مسلم حج
Al-Risala, September 1993, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
قاضی شریک بن عبید اللہ بن الحارث النخعی مشہور عالم اور فقیہ ہیں۔ وہ بخاری میں ۹۵ھ (۶۱۳ء) میں پیدا ہوئے۔ کوفہ میں ۱۷۷ ھ (۸۹۴) میں ان کی وفات ہوئی۔ خلافت عباسی کے زمانہ میں ۱۵۳ھ میں وہ کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔
قاضی شریک کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک عورت ان کے پاس یہ شکایت لے کر آئی کہ کوفہ کے حاکم موسیٰ بن عیسیٰ (خلیفہ مہدی کے چچا) کے ہاتھ جب وہ اپنا باغ فروخت کرنے پر راضی نہیں ہوئی تو انھوں نےاپنے غلاموں کو حکم دیا اور انھوں نے باغ کے حدود اور نشانات مٹا دیے اور اس کو امیر موسیٰ کے باغ میں ملا دیا۔
قاضی شریک نے امیر موسیٰ کے یہاں کہلوایا کہ وہ عدالت میں عورت کے ساتھ حاضر ہوں۔ امیر نے کوفہ کے پولیس افسر کو قاضی کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے گزارش کریں کہ وہ اس معاملہ میں دخل دینے سے باز رہیں۔ قاضی نے پولیس افسر کو پکڑ کر قید کر دیا۔ جب امیر موسیٰ کو اس کی خبر ہوئی تو انھوں نے بعض درمیانی افراد کو بھیجا۔ انھوں نے قاضی کو ان کے اس فعل پر ملامت کی۔ قاضی شریک نے ان لوگوں سے کہا کہ امیر نے کیوں اپنے آپ کو عدالت کی حاضری سے کیا عدالت صرف عوام کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہے۔ عدالت بلاشبہ بڑے اور چھوٹے کے درمیان فرق نہیں کرے گی۔ اور تم نے عدالت کے معاملہ میں مداخلت کی ہے۔ ضروری ہے کہ تم کو اس کی سزادی جائے۔ پھر قاضی نے ان لوگوں کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔ کے بعد امیر موسیٰ اپنے محافظ سواروں کے ساتھ قید خانے گئے اور قیدیوں کو بزور اس سے نکال دیا۔ اس کے بعد قاضی شریک سفر کر کے بغداد گئے۔ تاکہ خلیفہ مہدی سے ملیں اور اس سے یہ کہیں کہ وہ ان کو قضاء کے عہدہ سے الگ کر دے۔ انھوں نے خلیفہ سے کہا: خدا کی قسم، میں نے بنو عباس سے قاضی کا عہدہ نہیں مانگا تھا، خود انہیں بنے مجھ کو یہ عہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا، اور انھوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم با اختیار اور آزاد ہوں گے۔ اگر ہم کو قاضی بنایا گیا تو ہم اپنے فیصلے پوری طرح عدل کے مطابق کریں گے۔ مگر اب قاضی کے عہدہ پر باقی رہنے کی کوئی صورت
نہیں ہے جب کہ ہم دیانت دارانہ فیصلہ کرنے میں بے بس ہیں۔
پھر امیر موسیٰ نے قاضی سے ملاقات کی اور ان سے مہربانی کی درخواست کی۔ نے کہا کہ میرے نزدیک اس کا حل صرف یہ ہے کہ وہ تمام لوگ دوبارہ قید خانہ میں لوٹائے جائیں جن کو قید کیے جانے کا میں نے حکم دیا تھا۔ چنانچہ امیر موسیٰ نے مجبور ہو کر تمام لوگوں کو دوبارہ قید خانہ میں واپس کیا۔ اور خود عورت کے ساتھ عدالت میں حاضر ہوئے۔ پھر قاضی شریک نے یہ فیصلہ دیا کہ امیر عورت کے باغ کو اسے لوٹائے اور جو حدود اور نشانات ڈھا دیے گئے تھے ان کو دوبارہ قائم کرے چنانچہ اس حکم کا نفاذ کیا گیا :
روی ان القاضی (شريك بن عبد الله) قد شكت اليه امرأة من انها عند ما امتنعت عن بيع بستانها للأمير موسی بن عیسیٰ عم امير المومنین المهدی ا من غلمانه فأزالا حدود بستانها ومعالمه وتخلطو ببستانه ، فارسل يستدعى الامير للحضور في مجلس القضاء مع المرأة - فارسل الامير رئيس الشرطة بالكوفة ليطلب منه العدول عن هذا فحبس رئيس الشرطة ، ولما علم الامير بذلك بعث بعض الوسطاء يعتبون على القاضی فقال لهم (شريك) لماذا ترفع الامير عن الحضور إلى مجلس الحكم؟ هل نصب القضاء للفصل بين العامة فحسب ، ان العدالة لا تفرق بين امير و صغير، وانتم بتداخلكم في امر القضاء لا بد ان يحل بكم جزاء ، ثم امر بحبسهم فذهب الامير فی رکب من حراسه إلى السجن واخرج المسجونين عنوة قاعد القاضی نفسه للسفر الى بغداد للقاء الخليفة المهدي ليطلب اعفاءه من القضاء قائلا : (والله ما طلبت من بني العباس ولاية القضاء ، وانما هم الذين اكرهونا عليها ۔ وعدونا ان نكون اعزة احراراً نتوخى العدل في احكامنا ان تولينا القضاء ۔ فلا سبيل الى البقاء في مجلس الحكم مادمنا عاجزين عن اداء الامانة) فلحق به الامير واخذ يستعطفه فقال : الحل عندى ان يرد الى السجن جميع من امرت بسجنهم فاضطر الامير الى اعادتهم الى السجن والى حضور مجلس القضاء مع المرأة،