Al-Risala · September 1993

تاریخ کا صفحہ

Al-Risala, September 1993, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

اسپین میں تقریباً ۸۰۰ سال تک مسلمانوں کی حکومت قائم رہی۔ ۱۴۹۲ء میں اس حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ خاتمہ کے وقت بھی مسلمان اپنے حریف اسپینیوں کے مقابلہ میں ہر اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ کی فتح اور مسلمانوں کی شکست کا بنیادی سبب یہ تھا کہ مسیحیوں نے متحد ہو کر اپنی طاقت بہت زیادہ بڑھالی اور مسلمانوں نے آپس کے اختلاف کی وجہ سے اپنے آپ کو بے مدد کمزور کر لیا۔

مسلم دور حکومت میں بھی اسپین کا ایک نسبتاً چھوٹا حصہ مسیحیوں کے پاس تھا۔ اس کو اپنا سیاسی مرکز بنا کر وہ مسلم حکومت کے خلاف کارروائی کرتے رہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھاکر آخری دور میں اپنا رقبہ کافی بڑھا لیا تھا اور مسلمانوں کے پاس صرف غرناطہ (Granada) رہ گیا تھا۔ دورِ آخر کا ایک مسلم حکمران سلطان ابو الحسن تھا، مسیحی حکمراں فردی نند (Ferdinand II) نے سلطان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کو خراج دینا منظور کرے۔ سلطان ابو الحسن نہایت بہادر تھا۔ اس نے فردی نند کو جواب میں لکھا کہ ’’غرناطہ کے دار الضرب میں اب سونے کے سکوں کے بجائے فولادی تلواریں تیار کی جارہی ہیں تاکہ مسیحیوں کی گردنیں ماری جائیں‘‘ اس کے بعد دونوں کے درمیان کئی مسلح تصادم ہوئے۔ آخر کار، ۱۴۸۸ میں لوشہ کے مقام پر دونوں کے درمیان زبردست جنگ ہوئی۔ اس میں فردی نند کی فوجوں کو مکمل شکست اور سلطان ابو الحسن کی فوجوں کو مکمل فتح حاصل ہوئی۔

اس کے بعد فردی نند نے از سرِ نو اپنے کو تیار کرنا شروع کیا۔ اس وقت مسیحی اسپین میں دو حکومتیں ایک ار اغون (Aragon) جہاں فردی نند کی حکومت تھی۔ دوسرا قسطله (Castile) جہاں ملکہ از بیلا (Isabella I) تخت کی مالک تھی، فردی نند نے یہ دانش مندی کی کہ از بیلا کوراضی کر کے ۱۴۶۹ء میں اس نے نکاح کر لیا۔ اس طرح دونوں کو ملا کر ایک بڑی مسیحی سلطنت وجود میں آگئی۔ ایک طرف مسیحی دنیا میں یہ اتحادی واقعہ ہوا۔ دوسری طرف یہ اختلافی واقعہ پیش آیا کہ سلطان ابو الحسن کے لڑکے ابو عبد اللہ محمد نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کر دی، وہ سلطنتِ غرناطہ کے ایک حصہ پر قبضہ کر کے بیٹھ گیا۔ اب سلطان ابو الحسن کی حکومت صرف چار ہزار مربع میل پر مشتمل ہو کر رہ دوسری طرف فردی نند کی سلطنت کا رقبہ بڑھ کر سوا لاکھ مربع میل ہو گیا۔ اس صدمہ کے بعد

سلطان ابو الحسن پر فالج کا حملہ ہوا اور اس کی بینائی بھی ختم ہو گئی ۔ سلطان ابو الحسن اس کے بعد غرناطہ کے تخت سے دستبردار ہو گیا اور اپنی جگہ اپنے بھائی ابو عبد اللہ زغل کو سلطان مقرر کیا۔ اس کے بعد ایک سازش کے تحت ابو عبد اللہ زغل کو سلطنت سے ہٹا دیا گیا اور ابو عبد اللہ محمد پورے سلطنت غرناطہ کا حکمران بن گیا۔ مگر اس کے اندر اپنے باپ والی دانش مندی موجود نہ تھی۔ چند مقابلوں میں اس نے مسیحی حکمران سے شکست کھائی۔ آخری مرحلہ میں غرناطہ کے قلعہ کو مسیحی فوجوں نے گھیر لیا۔ ابو عبد اللہ محمد جس نے اپنے اور اپنے چچا کے مقابلہ میں بہادری دکھائی تھی وہ مسیحی فوجوں کے مقابلہ میں صرف بز دل ثابت ہوا۔ ۲ جنوری ۱۴۹۲ کو اس نے قلعہ اور غرناطہ کی دستبرداری کے معاہدہ پر دستخط کر دیے ۔ پر ایک طرف فاتح فردی نند نے اپنا دستخط ثبت کیا۔ اور دوسری طرف مفتوح ابو عبد اللہ محمد نے ۔ ایک مورخ نے اسپین کے مذکورہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غرناطہ کے آخری مسلم حکمران سلطان ابو الحسن نے فردی نند اور از بیلا کو شکست دی تھی۔ مگر اس کے اپنے لڑکے ابو عبد اللہ نے اس کے خلاف بغاوت کر دی جو آخر کار اس کے باپ کے زوال کا سبب بنی ۔ The last ruler of Granada, Sultan Abul-Hasan, defeated Ferdinand II (1452-1516) and Queen Isabella, but his own son, Abu Abdullah, made a coup against his father which resulted to the downfall of his father. اس دنیا میں باہمی اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے اور باہمی اختلاف سب سے بڑی یہ بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے ۔

اختلاف کا سبب کیا ہوتا ہے اور اتحاد کس طرح پیدا ہوتا ہے ۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب لوگوں کے اوپر ذاتی مفاد کا غلبہ ہو جائے تو ان کے درمیان اختلاف ابھر آئے گا ۔ اور جب وہ قومی مفاد کو اہمیت دیں تو وہ باہم متحد رہیں گے۔ قوم کے وسیع تر مفاد کا احساس انفرادی اختلافات پر غالب آ جاتا ہے ۔ لوگ اختلاف کے باوجود متحد رہتے ہیں ۔ لوگ اختلاف کے باوجود اپنے اپنے اختلاف کو اپنی ذات تک رکھتے ہیں ، وہ اپنے اختلاف کو اجتماعی تعلق میں موثر نہیں ہونے دیتے ۔

Printed page