعید" میں نے سعید بن مسیب کو چھوڑ کر اس نام کے شخص کا تصور کیا۔ کیوں کہ سعید بن مسیب تو چالیس برس سے اپنے گھر اور مسجد کے علاوہ کہیں دیکھے نہیں گئے تھے ۔ اٹھ کر دروازہ کھولا تو وہاں سعید بن مسیب کھڑے تھے۔ ان کو دیکھ کر میرا خیال ہوا کہ شاید ان کا خیال بدل گیا ہے اور وہ فسخ نکاح کرانے آئے ہیں۔

میں نے کہا "اے ابو محمد ، آپ نے کیوں زحمت فرمائی۔ مجھے بلا بھیجا ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، اس وقت مجھ کو ہی تمہارے پاس آنے کی ضرورت تھی۔ میں نے کہا، پھر کیا حکم ہے؟ انھوں نے کہا، مجھے خیال آیا کہ تم اپنے گھر میں تنہا ہو گے ، حالاں کہ اب تو تمہاری شادی ہو چکی ہے۔ مجھے گوارا نہیں ہوا کہ تم تنہارات بسر کرو ، اور یہ ہے تمہاری بیوی"۔ اس وقت ابن مسیب کی صاحبزادی ٹھیک ان کے پیچھے کھڑی تھیں۔ انھوں نے صاحبزادی کو دروازہ کے اندر کر کے باہر سے خود ہی دروازہ بند کر دیا اور واپس چلے گئے۔ میری بیوی شرم کے مارے گڑپڑی ، پھر میں نے اندر سے دروازہ بند کیا اور اس کے بعد چھت پر چڑھ کر پڑوسیوں کو آواز دی ۔ وہ لوگ جمع ہوئے اور پوچھا قصہ کیا ہے۔ میں نے کہا، سعید بن مسیب نے آج اپنی لڑکی کا عقد میرے ساتھ کر دیا ۔ اور آج ہی اچانک وہ اسے میرے گھر بھی پہنچاگئے ۔ اور وہ یہاں گھر میں موجود ہے۔ لوگوں نے آکر اسے دیکھا اور میری ماں کو خبر ہوئی تو وہ بھی آگئیں اور انھوں نے کہا، اس کو چھونا تمہارے لئے حرام ہے جب تک میں حسب دستور تین دن تک اسے بناسنوار نہ لوں ۔ چنانچہ میں تین دن تک رکارہا ۔ اس کے بعد اس کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایک حسین و جمیل خاتون کتاب اللہ کی حافظ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عالم ہے۔ اور حقوق شوہری کو خوب پہچانے

أبو وداعہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد ایک ماہ تک میں گھر ہی پر رہا۔ اس دوران میں سعید بن مسیب کا نہ کوئی حال ملا اور نہ ان سے ملاقات ہوئی۔ پھر ایک مہینہ کے بعد میں ان کی صحبت میں حاضر ہوا۔ اس وقت وہاں مجلس قائم تھی ۔ میں نے سلام کیا ۔ انھوں نے سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد کوئی بات چیت نہ کی۔ یہاں تک کہ جو لوگ مسجد میں تھے سب چلے گئے ۔ اس کے بعد جب میرے سوا کوئی وہاں نہیں رہ گیا تو انھوں نے پوچھا ۔ تمہارے ساتھی کا کیا حال ہے۔ میں نے کہا، بہترین حال ہے۔ انھوں نے فرمایا : ان لربك شئ فالعصا یعنی وہ کوئی ناپسندیدہ حرکت کرے تو اس کو مارو۔

پھر میں اپنے گھر لوٹ آیا ۔ اور یہ سعید بن مسیب کی لڑکی وہ تھی جس کے لئے خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اپنے لڑکے ولید کا پیغام دیا تھا جب اس نے اس کو ولی عہد بنایا تھا، تو سعید بن مسیب نے شہزادہ ولید سے رشتہ کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے عبد الملک سعید بن مسیب کے پیچھے پڑ گیا ۔ یہاں تک کہ سخت سردی کے دن میں انھیں کوڑے سے پیٹا گیا اور اوپر سے ٹھنڈا پانی ڈالا گیا ۔

Printed page