Al-Risala · September 1993

تاریخ کا ایک صفحہ

Al-Risala, September 1993, pp. 34–25

By Maulana Wahiduddin Khan

چودھویں صدی عیسوی میں دو بڑے مسلم حکمران تھے ۔ ایک تیمور لنگ (۱۴۰۵۔ دوسرا بایزید اول (۱۴۰۲۔ ۱۳۸۹) تیمور لنگ سمرقند (وسط ایشیا) میں پیدا ہوا ۔ وہ چنگیز خاں کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔ بایزید اول اناطولیہ (ترکی) میں پیدا ہوا ۔ اس کا دار السلطنت ایڈریانوپل تھا ۔

ان دونوں مسلم حکمرانوں کے درمیان ایک نہایت ہولناک جنگ ہوئی جس کو تاریخ میں جنگ انگوره (Battle of Angora) کہا جاتا ہے۔ انگوره موجودہ انقرہ کا انگریزی نام ہے۔ چاہا کہ وہ بایزید کی سلطنت کے ایشیائی علاقہ پر قبضہ کرلے۔ یہاں سے دونوں میں اختلافات پیدا دونوں ایک دوسرے کے خلاف کارروائی کرنے لگے۔ بایزید نے تیمور کے دشمنوں کو اپنے یہاں تیمور نے بایزید کے دشمنوں سے تعلق قائم کیا ، وغیرہ ۔

اس قسم کی کارروائیاں ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ جولائی ۱۴۰۲ میں انگوره (انقرہ) کے مقام پر دونوں کی فوجیں ایک دوسرے سے ٹکراگئیں دونوں طرف نہایت بہادر لوگ تھے۔ دونوں کے درمیان سخت ہولناک لڑائی ہوئی۔ ایک مورخ کے الفاظ میں گویا دو پہاڑ آپس میں دونوں طرف کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ آدمی مارے گئے۔ آخر کار بایزید کو شکست ہوئی ۔ ہوا اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا۔

چودھویں صدی عیسوی میں ساری دنیا میں تیمور اور بایزید کے برابر کوئی طاقتور بادشاہ موجود نہ تھا۔ ان دونوں کے درمیان جنگ چھڑی تو عالم یہ تھا کہ دور تک خون اور لاشوں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس ہولناک جنگ کے سلسلہ میں کچھ لوگ تیمور کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور کچھ لوگ بایزید کو۔ تاہم ذمہ دار جو بھی ہو، نتیجہ بہرحال ایک تھا۔ وہ یہ کہ اس لڑائی سے عالم اسلام کو شدید ترین نقصان پہنچا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یورپ جو عثمانی ترکوں کے ذریعہ اسلامی بر اعظم بننے جا رہا تھا، وہ اس باہمی جنگ کے نتیجہ میں عیسائی بر اعظم بن کر رہ گیا۔

جنگ کا فیصلہ ۲۰ جولائی ۱۴۰۲ کو ہوا۔ بایزید گرفتار ہو گیا۔ تیمور نے اس کو ایک لوہے کے

کٹہرے میں بند کروایا۔ تیمور اپنے سفروں میں اس کٹہرے کو ساتھ ساتھ لے جاتا تھا تاکہ اس کی تشہیر سلطان بایزید اس رسوائی کو برداشت نہ کر سکا۔ گرفتاری کے صرف آٹھ ماہ بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ خود تیمور بھی اپنی فتح کے ڈھائی سال بعد اس دنیا سے رخصت ہو کر وہیں چلا گیا جہاں اس نے مفتوح سلطان کو پہنچنایا تھا۔ دنیا میں بظاہر ایک فاتح تھا اور دوسرا مفتوح مگر آخرت نے دونوں کے فرق کو ختم کر دیا۔ آخرت میں دونوں یکساں طور پر خدا کے بندے کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں پیش کر دیئے گئے۔

تیمور اور بایزید دونوں نہایت بہادر تھے۔ تیمور کی ہیبت مشرقی دنیا پر چھائی ہوئی تھی اور بایزید کی ہیبت مغربی دنیا پر جس نے اسلام کے حدود دریائے ڈینوب (ہنگری) تک پہنچادیئے

اگر ایسا ہوتا کہ تیمور اپنے عمل کا میدان مشرق کو بناتا اور بایزید مغرب کی سمت میں آگے بڑھتا تو وہ دونوں پورے عالم کو اسلام کے سایہ میں لانے کے لیے کافی ہو جاتے ۔ مگر آپس کی لڑائی نے اس امکان کو واقعہ بننے نہیں دیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے تیمور کے تذکرے کے ذیل میں لکھا ہے :

By defeating the Ottoman Sultan Bayezid at Angora (modern Ankara)

in 1402 and thus preventing him from extending his domain into Europe, the fall of Constantinople and the death agony of Byzantium were delayed half a century by this Muslim nomad (18/242). یعنی تیمور نے عثمانی سلطان بایزید کو انگورہ (موجودہ انقرہ) کے مقام پر ۱۴۰۲ میں شکست دی۔ طرح اس نے بایزید کو یورپ میں اپنا اقتدار بڑھانے سے روک دیا۔ اس کے نتیجہ میں قسطنطنیہ کی فتح اور باز نطینی سلطنت کا خاتمہ نصف صدی تک کے لیے مؤخر ہو گیا۔

مسلمان اکثر دوسری قوموں کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو جتنے بھی نقصان پہنچے ہیں، سب اپنوں کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیاں مسلمانوں کی بربادی کا سب سے بڑا سبب ہیں، گزرے ہوئے دور میں بھی اور حال کے زمانہ میں بھی۔ مگر تاریخ کا یہی سب سے بڑا سبق ہے جس سے مسلمانوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

Printed page