Al-Risala · October 1993

اعراض کا فائدہ

Al-Risala, October 1993, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

پونہ کے ایک سفر میں وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۱ کو پونہ میں گنیش چترتھی کا جلوس نکلنے والا تھا۔ اسی دن ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ بھی تھی ، اور اس کی نسبت سے مسلمان اپنا میلاد النبی کا جلوس نکالنا چاہتے تھے۔ اگر دونوں جلوس ایک ہی دن نکلتا تو یقینی تھا کہ دونوں میں ٹکراؤ ہو اور فرقہ وارانہ فساد کی صورت پیدا ہوجائے۔ اور پھر جشن کا دن شہر کے لیے غم کا دن بن جائے۔ پونہ کی سیرت کمیٹی کی دانش مندی سے یہ خطرہ ٹل گیا۔ انھوں نے ایک اجتماع کر کے مشورہ کیا کہ ایسی حالت میں کیا کیا جائے ۔ اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا کہ ہم لوگ اس معاملہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ چنانچہ انھوں نے اپنی تاریخ بدل دی۔ انھوں نے میلاد النبی کا جلوس چند دن کی تاخیر کے ساتھ ۲۷ ستمبر کو نکالا ۔ اس طرح ہندو جلوس اور مسلمان جلوس دونوں پر امن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔

اس واقعہ پر شہر کے تمام لوگ بہت خوش ہوئے ۔ اور مسلمانوں کی دانش مندی کو سراہا۔ خاص طور پر پولیس کے لوگوں نے بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ اور مسلمانوں کے اس عمل کی تعریف انھوں نے مسلمانوں سے مل کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ فساد نہ ہونا پولیس کے لیے ایک ذاتی کارنامہ کی حیثیت رکھتا ہے ، اور یقینی طور پر پولیس کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ کارنامہ ان کی فہرست اعمال میں لکھا جائے ۔

پونہ کی سیرت کمیٹی نے جب تاریخ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا تو اسی وقت انھوں نے اس کی خبر مراٹھی اخباروں میں شائع کرا دی۔ اس طرح پورے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو اس کی اطلاع ہوگئی۔ دوسرے جن مقامات پر دونوں جلوس ایک ہی دن نکلنے والے تھے ، وہاں بھی اسی طرح مسلمانوں نے اپنے جلوس کی تاریخ کو بدل دیا۔ اس کے نتیجہ میں پورا مہاراشٹر فساد کے نقصان سے بچ گیا ۔ فرقہ وارانہ فساد سے بچنے کی سب سے زیادہ کارگر تدبیر یہی اعراض کا طریقہ ہے۔ لوگوں نے اس تدبیر کو استعمال کیا ہے وہاں فساد نہیں ہوا۔ فساد کے بم کونا کارہ کرنے کی یہی واحد فساد ہمیشہ غصہ کے تحت ہوتا ہے نہ کہ سازش کے تحت ۔

Printed page