Al-Risala · September 1993

اختلاف کے باوجود

Al-Risala, September 1993, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

اموی خاندان کے ایک نوجوان عبد الرحمن نے ۷۵۶ء میں اسپین میں بنوامیہ کی سلطنت کی بنیاد رکھی، اس کا دار السلطنت قرطبہ تھا۔ اسی خاندان میں ایک سلطان الحکم گزرا ہے۔ نے ۹۶۱ء سے لے کر ۹۷۶ء تک اسپین میں حکومت کی۔

الحکم کو مسلم اسپین کا سب سے بڑا حکمراں کہا جاتا ہے۔ مورخ ابن اثیر نے اس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں : کَانَ مُحِبًّا لأهل الْعِلْمِ ، عَالِمًا ، فقيها في المذاهب، ، عَالِمًا بالانساب والتواریخ ، جَمَّاعًا لِلْکُتُبِ وَالْعُلَمَاءِ (وہ اہل علم کو دوست رکھتا تھا۔ اور فقیہ تھا۔ انساب اور تاریخ کا ماہر تھا۔ کتابوں اور علماء کو اپنے پاس جمع رکھتا تھا) الکامل فی التاریخ ۶۶۶/۸ الحکم کی علم پسندی نے اس کو اہل علم کا بے حد قدرداں بنا دیا تھا۔ وہ اہل علم کو نہایت عزت اور احترام کا درجہ دیتا تھا۔ حتیٰ کہ ایک عالم اگر اس کی ذات پر تنقید کرے یا اس کی مرضی کا لحاظ نہ کرے تب بھی اس کی قدردانی میں کمی نہیں آتی تھی۔ اپنے تمام تر جاہ و جلال کے باوجود وہ اہل علم کے آگے جھک جاتا تھا۔ اس کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے : الحکم کے زمانہ میں ایک عالم تھے جن کا نام ابو ابراہیم تھا۔ ایک روز وہ قرطبہ کی مسجد ابو عثمان میں وعظ بیان کر رہے تھے۔ عین اس وقت سلطان کا ایک قاصد مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے کہا کہ اے ابو ابراہیم، امیر المومنین باہر آپ کے انتظار میں ہیں۔ اور آپ کو اسی وقت بلا رہے ہیں۔ ابو ابراہیم نے بے پروائی کے ساتھ اس شخص کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تم جا کر امیر المومنین سے کہہ دو کہ ابو ابراہیم اس وقت اللہ کے کام میں مصروف ہے۔ وہ جب تک اس کام سے فارغ نہ ہو جائے، آپ کے پاس نہیں آسکتا۔

الحکم کے قاصد کو یہ جواب سن کر حیرانی ہوئی۔ وہ سلطان کی طرف واپس گیا اور ڈرتے ڈرتے اس کو ابو ابراہیم کا جواب سنایا۔ قاصد کی توقع کے خلاف ، الحکم نے اس کا کوئی بُرا اثر نہیں لیا۔ اور کسی خفگی کے بغیر کہا کہ تم جا کر ابو ابراہیم سے میرا یہ پیغام کہہ دو کہ ان کی اس

بات کو سن کر مجھے خوشی ہوئی ہے کہ وہ اللہ کے کام میں مصروف ہیں۔ جب ان کو اس کام سے فراغت ہو جائے تو اس وقت وہ میرے پاس آجائیں۔ میں دربار میں ان کا انتظار کروں گا۔ شاہی قاصد نے دوبارہ مسجد میں آکر ابو ابراہیم کو الحکم کا پیغام سنایا۔ ابو ابراہیم نے کہا کہ تم جاکر امیر المومنین سے کہہ دو کہ میں بڑھاپے کی وجہ سے اس قابل نہیں کہ پیدل چل کر ان کے پاس آؤں یا گھوڑے کی سواری کروں۔ باب السدہ جو کھلا ہوا ہے وہ یہاں سے کافی دور ہے۔ باب الصنع قریب ہے مگر وہ بند رہتا ہے۔ اگر امیر المومنین باب الصنع کھولنے کی اجازت دے دیں تو میں اس دروازہ سے ان کے پاس آجاؤں گا۔

باب الصنع ایک مخصوص دروازہ تھا جو ہمیشہ بند رہتا تھا۔ کسی ہنگامی موقع پر ہی اس کو کھولنے کی اجازت ہوتی تھی۔ ابو ابراہیم مذکورہ پیغام دے کر اپنے وعظ میں مصروف ہوگئے۔ دوسری طرف مذکورہ قاصد الحکم کے پاس گیا اور اس کو ابو ابراہیم کا پیغام پہنچایا۔ الحکم نے قاصد سے کہا کہ تم جا کر مسجد میں بیٹھ جاؤ اور جب وہ اپنا وعظ ختم کر لیں تو ان کو باب الصنع کے راستہ سے گزر کر میرے پاس لے آؤ۔ چنانچہ قاصد واپس آکر مسجد میں بیٹھا رہا۔ ابو ابراہیم نے جب اپنا وعظ ختم کیا تو اس نے ان سے کہا کہ باب الصنع آپ کے لیے کھول دیا گیا ہے اور امیر المومنین آپ کے منتظر ہیں۔ اس کے بعد ابو ابراہیم مسجد سے نکلے اور چلتے ہوئے باب الصنع پر پہنچے۔ امراء اور درباریوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود تھی۔ ابو ابراہیم دربار کے اندر داخل ہوئے۔ الحکم نے کچھ دیر تک ان سے باتیں کیں۔ اس کے بعد وہ اسی باب الصنع سے عزت و احترام کے ساتھ واپس ہوگئے۔

دورِ اول میں جو اسلامی انقلاب آیا۔ اس کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس نے لوگوں میں اکابر پرستی کے بجائے خدا پرستی پیدا کر دی۔ اس نے لوگوں میں یہ مزاج بنایا کہ وہ چیزوں کو شخصیتوں کی نسبت سے دیکھنے کے بجائے حقیقتوں کی نسبت سے یہ فکری انقلاب اتنا طاقت ور تھا کہ بعد کو جب مسلمانوں میں خلفاء کے بجائے سلاطین ہونے لگے اس وقت بھی لوگ ملوک اور سلاطین پر کھلی تنقیدیں کرتے تھے اور کسی کو بھی اس پر ٹوکنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

Printed page