Al-Risala · October 1993

مورتیوں کو ہٹاؤ مسجد وہیں بناؤ

Al-Risala, October 1993, pp. 46–50

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک آدمی پہلے نعرہ کو دیکھ ہندو کو برا کہے گا اور دوسرے نعرہ کو دیکھ کہ مسلمان کو۔ مگر میں کہوں گا کہ یہ نعرے ہندوؤں یا مسلمانوں کے نعرے نہیں ہیں۔ یہ نعرے صرف کچھ جاہلوں کے نعرے ہیں۔ دیش میں ابھی تک۷۰ فی صد آدمی جاہل ہیں۔ یہی جہالت تمام جھگڑوں کی اصل جڑ ہے۔ آکر اس ملک سے جہالت کو ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد تمام بے فائدہ جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ آدمی بھی ملک میں ترقی چاہتا ہو اس کو چاہئے کہ تعلیم کے کام میں اپنے آپ کو لگا دے۔ ناگپور کو آر ایس ایس کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی تقریر میں میں نے خاص طور پر یہ بات کہی کہ مسائل کا حل ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ تدبیر ہے۔

ناگپور میں جناب عبد السلام صاحب اور جناب حنیف صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اپنے تجارتی مشاغل کے ساتھ دین کا کام بھی کرتے رہتے ہیں۔

عبد السلام صاحب نے آکاش بلڈنگ کے نام سے ایک عمارت بنائی ہے۔ اس میں آٹھ اپارٹمنٹ اور نیچے کے حصہ میں چار دکانیں ہیں۔ گراؤنڈ فلور پر انھوں نے ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد عمارت اور دکان کے افراد یہاں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ اس کے اندر تقریباً چالیس آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ واچ مین کے ذمہ یہ کام ہے کہ وہ وقت پر اذان دیدے۔ فجر کے وقت وہ ہر فلیٹ پر اگر گھنٹی بجا دیتا ہے۔ اس طرح اس بلڈنگ میں نماز با جماعت کا نظام قائم ہے۔ ایک اچھا نمونہ ہے جو قابل تقلید ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سرگرم ممبر سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے رام مندر کے نام پر جو آندولن چلایا اور ۶ دسمبر کو اس کا جو نتیجہ نکلا، اس کو سامنے رکھ کر آپ سوچیں تو آپ مانیں گے کہ اس معاملہ میں آپ کے لئے چوائس مندر اور مسجد کے درمیان نہیں تھا، بلکہ مسجد اور انار کی کے درمیان کیوں کہ مسجد کو ڈھا کر جو چیز آپ نے پائی ہے وہ حقیقت مندر نہیں ہے بلکہ انار کی ہے جس نے پورے دیش کے مستقبل کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔

میں نے کہا کہ اگر آپ لوگوں کو دیش سے محبت ہے تو آپ لوگوں کو وہی کرنا چاہئے جو ۱۹۲۲ء میں مہاتما گاندھی نے کیا تھا۔ انھوں نے اہنسا کی بنیاد پر نان کو آپریشن کی تحریک چلائی۔ مگرجب چورا چوری - کے مقام پر کانگریس کارکنوں نے تشدد کا واقعہ کیا تو انھوں نے فورا ہی اپنی تحریک روک دی اور اس

کو ہمالیائی غلط اندازہ (Himalayan miscalculation) قرار دیا۔ آپ لوگوں کے لئے صرف افسوس کا اظہار کافی نہمیں۔ آپ کو چاہئے کہ اپنی تحریک کو مکمل طور پر روک دینے کا اعلان کریں۔ کم درجہ کی کوئی بھی چیز آپ کے لئے کافی نہیں ہوسکتی۔

ناگپور میں شآنتی یاترا ختم ہوگئی۔ اب ہمیں ناگپور سے دہلی واپس جانا تھا۔ مگر پائلٹوں کی ہڑتال کی وجہ سے تمام ملک میں پروازیں معطل ہورہی ہیں۔ صرف ٹرنک روٹ پر مشکل سے پروازوں کا سلسلہ باقی رکھا جاسکاہے۔ اس لئے ہم لوگوں نے طے کیا کہ ناگپور سے بمبئی جائیں۔ اور بمبئی سے دہلی کے لئے ہوائی جہاز پکڑیں۔

ناگپور سے دہلی پہنچنے کے لئے ہیں صرف ۱۰۹۵ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ مگر ناگپور سے بمبئی اور پھر بمبئی سے دہلی کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے ہماری منزل ۱۷۲۳ کلومیٹر لمبی ہوگئی۔ جب قابل عمل نہ ہو تو دور ہی زیادہ قریب بن جاتا ہے۔

۲۲ دسمبر کو ہم لوگ انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۸۱ کے ذریعہ ناگپور سے بمبئی پہنچے۔ کرنے کے بعد ۲۳ دسمبر ۱۹۹۲ کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۱۸۳ کے ذریعہ دہلی واپسی ہوئی۔ پہنچنے کے بعد بظاہر شانتی یاترا ختم ہوگئی۔ مگر میں نے سوچا کہ اصل کام تو اب شروع کرنا ہے۔ شانتی یاترا کے تجربہ کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ چنانچہ مسٹر شانتی لال موٹھانے کہا کہ ہم اس شانتی اندولن کو پورے دیش میں چلائیں گے۔

بمبئی کے ٹائمس آف انڈیا ۲۲ دسمبر کے درمیانی صفحہ پر دو مضمون چھپے ہوئے تھے۔ امولیا گنگولی کا تھا۔ اس مضمون میں ملک کے لوگوں کی غیر سنجیدہ سوچ کا ذکر کرتے ہوئے اسٹرائمل بہاری باجپئی کا یہ تبصرہ نقل کیا گیا تھا کہ ہوش وحواس کی بات کون سنتا ہے: Who's going to listen to the voice of sanity. انھوں نے ملک کی تاریک صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا تھا کہ اگر یہی حالت باقی رہی تو احمد دھیا کے واقعہ کے بعد انڈیا اعتباری بحران (credibility crisis) میں مبتلا ہو جائے گا۔ انڈیا دوسرا لبنان یا دوسرا یوگوسلاویہ بن جائے گا۔

کہ تعرف الاشیاء باضد ادھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقابل کے ذریعہ باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ آپ یوں دیکھیے کہ ۶ دسمبر کو بابری مسجد ھادی گئی۔ مگر مسلمانوں نے مقابلہ بہت ہی کم ردعمل کا مظاہرہ پھر ایک بابری مسجد کے انتقام میں پاکستان میں ۴۰ مندر ڈھائے گئے۔ گویا ایک کے بدلے میں ساٹھ۔ اس تناسب سے انڈیا کے ہندوؤں کو ۳۴۰۰ مسجدیں گرانا چاہئے تھا۔ پاکستانیوں نے بلڈوزر کے ذریعہ مندروں کو گرایا تو انڈیا میں ڈائنا مائٹ کے ذریعہ مسجدوں کو ڈ ڈھانا چاہئے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس تقابل میں امید کا پہلو ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کے لوگوں کا جذ باتی ابال ایک حد کے اندر رہتا ہے۔ وہ دوسروں کی طرح تناسب سے متجاوز نہیں ہو جاتا۔ یہ برداشت کی علامت ہے، اور برداشت بلا شبہ سب سے بڑی چیز ہے۔

۲۳ دسمبر کا دن بمبئی میں گزرا۔ کئی لوگوں سے ملاقات اور گفتگو ہوئی۔ کچھ اخبارات پڑھے۔ قابل ذکر ملاقات مسٹر را جندر سدرشن جین (۳۷ سال) سے تھی۔ ۹ سال کی عمر میں ہولی کے پٹاخے نے ان کی ایک آنکھ کو نقصان پہنچایا۔ اس کا آپریشن کرایا تو سرجن کی غلطی سے دونوں آنکھ جاتی رہی۔ اب وہ مکمل طور پر نابینا ہیں۔

میں نے دیکھا کہ وہ بے تکلفی کے ساتھ اسی طرح ٹیلی فون نمبر ملارہے ہیں جیسے کوئی آنکھوں والا ٹیلی فون نمبر ڈائل کرتا ہے۔ مزید معلوم ہوا کہ ان کا ایک بڑا بزنس ہے۔ پورا بزنس وہ خود کنٹرول حتی کہ بیرونی ملکوں میں تجارتی سفر کرتے ہیں اور بڑے بڑے تجارتی معاملات طے کرتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے اندر وہ چیز ہے جس کو چھٹی حس کہا جاتا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ چھٹی سنس کوئی مسٹیر یس چیز نہیں۔ جب آپ کے اندر سے کوئی سنس چلا جاتا ہے تو نیچر اس کی تلافی کرتی ہے اور آپ کے اندر اپنے آپ ایک اور نس پیدا ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے دیکھے بغیر ہر چیز کا اندازہ ہو جاتا ہے، اور وہ اکثر درست ہوتا ہے۔

”تلافی“ کا یہ اصول قدرت کے پورے نظام میں ہے۔ جب بھی آپ کوئی چیز کھو لیں تو پیشگی طور پر یقین کر لیجئے کہ کھونے کے ساتھ وہیں ایسے اسباب پیدا ہو چکے ہوں گے جو آپ کی محرومی کی تلافی کر سکیں ۔ ہر محرومی اپنے ساتھ یافت کا سامان لئے ہوئے ہے۔

سوامی چیدانند رشی کیش کے سب سے بڑے آشرم کے چیئر مین ہیں: ان کا مشن یورپ، امریکہ،

آسٹریلیا، ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ وہ سال بھر عالمی سفر پر رہتے ہیں۔

واپسی کے بعد رشی کیش سے سوامی جی کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ہندودھرم جین دھرم پر کتابیں تیار کر رہے ہیں۔ ان کے نام Hinduism and daily life اور Jainism and daily life اور Islam and daily life ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی ہمیں اسیلام کے موضوع پر ایک کتاب لکھ کر دیں جو Islam and daily life کے موضوع پر ہو۔ یہ کتاب تقریباً تین سو صفحہ تک ہو سکتا ہے ۔ ہم ان کتابوں کو دنیا کی دس زبانوں میں چھاپ کر سارے ملکوں میں پھیلائیں گے۔ شانتی یا ترا میں جب میں نکلا تو شروع میں میں نے اسلام کا نام لئے بغیر اخلاقیات کی زبان میں تقریر کی۔ مگر اس دوران نجی مجلسوں میں اکثر میں قرآن وحدیث کی باتیں لوگوں کو سنایا کرتا تھا۔ سوامی چید آنند نے ایک دو تقریر سننے کے بعد کہا : مولانا صاحب ، آپ ہم لوگوں کو قرآن وحدیث کی جو باتیں بتاتے ہیں وہی آپ جلسہ میں بھی کہئے ۔ وہ ہم کو بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں ۔ کے بعد کی تقریروں میں قرآن وسنت کے حوالے سے میں اپنی بات کہنے لگا۔

شانتی یا ترا سے پہلے نہ میں سوامی چید آنند کو جانتا تھا اور نہ وہ مجھ کو۔ دونوں ایک دوسرے کے نام سے بھی واقف نہ تھے۔ مگر دو ہفتہ کے ساتھ کا یہ نتیجہ ہوا کہ اب وہ الرسالہ کے قاری بن گئے ہیں۔ اور وہ مجھ سے اسلام کے موضوع پر تین سو صفحہ کی کتاب لکھوانا چاہتے ہیں تاکہ اس کو چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلائیں ۔ دوری غلط فہمی پیدا کرتی ہے۔ اور قربت غلط فہمی کو ختم کرکے دو اجنبیوں کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیتی ہے۔

۲۳ دسمبر ۱۹۹۲ کی رات کو بمبئی سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ انڈین ایئر لائنز کا جہاز کئی گھنٹہ لیٹ ہو کر بمبئی سے روانہ ہوا۔ ایک ہم سفر نے کہا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگ پرائیویٹ کمپنیوں کے جہاز سے سفر کریں گے اور سرکاری انڈین ایئر لائنز کو مسافر ملنا مشکل ہو جائے گا۔ دوبارہ قانون کا سہارا لے کر لوگوں کو صرف سرکاری جہازوں میں سفر کرنے پر مجبور کر دیا جائے آج میں اپنے امن مشن کا پہلا دور ختم کرکے دہلی واپس جارہا تھا۔ میں نے سوچا کیا اس مشن میں مجھے کامیابی حاصل ہوگی ۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے امریکہ کے فادر ڈیوائن (۱۹۶۵ ۔ انھوں نے امریکہ میں اسی قسم کا ایک مشن شروع کیا تھا جس کو امن مشن

کہا جاتا ہے ۔ اس مشن میں انھیں زہر دست کامیابی حاصل ہوئی۔

کامیابی کا راز کیا تھا ، مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا راز اہل شاگر دوں کی جاں نثاری ان کو ایسے لائق شاگرد مل گئے تھے جو اس مشن (devotion of competent disciples)

میں اپنے آپ کو وقف کر دیں۔

ایسے ہی افراد کسی مشن کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مجھے ایسے ساتھی اگرچہ ہماری قوم میں آج سب سے زیادہ جو چیز نایاب ہے وہ بلا شبہ یہی ہے۔ سفر سے واپسی کے بعد ایک صاحب نے پوچھا کہ شانتی یا ترا جیسے کام کی کیا کوئی شرعی بنیاد میں نے کہا کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ اسی قسم کا ایک کام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حلف الفضول کی صورت میں ملتا ہے۔ آپ کی بعثت سے قبل مکہ کے کچھ معزز افراد نے مل کر ایک انجمن بنائی ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سماجی بگاڑ کو روکا جائے ۔ مظلوم کی فریادرسی یہ اگر چہ بعثت نبوی سے قبل کا واقعہ ہے ۔ مگر بعثت کے بعد آپ نے یہ فرما کر اس کی تصدیق کر دی کہ اگر اسلام میں بھی مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں اس کو قبول کرلوں گا دلو (دعيت اليه في الاسلام لأجبت)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سماجی انصاف اور مشترک اجتماعی مصالح کے تحفظ کی خاطر کثیر جماعتی تعاون کا طریقہ اسلام کے عین مطابق ہے۔ ایسے مشترک پروگرام میں شرکت کرنا ایک ایسا دینی تقاضا ہے جس کی اہمیت خود سنت نبوی کے ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

Printed page