پکار کے وقت
Al-Risala, September 1993, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
تھیو فیلس (Theophilus) بازنطینی سلطنت کے آخری دور کا حکمران ہے۔ اس کا مرکز سلطنت اس کا زمانہ حکومت ۸۲۹ء تا ۸۴۲ء ہے۔ تھیو فیلس عباسی خلیفہ المعتصم کا ہم عصر تھا۔ دورِ اول کے مسلمانوں نے قدیم رومی (بازنطینی) سلطنت کے بڑے حصہ کو پہلی صدی ہجری میں فتح کر لیا تھا۔ تاہم قسطنطنیہ اب بھی بازنطینی حکراں کے قبضہ میں تھا۔ موجودہ ترکی کے ایک حصہ پر اب بھی اس کی حکومت قائم تھی۔
قسطنطنیہ کا بازنطینی بادشاہ تھیوفیلس ۲۲۳ھ (۸۳۸ء) میں ایک بڑا لشکر لے کر نکلا اور مسلم علاقہ میں پہنچ کر زبطرہ پر چھاپہ مارا۔ اسی کے ساتھ اس نے ملطیہ کے مسلم قلعہ پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں اس نے بہت سے مسلمان مردوں اور عورتوں کو قتل کیا۔ انہیں گرفتار کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے کچھ لوگوں کا مُثلہ کیا۔ اس موقع پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بازنطینی سپاہیوں نے ایک عربی عورت کو پکڑا اور اس کو گھسیٹتے ہوئے لے چلے۔ عورت چلا اٹھی۔ اس کی زبان سے نکلا : وامعتصماه (ہائے معتصم) خلیفہ المعتصم اس وقت بغداد میں تھا۔ وہاں سے آنے والوں نے خلیفہ کو بازنطینی حکراں کے مظالم کی اسی کے ساتھ مذکورہ عرب عورت کا قصہ بھی بتایا۔ المعتصم اس کو سن کر تڑپ اٹھا۔ وقت وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے وامعتصماہ کا لفظ سنا تو اسی وقت لبیک لبیک کہتے ہوئے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ اپنے محل کی چھت پر چڑھا اور پکار کر کہا : النفير ، النفير
اس کے بعد المعتصم نے زبردست تیاری کی اور ایک طاقت ور فوج کو لے کر مقام حادثہ کی طرف یہاں تک کہ وہ عموریہ (Amorium) پہنچ گیا۔ عموریہ (ترکی) اس وقت بازنطینیوں کے قبضہ میں تھا اور یہاں ان کا قلعہ تھا۔ المعتصم نے قلعہ کو گھیر لیا اور حکم دیا کہ منجنیق کے ذریعہ اس پر گولے برسائے جائیں۔ یہاں تک کہ اس کی دیواریں ٹوٹ گئیں۔ المعتصم اپنی فوج کو لے کر قلعہ کے اندر داخل ہو گیا۔ اہل قلعہ نے ہتھیار ڈال دیئے۔ المعتصم نے تمام مسلم قیدیوں کو چھڑایا اور اس عرب عورت کو بھی قید سے رہا کیا جس نے اس سے پہلے وامعتصماہ کہہ کر خلیفہ کو پکارا تھا۔
مظلوم کی پکار پر دوڑنا زندہ انسان کی خاص علامت ہے۔ ایک شخص جس کے اندر انسانی جوہر موجود ہو، جو اپنے مردانہ اوصاف پر قائم ہو، وہ ایسی کسی پکار کو نظر انداز کرنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ انسانی صفت ہے جس کے بارہ میں عرب شاعر نے کہا ہے کہ ان کا بھائی جب اپنی کسی مصیبت پر انہیں پکاربے تو اس وقت وہ تفصیل نہیں پوچھتے، وہ فوراً اس کی مدد پر دوڑ پڑتے ہیں: لا يسئلون اخاهم حين يندبهم فى النائبات على ما قال برهانا مظلوم کی مدد کرنا یا مظلوم کی پکار پر دوڑنا ایک فطری صفت ہے۔ جن لوگوں کی فطرت زندہ ہو، ان کے اندر یہ انسانی خصوصیت بھی ضرور زندہ ہوگی۔ یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی فطرت کے اعتبار سے زندہ ہو اور اس کے اندر یہ صفت نہ پائی جائے۔
قومی تعصب یا ذاتی تعلق کے تحت ہر آدمی اپنے لوگوں کی مدد کے لیے دوڑتا ہے۔ قسم کے دوڑنے کو کوئی اعلیٰ اخلاقی صفت نہیں کہا جا سکتا۔ اعلیٰ اخلاقی صفت کا درجہ صرف اس دوڑنے کو حاصل ہے جو ذاتی تعلق یا قومی تعصب جیسی چیزوں سے بلند ہو۔ جب کہ آدمی اس لیے دوڑ پڑے کہ پکارنے والا مظلوم ہے، نہ اس لیے کہ ذاتی مفاد یا جماعتی حمیت کا تقاضا ہے کہ اس کی پکار پر
مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ مفاد کے لیے تڑپتے ہیں، مومن اصول کے تڑپتا ہے۔ دوسرے لوگ اپنی ذات کے لیے عمل کرتے ہیں، مومن اپنے سوا دوسروں کے لیے عمل کرتا ہے ۔ عام آدمی اس وقت حرکت میں آتا ہے جب کہ اس کی اپنی ذات کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ جب کہ مومن کو को صرف یہ بات متحرک کر دینے کے لیے کافی ہے کہ انسانی اصولوں میں سے کوئی اصول ٹوٹ گیا ہے۔
المعتصم کے جس واقعہ کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، اس کا حوالہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (3/559 ,939/IX) میں مختصر طور پر موجود ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تھیو فلس کو ایک خونی جنگ میں جولائی ۸۳۸ میں شکست ہوئی :
Theophilus was defeated in a bloody battle at Dazmana in July 838.