طمع کا نقصان
Al-Risala, October 1993, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
عن سفيان ، أن عمر بن الخطاب رضی اللہ سفیان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عنہ قال كعب ۔ من ارباب العلم ۔ قال حضرت کعب سے پوچھا کہ علم والے کون ہیں۔ الذين يعملون بما يعلمون ۔ قال فما نے کہا کہ وہ لوگ جو اس پر عمل کرتے ہیں جس کو اخرج العلم من قلوب العلماء ۔ وہ جانتے ہیں ۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کیا چیز قال الطبع ۔ ہے جو علماء کے دلوں سے علم کو نکال دیتی ہے۔
(مشکوۃ المصابیح ۸۸/۱) جواب دیا کہ طمع ۔
عام آدمی کی طمع صرف پیسہ کی حد تک ہوتی ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ حاصل کرے تاکہ وہ اپنی ضرورتوں کو پورا کرے اور اپنے لیے ایک فراغت کی زندگی حاصل کر سکے۔ یہ طمع کی ابتدائی صورت ہے۔ مگر طمع کا جذبہ اتنا طاقت ور جذبہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ بظاہر پائے ہوئے لوگوں میں بھی وہ اسی طاقت کے ساتھ موجود رہتا ہے جتنا کہ نہ پائے ہوئے لوگوں میں۔ جس آدمی کو ضرورت کے بقدر مل جائے وہ عیش کے بقدر حاصل کرنے کی لالچ میں پھنس جس آدمی کو تھوڑا اقتدار مل جائے وہ زیادہ اقتدار کی ہوس میں پڑ جاتا ہے۔ ایک حلقہ میں مشہور ہو جائے وہ تمام حلقوں میں بلکہ ساری دنیا میں شہرت و مقبولیت حاصل کرنے کا خواب دیکھنے لگتا ہے۔ جس آدمی کے گرد ہزاروں کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے وہ چاہنے لگتا ہے کہ کروروں کی بھیڑ اس کے گرد دکھائی دینے لگے۔
اس طمع کی خاطر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ علم رکھنے کے باوجود جہالت کی بات کرتا ہے۔ اس کا دل ایک حقیقت کو مان رہا ہوتا ہے مگر وہ لوگوں کے سامنے اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ اصول کی زبان بولنے کے بجائے مصلحت کی زبان بولتا ہے ۔ وہ اندر سے کچھ ہوتا ہے مگر اوپری طور پر وہ کسی اور شکل میں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سب وہ اس لیے کرتا ہے تاکہ اس کی امیج خراب نہ ہو۔ تاکہ اس کا مفاد خطرہ میں نہ پڑے، تاکہ عوام کے درمیان اس کی مقبولیت میں کمی نہ ہو، تاکہ لوگوں کے درمیان اس کی اعلیٰ پوزیشن برقرار وہ باہر کے اعتبار سے بڑھتا ہے مگر وہ اندر کے اعتبار سے ختم ہو جاتا ہے۔