ACPs study Bhiwandi's technique of peace
Al-Risala, October 1993, pp. 21–45
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں بتایا گیا تھا کہ ۶ دسمبر کے بعد بھیونڈی کی حالت مثالی (exemplary) رہی۔ بھیونڈی ایک حساس ٹاؤن سمجھا جاتا تھا مگر یہا ں بالکل کوئی فساد نہیں ہوا۔ چنانچہ ریاست مہاراشٹر کے مختلف مقامات سے انتظامیہ کے لوگ کیس اسٹڈی کے لئے بھیونڈی آئے۔ انھوں نے ہر جگہ معلومات حاصل کیں اور پانچ لاکھ روپیہ خرچ کرکے فکٹس ڈویژن نے ایک ڈاکو منٹری تیار کی۔ اس معجزاتی واقعہ کا سادہ سبب صرف ایک تھا۔ ۶ دسمبر کے بعد جب تناؤ پیدا ہو تو دوسرے مقامات کے مسلمانوں نے ”دفاع“ کے اصول پر تیاریاں کیں۔ یہ دفاع عملاً فرقہ وارانہ فساد بن کر اس کے برعکس بھیونڈی کے مسلمانوں نے کئی محلہ کمیٹی بنائی۔ ان محلہ کمیٹیوں نے خود دفاع کرنے کے بجائے یہ کیا کہ جہاں کہیں کشیدگی کی صورت پیدا ہوئی فوراً وہاں پہنچ کر لوگوں کو ٹھنڈا کیا اور حسب ضرورت پولیس کو اطلاع دی۔ جب بھی انھوں نے ایسا کیا، پولیس صرف چند منٹ میں وہاں پہنچ گئی اور فوری کارروائی کرکے معاملہ کو ختم کر دیا۔ بم پر بم مارنا فساد پیدا کرتا ہے۔ بم کو ڈفیوز کرنا فساد کو ابتدا ہی میں ختم کر دیتا ہے۔
بمبئی میں دو گھنٹہ قیام کے بعد بذریعہ کار پو نہ کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایک جگہ نظر آیا کہ دو ٹرک سڑک کے ادھر اُدھر الٹے پڑے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دونوں آمنے سامنے سے آرہے تھے غالباً ڈرائیور نشے میں تھا۔ اس نے گاڑی کو کنارے نہیں کیا۔ اور ٹکر ہو گئی۔ میں نے دیکھا تو ایک ٹرک کے پیچھے ہندی میں لکھا ہوا تھا: سندے ہو یامندے، روز کھاؤ انڈے۔
میں نے سوچا کہ ٹکر ہونے سے پہلے دونوں اس بھرم میں ہوں گے کہ میرا ٹرک میرا ٹرک ہے اس کو نقصان ہونے والا نہیں۔ اگر کچھ ہواتو صرف دوسرے کا ہوگا۔ مگر جب ٹکر ہوئی تو دونوں کے دونوں تباہ ہوگئے۔ یہی عام جھگڑوں میں ہوتا ہے۔ دو فریق جب لڑتے ہیں تو پیشگی طور پر دونوں میں سے ہر ایک اپنے کو فاتح سمجھتا ہے۔ مگر لڑائی ہو جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ لڑائی دونوں کے حق میں تباہ کن تھی۔ دونوں میں سے کسی کو بھی اس سے فائدہ نہیں پہنچا۔
پونہ کی حد میں داخل ہوئے تو ریزرو بینک آف انڈیا کی بلڈنگ کے پاس ڈرائیور نے کسی وجہ سے گاڑی روکی۔ ہم تین آدمی در اچاریہ منی سوشیل کمار، سوامی چید آنند اور میں تھے۔ ہم نے سوچا کہ یہاں سے اپنے میزبان کو ٹیلیفون کر دیں تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ ہم پونہ میں پہنچ چکے ہیں۔
بینک کی بلڈنگ میں داخل ہوئے تو سوامی چندا نند نے گیٹ کے چوکی دار سے ٹیلی فون کی بابت پوچھا۔ اس نے بہت رکھائی کے ساتھ جواب دیا اور کہا کہ باہر پبلک ٹیلی فون لگا ہوا ہے۔ سوامی جی نے کہا کہ چوکی دار کو چھوڑئے۔ اندر چل کر دیکھتے ہیں۔ اتنے میں ایک شخص اسکوٹر سے وہاں آگیا۔ چوکی دار نے کہا کہ یہ ہمارے افسر ہیں اور ان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
آنے والا ہم لوگوں کو دیکھ کر خود ہی اسکوٹر سے اتر گیا اور نرمی کے ساتھ بولا : میں آپ لوگوں کی کیا سیوا کر سکتا ہوں۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ ہم ٹیلی فون کرنا چاہتے ہیں تو فوراً اس نے کہا کہ آپ ہم کو اپنا نمبر دیجئے ۔ میں خود ان کو ٹیلی فون کر کے بتا دیتا ہوں۔
یہی طریقہ ہر معاملہ میں درست ہے۔ نیچے کے لوگوں سے کبھی نہیں الجھنا چاہئے۔ ہمیشہ اوپر کے لوگوں سے ربط قائم کرنا چاہئے ۔ کسی معاملہ کو حل کرنے کا یہی صحیح طریقہ ہے۔ ۱۵ دسمبر کی شام کو ہم لوگ پونہ پہنچ گئے۔ رات یہاں گزاری گئی۔ پونہ ایک تاریخی شہر ہے۔ ۱۹۴۶ میں مہاتما گاندھی کچھ دنوں کے لئے پونہ میں ٹھہرے تھے۔ یہاں وہ ڈاکٹر دن شاہ مہتا کے زیر علاج تھے جو پونہ میں ایک کلینک (nature-cure clinic) چلا رہے تھے۔ مہاتما گاندھی کے سوانح نگار لوئی فشر (Louis Fischer) نے جولائی ۱۹۴۷ میں ان سے پونہ میں ملاقات کی۔ کے دوران مہاتما گاندھی نے احمد آباد میں ہونے والے ہندومسلم فساد کا ذکر کیا۔ نے کہا کہ اصل مشکل یہ ہے کہ ایک فریق چھرا مارنا اور قتل کرنا شروع کرتا ہے۔ اور پھر دوسرا فریق بھی ایسا ہی کرنے لگتا ہے۔ اگر دوسرا فریق اپنی اموات پر انتقامی کارروائی نہ کرے تو اس قسم کی چیز رک جائے گی:
The trouble is that one side begins stabbing and killing and then the other does likewise. If one side did not avenge its deaths the thing would stop (p. 424). بظاہر یہ بہت مشکل ہے۔ مگر اس مسئلہ کا یہی واحد حل ہے، اس کے سوا اور کوئی اس مسئلہ کا خواہ ہندوستان ہو یا اور کوئی ملک ہو۔ جب بھی ایک فریق کی طرف سے اشتعال انگیزی یا تشدد کا کوئی واقعہ ہو تو دوسرے فریق کو برداشت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اس کو روکنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ غلطی کو انتقام کا مسئلہ بنانا غلطی کو بڑھاتا ہے۔ غلطی کو عفو و درگزر کا مسئلہ بنانا
غلطی کی آگ کو پہلے ہی مرحلہ میں بجھا دیتا ہے۔
پونہ میں عبد الصمد صاحب نے بمبئی کے دو اخبار دکھائے۔ ایک روز نامہ انقلاب تھا۔ اس کے شمارہ ۷ دسمبر ۱۹۹۲ میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے پر مختلف اصحاب فکر کا رد عمل شائع کیا گیا تھا۔ جناب محمود ایوبی صاحب کا تاثر ان الفاظ میں نقل کیا گیا تھا : "اس صورت حال کو پیدا کرنے میں یقیناً بی جے پی ، وی ایچ پی ، اور سنگھ پریوار کا ہاتھ ہے۔ لیکن ان کے ہاتھ مضبوط کرنے میں بابری مسجد کے نام پر سیاسی دکان چمکانے والے مسلم لیڈروں نے بھی کافی اہم رول انجام دیا ہے۔ مسلم لیڈر صاحبان جو آج صبر کی تلقین کر رہے ہیں، وہی باتیں جب الرسالہ والے مولانا وحید الدین خاں لکھتے اور کہتے تھے تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ بزدلی کی تعلیم دے ان ہی لیڈروں نے لوگوں کو مشتعل کیا اور ہمیں آج یہ دن دیکھنا پڑا۔ اچھی بات ہے کہ مسلمان صبر و ضبط کا ثبوت دے رہے ہیں۔
ہفتہ وار بلٹز کے شمارہ ۱۲ دسمبر ۱۹۹۲ میں اس کے ایڈیٹر جناب ہارون رشید علیگ کا کا مضمون تھا۔ اس کا ایک پیرا گراف یہ تھا:
"ہر چند کہ ملک میں فسادات کی لہر پھیلی ہوئی ہے، مسلمانوں نے بڑے صبر و تحمل اور ٹھنڈے دل و دماغ سے کام لیا ہے۔ ورنہ تباہی و بربادی اور بھی زیادہ ہوتی۔ وہ نام نہاد مسلم لیڈر جو اشتعال انگیز بیان دینے میں بے مثال تھے، وہ بھی آج مولانا وحید الدین خاں کی بولی بول رہے ہیں اور قوم کو صبر و ضبط سے کام لینے کی تلقین کر رہے ہیں۔
پونہ میں لوگوں نے ایک ماروتی وین تیار کی تھی اس میں مجھ کو سفر کرنا تھا۔ ساتھ پونہ کے چند مسلم احباب بھی شامل رہتے۔ اس طرح میں ایک علیحدہ گاڑی میں اپنے احباب کے درمیان سفر کرتا۔ ٹھہرنے کے مقام پر کسی مسلمان کے یہاں ٹھہرتا اور اجتماع کے وقت منچ پر جا کر تقریر کر دیتا اور پھر اپنے لوگوں میں واپس چلا آتا۔
یہ طریقہ مقصد سفر کے خلاف تھا۔ چنانچہ میں نے مذکورہ ماروتی وین پونہ میں روک دی۔ احباب کو بھی سفر سے منع کر دیا۔ میں نے طے کیا کہ مجھے شاندی یا ترا کی بقیہ ٹیم کے ساتھ ہی اپنا پورا وقت چلنا، اٹھنا اور بیٹھنا، سونا اور کھانا۔ غرض اس دوران دن اور رات انھیں لوگوں کے
ساتھ رہنا ہے۔ تاکہ ایک طرف شانتی یا تر ا کے پروگراموں میں مکمل شرکت ہو اور اسی کے ساتھ ہر ازلان وطن سے قریبی تعارف بھی ہو سکے۔ چنانچہ یہ پورا سفر اسی طرح گزرا۔
۱۶ دسمبر ۱۹۹۲ کی صبح کو پونہ سے شانتی یا ترا شروع ہوئی۔ سامنے ایک جیپ میں شانتی گیت کی ریکار ڈنگ چل رہی تھی۔ پیچھے ہماری کاروں کا قافلہ تھا یہی صورت آخر تک جاری رہی جیپ سے جو گیت نشر ہو رہا تھا وہ بڑا اثر انگیز تھا۔ گیت کا ایک شعر یہ تھا: یدمنی بھلا کسی سے کرنا نہ سکو تو برا کسی سے مت کرنا ایک اور گیت کے کچھ شعر یہ تھے:
آشا کی دیپک جلنے دو ٹوٹے ہوئے دل کو جڑنے دو سب کو اک راہ دکھانا ہے بادھائیں دور ہٹانا ہے اتہاس کے پنے لکھنے دو گنگا جمنا کو ملنے دو آخری شعر سن کر میرے دل کی عجیب کیفیت ہو گئی۔ ایسا محسوس ہوا کہ وہ بات گیت بن کر سڑکوں پر گونج رہی ہے جس کو سوامی ویویکا نند نے سو سال پہلے کہا تھا کہ میں اپنے مستقبل کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں کہ اسلام باڈی اور ہند و برین دونوں مل کر نئے شاندار انڈیا کی تعمیر کر رہے ہیں۔ دل میں یہ تمنا ابھری کہ گنگا اور جمنا کے یہ دھارے ایک ہو کر کاش ایک بڑا سیلاب بن سکیں۔ یہ شانتی یا ترا جگہ جگہ سے گزرتی ہوئی ۱۵ دسمبر سے ۲۱ دسمبر تک جاری رہی۔ وہ پونہ سے شروع ہوئی پھر چا کن، منچر، سنگم نیر، ارادھنا، نیر،ارادھنا،ادیان،ناندگاؤں،مالیگاؤں،شری ناندگاؤں، مالیگاؤں، شری رام پور، نواسا، اورنگ آباد، جالنہ، بیٹر، عثمان آباد، لاتور، احمد پور، ناندیڑ پر بھنی، ہنگولی، آکولہ، امراوتی، سیوا گرام، وردھا، ناگپور پہنچی۔ ناگپور اس یاترا کا آخری مقام تھا۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۹۲ کو پونہ سے شانتی یاترا شروع ہوئی۔ اور ۲۰ اکتوبر کو ناگپور میں ختم ہوئی۔ جگہ ٹیلی فون کے ذریعہ پیشگی طور پر تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے تھے۔ اس علاقہ میں تناؤ کی وجہ سے جلسہ جلوس بالکل ممنوع ہے۔ مگر پونہ کے مسٹر شانتی لال موتھا کے اثر و رسوخ اور ان کی کوششوں سے ہر جگہ کے لئے اجازت حاصل ہوگئی۔ اور یہ سب کچھ صرف چند دنوں میں انجام پایا۔ طریقہ یہ تھا کہ بستی میں داخل ہو کر پہلے ایک گھنٹہ یا دو گھنٹہ تک پیدل سفر پر یا ترا کی جاتی۔
करने हेतु अखिल महाराष्ट्राद जैन संघटना द्वारा आयोजित पुणे से नागपूर शांतियात्रा का आगमन अमरावती महानगरमें सोमवार दिनांक २१ दिसंबर को सुबह ८.०० बजे होता है। जिसमें निम्न महानुभाव आचार्य सुशीलमुनिती, दिल्ली (जैन धर्म के जियो और जीने दो तथा अहिंसा परमोधर्म सत्य के विश्वप्रसारक) स्वामी चिदानन्दजी, दिल्ली (अध्यक्ष परमार्थ निकेतन, दिल्ली) मौलाना वहीदुद्दीन खान (प्रेसीडेंट ऑफ इस्लामिक सेंटर) शांतीलालजी मुच्छा (सर्वधर्मीय सामुहिक विवाह प्रणेते) पद्मभूषण अण्णा हजारे ★ अमरंवर मुनी, दिल्ली ★ अब्दुल करीम फारुख, नागपूर ★ माधव गडकरी (माजी संपादक लोकसत्ता) ★ गोविंदभाई श्रॉफ (ज्येष्ठ समाजसेवक) ★ तात्यासाहेब गिरवालकर (पुसुमप्रम) ★ गंगाधर पातटपये (साहित्यीक) ★ डॉ. यु.म.पठाण (साहित्यीक) ★ प्राचार्य मुंगुसकर एवं ★ शूफुकर हुसेन ( अध्यक्ष फाईज-ए-आम-ट्रस्ट) आदी मान्यवर भी इस शांतियात्रा में सहभागी होकर इंदुपुरी नगरमें आगमन कर रहे हैं। जो सुबह ८.०० बजे बर्तन बाजार स्थित श्री जैन श्वेतांबर मंदीर से निकलकर अमरावती महानगरमें जियो और जीने दो तथा अहिंसा परमोधर्म इस सत्योंका प्रसार करने एंव शांती तथा सदिभाव का वातावरण बनाने निम्नो मार्गसे भ्रमण करेंगे। शांती यात्रा भ्रमण मार्ग सबासाप, इंबपुरी सीडक्ती, इतवारा बाजार चौक, जवाहर गेट, प्रभात चौक, सरोज चौक, जयस्तंभ से साम्र्ता काम्प्लेक्स होतेहुये नेहरु मैदान के शहीद समरर्क में पहुंचेंगी। इस अवसरपर शांती यात्रा का समापन एवं बीदाई समारोह अमरावती जिसकी पालकमंत्री श्रीमती वसुधाताई देशमुख अमरावती महानगरके महापीर डॉ. श्रीमान देवीसिंहजी शेखावत अमरावती महानगरपालिका मंडल के अध्यक्ष अँड.श्रीमान केशवरावजी बोथरा की उपस्थितीमें संपन्न होगा। आपसे विनम्र अनुरोध है की, इस महान कार्यमें सहभागी होने आपभी शांतीयात्रामें अपने मित्रोसाइ शरीक होइये। - विनीत - पुखमचंद दुवा ★ अभय फोटेचा ★ राजेंद्र बुनावत ★ मोहनलाल ओस्तवाल ★ नेमीचंद जैन ★ सुवर्ण गांव ★ प्रदीप जैन ★ अनिल कोठरी ★ फोमल बोथरा ★ नदिन चोरडीया ★ अमृत ★ राजेंद्र मंसाळी ★ मेहाकुमार चोरडीया ★ दिलीप सफलेचा ★ विजय बोथरा ★ प्रकाश मंसाळी ★ विजय ★ विजय मंसाळी ★ शांतीलाल गर्दीया ★ फंनीलछ ओस्तवाल जियो और जीने दो का नारा है ।
اس دوران لوگ بڑی تعداد میں نکل نکل کر ہمارے قافلہ میں شریک ہوجاتے۔ اس طرح یہ شانتی یاترا اپنی طے ہوئی کسی متعین مقام پر پہنچتی۔ یہاں پہلے سے اسٹیج تیار رہتا تھا۔ یہاں ہم لوگ ٹھہر کر تقریر کرتے جس میں امن اور تعمیر کی طرف متوجہ کیا جاتا۔ یہی طریقہ پورے سفر میں تمام مقامات پر جاری رہا۔ ہر جگہ لوگوں میں غیرمعمولی جوش تھا۔ میں نے دیکھا کہ سڑک پر کوئی شکریاتشرینی لا کر ہم لوگوں کو دے رہا کوئی ہار لئے چلا آ رہا ہے۔ کوئی پھول پیش کر رہا ہے۔ غرض لوگوں میں عجیب جوش تھا ۔ شانتی یاترا کے آخر میں ہونے والے جلسہ میں ہر جگہ لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ امن اور شانتی کی آواز ہر آدمی کے دل کی آواز ہے۔ امن اور شانتی کی آواز بلند کرنا گویا لوگوں کی فطرت کے تاروں کو چھیڑ دینا ہے۔ اور جو پکار فطرت انسانی کے مطابق ہو، اس کو لوگوں کی طرف سے لبیک لنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ چاکن میں داخل ہونے کے بعد یہ یاترا، جلسہ اور دوسرے پروگرام کئے گئے ۔ دوران چاکن کے ایک صاحب نے پوچھا کہ شانتی یاترا نکالنے سے آپ کا مقصد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا مقصد انسان کی فطرت کو جگانا ہے۔ اس وقت دیش میں جھگڑے کی جو فضا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے غلط باتیں کرکے انسان کو اس کی فطرت سے ہٹا دیا ہے۔ ہم انسان کو دوبارہ اس کی فطرت کی طرف واپس لانا چاہتے ہیں۔ اس دنیا میں ، فطرت سے ہٹنے ہی کا نام بگاڑ ہے، اور فطرت پر قائم ہونے کا نام بہاؤ۔
پھر میں نے کہا کہ سکھ والا سماج بے سکھ کو برداشت کرنے سے بنتا ہے۔ ضرورت ہے کہ لوگوں میں یہ مزاج بنایا جائے کہ کبھی کوئی کڑوی بات سامنے آجائے تو اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ کیوں کہ کبھی کبھی کوئی خلاف مزاج بات تو بہرحال پیش آئے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ پھول میں بھی کانٹے پھر خدا کا باغ جب کانٹوں سے خالی نہیں تو ہمارا سماج کس طرح ایسی چیزوں سے خالی ہو سکتا ہے۔
منچر میں حسب پروگرام شانتی یاترا کی تمام کارروائی انجام پائی۔ کئی لوگوں سے باتیں ہوئیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ لوگوں نے اپنی شانتی یاترا اور اشارہ اشٹ سے کیوں شرو ع کیا۔ میں ابھی کچھ بولا
اگر راشٹر میں تو یہ مہاراشٹر ہے۔ اس لئے بالکل پنچول تھا کہ اس کو پہلے لیا جائے ۔ کیوں کہ ہمارا شٹر میں شانتی آجائے تو اس کا اثر سارے راشٹر پر پڑے گا۔
اس سفر میں میری ملاقات ایک ہندو لیڈر سے ہوئی ۔ وہ انتہا پسند ہند وگروپ سے تعلق میں نے کہا کہ میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ شرط یہ ہے کہ آپ کسی ریزرویشن کے بغیر مجھ سے بات کریں۔ وہ راضی ہوئے تو ہم دونوں ایک الگ کمرہ میں بیٹھے اور پھر دونوں میں بات
میں نے پوچھا کہ آپ ہندوستانی مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک لفظ میں یہ کہ (live or leave) یعنی بھارت میں رہنا ہے تو ہمارے کہنے کے مطابق رہو ، ورنہ دیش چھوڑ کر چلے جاؤ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ اب یہ بتائیے کہ مسلمان اگر دونوں میں سے کوئی کام نہ کریں، وہ نہ آپ کے کہنے پر چلیں اور نہ دیش کو چھوڑ کر باہر جائیں ، تو پھر آپ کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پھر ہم ان کو سبق سکھا دیں گے۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ابھی تک اپنی طاقت کو نہیں جانتا تھا۔ اب رام مندر موومنٹ کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ ہندو نے اپنی طاقت کو جان لیا ہے۔ آپ نے دیکھ لیا کہ ہندو طوفان کے مقابلہ میں بابری مسجد اور سپریم کورٹ کے فیصلے تنکے کی طرح بہہ گئے۔ پھر یہ مسلمان کس طرح اس سیلاب کا مقابلہ کریں گے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ اپنی بات کہہ چکے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ اجودھیا کا اسٹرکچر پتھروں کا ڈھیر تھا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ کچھ لفظوں کا مجموعہ تھا۔ آپ پتھر کے ڈھانچہ اور لفظوں کے مجموعہ کو انسان سے برابر (equate) کر رہے ہیں۔ آپ کا یہ ایکویشن غلط ہے۔ پتھروں کے ڈھانچے کسی طوفان میں گر سکتے ہیں۔ الفاظ کے اوراق کسی آندھی میں اڑ سکتے ہیں۔ مگر پندرہ کروڑ انسانوں کے اوپر رولر چلانا کسی طرح ممکن نہیں۔ میری یہ بات سن کر وہ خاموش ہو گئے۔
ہم سنگم نیر میں داخل ہوئے تو ہماری آگے کی جیپ پر اس کے الفاظ گونج رہے تھے ۔ گنگا جمنا کو ملنے دو ۔
ہماری پارٹی کے ایک شخص نے کہا کہ ہمارا دیش گنگا اور جمنا کا سنگم ہے۔ اسی طرح یہ دیش مختلف کلچر کا بھی سنگم ہے۔ سنگم نیرا گر دیش کے اس پہلو کی ایک مثال بن جائے تو یہ اس کے نام کے
لحاظ سے اس کے لئے سب سے اچھی بات ہوگی۔
ارادہ مضادیان میں ہم لوگ ایک جین مندر میں گئے۔ وہاں کھانے کا انتظام تھا۔ اس کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے ہم کو ایک چھوٹے کمرے میں لے جایا گیا۔ یہاں ایک بستر بچھا ہوا تھا۔ ایک بوڑھے آدمی لیٹے ہوئے تھے۔ چادر اٹھائی گئی تو میں نے دیکھا کہ وہ بالکل دلے ہو چکے ہیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ ہڈی کے ڈھانچے کے اوپر ایک سوکھی کھال لپٹی ہوئی ہے۔ بولنے کی طاقت بھی ان میں باقی نہیں رہی تھی۔ تاہم آنکھ کھول کر وہ آنے جانے والے کو دیکھ سکتے تھے۔
پہلے میں نے سمجھا کہ بیماری کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوا ہے۔ مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ میں مذہب کے مطابق وہ عمل کر رہے ہیں جس کو سنتھارا کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ صرف جین دھرم میں ہے ۔ اس میں آدمی خود اپنے ارادہ سے ہر قسم کا کھانا اور پانی مکمل طور پر چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اسی طرح بھوکا پیاسا پڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن مر جاتا ہے۔ ایک جینی اچاریہ نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ہم مرتیو سے نہیں مرتے، ہم اپنی مرضی سے شریر چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسرے جینی نے کہا: ڈس کے جانے سے پہلے ہم خود ہی رزائن کر دیتے ہیں۔
اس دنیا میں کوئی شخص کتنا ہی زیادہ غیر معقول رویہ اختیار کرے، اس کو بہر حال اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لئے الفاظ مل جائیں گے۔ اچاریہ منی سوشیل کمار نے یہ لطیفہ بتایا کہ غلام احمد قادیانی نے ایک عورت سے یہ کہہ کر نکاح کیا کہ اس سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو میری جانشینی کرے گا۔ نکاح ہو گیا مگر اس خاتون سے کوئی لڑکا پیدا نہ ہو سکا۔ بلکہ دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ اردو اخبار نے مرزا صاحب کی اس بات کو نقل کرتے ہوئے ان کا مذاق اڑایا۔ مرزا صاحب نے جواب دیا: اس عقل کے اندھے کو پتہ نہیں کہ دو انڈنی مل کر ایک روپیہ بن جاتا ہے۔ تمثیل کے ذریعہ استدلال کتنا کمزور ہوتا ہے، یہ واقعہ اس کی ایک دلچسپ مثال ہے۔
مالیگاؤں میں ۷ دسمبر کی رات گواری۔ پدیا ترا کے بعد ایک بڑا اجتماع ہوا۔ ہندو اور مسلمان دونوں اس میں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ دوسرے لوگوں کی تقریروں کے ساتھ میری بھی تقریر ہوئی۔ اگلی صبح کو فجر کی نماز کے بعد کچھ لوگ ملاقات کے لئے قیام گاہ پر آئے۔ لقمان صاحب نے وہاں کے ایک صاحب کے بارہ میں بتایا کہ کل وہ میرے ساتھ آپ کو سننے
کے لئے آئے تھے۔ راستہ میں وہ مجھ سے جہاد کی باتیں کرتے رہے۔ مگر جب آپ کی باتیں سن کر واپس ہوئے تو انھوں نے کہا کہ میرا دماغ بالکل بدل گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جہاد کا وقت نبھیں ہے بلکہ صبر کا وقت ہے۔ اور یہ کہ صبر کوئی منفعل حالت نہیں، وہ زبردست عمل ہے۔ اور آج اسی صابرانہ عمل کی ضرورت ہے۔
اس یاترا کے دوران ہم لوگ جہاں جہاں گئے، ہر جگہ نئے نئے تجربے حاصل ہوئے۔ کو ہم نانڈ گاؤں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک مقام پر پہنچے۔ یہاں کئی دکانیں جلی ہوئی نظر آئیں۔ دکان سے ابھی تک دھواں اٹھ رہا تھا اور پائپ کے ذریعہ وہاں پانی ڈال کر اس کو آخری طور پر بجھا یا جارہا تھا۔ اس کو دیکھ کر دل کو سخت جھٹکا لگا۔ میں نے سوچا کہ اپنی دکان ہو تو آدمی اس کو نہایت شوق کے ساتھ سنوارتا ہے، اور موجودکان دوسرے کی ہو اس کو بے رحمی کے ساتھ آگ لگا دیتا ہے۔ خود غرضی کا دین بھی کیسا عجیب ہے۔
آگے بڑھے تو ایک اسکول کے چھوٹے بچے یونیفارم میں آگئے اور ہمارے ساتھ اپنے ننھے پیروں کے ساتھ چلنے لگے۔ ان کو دیکھ کر مجھے کسی کا یہ قول یاد آیا کہ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ خدا انسانوں سے مایوس نہیں ہوا۔ سوامی چیدانند نے اپنی تقریر میں کہا کہ ناند گاؤں میں اس قسم کا دنگا پہلی بار ہوا ہے۔ میں کہوں گا کہ آپ لوگ یہ طے کر لیں کہ یہی پہلی بار ہی ہو اور یہی انتم بار بھی۔
مالیگاؤں میں پیاترا۔ بہت لمبی رہی۔ میرا گمان تھا کہ مالیگاؤں ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ ہوا کہ وہ کافی بڑا ہے اور بالکل شہر کی مانند ہے۔ مالیگاؤں میں ہم لوگ شام کو پہنچے۔ پیاترا کے بعد تقریروں کا پرو گرام تھا۔ کافی لوگ شریک ہوئے۔ صبح کو وہاں سے روانگی تھی۔ ابھی تک وہاں رات کا کرفیو چل رہا تھا۔ یہاں الرسالہ کے قارئین بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ مگر بہت کم لوگوں سے ملاقات ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مقامی پبلسٹی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو میری آمد کا علم نہ ہوسکا۔ شری رام پور میں حسب معمول تمام پروگرام ہوئے اور کافی کامیاب رہے۔ کے دوران شری رام پور کا ایک سبق آموز قصہ معلوم ہوا۔ یہاں ایک بزرگ کی قبر ہے۔ ۶ دسمبر کے بعد کسی شریر آدمی نے رات کے وقت قبر کو توڑ ڈالا۔ اس قسم کا ایک واقعہ عام طور پر دو فرقوں میں کشیدگی
اور پھر خونیں فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ مگر شری رام پور میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ قصہ پیش آیا تو فوراً ہی بستی کے ہندو اور مسلمان وہاں پہنچے۔ اور دونوں نے مل کر قبر کو پھر سے بنایا۔ اور پھر اس کے اوپر حسب قاعدہ چادر چڑھائی۔ انھوں نے فساد کے بم کو ڈیفیوز کر دیا۔ یہ واقعہ، 10 دسمبر کو مجھے معلوم ہوا جب کہ میں شانتی یاترا کے تحت شری رام پور میں پہنچا تھا۔
14 دسمبر کی شام کو ہم نواسا پہنچے۔ یہاں پد یا ترا کے بعد حسب معمول جلسہ ہوا جس میں ہمارے ساتھیوں نے تقریریں کیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ زندگی میں کبھی کبھی اختلاف کا پیدا ہونا عین فطری ایسا ہمیشہ ہوگا۔ خواہ وہ ایک سماج ہو یا کوئی دوسرا سماج۔ پھر اس کا حل کیا ہے۔ میں نے کچھ واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے حل کے لیے میں آپ کو دو آسان نسخہ بتا تا ہوں۔ ایک یہ کہ ۔ دوری کو دور کیجیے۔ یعنی ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ کے لوگ آپس میں خوب ملیں۔ وہ باہمی دوری کو ختم کریں۔ اس کے بعد بہت سی غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔ دوسرے یہ کہ جب جھگڑے یا اختلاف کی صورت پیدا ہو تو ایسے موقع پر آپ کا اصول ہونا چاہئے ٹکراؤ نہیں، تدبیر۔ یعنی ایسے مواقع پر آپ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ تدبیر کا طریقہ اختیار آپ ہم پر بم نہ ماریں بلکہ بم کو ڈیفیوز کر دیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ جھگڑے کو اس کے پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیں گے ۔
میری تقریر کے بعد کچھ ہندو نوجوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کبھی اس طرح سوچا مگر آج سمجھ میں آیا کہ یہی اصل بات ہے اور ہمیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔ میں نے بتایا کہ اس کی ایک مثال دسمبر ۱۹۹۲ میں ہونے والا دہلی کا فساد ہے۔ دہلی میں ۱۲ دسمبر کو میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے غصہ کے ساتھ کہا " اس وقت ایسٹ دہلی میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ ہندو مسلم فساد نہیں، یہ پولیس مسلم فساد ہے"
یہ بات انھوں نے ویلکم کالونی کے فساد کے بارہ میں کہی تھی۔ مگر جس ایسٹ دہلی میں ویلکم کالونی ہے، اسی ایسٹ دہلی میں عین اس کے پاس ہی گو نڈہ کالونی ہے۔ اور گونڈہ کالونی میں نہ کوئی فساد ہوا اور نہ کرفیو لگا۔ حالانکہ وہاں بھی " سازش " کے وہی واقعات ہوئے جس کا حوالہ دوسرے مقامات
پر دیا جاتا ہے۔
۱۳ دسمبر ۱۹۹۲ء کو میری ملاقات مولانا محمد قاسم قاسمی سے ہوئی۔ وہ مدرسہ حسین بخش میں استاد ہیں اور گونڈہ کالونی میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ۸ دسمبر کو جب پرانی دہلی میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی تو فور اًوہ گونڈہ کالونی چلے گئے اور ایک ہفتہ تک مسلسل وہیں رہے۔ انھوں نے ذاتی واقفیت کے تحت کئی واقعات بتائے۔
انھوں نے بتایا کہ گونڈہ کالونی میں ایک ہندو کالج ہے۔ مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ اس کالج میں ہتھیار جمع کئے گئے ہیں اور لڑکے وہاں اکٹھا ہو کر باقاعدہ فساد کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ نے فوراً پولیس کے ذمہ داروں کو ٹیلی فون کیا اور انھیں بتایا کہ یہاں فساد کا خطرہ ہے، آپ لوگ اس کو روکنے کی کارروائی کریں۔ اس کے بعد پولیس کی ایک پارٹی کالج میں داخل ہوئی۔ اس نے تلاشی لی تو خبر صحیح نکلی۔ پولیس نے اسی وقت تمام ہتھیار اپنے قبضہ میں کر لئے اور لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔
اسی طرح گونڈہ کالونی کے مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ایک ہندو وکیل کے مکان کے اوپر ی حصہ میں گولہ بارود جمع ہے اور وہاں بم بنائے جا رہے ہیں۔ تحقیق کر لینے کے بعد کچھ سمجھدار مسلمان اس ہندو وکیل کے یہاں گئے اور اس سے کہا کہ آپ کے اوپر جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب ہم کو معلوم ہو چکا اب آپ یا تو سارا سامان ضائع کر دیں، ورنہ ہم پولیس کو بلاتے ہیں۔ ہندو وکیل نے معافی مانگی اور اسی وقت تمام سامان ضائع کر دیا۔
ایک رات کو کار سیوکوں کی ایک گاڑی گونڈہ کا لونی میں آگئی۔ وہ ہر ہر مہادیو کے نعرے لگانے اس کو سن کر کچھ مسلم نوجوان باہر نکل آئے۔ انھوں نے بھی اللہ اکبر کے نعرے لگانے شروع کر دئے۔ اس وقت فوراً کچھ سنجیدہ مسلمان باہر آئے۔ انھوں نے مسلم نوجوانوں کو روکا اور پولیس کو ٹیلی فون کر کے بلایا۔ پولیس نے اسی وقت کارروائی کر کے کار سیوکوں کو وہاں سے بھگا دیا۔
مولانا قاسم صاحب نے بتایا کہ ۶ دسمبر کے بعد جب کشیدگی پیدا ہوئی تو فوراًہی گونڈہ کالونی والوں نے باہم مشورے سے امن کمیٹی بنائی۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں کو شریک کیا۔ ۲۱ الرسائل اکتوبر ۱۹۹۳ء
امن کمیٹی کے فیصلے کے مطابق، کالونی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک ٹیم پہرہ داری کے لئے مقرر اس میں کوئی نوجوان نہیں پایا گیا۔ سب ادھیڑ عمر کے لوگ شامل تھے۔ ان کوششوں کے نتیجہ میں عین فساد کے زمانہ میں بھی گو نڈہ کا لوٹی پوری طرح فساد سے محفوظ رہی۔ حتیٰ کہ وہاں کرفیو لگانے کی نوبت بھی نہیں آئی۔
فساد کے بم سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ دانش مندی کے ذریعہ فساد کے بم کو ڈیفیوز کر دیا جائے ۔ فرقہ وارانہ فساد کے نقصان سے بچنے کی اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر نہیں۔ اورنگ آباد میں شانتی یاترا کا پروگرام معمول کے مطابق مکمل کرنے کے بعد ہم نے یہاں کے گیسٹ ہاؤس میں رات گزاری۔ مجھے یاد آیا کہ سر جادو نا تھ سرکار نے اپنی تاریخی کتاب (Aurangzgeb) میں لکھا ہے کہ ۱۶۵۸ء میں جب کہ انڈیا میں اور نگ زیب کی حکومت تھی۔ اورنگ آباد میں اجناس کا ریٹ یہ تھا: گیہوں اور دال ایک روپیہ میں ڈھائی من، جوار اور باجرہ ایک روپیہ میں ساڑھے تین من ، گڑ ایک روپیہ میں آٹھ من، گھی ایک روپیہ میں چار سیر (جلد۱، صفحہ ۱۷۳)
یہ ساڑھے تین سو سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت روپیہ مہنگا تھا اور چیزیں سستی تھیں۔ اب چیزیں مہنگی ہیں اور روپیہ سستا ہے۔ عام انسان کے لئے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ یہ کہ قدیم انسان کے لئے مزید یہ تھا کہ اس کو سکون کی نعمت حاصل رہتی تھی۔ جب کہ آج یہ حالت ہے کہ کم والے کو سکون ہے اور نہ زیادہ والے کو۔
جالنہ میں پہر ہاترا کے بعد بہت بڑا اجتماع ہوا۔ دور تک آدمی ہی آدمی دکھائی دے رہے تھے۔ تقریروں میں شام ہو گئی۔ یہاں شام سے صبح تک کا کرفیو چل رہا ہے۔ لوگ نہایت دلچسپی کے ساتھ سن رہے تھے، تھے۔ مگرکرفیو کے اندیشہ کی وجہ سے آخر میں اٹھنے لگے۔ جالنہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ मंच کے سامنے زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے فوراً اعلان کرایا کہ آپ لوگ کرفیو کا دھیان نہ آخر تک یہاں کے بیانات کو سنیں۔ اور اس کے بعد اطمینان کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس چنانچہ جلسہ کی کاروائی مزید دیر تک جاری رہی۔
میں نے جالنہ کی تقریر میں کہا کہ یہاں اتنے آدمی ہیں جیسے کہ پوری بستی امنڈ آئی ہے۔
سے ظاہر تا ہے کہ لوگ امن و شانتی کے کتنے زیادہ خواہشمند ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان امن و سکون ہی کو پسند کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں کیا وجہ ہے کہ کبھی کبھی ہمارے درمیان دنگا ہو جاتا ہے۔
میں نے کہا کہ اسی کی وجہ یہ ہے کہ بعض چیزیں جس کو بھلا وے کے خانہ میں ڈالنا تھا اس کو ہم عمل کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ پیدا کرنے والے نے جب انسان کو پیدا کیا تو اس کے ساتھ اس نے ایک اور چیز پیدا کی جس کو آپ گلاب کہتے ہیں۔ گلاب کا پھول پھولوں کا راجہ ہے۔ کتنا اچھا ہوتا ہے لیکن گلاب کا پھول جس ڈنٹھل میں اگتا ہے، اس میں ساتھ ہی کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ گویا فطرت کے ایک واقعہ کی زبان میں یہ پیغام دیا گیا کہ اس دنیا میں ہمیشہ پھول کے ساتھ کانٹے بھی یہاں اگر پھول لینا ہے تو کانٹے کو نظر انداز کرنا ہو گا۔ کانٹے کو نظر انداز کئے بغیر اس دنیا میں پھول جیسی قیمتی چیز نہیں مل سکتی۔ اسی اصول پر ہمیں اپنی سماجی زندگی کو چلانا چاہئے۔ ۱۸ د سمبر کو بیٹر پہنچے۔ پہلے شمار لوگ شانتی یاترا میں شریک ہو گئے ۔ آخر میں جب اجتماع ہوا تو اتنے آدمی اکٹھا ہوئے کہ دور دور تک آدمی ہی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ دوسروں کے ساتھ میری بھی کسی قدر مفصل تقریر ہو ہوئی۔ تقریر کے بعد بہت سے لوگوں نے غیر معمولی تاثر کا اظہار ایک مقامی ہندو جرنلسٹ راجندر منت نے بتایا کہ میں آگے پنچ کے پاس بیٹھا تھا۔ قریب ہی یہاں کے کلکٹر مسٹر بننے کمار شرما بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آپ کی تقریر بہت غور سے سن رہے تھے اور اس سے اثر لے رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ کی تقریر سنتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو
احمد پور میں شانتی یاترا کے پروگرام کی تکمیل کے بعد ایک ہندو لیڈر مسٹر کیدار سے ملاقات انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر کے بعد کا پٹی میں کچھ واقعات ہوئے ۔ اس میں ایک مندر بھی توڑ دیا اس کے بعد وہاں ہندو اور مسلمان جمع ہوئے۔ سب نے اس کام کی مذمت کی اور طے کیا کہ دونوں مل کر دوبارہ مندر تعمیر کریں گے ۔ چنانچہ دونوں فرقہ کے لوگوں نے مل کر خود اپنے ہاتھ سے مندر کی نئی تعمیر کی. اس میں کوئی بھی سرکاری امداد قبول نہیں کی گئی۔
۱۹ دسمبر ۱۹۹۲ کو دو پہر کے وقت ہمارا قافلہ لاتور پہنچا ۔ لاتور (Latur) کا نام پہلے تالور
لاتبور کا لفظ ادائگی میں مشکل تھا، اس لیے وہ دھیرے دھیرے لاتور ہو گیا۔ یہی مثال ہر معاملہ کی ہے۔ عوام ہمیشہ اس چیز کو قبول کرتے ہیں جو انہیں آسان معلوم ہوتا ہو۔ وجہ ہے کہ سطحی اسکیمیں، بہت جلد لوگوں کے درمیان مقبول ہو جاتی ہیں اور گہرے اور دور رس منصوبے لوگوں کو اپیل نہیں کرتے۔
لاتور جنوبی ہند کے اس علاقہ میں ہے جس کو دکن کہا جاتا ہے۔ پہلے یہ ریاست حیدر آباد کا یہاں مسلمان تقریبا ۲۵ فی صد کی تعداد میں آباد ہیں۔
حسب معمول لاتور کی سرحد پر پہنچ کر ہم لوگ گاڑی سے اتر گئے اور سڑکوں پر پیدل چلتے ہوئے آگے بڑھے۔ پدیا ترا کے دوران ہم ایک مقام پر پہنچے۔ یہاں ایک نیا منظر ہمارے سامنے یہ ایک بڑا مندر تھا، اس کے چاروں طرف دکانیں بنی ہوئی تھیں ۔ ان دکانوں کی تعداد گویا یہ ایک مندر کا مپلکس تھا۔ اس مندر کے چاروں طرف سولہ راستے تھے یعنی ۱۶ سڑکیں جو مندر سے شروع ہو کر شہر کی طرف جا رہی تھیں اس قسم کا مندر میں نے پہلی بار دیکھا۔ اس مندر کے قریب ہی ایک مسجد کا نیا گنبد دکھائی دے رہا تھا۔ یہ ایک زیر تعمیر مسجد تھی جو اب تکمیل کے آخری مرحلہ میں تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ بہت بڑی مسجد ہے۔ قدیم مسجد میں کافی توسیع کر کے تقریباً ۵۰ لاکھ روپیہ کی لاگت سے اس کو از سر نو بنوایا جا رہا ہے۔ ہم نے پایا کہ یہاں اگر چہ دونوں پاس پاس ہیں مگر نہ مسجد والوں کو مندر سے کوئی شکایت ہے اور نہ مندر والوں کو مسجد سے کوئی شکایت۔ لاتور کے ہندو اور مسلمان دونوں مل جل کر امن کیساتھ رہ رہے ہیں۔ حالیہ ہنگامہ خیز دنوں میں بھی یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی جیسی کوئی چیز پیدا نہیں ہوئی۔ یہاں کے مسلمانوں کو پر امن زندگی کی یہ قیمت ملی ہے کہ اس علاقہ میں وہ خوشحالی کے لیے مشہور ہیں۔ وہ بڑی بڑی تجارتیں کر رہے ہیں۔ اس لیے لاتور اس بے بنیاد نظریہ کی تردید ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کا تعلق در اصل اس بات سے ہے کہ لوگ اس حقیقت کو بھول جائیں کہ زندگی کا ایک لازمی اصول اجتماعی زندگی میں ناخوش گواریاں ضرور پیش آتی ہیں۔ ایسے مواقع پر اعراض نہ کرنے سے فساد ہوتا ہے، اور اعراض کا طریقہ اختیار کرنا ہر فساد کو روک دیتا ہے۔ ۱۹ دسمبر کا پروگرام مکمل کرنے کے بعد آج کی رات ناندیڑ میں گزاری۔ یہاں ایک ہندو تاجر
ہمارے میزبان تھے ۔ نا ندیڑ میں بڑی تعداد میں رسالہ کے قارئین موجود ہیں ، مگر شانتی یا ترہ کا پروگرام بہت کم وقت میں بناا تھا ۔ اس لئے مقامی طور پر اس کی زیادہ پبلسٹی نہ ہوسکی ۔ رسالہ کی بہت تھوڑی تعداد سے ملاقات ہوسکی ۔
آل انڈیا ریڈیو ناندیڑ کی ٹیم نے ایک انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا موضوع اسلام تھا۔ انٹرویو ر نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے ، اس کے بارے میں آپ ہمارے سننے والوں کو بتائیں۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں ۱۰منٹ تک کچھ بنیادی باتیں بتائیں۔ میں نے خاص طور پر دو آیتوں کی تشریح کی۔ ان مع العسر یسرا ۔ اور و اما ما ينفع الناس فيمكث في الارض۔ اس سفر کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ہندو صاحبان اسلام کے بارہ میں سننا زیادہ پسند جب بھی میں نے اسلام کے حوالے کے بغیر عمومی انداز میں کچھ کہنا چاہا تو انھوں نے تقاضا کیا کہ آپ اسلام کے حوالے سے ہمیں بتائیں۔ ہم ایک عالم کی زبان سے یہ سننا چاہتے ہیں کہ اسلام
ناندیڑ میں ہمارا رات کا قیام مسٹر پر کاش چند سیٹھی کے نئے تعمیر شدہ گیسٹ ہاؤس میں وہ ٹرانسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کی کمپنی کا نام سری شانتی روڈویز ہے۔ میری عادت ہے کہ میں ہر آدمی سے اس کے اپنے میدان کی بات کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ سنانے سے زیادہ سننے کا شوق رہتا ہے۔ میں نے مسٹر سیٹھی سے کہا کہ ہم نے اس سفر کے دوران سڑکوں پر چھڑک الٹے ہوئے دیکھے ۔ آخر سڑک کے یہ حادثات کیوں ہوتے ہیں۔ کیا اس کا سبب انجن کی خرابی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ سڑک کا کوئی حادثہ انجن کی خرابی کی وجہ سے وہ تقریباً ہمیشہ ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جو گاڑیاں اس وقت استعمال ہورہی ہیں، ان کے بریک اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ بہت ہی کم اس کا چانس ہوتا ہے کہ وہ فیل ہوجائیں ۔ اصل یہ ہے کہ ڈرائیور کبھی نشہ میں ہوتا ہے۔ کبھی رات کو گاڑی چلاتے ہوئے اس کو جھپکی آجاتی ہے۔ اس بن پر حادثہ پیش آجاتا ہے۔
میں نے سوچا کہ انسانی زندگی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ عام انسانوں کی حیثیت گاڑی جیسی ہے، اور لیڈر کی حیثیت ڈرائیور جیسی۔ سماج میں جو فسادات پیش آتے ہیں وہ حقیقۃ عام انسانوں کی
کسی خرابی کی وجہ سے پیش نہیں آتے۔ وہ ہمیشہ لیڈروں کی نالائقی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ لیڈر اپنے گھروں میں چپ ہو کر بیٹھ جائیں تو موجودہ فسادات اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد فطرت انسانوں کی رہنما ہوگی۔ اور فطرت کبھی رہنمائی میں غلطی نہیں کرتی۔ ناندیڑ میں ہم لوگ یہاں کا مشہور گورودوارہ دیکھنے گئے جو گرو گوبند سنگھ کے نام پر بنا ہے۔ یہ بہت بڑا اور بہت صاف ستھرا ہے۔ وہ ایک مکمل سکھ ادارے کے طور پر چلایا جارہا ہے۔ گرو گوبند سنگھ سکھوں کے دسویں اور آخری گروہ ہیں۔ وہ ۱۶۶۶ء میں پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ نے خالصہ تنظیم قائم کی جو ایک مسلح سکھ تنظیم تھی۔ وہ پنجابی کے علاوہ فارسی، عربی اور سنسکرت زبانیں بخوبی انھوں نے دسم گرنتھ کو مرتب کیا۔
ایک روز وہ اپنے مریدین کے درمیان تھے۔ لمبے مراقبہ کے بعد اچانک انھوں نے سر اٹھایا اور کہا کہ میری تلوار ایک سر مانگتی ہے۔ تم میں سے کون یہ قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ خاموشی کے ایک وقفہ کے بعد ایک شخص اٹھا۔ اس نے کہا کہ میں اس قربانی کے لئے تیار ہوں۔ گو بند سنگھ اور وہ آدمی دونوں ایک بند خیمہ میں چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد گو بند سنگھ خون آلود تلوار کے ساتھ باہر اور دوبارہ اسی قسم کی قربانی کی مانگ کی۔
یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک کے بعد ایک پانچ آدمی "قربان" ہو گئے۔ میں پانچوں آدمی زندہ حالت میں باہر آئے۔ گرو گوبند سنگھ نے صرف ان کی وفاداری کو آزمایا تھا۔ اس کے بعد ان پانچ افراد کو " پنج پیارا" کا لقب دیا گیا۔ یہ اس خالصہ تنظیم کے بنیادی ارکان تھے جو انھوں نے ۱۶۹۹ میں قائم کی۔
گرو گوبند سنگھ سکھوں میں فائٹنگ اسپرٹ پیدا کرنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک طرف مغلوں سے اور دوسری طرف پہاڑی قبائل سے جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں انھوں نے غیر معمولی بہادری دکھائی۔ تاہم، اکتوبر ۱۷۰۸ء میں وہ ناندیڑ میں قتل کر دئے گئے۔ ان کی قتل گاہ پر نانڈیر کا موجودہ گور دوارہ بنا ہوا ہے۔
مغل دار و گیر کے زمانہ میں گور دواروں کی ایک بڑی تعداد ہندو مہنتوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ برٹش دور میں سکھوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ کوشش کے بعد آخر کار برٹش حکومت
نے ۱۹۲۵ میں سکھ گوردوارہ ایکٹ پاس کیا۔ اس کے تحت تمام گوردوارے دوبارہ سکھوں کو واپس مل گئے۔
یہی قصہ ایک اور شکل میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ برٹش دور میں مسلمانوں کی بہت سی مسجدیں اور مقبرے وغیرہ آرکیالوجی کے قبضہ میں چلے گئے۔ مگر مسلم رہنما انگریزوں کے خلاف سیاسی لڑائی لڑنے میں اتنا زیادہ مشغول ہوئے کہ ان کو یاد نہ رہا کہ کثیر تعداد میں مسجدیں اور دوسرے بڑے بڑے مسلم مقامات آثار قدیمہ کے قانون کے تحت سرکاری قبضہ میں چلے گئے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں واگزاری کی کوشش نہ کی۔ یہاں تک کہ ملک آزاد ہو گیا۔ آزادی کے بعد جو نئے حالات پیدا ہوئے، اس نے مسلمانوں کے لئے اس معاملہ میں مزید شدید تر مسائل پیدا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ انتہائی قیمتی جگہیں بدستور سرکار کے محکمہ آثار قدیمہ کے قبضہ میں باقی
۲۰ دسمبر کو ساڑھے دس بجے ہم پربھنی میں داخل ہوئے۔ شانتی یاترا یہاں کی سڑکوں پر گزرتی ہوئی ایک مقام پر پہنچی۔ یہاں کافی بڑا جلسہ ہوا۔ اس موقع پر ہماری پارٹی کے مختلف لوگوں نے
ٹائمس آف انڈیا (۱۹ دسمبر ۱۹۹۲) میں درمیانی صفحہ پر ایک مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا : The Disorientation Goes on اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا میں اصل مسئلہ رخ سے بے رخ ہونے (disorientation) یہاں ہمارے لئے عمل کا رخ بگڑ گیا ہے۔ میں نے اس عنوان کو لے کر تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اصل واقعہ یہی ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد ہمیں جس رخ پر اپنی کوششوں کو جاری کرنا چاہئے تھا، اس رخ پر ہم اپنی کوششوں کو جاری نہ کر سکے۔ اس لئے ہماری تمام کوششیں بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ بعد ہر ایک نے یہ کیا کہ دوسروں سے وہ اپنے جھگڑے نپٹانے میں لگ گیا۔ مثلاً اپنی زبان کو منوانا اور لسانی اسٹیٹ بنانا۔ اپنے مذہبی قانون کو منوانا اور اپنے لئے علیحدہ قانون بنوانا۔ اپنے تشخص کا مطالبہ لے کر اٹھنا اور دوسروں سے اس بات پر لڑنا کہ ہمارا تشخص بحال کرو۔ یہ سب کوششوں کے غلط رخ تھے۔ اصل رخ صرف ایک تھا، اور وہ تعلیم تھا۔ اگر ۱۹۴۷ کے بعد
سارا زور تعلیم پر دیا گیا ہوتا تو ہمارے بقیہ مسائل اپنے آپ حل ہوجاتے۔ قوم کو تعلیم یافتہ بنانا قوم کو باشعور بنانا ہے، اور جو لوگ باشعور ہو جائیں ان کے بقیہ تمام مسائل اپنے آپ حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ہنگولی میں شانتی یاترا کے بعد حسب معمول جلسہ ہوا۔ اس میں مختلف لوگوں نے تقریریں میں نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسلمان علامہ اقبال کے پرستار علامہ اقبال نے ایک حدیث کے حوالے سے کہا ہے کہ ہندوستان وہ ملک ہے جس کے بارہ میں پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اس کی طرف سے مجھ کو ٹھنڈی ہواملیں آتی ہیں: میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے میں نے کہا کہ ہمارے پیغمبر کو جس ملک میں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں، وہاں رہ کر ہم کو بھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ملنے چاہئیں۔ جہاں پیغمبر کو ٹھنڈی ہوائی وہاں ہم کو گرم ہوا ملے تو ہم کو اس جگہ سے شکایت نہیں ہونی چاہئے بلکہ خود اپنا احتساب کرنا چاہئے کہ ایسا تو نہیں کہ خود ہماری کسی غلطی سے وہاں کی ٹھنڈی ہوا ہمارے لئے گرم ہوا بن گئی ہو۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک اصل معاملہ یہی ہے۔ ہم اس ملک میں پیغمبر والے احساس کے ساتھ نہیں رہ رہے ہیں۔ وہ صبر کے احساس کے ساتھ رہتے ہم بے صبری کے احساس کے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی فرق کی وجہ سے ایسا ہوا ہے کہ ٹھنڈی ہواؤں کا دیش ہمارے لئے گرم ہواؤں کا دیش بن گیا ہے۔
۲۰ دسمبر کو ہم اکولہ میں تھے۔ پروگرام کی تکمیل کے بعد شام کا کھانا ہم لوگوں نے یہاں کے ایک تاجر مسٹر دلیپ کو ٹھاری (26688 .Tel) کے یہاں کھایا۔ کھانے کے بعد واش بیسن پر ہاتھ دھو رہا تھا۔ ایک نوجوان تولیہ لے کر آیا۔ اس نے کہا؛ مولانا صاحب، میرا نام محبوب ہے، میرے لئے دعا کریں۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ تندرست اور خو ش پوش نظر آیا۔ نے کہا کہ یہ لوگ مجھ کو بہت مانتے ہیں۔ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہونے دیتے تھے۔ اس کے بعد مسٹر کو ٹھاری نے کہا کہ ہمارے علاقہ میں کوئی بھید بھاو نہیں دیکھئے یہ مسلمان لڑکا ہمارے یہاں دس سال سے گھریلو لازم کے طور پر ہے۔ مگر ہم اس کو اپنے بیٹے کی طرح رکھتے ہیں۔
ایک مسلمان لڑکی سے اس کی شادی بھی ہم نے خود کرائی ہے۔ دونوں خوشی خوشی ہمارے گھر میں رہ رہے ہیں۔
انسان عام طور پر فطرت کی سطح پر جیتے ہیں۔ اور فطرت کی سطح پر ہمیشہ ایک دوسرے کے درمیان اچھے تعلقات ہی ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے لیڈر جھوٹے اشولے کر لوگوں کی سوچ بگاڑ دیتے ہیں اور یہیں سے فساد کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ نااہل لیڈر فطرت کے نظام کو بگاڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس سے قرآن میں ان الفاظ میں منع کیا گیا ہے : لا تفسدوا في الارض بعد
آکولہ میں ۶ دسمبر کے بعد کچھ فسادات ہوئے اور جان و مال کا نقصان بھی ہوا۔ مسٹر رویندر سرکار نے بتایا کہ یہاں مسلمانوں کی ایک درگاہ ہے۔ ۶ دسمبر کی صبح کو کچھ ہندوؤں نے درگاہ پر دھاوا کر دیا۔ اور اس کی عمارت کو نقصان پہنچایا۔ مگر اس کے بعد خود ہندوؤں نے اس پر افسوس ظاہر کیا۔ شام کو بہت سے ہندو درگاہ پہنچے۔ انھوں نے اس کی مرمت اور تعمیر شروع کر دی۔ وہ لوگ ساری رات کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ۷ دسمبر کی صبح طلوع ہوئی تو درگاہ دوبارہ بن کر تیار ہو چکی تھی۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے کہا کہ درگاہ کی دوبارہ تعمیر حقیقتاً فطرت انسانی کا کارنامہ تھا۔ کی فطرت میں شرمندگی (repentance) کا نہایت گہرا جذبہ ہے۔ انسان غلطی کرنے کے بعد ہمیشہ پچھتاوے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر فریق ثانی دوبارہ غلطی کر کے انسانی فطرت کے عمل کو روک نہ دے تو یہ فطرت ضرور کام کرنے لگی ــــ تخریب کے بعد خود شرمندہ ہو کر دوبارہ تعمیر کے کام میں لگ جائے گی۔
شانتی یاترا کے دوران ۲۰ دسمبر ۱۹۹۲ کو ہم لوگ امراوتی پہنچے تھے۔ حسب معمول سڑکوں پر پدیاترا کے بعد ہم ایک مقام پر ٹھہرے۔ یہاں ایک بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا تھا۔ اپاریہ منی سوٹیل کمار اور سوامی چیدانند نے اپنی تقریر میں لوگوں سے شانتی قائم رکھنے کی اپیل کی۔ میں کھڑا ہواتو سفر کے دوران نفرت کا ماحول اور فساد کے مناظر دیکھنے کی وجہ سے میری کیفیت عجیب ہو رہی تھی۔ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہ پڑے۔ تقریر شروع کی تو میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے : شانتی یا ترا کس لئے نکلی ہے۔ یہ شانتی یا ترا اس لئے نکلی ہے کہ جس آگ کو فائر بریگیڈ
کا پانی نہ بجھا سکا، اس کو سنت اور فقیر کے آنسوؤں سے بجھا دیا جائے۔ عجیب بات ہے کہ شاتی یا ترا سے واپسی کے بعد ۲۹ دسمبر کا اخبار آیا تو اس میں یہی بات پرائم منسٹر نر سمہاراؤ کے حوالے سے چھپی ہوئی تھی۔ سوامی و یویکانند نے ۱۸۹۳ میں شکاگو کی کانفرنس میں ایک خطبہ دیا تھا۔ اس کے سوسالہ جشن کے طور پر کنیا کماری میں ر اشٹر چیتنا (قومی بیداری) کی تقریب منائی گئی ۔ اس موقع پر پرائم منسٹر نرسمہاراؤ نے شرکت کی۔ تقریر کرتے ہوئے کہا :
دیش آج بحران سے دوچار ہے۔ اس بحران کی گھڑی میں ہم کو روحانی اور مذہبی پیشواؤں کی مدد کی ضرورت ہے کیوں کہ وہ سیاست دانوں کے مقابلہ میں عوام کے جذبات کو زیادہ سمجھ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو یہ ملک رہنے کی زیادہ بہتر جگہ ہو جائے گا۔ مجھے اس حقیقی راستہ کی تلاش ہے جس پر آئندہ اس ملک کو چلنا چاہئے ۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۹ دسمبر ۱۹۹۲) کی رپورٹ کے مطابق انھوں کہا کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے وہ ایک ایسے پیاسے مسافر کی طرح ہیں جو پانی کی تلاش میں ہے مگر افسوس کہ پانی کے بجائے میں ایک سراب میں جا پڑا :
He was like a thirsty traveller looking for water. But instead of water, I stepped into a mirage (p. 4). ایک جگہ مجھے معلوم ہوا کہ جلوس پر فساد ہوا۔ کچھ مسلمانوں نے ایک جلوس نکالا۔ فرقہ کے لوگوں نے روک ٹوک کی۔ اب دونوں طرف کے لوگ مشتعل ہو گئے۔ اس کے بعد وہ سب کچھ ہوا، جو عام طور پر فرقہ وارانہ فسادات میں ہوتا ہے۔
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انڈیا میں سب سے بڑی بدعت جلوس ہے۔ کے ساتھ جلوس نکالنا سرے سے جائز ہی نہیں۔ بالفرض اگر جلوس کو جائز سمجھا جائے تو وہ ان لوگوں کے لئے جائز ہو گا جو یہ صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ جمہوریت میں مظاہرہ کا حق ہے اور جلوس در اصل مظاہرہ کے لئے نکالا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بر داشت والے لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام مظاہرہ ہے، اور بے برداشت لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام فساد ۔ اور فساد کسی بھی قانونی نظام میں جائز نہیں۔
ایک صاحب نے پوچھا کہ الرسالة مشن کیا ہے۔ میں نے کہا کہ الرسالة مشن احیاءدین کا مشن الرسالة کا مشن امت کو قرآن وسنت کی طرف بلانا ہے۔ الرسالة کا مشن وہی ہے جو ہر دور میں مصلحین امت کا مشن رہا ہے۔ ایک مشہور دینی حلقہ کی طرف سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کے ٹائٹل کے صفحہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے : شعارنا الوحید الى الاسلام من جديد۔ ایک اور بڑے دینی حلقہ کی طرف دوسرا عربی ماہنامہ شائع ہوتا ہے۔ اس کے پہلے صفحہ پر یہ فقرہ درج ہوتا ہے ۔ عودة بالامة الى الكتاب والسنة۔
تمام دینی حلقے اور تمام اسلامی جماعتیں اس قسم کے الفاظ میں اپنا مقصد ظاہر کرتی ہیں۔ الرسالة مشن کے سامنے بھی عین یہی نشانہ ہے۔ ہمارے اور دوسروں کے درمیان جو فرق ہے وہ اصول کا نہیں طریقہ کا ہے۔ اہل سنت والجماعت کے یہاں جو دین مسلم ہے وہی ہمارا دین بھی ہے۔ البتہ اس کو پیش کرنے کے لئے ہم نے عصری اسلوب اختیار کیا ہے۔
۶ دسمبر کے بعد ہونے والے بمبئی کے فساد میں دوسو آدمی ہلاک ہو گئے۔ یہ سب کے سب مسلم علاقے میں رہنے والے لوگ تھے۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ بمبئی کے مسلم علاقوں میں فساد ہوا ، مگر یہاں کی کالونیوں میں فساد نہیں ہوا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایک سادہ سی مثال سے آپ اس کی وجہ سمجھ سکتے ہیں۔ یہ مکان جس میں آپ ٹھہرے ہوئے ہیں، اس میں ہر کمرہ کے ساتھ الگ الگ ٹائلیٹ موجود ہے، لیکن اگر آپ مسلم علاقہ میں جائیں تو آپ پائیں گے کہ وہاں ایک سو آدمی پر ایک ٹائلیٹ کا وسط ہے۔ ہر ٹائلیٹ پر آدمیوں کی لمبی لائن لگی ہوئی ہے۔ فساد کی سب سے بڑی وجہ اسی قسم کی بھیڑ ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق ہے۔ اگر لوگوں میں تعلیم بڑھ جائے اور لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہو جائے تو اس قسم کے لڑائی جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ یہ پورا سفر اتنے بندھے ہوئے پروگرام کے تحت ہوا کہ مشکل سے کہیں اس کا موقع ملا کہ کسی جگہ ٹھہر کر اخبار پڑھا جائے۔ چنانچہ اخبارات زیادہ تر سفر کے دوران گاڑی میں پڑھے گئے۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۲ دسمبر ۱۹۹۲) میں صفحہ ۸ کی ایک خبر کی سرخی یہ تھی : Tirupati temple's income on the rise
خبر میں بتایا گیا تھا کہ آندھرا پردیش کی تروکلا پہاڑیوں میں واقع وینکٹیشور کے مندر میں اس کے عقیدت مندوں کی طرف سے حاصل ہونے والی رقم میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ مندر میں ایک سال کے اندر۱۰لاکھ روپے وصول ہوئے۔ مئی ۱۹۹۲ میں صرف ایک گم نام عقیدت مند نے ۲۷ لاکھ روپے لاکر مندر کے بکس میں ڈال دئیے۔
زائرین کی تعداد اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ۱۹۹۱ میں صرف ایک دن میں پچاس ہزار آدمیوں نے اگر مورتی کے سامنے ماتھا ٹیکا۔ یہاں آنے والے زائرین جو بال کٹواتے ہیں وہ خود اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ۹۲-۱۹۹۱ کے درمیان جمع ہونے والے بال کی مقدار دو لاکھ کلو گرام سے زیادہ تھی۔ اور ان کو بیچ کر مندر کے ٹرسٹ کو ۱۸ ملین روپیہ حاصل ہوا۔ ریلوے کی طرف سے ۳ کنکٹنگ ٹرینیں تر و پتی کے لئے چلائی گئی ہیں۔ اور اب مندر میں آنے والوں کا اوسط روزانہ ۴۰ سے ۵۰ ہزار تک ہوتا ہے۔
یہ تمام تر برکتی مذہب کا کرشمہ ہے جو ہر مذہب میں اور ہر مقام پر جاری ہے، اور اسی طرح خود مسلمانوں میں بھی۔ ہر مذہب ہی بھیٹر برکتی مذہب کی بھیڑ ہوتی ہے۔
ہماری پارٹی کے ایک فرد جسٹس چندر شیکھر دھر مادھیکاری (ریٹائرڈ) بھی تھے۔ اپنی ایک تقریر میں یہ واقعہ بتایا کہ آزادی سے پہلے ۱۹۲۰ء کے لگ بھگ زمانہ کا واقعہ ہے۔ کے ایک جلسہ میں ایک مسلمان بیرسٹر مسٹر عالم تقریر کر رہے تھے ۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ بیرسٹر صاحب ، آپ پہلے مسلمان ہیں یا پہلے ہندوستانی ہیں۔ بیرسٹر صاحب نے جواب دیا کہ میرے بھائی آپ نے سوال صحیح نہیں کیا۔ آپ کو ابھی سوال کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہئے۔ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ پہلے اپنی ماں کے ہو یا پہلے اپنے باپ کے ہو۔ انھوں نے کہا کہ آدمی بیک وقت اپنے باپ کا بھی ہوتا ہے اور اپنی ماں کا بھی۔ اسی طرح میں بیک وقت مسلمان بھی ہوں اور اسی وقت ہندوستانی بھی۔
جسٹس چندر شیکھر نے یہ تقریر ۲۱ دسمبر کو ناگپور میں اہنسا بھون کے جلسہ میں کی۔ اس کو سن کر میں نے کہا کہ اس سوال کا سب سے زیادہ فطری جواب یہی ہے۔ ہمارے بعض لیڈروں کا یہ کہنا ” میں پہلے مسلمان ہوں اور اس کے بعد ہندوستانی ہوں “ بلا شبہ ایک لغو بات ہے۔ اس کا تعلق نہ
اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔
یہ امن کارواں کئی گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ ایک گاڑی میں اپارٹمنی سوشل کار، سوامی چیدانند اور میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس گاڑی کا ڈرائیور ایک مسلمان تھا۔
منتظمین نے گاڑی کے اندر پھل ، میوے ، چائے وغیرہ کافی مقدار میں رکھ دیا تھا۔ جب بھی کوئی کھانے کی چیز نکالی جاتی تو میں نے دیکھا کہ سوامی چیدانند جی اصرار کے ساتھ مسلمان ڈرائیور کو اس میں شریک کرتے پورے راستہ میں وہ اسی طرح ڈرائیور کے ساتھ بالکل برابر ہی کا سلوک کرتے رہے۔
ایک بار ایسا ہوا کہ ڈرائیور صاحب غلط راستہ پر مڑ گئے۔ کافی آگے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ہم غلط راستے پر آگئے ہیں۔ پھر گھوم کر صحیح سڑک پر آئے۔ اس کی وجہ سے ہم لوگ منزل پر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہو گئے اور پروگرام بھی گڑبڑ ہو گیا۔
اس وقت سوامی چیدانند جی نے نہایت تاکید کے ساتھ ہم لوگوں سے کہا کہ منزل پر پہنچ کر کوئی بھی شخص یہ لفظ منہ سے نہ نکالے کہ ہم لوگ تو صحیح وقت پر روانہ ہوئے تھے مگر ڈرائیور صاحب کی غلطی سے اس کی ذمہ داری ہم لوگ اپنے اوپر لے لیں۔ ڈرائیور پر ہرگز اس کی ذمہ داری نہ ڈالیں۔ چنانچہ یہی کیا گیا اور ڈرائیور صاحب باز پرس سے بچ گئے ۔
۲۱ دسمبر کو واردھا پہنچے۔ واردھا کا لفظ پہلی بار تقسیم ہند سے پہلے اس وقت میرے علم میں آیا جب کہ ظفر علی خاں نے مولانا ابو الکلام آزاد پر طنز کرتے ہوئے یہ شعر لکھا تھا : آئیں ابو الکلام جو واردھا سے گھوم کر تحریک آزادی میں واردھا کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ کیوں کہ یہاں مہاتما گاندھی نے ایک بستی بسائی تھی جو سیوا گرام آشرم کے نام سے مشہور ہوئی۔ مہاتما گاندھی کے بعد ان کے شاگرد دونوں بھائی ایک عرصہ تک یہاں مقیم رہے۔ دیکھنے سے پہلے واردھا کے بارے میں ایک افسانوی تصور میرے ذہن مگر جب شانتی یاترا کے ساتھ میں اس کی سڑکوں سے گزرا تو وہ مجھے عام شہروں جیسا ایک شہر نظر آیا۔
یہاں سے ہم لوگ سیوا گرام پہنچے۔ مہاتما گاندھی نے اپریل ۱۹۳۶ میں اس کو وردھا شہر کے
کنارے قائم کیا تھا۔ یہ ایک پرسکون مقام ہے جہاں کھلے میدانوں اور برے درختوں کے درمیان جگہ جگہ جھونپڑے (huts) بنے ہوئے ہمیں اسی میں نے ایک گاندھی جی کا جھونپڑا ہے جو صرف لکڑی اور مٹی کا بنا ہوا ہے۔ تمام جھونپڑوں کے اوپر منگلور ٹائل لگے ہوئے ہیں۔
مہاتما گاندھی کے جھونپڑے کو " باپو کٹی" کہا جاتا ہے۔ وہ انتہائی سادہ تھا۔ جنوری ۱۹۷۸ء میں میکویکوبے آئیوان اچ (Ivan Illich) یہاں آئے تھے۔ وہ باپو کٹی کی سادگی سے اتنا متاثر ہوئے کہ وہ روزانہ دیر دیر تک یہاں دھیان لگا کر بیٹھے رہتے تھے تاکہ اس سے روحانی فیض حاصل کریں۔ برٹش گورنمنٹ نے بطور خود یہاں ٹیلی فون لگوایا تھا تاکہ برطانوی ذمہ دار مہاتما گاندھی سے بات کر سکیں۔ گاندھی جی کے ایک شاگر دمسٹر گنیش دتہ گادر سے (۷۲ سال) نے بتایا کہ گاندھی جی کی اس غریبی پر امیرا نہ خرچ کرنا پڑتا تھا۔ مسٹر گادر سے کے بیان کے مطابق، مسٹر سروجنی نائیڈو (۱۹۳۹-۱۸۷۹) نے تقسیم سے پہلے ایک بار کہا تھا کہ گاندھی کی غریبی کو باقی رکھنے کے لئے، ہر لا کو دو ہزار روپیہ روزانہ خرچ کرنا پڑتا ہے:
It takes Birla two thousand rupees per day to keep Gandhi poor. واضح ہو کہ یہ پچاس برس پہلے کی بات ہے۔ اس وقت دو ہزار روپیہ روزانہ آج کے لحاظ سے ۲۰ ہزار روپیہ روزانہ سے بھی زیادہ تھا۔
۲۱ دسمبر کو سیواگرام کی ایک نشست میں میں نے کہا کہ یہاں کا پورا ماحول سکون اور شانتی کا ماحول ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سکون اور شانتی کا یہی ماحول پورے ملک میں عام ہو جائے۔ میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے آزادی کی تحریک میں عوام کو نان وائلنس (اہنسا) کی بنیاد پر موبیلائز کیا تھا۔ ہم تعمیر ملک کی تحریک کو دوبارہ نان وائلنس کی بنیاد پر موبیلائز کرنا چاہتے ہیں۔ ۱۹۴۸ میں جہاں مہاتما گاندھی کا مشن ختم ہوا تھا، وہیں سے دوبارہ ہیں۔ اپنے عمل کا آغاز کرنا ہے۔ شانتی یاترا میں میرے ساتھ ایک بڑے ہندو گرو بھی تھے۔ میں نے دیکھا کہ ہر جگہ لوگ ان کے ساتھ غیر معمولی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور ان سے آشیرواد (برکت) لے رہے ہیں۔ میں نے غور کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ اپنے ہی جیسے ایک انسان کو لوگ اتنا زیادہ عظمت
دینے لگتے ہیں۔ یہی چیز خود مسلمانوں میں بھی "اکابر" کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ غور کرنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ یہ در حقیقت انسانی فطرت میں چھپے ہوئے جذبہ عبودیت کا غلط استعمال ہے۔ کا جذبہ ہر انسان میں نہایت طاقت ور صورت میں موجود ہے۔ وہ اس لئے تھا کہ خدا کو اس کا مرجع مگر نادان لوگ خود ساختہ اکابر کو اس کا مرجع بنا لیتے ہیں۔ جو لوگ انسانی اکابر کو اپنے جذبہ عبودیت کا مرکز بناتے ہیں، ان سے آپ ملیں تو وہ ہمیشہ سکون اور آنند کی بات کریں گے۔ جب کہ اصحاب رسول کے یہاں ہم پاتے ہیں کہ ان کے ایمان باللہ نے ان کو بے چینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی اکابر کے یہاں احتساب (accountability) کا کوئی تصور نہیں ہوتا، جب کہ خدا کے یہاں احتساب کا تصور شدت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ عبودیت، احتساب کے بغیر آنند ہی آنند ہے، اور عبودیت، احتساب کے ساتھ درد ہی درد۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو تاجر نے کہا کہ مسلمانوں میں ایک کمزوری ہے، اور وہی ان کی ساری مصیبتوں کا اصل سبب ہے۔ مسلمان بہت آسانی سے کسی شوشہ کی بات پر سپر ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ چاہتے کہ مسلمان ترقی نہ کریں وہ مسلمانوں کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک ان کو شوشوں میں الجھائے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی طاقت جو اپنی ترقی میں لگنا چاہئے وہ دوسروں سے لڑنے میں ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کا حل صرف ایک ہے ــــ مسلمانوں کو اتنا زیادہ باشعور بنا دیا جائے کہ لوگ اشتعال انگیزی کریں تب بھی وہ مشتعل نہ ہوں۔ یہاں اشتعال انگیزی کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ مشتعل ہونے والے لوگ مشتعل ہونا چھوڑ دیں۔
۲۱ دسمبر کی شام کو ہم ناگپور میں داخل ہوئے۔ سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک جگہ دیکھا ایک بینر لگا ہوا ہے۔ اس پر ہندی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :
رام للاہم آئیں گے مندر وہیں بن آئیں گے۔
دہلی کے مسلم محلہ میں اسی قسم کا نعرہ میں نے برعکس صورت میں دیکھا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ سڑک کے درمیان کالا کپڑا لٹکا ہوا ہے۔ اس پر یہ لکھا ہوا تھا :