Al-Risala · September 1993

میدانِ جنگ میں نماز

Al-Risala, September 1993, pp. 30–41

By Maulana Wahiduddin Khan

اورنگ زیب عالمگیر (۱۷۰۷-۱۶۵۸) مشہور مغل حکمران ہے۔ اس کے زمانہ میں مغل سلطنت کو سب سے زیادہ وسعت حاصل ہوئی ۔ اس کی زندگی کا تقریبا نصف حصہ لڑائیوں میں اس کی بہادری کے بہت سے عجیب واقعات تاریخ کی کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں۔ اورنگ زیب نوجوانی کی عمرہی میں اپنی امتیازی صلاحیتوں کی بناپر شاہی خاندان میں نمایاں ہوگیا تھا۔ جب وہ نوجوان تھا، اس زمانہ میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک مست ہاتھی اس کے اس وقت وہ گھوڑے پر سوار تھا۔ پہلے اس نے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے ہاتھی کا مقابلہ کرنا چاہا۔ لیکن گھوڑا بد کنے لگا۔ اورنگ زیب اس سے ہراساں نہیں ہوا ۔ گھوڑے سے اتر پڑا اور زمین پر آکر تلوار کے ذریعہ ہاتھی کا مقابلہ کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اس نے ہاتھی کو زیر کر لیا۔

انہی صفات کی بناپر شاہ جہاں اس کی بہت قدر کرتا تھا۔ نوجوانی کی عمر ہی سے اس کو بڑی بڑی مہموں پر بھیجنے لگا تھا۔ اورنگ زیب لڑائی کے گر سے خوب واقف تھا۔ کا مقابلہ نہایت اطمینان کے ساتھ کرتا تھا اور کبھی گھبراتا نہ تھا منتقل مزاجی کی صفت اس کے اندر کمال درجہ میں تھی ۔ ان تمام صفات کے باوجود وہ انتہائی سادہ مزاج تھا اور بالکل معمولی زندگی

ایک مورخ نے لکھا ہے کہ جزیرہ نماے ہند میں (اورنگ زیب کے زمانہ میں) اگرچہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے کچھ ہولڈنگ رکھتی تھی، مگر کابریٹ کے زمانہ میں اور اس کے بعد تک فرانسیسیوں کی پیش قدمی بہت سست رہی۔ اس کی وجہ جزئی طور پر یہ تھی کہ آخری مغل شہنشاہ اورنگ زیب انڈیا پر حکومت کر رہا تھا اور یہاں غالب تھا :

In the Indian peninsula, where the English East India Company had holdings, French progress was slow in Colbert's time and after, partly because the last great Mughal emperor, Aurangzeb, reigned and dominated India. (4/887)

اورنگ زیب کی زندگی کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو ۱۶۴۷ میں پیش جب کہ اس نے عین میدانِ کارزار میں گھوڑے سے اتر کر نماز ادا کی۔ ڈاکٹر آرسی مجمدار اور ڈاکٹر ایچ سی رائے چودھری نے اپنی مشترک کتاب (An Advanced History of India) میں اس واقعہ کو ان الفاظ میں درج کیا ہے :

Aurangzeb was a pious' Muslim, and with the zeal of Puritan he scrupulously observed the injunctions of the Holy Qur'an. Once during the Balkh campaign he knelt down to finish his prayers at the proper time, though the fighting was going on all around him. (p. 501-502)

اورنگ زیب ایک پارسا مسلمان تھا۔ اور ایک سخت محتاط مذہبی انسان کی طرح جوش کے ساتھ وہ مقدس قرآن کے احکام کی اطاعت کرتا تھا۔ ایک بار بلخ کے معرکہ کے دوران وہ زمین پر جھک گیا تاکہ ٹھیک وقت پر اپنی نماز کو مکمل کرے۔ اگرچہ اس وقت اس کے چاروں طرف لڑائی جاری تھی۔

جنگ وہ لمحہ ہے جب کہ ہر طرف تیر تلوار اور نیزوں کی جھنکار ہوتی ہے۔ قتل اور خون کا بھیانک منظر دکھائی دیتا ہے۔ زندگی اور موت دونوں اتنے قریب آجاتے ہیں کہ دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہتا، اس وقت عین میدانِ جنگ میں نماز کے لیے کھڑا ہونا اور اطمینان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرنا ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہے۔ وہ کونسی طاقت ہے جو ایک انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اس قسم کا حیرت ناک واقعہ ظہور

یہ اللہ پر ایمان کی طاقت ہے۔ ایک مومن جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی ہستی کی حمایت میں آگیا ہے جو تمام طاقتوں سے زیادہ طاقتور جو ہر خطرہ کے مقابلہ میں اس کی طرف سے ناقابل تسخیر ڈھال بن سکتا ہے۔ یہ احساس مومن کے اندر بے پناہ اعتماد پیدا کر دیتا ہے۔ انسان اس کی نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اس کو اپنے سامنے دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایمان ایک عظیم عقیدہ ہے اور اسی کے ساتھ ایک عظیم طاقت بھی۔

Printed page