Al-Risala · January 1993

ایک تبصرہ

Al-Risala, January 1993, pp. 5–7

By Maulana Wahiduddin Khan

مہاتما گاندھی کنے سوانح نگار لوئی فشر (Louis Fischer) نے اپنی کتاب کے آخری باب یہ دکھایا ہے کہ ناتھورام گاڈ گاڈسے نے گاندھی جی کو ہوئی۔ وں قتل کیا۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں کہ سے اور ان کے ساتھی یہ سمجھتے تھے کہ گاندھی کو اپنے راستہ سے ہٹا کر وہ مسلمانوں کو ایسی حالت کر دیں گے کہ ان کا کوئی بچاؤ کرنے والا نہ ہوگا۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ گاندھی کا قتل نتیجہ پیدا کرے گا، کیوں کہ یہ واقعہ یہاں تک کو بتائے گا کہ اینٹی مسلم تحریک کتنی زیادہ خطرناک ہے اور کہاں تک جاسکتی ہے :

They wished, by removing him, to make the Moslems defenseless, little realizing that his assassination would have the opposite effect by showing the country how dangerous and undisciplined extreme anti-Moslems could be. (The Life of Mahatma Gandhi, pp. 504-505)

عملاً ایسا ہی پیش آیا۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے ساتھ ہی ملک میں زبردست مسلم دشمنی کی لہر آگئی۔ مسلمانوں کے خلاف مجنونانہ انداز میں خون آشام کارروائی شروع مگر جب اس کا یہ انتہائی نتیجہ سامنے آیا کہ ۳۰جنوری ۱۹۴۸ء کو اس نے خود ملک کے باپو مہاتماگاندھی کو پستول کی گولی سے ہلاک کر دیا تو پورا ملک سناٹے میں آگیا۔ مہاتما گاندھی کے خون ے مسلم دشمنی کی آگ کو اچانک بجھا موڑدیا۔ اور پھر چالیس سال کے لیے تاریخ کے رخ کو دوسری طرف

ٹھیک اسی قسم کا واقعہ دوبارہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو اجودھیا میں پیش آیا ہے۔ بعض اسباب نے انتہا پسندی کو دوبارہ موقع دیا۔ وہ از سرِ نو اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس بار اس انتہا پسندانہ تحریک کا جو دھیان تھا۔ اور عام طور پر اس نے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تحریک کی حیثیت سے شہرت

یہ تحریک ابتداء ۱۹۸۶ میں شروع ہوئی۔ جذباتی ہنگاموں کے درمیان وہ بڑھتی رہی۔ ملک کہ وہ اپنے شدید ترین مرحلہ میں پہنچ گئی۔ اس کا آخری نقطۂ عروج ۶ دسمبر ۱۹۹۲ تھا جب کہ

بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشو ہندو پریشد کی قیادت میں ایک لاکھ سے زیادہ انتہا پسند ہندو اجودھیا میں داخل ہو گئے ۔ انھوں نے 465 سالہ با بری مسجد پر یلغار کر دی اور چند گھنٹہ کے اندر اسے کو ڈھا کر زمین کے برابر کر دیا ۔

یہ بلاشبہ جدید ہندوستانی تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ تھا۔ عبادت خانہ کسی سماج میں نہایت قابل احترام چیز سمجھا جاتا ہے۔ عبادت خانہ کو گرانا گویا تمام انسانی قدروں کو ڈھا دینا ہے۔ یہ فعل پارلیمنٹ کے فیصلہ کے خلاف تھا۔ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تھا۔ نیشنل انٹیگریشن کونسل کی تجاویز کے خلاف تھا۔ وہ انڈیا کی تمام بہترین روایات کے خلاف تھا وہ عالمی رائے عامہ کے خلاف تھا۔ وہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر کے خلاف تھا۔ کہ وہ خود متعلقہ انتہا پسند لیڈروں کے اپنے بیان کے خلاف تھا۔ غرض کوئی بھی ملکی یا غیر ملکی اصول نہیں جس کی تائید اس اقدام کو حاصل ہو۔

تمام سنجیدہ طبقوں نے بجا طور پر اس واقعہ کو ملک کے لیے انتہائی افسوس ناک اور سیاہ واقعہ قرار دیا ہے۔ بلاشبہ یہ اتنا زیادہ الم ناک واقعہ ہے کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے مگر دوسرے تمام حادثات کی طرح، اس حادثہ میں بھی یقیناً ایک مثبت پہلو موجود ہے۔ تاریخی میں بھی روشنی کا ایک امکان جھلک رہا ہے۔

یہ دنیا اس طرح بنی ہے کہ یہاں امکانات کی مقدار، ہمیشہ مسائل سے زیادہ ہوتی ہے۔ ظلم کا کوئی بھی واقعہ اس پر قادر نہیں کہ وہ تمام امکانات کو مٹا دے۔ کسی بھی تاریکی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ امید کے تمام چراغوں کو بے نور کر دے۔

فطرت کے قوانین میں سے ایک قانون یہ ہے کہ یہاں — ظلم اپنی آخری انتہا پر پہنچ کر ندامت بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی سماج میں انتہا پسندی کی تحریک صرف ایک بار آتی اور ایک بار جب وہ اپنے آخری انجام تک پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کو دہرانا ممکن یہی وجہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد فاشزم اٹلی میں دہرائی نہ جا سکی اور اسی طرح نازی ازم کو دوبارہ جرمنی میں فروغ حاصل نہیں ہوا۔

با بری مسجد کا اس طرح ظالمانہ طور پر ڈھایا جانا ہندو انتہا پسندی کے آخری انجام کا آغ

بابری مسجد کا انہدام دراصل ہندوانتہا پسندی کا انہدام ہے۔ اب انشاء اللہ اس میں نیا احساس جاگے گا اور کم از کم دو نسل تک اس طرح کے کسی منفی واقعہ کو پھیر رانا ممکن نہ ہوگا۔

بابری مسجد کے انہدام نے تخریب پسند طاقتوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اب یقینی ہے کہ اس میں سنجیدہ ذہن کے لوگوں کا غلبہ ہوگا۔ زندگی کی تعمیر کے مواقع کھل جائیں گے جو انتہا پسندوں منفی کارروائیوں کی وجہ سے بند ہوگئے تھے۔ ۱۹۹۲ کا خاتمہ اس ملک میں مذہبی تشدد پسندی کا خاتمہ ہے، اور اسی کے ساتھ امن اور رواداری اور باہمی احترام کے نئے دور کا آغاز بھی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے واقعہ کے بعد ہندو صاحبان کی طرف سے جو رد عمل سامنے آیا ہے وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔ ہندوؤں کی اکثریت نے کھل کر مسجد کو ڈھانے کی مذمت کی ہے۔ اس کے بارہ میں اخبارات کی رپورٹیں، ان کے ادارتی نوٹ اور ان میں چھپنے والے خطوط بتاتے ہیں کہ ہندو صاحبان کو اس واقعہ سے بہت سخت جھٹکا لگا ہے۔ اخباروں میں عام طور پر اس قسم کے الفاظ ۶ دسمبر کے بارہ میں دیکھنے میں آئے :

Printed page