عالی ظرفی
Al-Risala, September 1993, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
مظفر حلیم (متوفی ۹۳۳ ھ) گجرات کا حاکم تھا اور محمود خلجی مانڈو (احمد آباد) کا۔ دونوں ہم زمانہ تھے۔ پاس پاس ہونے کی وجہ سے دونوں میں باہم لڑائیاں بھی ہوتی رہتی تھیں۔ محمود خلجی اکثر گجرات پر حملہ کرتا تھا۔ کی خواہش تھی کہ اس خوبصورت اور سر سبز ملک کو اپنی سلطنت میں شامل کرلے۔ تاہم اسے اپنے ارادہ میں کامیابی نہ ہوگی۔ اس درمیان میں ایک واقعہ پیش آیا جو بظاہر مظفر حلیم کے لئے بہت خوش کن تھا، وہ یہ کہ اس کے حریف محمود خلجی کے وزیر منڈلی رائے نے موقع پا کر بغاوت کردی۔ اس کی بغاوت کامیاب رہی، اس نے سلطان کو تخت سے بے دخل کر دیا اور خود ملک پر قابض ہوگیا۔ تاہم سلطان محمود خلجی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔
اب اس کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا کرے۔ اس کی نظر میں صرف ایک ہی شخص تھا جو اس نازک وقت میں اس کی مدد کر سکتا تھا اور یہ وہی سلطان مظفر حلیم تھا جس کے اوپر وہ اپنے اقتدار کے زمانہ میں بار بار حملے کر چکا تھا۔ سلطان محمود خلجی کو معلوم تھا کہ سلطان مظفر حلیم اگر چہ اس کا حریف ہے مگر وہ ایک بہادر اور شریف انسان ہے۔ اور شریف اور بہادر انسان کی یہ صفت ہے کہ وہ مدد مانگنے والے کی مدد کرتا ہے، خواہ وہ اس کا حریف اور دشمن ہی کیوں نہ ہو۔
سلطان محمود خلجی نے کئی دن کے حیص بیص کے بعد بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ وہ سلطان مظفر حلیم کے پاس جائے گا اور اس سے مدد طلب کرے گا۔ وہ جرات کر کے اس کے پاس پہنچا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اس کے باغی وزیر کے خلاف اس کی مدد کرے ۔
سلطان مظفر حلیم کو موقع تھا کہ وہ اپنے حریف کو ذلیل کرے۔ وہ طعن و تشنیع کر کے اس کے بارے میں اپنے سینہ کو ٹھنڈا کرے۔ مگر اس نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کی۔ وہ فوراً اپنے حریف سلطان کی مدد کرنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ سلطان مظفر حلیم نے حکم دیا کہ اس کی فوج مانڈو کی طرف کوچ کرنے کے لئے تیار ہو جائے ۔ اس نے محمود خلجی کو لیا اور خود اپنی فوج کے ساتھ مانڈو کے لئے روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر وزیر منڈلی رائے کی فوج سے زبردست مقابلہ ہوا۔ بالآخر منڈلی رائے کی فوج نے ہتھیار ڈال دئے اور گجرات دوبارہ فتح ہو گیا۔
اب فوجیوں کی فاتحانہ نفسیات نے ایک نیا مسئلہ پیدا کر دیا۔ سلطان مظفر حلیم کئے فوجی سرداروں نے کہا کہ یہ ملک اب آپ کا ہے۔ کیونکہ اس کو آپ کی فوجوں نے لڑ کر فتح کیا ہے۔ کو محمود خلجی کے حوالے نہ کریں بلکہ اس کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کا اعلان کر دیں۔ اس معاملہ میں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔
سلطان مظفر حلیم کے لئے یہ بہت نازک لمحہ تھا۔ تاہم اس نے جرات سے کام لیا اور اپنے فوجی سرداروں کے اس مشورہ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کو یہ بات اپنی بہادری اور غیرت کے خلاف معلوم ہوئی کہ جس ملک کو اس نے سلطان محمود خلجی کے نام پر فتح کیا ہے، اس کو سلطان کے حوالے نہ کرے اور خود اس پر قابض ہو جائے۔ سلطان کی جو شرافت اس کی تحریک بنی تھی کہ وہ اپنے دشمن کی مشکل وقت میں مدد کرے، وہی شرافت دوبارہ اس میں مانع ہوگئی کہ وہ دشمن کی کمزوری کا غلط فائدہ اٹھائے اور اس کی چیز کو خود اپنے قبضہ میں لے لے۔ اس کے ایک طرف شرافت تھی اور دوسری طرف ملک۔ اس نے اس سے انکار کر دیا کہ وہ ملک کو پانے کی خاطر اپنی شرافت کو کھو دے۔
تاہم سلطان مظفر حلیم کو اندیشہ تھا کہ اس کی فوج اگر مفتوحہ علاقہ میں ٹھہری رہی تو فتح کے جوش میں وہ کوئی نازک مسئلہ نہ کھڑا کر دے اور موجودہ فضا باقی نہ رہے۔ چنانچہ اس نے فوراً ایک حکم اس حکم میں کہا گیا تھا کہ اس کی فوجوں کا کام اب یہاں ختم ہو چکا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کی فوج کا کوئی شخص مزید آگے بڑھ کر مفتوحہ شہر کے اندر نہ داخل ہو۔ تمام کی تمام فوج بلا تاخیر اپنے وطن کی طرف واپس چلی جائے۔
اس حکم پر فوراً عمل ہوا۔ سلطان مظفر حلیم کی فوج اپنے فتح کے ہوئے ملک کو سلطان محمود خلجی کے حوالے کر کے گجرات واپس چلی گئی۔ سلطان مظفر حلیم نے ایک مفتوحہ ملک کو صرف اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ اپنی شرافت اور اپنی بہادری کو محفوظ رکھ سکے (ظفر الحاء، از آصفی)
کوئی انسان کیا ہے، ہمیشہ غیر معمولی حالات میں معلوم ہوتا ہے اور ان غیر معمولی حالات میں سب سے زیادہ نازک لمحہ وہ ہوتا ہے جب کہ آدمی فاتح اور غالب کی حیثیت میں ہو۔ اپنے کو فتح و غلبہ کے مقام پر پا کر بھی جو شخص شرافت اور انصاف پر قائم رہے وہی دہ انسان ہے جو امتحان میں پورا اترا۔