انتظار کیجیے
Al-Risala, October 1993, pp. 57–58
By Maulana Wahiduddin Khan
نومبر ۱۹۹۱ء میں میرا ایک سفر بمبئی کے لیے ہوا تھا۔ وہاں میری ملاقات حاجی اکبر خان صاحب سے ہوئی۔ وہ بمبئی کے پرانے تاجر ہیں۔ انھوں نے ایک نیا آئٹم تیار کرایا اور اس میں اپنی بہت بڑی رقم لگادی۔ یہ آئٹم خلاف اندازہ مارکیٹ میں نکل نہ سکا۔ حاجی صاحب پر اس نقصان کا بہت برا اثر پڑا۔ ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا۔ ان کو ذیا بیٹس کی شکایت ہو گئی۔ حاجی صاحب کی رہائش گاہ پر ان سے میری ملاقات ہوئی۔ میں ان کی باتیں سنتا رہا اور دل کے اندر ان کے لیے دعا کرتا رہا، آخر میں جب روانگی کا وقت آیا تو میں نے ایک کاغذ لیا۔ پر ایک جملہ لکھا۔ اور اس کو بند لفافہ میں دیتے ہوئے ان سے کہا کہ اس کو میرے چلے جانے کے بعد کھول کر پڑھ لیں۔ وہ جملہ یہ تھا ؛ آپ اپنے معاملہ کو غم کے خانہ میں ڈالنے کے بجائے انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔
اس واقعہ کے ڈیڑھ سال بعد ۸ جون ۱۹۹۳ء کی ڈاک سے حاجی اکبر خان صاحب کا ایک خط مجھےیہ ملا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا :
" ۹ نومبر ۱۹۹۱ کے روز آپ میرے غریب خانہ پر تشریف فرما تھے اور میری رودادِ غم سن کر مجھے نسخہ کیمیا عطا کر گئے تھے۔ آپ اپنے معاملہ کو غم کے خانہ میں ڈالنے کے بجائے انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے "
یقین کیجیے ، آپ کے اس جملہ کا مجھ پر حیرت انگیز اثر ہوا۔ نفسیاتی طور پر صبر کی بلندیوں کو چھونے کی کوشش میں، میں اپنے غم کو کافی ہلکا محسوس کرنے لگا۔ یہاں تک کہ آج جب جون ۱۹۹۳ء کا الرسائل میرے سامنے ہے اور سفر نامہ کے تحت اس واقعہ کو ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، الحمد للہ ، اس "صبر" یعنی انتظار کے خانہ میں ڈالنے والے عمل کی وجہ سے اس نقصان کی کافی تلافی ہو چکی ہے۔ نے خوش گوار کروٹ لی ہے، اور قوی امید ہے ۱۹۹۱ء میں نظر آنے والا نقصان ۱۹۹۳میں ان شاء اللہ بھر پور منافع کی صورت میں اجاگر ہوگا۔ یہ ایک درسِ عظیم ہے کہ دنیا کے معاملہ میں صبر کا جب یہ صلہ ہے تو آخرت کے معاملہ میں صبر کا کس درجہ کا صلہ ہوگا۔ (اکبر خان، مجگاؤں بمبئی ۱۰)
انتظار ہر زخم کا مرہم ہے۔ انتظار محض انتظار نہیں، وہ خود ایک تدبیر ہے۔ مسئلہ پیش آنے پر دی اگر بے صبر نہ ہو، وہ صبر کرتے ہوئے انتظار کی پالیسی اختیار کر لے تو بہت جلد وہ محسوس کرے گا کہ انتظار اس کے مسئلے کا حل بن گیا ہے۔ انتظار نے اس کام کو زیادہ بہتر طور پر انجام دے دیا ہے جس کو وہ خود انجام نہیں دے سکتا تھا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں ہمہ گیر طور پر فطرت کا قانون اصلاح رائج ہے۔ یہاں ہر زخم کے اندمال کا انتظام ہے۔ یہاں مسئلہ پیش آتے ہی فطرت کی طاقتیں سرگرم ہو جاتی ہیں کہ اس کا قریب ترین حل نکال سکیں۔ جو چیز انسان کے لیے انتظار ہے، وہ فطرت کے نظام میں مداخلت نہ کر کے اسے یہ موقع دینا ہے کہ وہ تلافی مافات کے عمل کو بہ سہولت اپنے آخری مرحلے تک پہنچا سکے۔ ایک آدمی رات کے اندھیرے میں اس طرح پھنس جائے کہ اس کے پاس روشنی کا کوئی سامان موجود نہ ہو تو اس کو سادہ طور پر صرف انتظار کے اصول کو اپنالینا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرے تو وہ دیکھے گا کہ ایک مدت گزرنے کے بعد صبح کی روشنی اپنے آپ نمودار ہو گئی ہے تاکہ اس کی راہوں کو روشن کر کے اس کے لیے منزل کی طرف سفر کو آسان بنا دے۔
خود صاحب معاملہ کی نسبت سے بھی انتظار محض انتظار نہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک تدبیر کیوں کہ انتظار نہ کرنے والے شخص کا ذہن بیتے ہوئے واقعے میں اٹکارہتا ہے، جب کہ انتظار کرنے والے کا ذہن نئے حالات اور نئے امکانات کے دائرہ میں کام کرنے لگتا ہے۔ کرنے والا اگر غم اور افسوس میں جیتا ہے تو انتظار کرنے والا مایوسی کے اندھیرے سے نکل کر امید کی روشنی میں چلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
انتظار بے عملی نہیں، انتظار خود ایک عمل ہے۔ انتظار کا مطلب ٹھہرنا نہیں ہے۔ دراصل اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی ماضی سے اپنی نظریں ہٹا کر مستقبل کی طرف چل پڑا ۔ میں ہر کھونے کے بعد پانا مقدر کر دیا گیا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں انتظار حقیقتاً یہ معنی رکھتا ہے کہ آدمی محرومی کو بھلا کر یا فت کو اپنا مرکز توجہ بنالے۔
انتظار نہ کرنا ہمیشہ آدمی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انتظار کرنا ہمیشہ آدمی کے لیے فائدہ کا سبب بنتا یہ ایک ایسا کلیہ ہے جس میں کوئی استثناء نہیں۔