Al-Risala · September 1993

رحم دل فاتح

Al-Risala, September 1993, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

۲ اکتوبر ۱۱۸۷ء مسلم تاریخ کا نہایت اہم دن ہے۔ یہی وہ دن ہے جب کہ صلیبی طاقتوں کے ۸۸ سالہ قبضہ کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی دوبارہ بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ ۱۰۹۵ء میں پوپ نے یورپی قوموں کو صلیبی جنگ پر ابھارا تاکہ ”مسیح کی مقدس قبر کو مسلمانوں کے ہاتھ سے واپس لیا جاسکے! “ اس کے جواب میں یورپ کے مسیحی حکمراں جوش کے ساتھ اٹھ کھڑے مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہولناک لڑائیاں ہوئیں۔ یہاں تک کہ مسیحیوں نے فلسطین کے بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد فتح کے نشہ میں انھوں نے تمام انسانی قدروں کو پامال کر ڈالا۔ مسلمانوں کو فلسطین سے بزور نکالنے لگے اور انھیں ہلاک کرنا شروع کیا۔

اس موضوع پر بہت سی کتابیں مختلف زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔ حال میں ریاض کے عربی ماہنامہ الفیصل (ربیع الآخر ۱۴۰۹ھ) میں اس کے بارہ میں ایک مفید معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون فرانسیسی مستشرق آلآن روکو کے فرانسیسی مقالہ کا ترجمہ ہے جو مصطفےٰ کمال الجابری نے

صلاح الدین ایوبی ۲۷ نومبر ۱۱۸۷ء کو دمشق پہنچے۔ پھر وہ حلب گئے۔ جلد ہی اپنی خصوصیات کی بنا پرانھیں دمشق، حلب، قاہرہ کے حاکم کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ انھوں نے دمشق کو اپنا دارالحکومت خلیفہ بغداد نے ان کو مصر اور شام کا فرماں روا تسلیم کر لیا۔ اپنی صفات کی بنا پر وہ عامۃ الناس کے محبوب بن گئے۔ ان کو سیف الاسلام کہا جانے لگا۔

صلاح الدین نے اس کے بعد اپنی فوج کو طاقتور انداز میں منظم کیا۔ اور پھر انہوں نے صلیبیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا جو فلسطین پر قبضہ کیے ہوئے تھے۔ انھوں نے عہد کیا کہ وہ ارض مقدس سے صلیبی طاقتوں کو نکال کر رہیں گے ۔ اعلیٰ ترین جنگی منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ صلاح الدین جنگی امور میں عبقری مہارت رکھتے تھے (خطۃ حربيـة عاليـة المستـوى تدل على عبقرية صلاح الدين العسكريـة) انھوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ صلیبی فوجوں کو پانی سے محروم کر دیا اور حطین کے مقام پر ان کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔

صلاح الدین نے مسلسل فتوحات حاصل کرتے ہوئے اکتوبر ۱۱۸۷ء میں قلعہ القدس پر قبضہ صلیبیوں نے اپنے زمانہ اقتدار میں فلسطین کے مسلمانوں پر ہر قسم کے ظلم کیے تھے۔ مگر صلاح الدین نے فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے خلاف کوئی بھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ ان کی تلوار صلیبی جارحیت کے خلاف میان سے نکلی تھی، صلیبی جارحیت کو ختم کرتے ہی وہ دوبارہ میان میں چلی گئی۔ فرانسیسی مستشرق نے لکھا ہے کہ صلاح الدین نے مسیحیوں کے ساتھ انتہائی شریفانہ معاملہ کیا۔ قدس میں داخل ہونے کے بعد انھوں نے حکم جاری کیا کہ اسپتالوں میں جو مسیحی لوگ زیر علاج ہیں، ان کا علاج جاری رکھا جائے ۔ تمام بڑے بڑے چرچ مسیحیوں کے قبضہ میں بدستور باقی رہے۔ انھوں نے ۱۵۰۰ مسیحیوں کے اوپر سے جزیہ معاف کر دیا، کیوں کہ انھوں نے کہا تھا کہ وہ مفلسی کی وجہ سے جزیہ نہیں دے سکتے۔ انھوں نے ایک بڑے صلیبی عہدیدار کو اجازت دی کہ وہ چرچ کے خزانہ کو اپنے ساتھ جہاں چاہے لے جائے ۔ صلیبی فوجی جو گرفتار ہو گئے تھے ، ان کی عورتیں صلاح الدین کے پاس آئیں ۔ انھوں نے صلاح الدین کے پیروں پر اپنا سر رکھ دیا اور اپنے فوجی شوہروں کی رہائی کی درخواست کی۔ چنانچہ انھوں نے تمام فوجیوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔ مضمون ان الفاظ پر ختم ہوتا ہے :

فته كان المؤرخ الفرنسی (جوستاف لوبون) فرانسیسی مورخ گستاڈ لیبان یہ کہنے میں بالکل على حق عـند مـا قال جملته الماثورة : حق بجانب تھا کہ تاریخ نے عربوں سے زیادہ لم يعرف التاريخ فاتحاً ارحـم مـن رحم دل فاتح نہیں دیکھا العرب (صفحہ ۱۰۱)

جنگ کے بارہ میں یہی اسلام کا اصول ہے۔ اسلام جارحیت کے خلاف دفاع کی مکمل اجازت دیتا ہے۔ مگر جب جارح کی تلوار ٹوٹ جائے تو اس کے بعد اہل اسلام بھی اپنی تلوار توڑ لیتے ہیں۔ اسلام میں دفاع ہے مگر جارحیت نہیں۔ اسلام میں حفاظتی کارروائی ہے مگر انتقامی کارروائی نہیں۔ اسلام میں اپنا حق وصول کرنا ہے مگر اسلام میں یہ جائز نہیں کہ آدمی دوسرے کے خلاف دست درازی کرنے لگے۔ اسلام جس دل میں اترتا ہے وہ اس کو مثبت احساسات میں جینے والا انسان بناتا ہے نہ کہ منفی احساسات میں جینے والا انسان۔

Printed page