Al-Risala · October 1993

صفحہ عبرت

Al-Risala, October 1993, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۲۳ محرم ۱۴۱۳ھ، ۲۳ جولائی ۱۹۹۲ء) میں صفحہ ۱۷ پر ایک خبر کی سرخی یہ ہے : ۳۷ قبیلے تعلق الاسلام فی الفلبين (فلپائن میں ۴۳ قبیلوں کا قبولِ اسلام)

اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی فلپائن کے علاقہ میندناو (Mindanao) کے ۴۳ بت پرست قبیلوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسلام قبول کرنے والے ان قبیلوں میں قبیلہ مانوید بھی ہے جو کہ کیدان وان میں رہتا ہے۔ کیدان وان ایک شہر ہے جو صوبہ کو تابا تو (Catabato) میں واقع ہے۔ ان میں ۲۳۰ وہ اشخاص ہیں جنھوں نے پہلے مسیحیت قبول کرلی تھی، مگر اب وہ سب اسلام میں داخل ہوگئے ہیں۔

یہ صرف ایک مہینہ میں پیش آنیوالا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے پچھلے سالوں میں بھی وہاں کے لوگ برابر اسلام قبول کرتے رہے ہیں۔ عرب ملکوں میں کام کرنے والے فلپائن کے لوگوں کے بارہ میں اکثر یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔

ایک طرف دعوت کے اعتبار سے اسلام کی تشہیر کا یہ عالم ہے۔ دوسری طرف اسی فلپائن کے ایک علاقہ میں پچھلے ۳۰ سال سے مور و لبریشن فرنٹ“ کے نام سے مسلمان سیاسی آزادی کی تحریک چلا رہے زبردست قربانیوں کے باوجود اب تک اس تحریک کا کوئی بھی مثبت فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ فلپائن کے اس علاقہ میں سات ملین مسلمان رہتے ہیں۔ تعلیم اور اقتصادیات کے اعتبار سے وہ بے حد

ستمبر ۱۹۸۹ء میں افریقہ کے ایک سفر میں میری ملاقات مور و لبریشن فرنٹ کے چیئرمین مسٹر نور مسواری انھوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً ۱۵۰ ہزار مسلمان اس جدوجہد میں اپنی جان دے چکے اس کے باوجود دور دور تک کہیں کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ سیاست کے راستہ سے کچھ ملنے مگر ساری دنیا میں لاکھوں مسلمان اس کے لیے اپنا جان و مال قربان کر رہے ہیں۔ دعوت کے راستہ میں، آج بھی سرخ اونٹوں کی دولت مل رہی ہے۔ مگر کسی کو اس کی راہ میں عمل کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔

Printed page